کہنے کے قابل کوئی بھی بات اشتعال انگیز قرار پاجاتی ہے۔ نندتا داس

Print Friendly, PDF & Email

انٹرویو: مناتی سنگھا

مترجم: عامر حسینی

اداکارہ – ہدایت کار نندتا داس کی اپنی فلم ‘منٹو’،سنسر شپ اور آزادی تقریر بارے بات چیت

‘منٹو’ بنانے کا خیال کیوں آیا آپ کو؟

میری زندگی میں کوئی بھی چیز بائی ڈیفالٹ ہی ہوجاتی ہے۔میں سعادت حسن منٹو بارے جانتی تھی اور ان کی کہانیوں کو پڑھ رکھا تھا۔2012ء میں ان کی صد سالہ پیدائش کے موقعہ پہ میں نے ان کے بارے، ان کی تحریروں کے متعلق بہت کچھ پڑھا۔مجھے دلچسپی ہوگئی اور میں نے ان کے بارے اور کچھ معلوم کرنا شروع کردیا۔منٹو ایک طرح سے آزاد روح کے علمبردار تھے۔وہ مذہب اور نیشنل ازم سے اوپر اٹھ کر شناختوں ،آزادی اظہار بارے بات کرتا ہے۔میں نے ان کے جو کنسرن تھے اور ان کی فکرمندی کا سبب چیزیں تھیں ان کو ؤیر کیا اور ان پہ فلم بنانے کے دوران مجھے ان چیزوں بارے بات کرنے کا موقعہ مل گیا۔اور انہوں نے مجھے آج کے مسائل پہ ردعمل دینے کا موقعہ فراہم کردیا۔

آپ کی فلم منٹو کی زندگی اور ان کی کئی کہانیوں میں سے بننے والے بیانیہ پہ مشتمل ہے۔تو کیا آپ کا ارادہ ان کی زندگی اور ان کے کام کو باہم ملاکر دکھانا ہے؟

منٹو کی زندگی میں، حقیقت اور فکشن کے درمیان امتیاز گڈمڈ ہوجاتا ہے۔میں چاہتی تھی کہ فلم کی ٹون ‘منٹویائی’ ہو۔ان کی تمام کہانیاں لوگوں کی سرگذشت کے بہت قریب ہیں۔میری فلم کا مقصد ان کا گہرا عکس پیش کرنا نہیں ہے۔منٹو اپنی کہانیوں میں جذباتی تھا،اس نے لکھا اور ان کو چھوڑ دیا۔اس نے احساسات کو مسخ نہیں کیا یا اس نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ وہ کیا محسوس کرتے ہیں۔یہ ایک فلم میں دکھانا ممکن نہیں ہے جیسے ہندوستانی فلموں میں عام طور پہ مسخ کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے اور دیکھنے والوں کے ٹیوٹر کا کردار یہ ادا کرتی ہیں۔میں نے منٹو کے کام کی جھلک دکھانے کی کوشش کی ہے جبکہ کسی خامی کے بغیر ان کی زندگی کی کہانی کو ان کی لکھی کہانیوں کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔

منٹو ایک مہان شخصیت ہے جسے ہندوستان اور پاکستان دونوں کی مانتے ہیں۔کیا آپ سوچتی ہیں کہ یہ دونوں ملک کبھی منٹو پہ یا منٹو کے کسی کام پہ ملکر کام کرسکتے ہیں؟

یہ بھی پڑھئے:   منحرف زندگی ارون دھتی رائے (حصہ دوم)

ہاں یہ بہت دلچسپ ہے۔جب منٹو پہ ایک کتاب پہکستان سے آتی ہے،لوگ کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کا ایک عظیم کہانی کار تھا۔جب ایک کتاب ہندوستان سے ریلیز ہوتی ہے، تو یہاں لوآ ایسے ہی کہتے ہیں۔میرا خیال ہے یہ بہت فنٹاسٹک بات ہے۔اس فلم کے ساتھ،ہم پاکستان اور ہندوستان میں منٹو بارے ایک بہتر تفہیم رکھ پائیں گے۔منٹو سے زیادہ بہتر طریقے سے دونوں ملکوں کے درمیان موجود فاصلوں کو پاٹ سکتا ہے؟ہوسکتا اے کہ جنوب ایشیائی شناخت اس کے لئے نمودار ہوجائے۔منٹو قلم بنائے جانے کی بہت سی وجوہات میں سے یہ ایک وجہ ہے۔

آپ کی فلم میں منٹو کی بیوی صفیہ کا کردار بہت نمایاں ہے۔جب ہم اس کے نابغہ ہونے کا جرچا کررہے ہوتے ہیں تو اکثر اس کی شراب نوشی کی لت اور خراب دماغی صحت کے سبب ان کو جس خوفناک لمحات کا سامنا رہا اس کو نظر انداز نہیں کرجاتے؟
درست،صفیہ کے بارے میں بہت کم لکھا گیا ہے اور اپنی ریسرچ اور ان کی بیٹیوں اور بہنوں کے درمیان وقت گزار رہی تھی تو میں نے ان کے بارے میں کہی جانے والی باتوں کو تبھی جمع کیا تھا۔کیونکہ صفیہ منٹو سے زیادہ عرصے تک جی گئیں، ان کی بیٹیاں ان کو زیادہ یاد رکھے ہوئے تھیں۔ان کو زیادہ اچھے سے سکرپٹ میں پوٹ رے کیا گیا ہے۔فلم میں،ہم ان کی ایک نئی جہت دیکھیں گے۔ راسکا (راسکا دوگل اداکارہ) ان کے کردار کے لئے واحد انتخاب تھیں جب میں نے ان کو ‘قصّہ’ میں دیکھا۔

منٹو نے ‘اظہار کی آزادی’ پہ زور دیا تھا۔اب فنکاروں کو قتل کی دھمکاں مل رہی ہیں اور فلموں کو ریلیز کرنے میں کافی دقت کا سامنا ہے۔لیکن ‘فائر’ کو ایک منظر کے کٹے بغیر ریلیز ہونے کا موقعہ مل گیا تھا؟
ہاں،’فائر’ بیس سال پہلے کسی قطع و برید کے ریلیز ہوگئی تھی۔مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ ہم آگے جارہے ہیں یا پیچھے۔یہ اس بات کے اظہار کا وقت ہے۔کسی بھی معاشرے کو ترقی کرنے کے لئے، ہمیں اچھائی اور برائی کو دکھانا پڑتا ہے۔یہاں تک کہ ‘منٹو’ میں، مصنف کا کردار دبا دبا سا ہے (گرے ہے)۔کوئی ملک،کوئی سماج محض اچھا نہیں ہوتا۔ہمیں برا بھی دکھانا پڑتا ہے تاکہ ہم اس کا حل ڈھونڈ سکیں۔یہ وقت ہے کہ ہم عکاسی کریں کہ کیسا ملک ہم پیدا کرہے ہیں۔اگر آپ کو فلم پسند نہیں آتی، لوگوں کو کہیں کہ اسے مت دیکھیں،لیکن آپ مجھے ڈرا دھمکا نہیں سکت یا سینما ہال کی توڑ پھوڑ نہیں کرسکتے۔

یہ بھی پڑھئے:   کابل سے لندن اور کوئٹہ تک ، دہشت گرد مسلمان ہی کیوں ہوتے ہیں؟ | حیدر جاوید سید

کیا آپ کو ‘منٹو’ کے حوالے سے کوئی ‘چنتا ‘(فکرمندی) ہے؟

کوئی بھی کہے جانے کے قابل بات ہو،اب وہ اشتعال دلانے والی بات بنادی جاتی ہے۔میں نے ‘منٹو’ کو سنسنی پھیلانے یا کوئی تنازعہ پیدا کرنے کے لئے نہیں بنایا ہے۔میں نہیں سمجھتی کہ ایسا کوئی ارادہ ہے۔کسی لکھت کار بارے کوئی تنازعہ اٹھتا ہے تو کیا اس کا ارادہ ایسا ہوجانے کا ہوتا ہے؟ یہی بات فلم بارے بھی ہے۔میرا نہیں خیال کہ کوئی مشکل ہوگی۔میں محسوس کرتی ہوں کہ آپ اپنے یقین کے ساتھ چلتے ہیں۔کیا ہونے جارہا ہے اس بارے ہلکان ہونے کی بجائے،میں اپنے ارادے اور عزم پہ یقین رکھنے کا سوچتی ہوں جو کہ صورت حال سے نمٹنے کا بہتریں راستا ہے۔اور یہی ہے جو میں اب کررہی ہوں۔

نوٹ: نندتا داس کا یہ انٹرویو دی ٹائمز آف انڈیا میں شایع ہوا۔اصل انگریزی متن درچ ذیل لنک پہ کلک کرکے پڑھا جاسکتا ہے۔ اور اس انٹرویو کا آخری سوال حذف کردیا گیا ہے جو کہ نندتا داس سے انٹرویو کرنے والے نے اڑیسہ،بہار،چھتیس گڑھ،مہاراشٹر وغیرہ میں بولی جانے والی اوڈیا زبان میں بننے والی فلموں کے حوالے سے پوچھا تھا۔ع۔ح

ٹائمز آف انڈیا پر انگریزی متن کے لئے یہاں کلک کریں

Views All Time
Views All Time
447
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: