Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

میڈیا انٹرنیٹ پر

Print Friendly, PDF & Email

abdul majid malik
یہ بات بتانے کی یا کہنے کی ضرورت نہیں کہ لکھنے کے لئے پڑھنا ضروری ہے ،مطالعے کے بنا آپ لکھنا بھی چاہیں تو نہیں لکھ سکتے ،آپ کے ذہن میں کئی طرح کے آئیڈیاز ہوں،ہزاروں خیالات ہوں پر جب آپ ان خیالات کو صفحہ پر اتارنے کی کوشش کرتے ہیں تو ڈھونڈنے سے بھی الفاظ آپ کو نہیں ملتے ،بس آپ سوچتے ہی رہ جاتے ہیں کہ لکھنا تو دور کی بات ہے شروعات کیسے کریں ،اسی ادھیڑبن میں آپ کاغذ قلم کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں فی الحال میری کیفیت کچھ ایسی ہی ہے مگرمیں نے صفحہ سیاہ کرنا ہے اور ایک حکم کی تعمیل کرنی ہے سو کچھ باتیں گوش گزار کروں گا۔
لکھنے کے لئے موضوعات میں ہمارا ملک کافی سے زیادہ کفیل ہے اوراس حوالے سے ہماری زمین کافی زرخیز ہے،یہاں پر کسی موضوع کا انتخاب کرنا کچھ چنداں مشکل نہیں ہوتا البتہ اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کرنا یا اس مسئلے کو الفاظ کا جامہ پہنا کر ،خوبصورت سے جملوں کا چناؤ کرتے ہوئے ایک کالم ترتیب دینا کچھ سہل نہیں ہوتا اور اس بندے کے لئے کافی مشکل ہوتا ہے جو اس فیلڈ سے کوسوں دور ہو چکے ہوتے ہیں ،اگر راقم اپنی بات کرے تو ایک طالبعلم کی حیثیت سے مجھے بھی کسی زمانے میں لکھنے کا شوق رہا ہے پر شاید مصروفیات آڑے آ گئیں یا پھر لکھنا سیکھ نہ سکا سو طبع آزمائی بھی چھوڑ دی،مگر اب پیار بھرا حکم تھا کہ آپ نے ’’قلم کار‘‘ کے لئے لکھنا ہے ،بچنے کی اور ٹالنے کی کافی اپنی سی سعی کی مگر بچ نہ پایا اور ابھی اسی حکم کی تعمیل میں آڑھی ترچھی لکیریں کھینچ رہا ہوں۔
قارئین!اگر ہم 2009 ؁ء سے پہلے دیکھیں تو اس وقت اگر لکھاری خواتین و حضرات کم تھے تو اس دور میں اخبارات ،رسائل و جرائد بھی قلیل تعداد میں چھپتے تھے اور نئے لکھنے والوں کو اپنی تحریر پبلش کروانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا ،ایڈیٹر اور ایڈیٹوریل ٹیم کی منت سماجت سے نئے لکھنے والا خود کو پبلش کروا بڑا پھنے خان قسم کا صحافی سمجھتا تھا،مگر حالات نے پلٹا کھایا اور دنیا انٹرنیٹ کی بدولت گلوبل ولیج بن گئی ،اب نیوز ،ادب ، تبصروں اور تجزیوں کے لئے کئی ویب سائٹس بھی بن گئیں ،اور اسی میدان میں قلم کار کا اضافہ ایک خوش آئند اقدام ہے۔
قارئین !موجودہ دور میں میڈیا کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ایک پرنٹ میڈیااور دوسرا الیکٹرانک میڈیا۔اول الذکر میں اخبار ،رسالے ،ڈائجسٹ اور میگزین آتے ہیں اور دوسری قسم میں ٹیلی ویژن کی سکرین آتی ہیں دونوں ہی اپنی اپنی جگہ نہایت اہم ہیں میڈیا کی ایک تیسری قسم بھی ہے جسے سوشل میڈیا کہتے ہیں جس میں فیس بک،یوٹیوب،ٹوئٹر کافی اہم ہیں سوشل میڈیا کا دائرہ بڑھتا چلا جا رہا ہے کل تک بوسیدہ کیمپیوٹر پر کام کرنے والے آج لوگوں کے شعوروں سے کھیلتے نظر آتے ہیں ،پچھلے کچھ عرصہ سے دنیا میں جو انقلاب برپا ہوئے ہیں اور لوگوں میں شعور و آگاہی کے ساتھ بغاوت کا جو بیج بویا گیا تھا اس میں سوشل میڈیا کا کافی اہم کردار تھا ،الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے محب وطن صحافی حضرات اور مالکان نے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی بڑے احسن انداز میں کی ہے لیکن دوسری طرف سوشل میڈیا میں کچھ ایسے لوگ بھی عوام کے شعور سے کھیلنے کی کوشش کریں گے جو پاکستان کی عوام میں شعور و بیداری میں اضافہ ہوتے دیکھ نہیں سکتے
پاکستان میں سوشل میڈیا کی ویب سائٹس استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے اور یہ دنیا کے ان تیس ممالک میں شامل ہے جن میں سب سے زیادہ سوشل سائیٹس استعمال کی جارہی ہیں گزشتہ کچھ مہینوں میں اس کے صارفین کی تعداد میں کافی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور کچھ بعید نہیں کہ پاکستان میں بھی شعوروں سے کھیلنے والی اس جنگ میں الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا بھی کردار ادا کرے۔
اس کے ساتھ ساتھ میڈیا جو کل تک اخبارات اور سکرین پر نظر آتا تھا ،آج انہوں نے ساتھ میں خود کو انٹرنیٹ پر اپ گریڈ کر دیا ہے ،اور ساتھ میں سوشل میڈیا میں کافی زیادہ متحرک ہو گئے ہیں ،بلکہ اس کے لئے علیحدہ سیکشن ترتیب دیئے جا رہے ہیں،اس کے ساتھ کچھ نئی نیوز اور کالمز کی ویب سائٹس بھی صحافتی میدان میں احسن انداز میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں اور ان میں سے تازہ اضافہ قلم کار کا ہے جو کہ خوش آئند بات ہے اس کے لئے راقم’ قلم کار‘ کی تمام ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے یہ ضرور عرض کرے گا کہ آپ نے اس میدان کا انتخاب تو کر لیا ہے جس میں آپ پر ایک بھاری ذمہ داری بھی عائد ہو جاتی ہے اور امید کرتا ہوں کہ قلم کار کی ٹیم خوبصورت انداز میں اپنی ذمہ داری کو نبھائے گی اور قلم کار اس میدان میں ایک تازہ ہوا کا جهونکا ثابت ہوگا
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

Views All Time
Views All Time
471
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   گریویٹی ڈیمز کیا ہوتے ہیں ؟ چین نے پاکستان کو کیا آفر دی ہے

One thought on “میڈیا انٹرنیٹ پر

  • 11/05/2016 at 5:29 شام
    Permalink

    InshAllah,,,,
    قلم کار کی ٹیم کے لئے نیک خواھشات

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: