کیا یہ کوئی خواب تھا

Print Friendly, PDF & Email

میں دیوانگی کی حد تک اُس سے پیار کرتا تھا! ”کوئی کسی سے کیوں پیار کرتا ہے؟ کتنا عجیب ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں محبت کرنے والے کو ایک ہی انسان نظر آتا ہے، ایک ہی خیال اُس کے دماغ پر چھا کر رہ جاتا ہے، ایک ہی خواہش اُس کے دل میں بسیرا کر لیتی ہے، اور ایک ہی نام کا اُس کے ہونٹ ورد کر نے لگتے ہیں…. کسی جھیل کے مچلتے پانی کی مانند ایک نام ہی مسلسل اُس کی روح کی گہرائیوں سے اٹھتا ہوا اُس کے لبوں پر آتا رہتا ہے، ایک ہی نام جو محبت کر نے والا بار بار دہراتا رہتا ہے، بلا تکان اُسے سرگوشیوں میں لیتا رہتا ہے۔ ہر جگہ، کسی مقدس عبادت کی طرح۔

”میں آپ کو ہم دونوں کی ایک کہانی سُنانے جا رہا ہوں، کیوں کہ محبت کی ایک ہی کہانی ہوتی ہے، ایک جیسی کہانی۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک دن میری اُس سے ملاقات ہوئی اور میں فوراً ہی اُس سے محبت کر بیٹھا۔ بس اتنی سی کہانی تھی۔ لیکن اس کے بعد پورے سال میں اُس کی گداز قربتوں، نرم بوسوں اور ریشمی باہوں، اُس کے لباس کی خوشبوو¿ں اور اُس کے شیریں لفظوں کے حصار میں مکمل طور پر ایسا آیا، اور اُن کے بندھنوں میں ایسا مضبوطی سے بندھا اور اپنے ہوش و حواس اس بُری طرح کھو بیٹھا کہ مجھے اس بات کی مطلق پر واہ نہیں رہی کہ دن ہے  رات، میں اس صدیوں پرانے خطہ¿ زمین پر مردہ انسان ہوں ےا زندہ۔  ”اور پھر وہ اچانک انتقال کر گئی۔ کس طرح؟ مجھے خود بھی نہیں معلوم۔ مجھے کسی چیز کا بھی علم نہیں، سوائے اس کے کہ ایک رات وہ گھر خوب بھیگی، بھاگی لوٹی، کیوں کہ اُ س وقت بہت تیز بارش ہورہی تھی۔ دوسری صبح اُسے کھانسی شروع ہوئی اور تقریباً ایک ہفتے وہ اسی طرح اس شدید کھانسی کے دورے میں مبتلا رہی۔ اور اس دوران مستقل بستر سے لگی رہی۔ اب کیا اصل حقیقت تھی، مجھے اس کے بارے میں اب ےاد نہیں۔ البتہ اتنا ےاد ہے کہ ڈاکٹر آتے رہے اور نسخے لکھ لکھ کر جاتے رہے۔ اسی طرح دوائیں بھی آتی رہیں، جنھیں ہمدرد قسم کی خواتین اُسے پلاتی رہیں۔ اس دوران اُس کے ہاتھ گرم رہتے تھے اور ماتھا بھی جلتا رہتا تھااور اُس کی آنکھیں بھی انگارہ بن گئی تھیں۔ اُن میں اداسی کی کیفیت الگ شامل تھی۔ البتہ جب میں اُس سے باتیں کرتا تھا، تو وہ اُن کا جواب بھی دیتی تھی۔ لیکن ہم دونوں کیا باتیں کرتے تھے، مجھے اب ےاد نہیں۔ میں ساری باتیں بھول چکا ہوں۔ ساری باتیں، ساری باتیں! اور جب وہ آخری وقت کی انتہائی نحیف سانسیں لے رہی تھی، تو وہ سانسیں مجھے اچھی طرح ےاد ہیں۔ اور جب نرس کی آواز اس دوران ”آہ“ کہتی ہوئی گونجی تو مجھے اچھی طرح علم تھا کہ کیا ہوگیا ہے۔ اچھی طرح علم تھا!

مجھے اس سے زیادہ کچھ نہیں معلوم، کچھ نہیں معلوم۔ بس اتنا ےاد ہے کہ میں نے جب پادری کو بلایا، تو اُس نے پہلا سوال مجھ سے ےہ کر ڈالا: ”کیا وہ تمھاری داشتہ تھی؟“ اس پر مجھے ےاد ہے کہ میں نے بہت بُرا محسوس کیا تھا کہ وہ اس قسم کے سوالات کے ذریعے اُ س کی ہتک کررہا ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ ےہ تو پادری ےا کسی کو بھی اختیار نہیں اور نہ ہی اخلاقی طور پر اُس کے لیے مناسب کہ وہ ایسی عورت کی تذلیل کرے، جو مر چکی ہے۔ اس وجہ سے میں نے اُس پادری کو چلتا کیا۔ دوسرا جو آیا تو بڑا ہمدرد، نرم گفتار اور شائستہ مزاج نکلا۔ اسی لیے جب اُس نے مرنے والی کے بارے میں اچھے کلمات بولنے شروع کیے تو میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ پھر لوگوں نے تدفین کے بارے میں مجھ سے مشورہ کیا، جس کے بارے میں مجھے بالکل ےاد نہیں کہ وہ کیا کہہ رہے تھے۔ البتہ مجھے تابوت کی موجودگی کا ےاد ہے اور جس طرح اُس کے مردہ جسم کو اُس میں اُتار کر اس تابوت کو کیلیں ٹھوک کر بند کیا گیا تھا، وہ سب کچھ ےاد ہے اور ہتھوڑی کی آواز بھی میرے کانوں میں اب تک گونج رہی ہے۔ اوہ میرے خدا۔ میرے خدا! ”پھر اُس کو قبر میں دفن کر دیا گیا! دفن کر دیا گیا! اُس کو! ایک گہرے گڑھے میں! کچھ لوگ اس موقعے پر جمع تھے۔ زیادہ تر اُس کی سہیلیاں۔ ےہی وہ موقع تھا، جب میں نے وہاں سے راہِ فرار اختیار کی۔ میں سڑکوں پر دوڑتا رہا۔ مسلسل دوڑتا رہا۔ ےہاں تک کہ میرا گھر آگیا۔ اور دوسرے دن میں طویل سفر پر نکل گیا۔

”پھر کل ہی میں بعد مدت پیرس پہنچا۔ اور جب میرے اپنے، بلکہ ہمارے، کمرے، ہمارے بستر، ہمارے فرنیچر، غرض ہر چیز جو مرنے والے کسی انسان کی اُس کی موت کے بعد ےاد دلاتی ہے، پر میری نظر گئی تو ایک بار پھر میرے دل کے گھاو¿ تازہ ہوگئے اور انھوں نے میرے وجود پر وحشیانہ حملہ کردیا۔ اور میر ادل چاہا کہ میں اپنی کھڑکی کھول دوں اور اُس میں سے سڑک پرچھلانگ لگا کر جان دے دوں۔ وجہ اُس کی صاف ظاہر ہے ےہ تھی کہ میں مرنے والی سے وابستہ چیزوں کے درمیان اب نہیں رہ سکتا تھا۔ اُن دیواروں کے درمیان نہیں رہ سکتا تھا، جنھوں نے اُس کے گرد مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے اُس کی حفاظت کی تھی۔ جو اپنی درزوںکے اندر اُس کے جسم کے ہز ا روں ذرات کی توانائی، اُس کی جلد، اُس کی سانسوں کی بھینی بھینی خوشبو و¿ ں کو سموئے رکھے ہوئے تھیں…. میرے لیے اس وقت اپنے جذبات پر قابو پانا مشکل ہوگیا تھا۔ اس لیے میں نے اپنا ہیٹ اٹھایا اور اس کمرے کی ہر چیز سے فرار حاصل کر نے کے لیے باہر نکلنے کو چلا۔ لیکن دروازے پر پہنچنے سے پہلے مجھے ہال میں موجود قد آور آئینے کا بھی سامنا کرنا تھا، جس کے ےہاں رکھنے کی اُس نے اس لیے فرمائش کی تھی کہ ہر روز گھر سے نکلنے سے پہلے وہ سر سے پاو¿ں تک جائزہ لے سکے کہ اُس کا میک اپ درست ہے اورےہ کہ وہ ہر زاویے سے خوبصورت لگ رہی ہے ےا نہیں اور اپنے ننھے بوُ ٹوں اور اپنی ٹھوڑی کے نیچے اٹکنے والے تسموں والی ٹوپی کی وجہ سے اُس کی دل کشی میں مزید اضافہ ہوا ہے ےا نہیں۔

میں اس آئینے کے سامنے ساکت کھڑا ہوکے رہ گیا، کیوں کہ وہ گھر میں رہنے کے دوران بھی اکثر، جی ہاں اکثر، اس کے سامنے اتنی دیر کھڑی رہتی تھی کہ مجھے اب بھی لگ رہا تھا کہ وہ اپنے چہرے کا عکس اس آئینے میں ہمیشہ کے لیے چھوڑکر چلی گئی ہے۔ اس وقت میں آئینے کے سامنے کھڑا کانپ رہا تھا، اپنی نظریں اُس کے شیشے پر منجمد کیے ہوئے۔ اُس ہموار شیشے کے سامنے، جس نے اُس کی شبیہ کو مکمل طور پروالہانہ انداز میں اپنی آغوش میں لے لیا تھا، جس طرح کہ اس وقت میری متلاشی نگاہیں بھی اُس کوآغوش میں لینے کی کوشش میں تھیں۔ مجھے محسوس ہوا کہ میں اس آئینے کے شیشے سے ہی محبت کر بیٹھا ہوں۔ چناں چہ میں نے اُس کو چھوُکر دیکھا۔ وہ تو مجھے بالکل سرد محسوس ہوا۔ اوہ! بد بخت ےادیں! غم کی چتا میں سُلگتے آئینے! خبیث آئینے! کیوں انسانوں کو ےادوں کے آزار دے کر اتنے کرب میں مبتلا کرتے ہو؟ شاید وہی آدمی خوشیاں سمیٹتا ہے، جس کا دل اپنے اندر کی ہر بات فراموش کردیتا ہے۔ ہر چیز جس سے ماضی میں اُس کا واسطہ پڑا۔ ہر چیز چاہے، محبت ہو ےا اُس کی ےادیں…. لیکن میںکس وجہ سے ےادوں کے عذاب میں مبتلا ہوں؟

یہ بھی پڑھئے:   وہ خط جو پوسٹ نہ کیے گئے-سعادت حسن منٹو

”لیکن اس وقت نہ تو مجھے اُس کی وجہ معلوم تھی اور نہ ہی اُس کے معلوم کرنے کی کوئی خواہش۔ اس وقت تو میرے خیالات اور جذبات بے انتہا بکھرے ہوئے تھے۔ اور اس کیفیت میں کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو میں قبرستان پہنچ گیا۔ میں نے دیکھا کہ اُس کی قبر سادہ سی ہے، جس کے ماربل کے تختے پر بنی صلیب پر ےہ کتبہ تحریر ہے:”اُس نے محبت لُٹائی، اُس نے محبت سمیٹی، اور دنیا سے رخصت ہو گئی“.”ہائے وہ مٹی کی تہہ میں دفن ہے اور اُس کا جسم گَل، سڑ رہا ہے! کتنا اذیت ناک المیہ ہے میرے ساتھ! ان جذبات کے ساتھ میرا ماتھا زمین پر ٹِک گیا اور میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ پھر میرے قدموں نے وہاں سے اٹھنے سے انکار کر دیا اور میں بہت دیر تک وہاں بیٹھا ر ہا، شاید گھنٹوں تک۔ پھر میں نے دیکھا کہ اندھیرا چھانے لگا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی میرے دل میں ایک عجیب سی، بلکہ پاگل پن کی سی خواہش پیدا ہوئی۔ خواہش، جو کسی بھی غم سے نڈھال اور شکستہ دل پریمی کی ہوسکتی ہے۔ اور وہ خواہش ےہ تھی کہ میں ےہ رات، شایدآخری بار ےہ رات اپنی محبوبہ کی قبر پر رو رو کر گزاروں۔ لیکن ےہ بھی قوی امکان ہے کہ مجھے دیکھ لیا جائے اور ےہاں سے رخصت کر دیا جائے۔ تو پھر میں اپنے منصوبے پر کس طرح عمل کروں؟ میں نے کچھ ہوشیاری دکھائی اور اس شہرِ خموشاں کے گرد چکر لگانے لگا۔ اور چلتا رہا، چلتا رہا۔ ارے ےہ شہرِ خموشاں دوسرے اُس شہر کے مقابلے میں کتنا چھوٹا ہے، جس میں ہم رہتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ےہاں مردہ لوگوں کی تعداد زندہ لوگوں سے کہیںزیادہ لگتی ہے۔ ہمیں اونچی اونچی عمارتیں، چوڑی، چو ڑی سڑکیںاور وسیع ترین زمینیں زندگی بسر کرنے کے لیے اپنی چار نسلوں کے لوگوں کے لیے درکار ہوتی ہیں، جب کہ وہ بھی صبح کے بعد ہی سورج دیکھتے ہیں جس طرح کہ ہم آج۔ اور وہ بھی ہماری طرح چشموں، دریاو¿ںسے پینے کا پانی، انگوروں کی بیلوں سے شراب اور کھیتوں کے ذریعے روٹی حاصل کر تے ہیں۔”اور تمام مردہ نسلوں، جن کی سیڑھیوں کے ذریعے ہم تک انسانیت پہنچی ہے، کے پاس مشکل ہی سے کوئی چیز رہ جاتی ہے، مشکل سے! اُن کی تمام چیزیں زمین واپس لے لیتی ہے فراموشگاری اُن کا نام و نشان مٹادیتی ہے۔ الوداع۔ خدا حافظ!

”قبرستان کے آخری قطعے پر پہنچ کر مجھے اچانک احساس ہوا کہ میں دراصل ےہاں کے سب سے پرانے حصے میں پہنچ گیا ہوں، جہاں طویل ترین عرصہ پہلے ےہاں آنے والے لوگوں کے جسم کبھی کے خاک میں مل چکے ہوں گے۔ اور جہاں کے مر مریں صلیبی کتبے بھی نہ معلوم کب کے خستہ حالت میں گر کرخود بھی زمین میں دفن ہوچکے ہوں گے۔ قبریں بھی اب ایسی مخدوش حالت میں ہوگئی ہیں کہ شاید اب اُن کی جگہ نئے لوگوں کی قبریں بن جانے کا عمل شروع ہو جائے گا۔ قبرستان کا ےہ حصہ گلاب کے پودوں سے پُر ہے، جن کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں۔ ےہاں سیاہی مائل سرو کے مضبوط پیڑوں کی بھی بھرمار ہے۔ اور ایک اداس قسم کا خوبصورت باغ بھی ہے، جو شاید اپنی خوراک انسانی گوشت سے حاصل کرتا ہے۔ ”میں اس وقت تنہا تھا، بالکل تنہا۔ اس لیے میں ایک سر سبز درخت پر اُس کی گھنی اور تاریک شاخوں کے درمیان اکڑوں بیٹھ گیا، تا کہ مجھے کوئی نہ دیکھ سکے۔ رات کے گہرے سایوں کے انتظار میں اب میں درخت کے تنے کو تھامے اس طرح بیٹھا تھاجس طرح کہ تباہ شدہ جہاز کا مسافر سمندر میں کسی اچانک مل جانے والے تختے پر بیٹھ جاتا ہے۔ ”جب اندھیرا مکمل طور پر چھا گیا تو میں اپنی پناہ گاہ سے اُتر کر پھر دبے دبے، آہستہ اور بے آواز قدموں سے مردہ لوگوں کی قبروں سے اَٹی ہوئی زمین پر چلنے لگا۔ لیکن اب کافی دیر تک اِدھر، اُدھر گھومنے کے باوجود مجھے اپنی اُس محبوبہ کی قبر نہیں ملی۔ میرے بازو اس دوران مسلسل پھیلے ہوئے تھے، کیوں کہ مجھے اپنے ہاتھوں، پیروں، گھٹنوں، سینے اور ےہاں تک کہ اپنے سر کی حرکت کی مدد سے اُس کی قبر تلاش کر نی پڑرہی تھی۔ میں اس وقت ایسے نا بینا شخص کی طرح تھا، جو اپنے راستے کی کھوج میں بُری طرح بھٹک گیا ہو۔

مجھے اس وقت پتھروں، صلیبوں، لوہے کی سلاخوں کے جنگلوں، دھاتی گلدستوں، اور مرجھائے ہوئے پھولوں سے بار بارواسطہ پڑ رہا تھا!میں اپنی انگلیوں کی مدد سے مدفون لوگوں کے تعارف کو چھوڑ کر اُن کی قبروں کے کتبوں پر لکھے نام پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن کیسی بھیانک رات تھی، بھیانک رات! کیوں کہ ہر ممکن کوشش کے باجود مجھے اُس کی قبر نہیں ملی۔ اس وقت چاند کا بھی پتہ نہ تھا۔ اُف کیسی تاریک رات تھی وہ! میں قبروں کے درمیان بنی ہوئی تنگ قطاروں کے بیچ میں اپنے آپ کو خوف زدہ محسوس کر رہا تھا، انتہائی خوف زدہ۔ میرے چاروں اطراف قبریں تھیں۔ قبریں ہی قبریں! کچھ اور نہیں صرف قبریں ہی قبریں! میرے دائیں طرف، میرے بائیں طرف۔ میرے سامنے، میرے پیچھے، ہر رُخ پر، ہر سمت پر! اور اب مجھ میں اتنی سکت نہیں تھی کہ دو قدم بھی آگے چل سکوں، کیوں کہ میرے گھٹنے جواب دے گئے تھے۔ اسی لیے میں ایک قبر پر سستانے بیٹھ گیا۔ اس وقت میں اپنے دل کی دھڑکن اچھی طرح سُن سکتا تھا! لیکن اس کے علاوہ بھی میں کچھ سُن سکتا تھا۔ کیا؟ ایک منتشر ساتیز شور، جس کو کوئی نام نہیں دیا جاسکتا تھا۔ کیا ےہ شور اس تاریک، مبہم اور پیچیدہ رات میں میرے ذہن کی پیداوار تھا، ےا اس پُر اسرار زمین نے اُس کو جنم دیا تھا، جس کی تہہ میں انسانی لاشوں کی کھاد شامل ہے؟ میں اپنے چاروں طرف اس ہیبت ناک شور کا مقام تلاش کرنے کے لیے اپنی نظریں دوڑا رہا تھااور مجھے احساس ہی نہیں ہوا کہ میں کتنی دیر بیٹھا اس عمل کو دہراتا رہا۔ اس دورن میں خوف و دہشت کے عالم میں تقریباً مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔ میرا بدن اس کیفیت میں ےخ بستہ ہو گیا تھا، اور میں زور زور سے چیخنے، چلانے، ےہاں تک کہ خود کو مار ڈالنے پر تیار ہوگیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:   میں خود کو ڈھونڈنے کے لئے (سفر فسانہ) دوسرا حصہ| مجتبیٰ شیرازی

”پھر اچانک مجھے محسوس ہوا کہ قبرکی مر مریں سل، جس پر میں بیٹھا ہوں، حرکت کر رہی ہے۔ ےہ صرف میرا واہمہ ہی نہیں تھا، کیوں کہ حقیقت میں وہ اس طرح حرکت پذیر تھی کہ جیسے کوئی اُسے اُٹھا رہا ہے۔ میں گھبراکر فوری طور پر اچھل کر اپنے برابر والی قبر پر پہنچ گیا۔ وہاں سے میں نے دیکھا، جی ہاں خوب اچھی طرح دیکھا کہ میری چھوڑی ہوئی قبر کی سل اب بالکل سیدھے رُخ پر کھڑی ہوگئی تھی۔ اور اس کے بعد اس میں سے ایک مردہ آدمی نمودار ہوا، بالکل برہنہ ڈھانچے کی حالت میں۔ اور اُس نے اس سل کو واپس قبر پر سر کا دیا، اس طرح کہ وہ ایک طرف سے کچھ اٹھی ہوئی تھی۔ اور میں رات کے اس غضبناک اندھیرے میں بھی اُس کے صلیبی تختے پرکندہ مردہ آدمی کا ےہ کتبہ پڑھ سکتا تھا: ”ےہاں جاکس اولیواں دفن ہے، جس نے اکیاون سال کی عمر میں وفات پائی۔ وہ اپنے خاندان سے بہت محبت کرتا تھااور بڑا رحمدل، معزز آدمی تھا۔ وہ رحمتِ خداوندی کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوا۔“ مردہ آدمی نے بھی اپنی قبر کے اس کتبے کو بڑے غور سے پڑھا اور پھروہ راستے میں پڑے ہوئے ایک نوک دار پتھر کو اٹھا کر اُس کی مدد سے ان حروف کو بڑی احتیاط سے کھرچنے لگا۔ اُس نے آہستہ آہستہ کرکے ان تمام حروف کو مٹا دیا اور پھر اپنی آنکھوں کے بڑے بڑے سوراخوں سے اُن تمام جگہوں کا مطالعہ کرنے لگا جہاں ےہ حروف کندہ تھے۔ پھر اُس نے اپنی انگلیوں کی ہڈیوں کی نوکوں سے بڑے شفاف طرز کے متبادل حروف ان خالی جگہوں پر پُر کر نے شروع کیے، اسی طرح، جس طرح کہ رگڑ سے جلنے والی دیا سلائی کی تیلیوں سے بچے دیواروں پر لکھتے پھر تے ہیں۔ اب جو کتبے کے نئے حروف بنے ہوے تھے:

”ےہاں جاکس اولیواں آرام کررہا ہے، جس نے اکیاون سال کی عمر میں وفات پائی۔ اُس نے اپنے باپ کی جائیداد حاصل کرنے کے لیے اُس کے ساتھ اس قدر ظالمانہ سلوک کیا کہ وہ وقت سے پہلے ہی دنیا سے چلا گیا۔ اُس نے اپنی بیوی کو اذیتیں دیں، اپنے بچوں پر تشدد کیا، اپنے پڑوسیوں کو دھوکہ دیا، جس شخص سے بھی اُس کا واسطہ پڑا، اس کو اِس نے لوُٹا۔ لیکن مرا بڑی کسمپرسی کی حالت میں“ ”ان حروف کو لکھنے کے بعد مردہ آدمی بے سدھ اور بے حرکت کھڑا ہوگیا، اور اپنی نئی تحریر کو تکنے لگا۔ اس دوران میں نے چاروں طرف اپنی گردن گھمائی تو مجھے پتہ چلا کہ میرے ارد گرد کی تمام قبریں کھلی ہوئی ہیں اور اُن میں سے اپنے اپنے انسانی ڈھانچے باہر آئے ہوئے ہیں اور ےہ کہ سب نے اپنی قبروں کے کتبوں کی وہ جھوٹی تحریریں مٹا دی ہیں، جو اُن کے کنبے والوں ےا دوستوں نے تحریر کرائی تھیں اور اُن کی جگہ ان مردوں نے اپنے بارے میں انتہائی کھلے طور پر سچے حروف تحریر کرد یے ہیں۔ اور میں نے دیکھا کہ ان حروف کے مطابق سب لوگ اپنے اپنے پڑوسیوں کو تنگ کرنے والے، عداوت رکھنے والے، بے ایمان، عیار، جھوٹے، بدمعاش، بہتان طراز، اور حاسد تھے۔ وہ چوری، چکاری کر لیتے تھے، دھوکہ دہی اُن کا شیوہ تھا۔ ہر مذموم اور گھٹیا قدم اٹھانے میں اُن کو کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی تھی۔ اِ ن میں اُن کے اصلی کتبوں کے مطابق بہت اچھے باپ بھی تھے، اُن کی وفا دار بیویاں بھی تھیں، اُن کے خدمت گزار بیٹے بھی شامل تھے، پاک دامن بیٹیاں بھی۔ تاجر تھے، اور دوسرے پیشوں کے لوگ بھی۔ غرض آدمیوں، عورتوں میں ہر کوئی شامل تھا، جن کی نیکی شرافت پر کتبوں کے اعتبار سے کوئی بھی انگلیاں نہیں اُٹھا سکتا تھا۔ ےہ سب لوگ ان جھوٹے کتبوں کی مدد سے ایک ہی وقت میں اپنے ابدی ٹھکانوں کی دہلیز پر اپنی ذات میں پائی جانے والی نام نہاد نیکیوں اور سچّائیوں کا ڈھنڈورا پیٹ رہے تھے۔ ان کے بارے میں کھلی اور مقدس حقیقتوں کا اب کسی کو علم نہیں تھااور اگر کسی کو تھا بھی تو وہ مصلحتاً ان کا انکشاف کرنے کی بجائے اُن کو نظر انداز کر نے میں بہتری سمجھتا تھا، جس طرح کہ ان مردہ لوگوں کی زندگیوں میں اُس کے تمام واقف کار کرتے آئے تھے۔

”مجھے اس دوران خیال آیا کہ ہو سکتا ہے کہ میری محبوبہ نے بھی اپنے اصلی کتبے کے الفاظ میں ردوبدل کیا ہو۔ چناںچہ اب میں بلا خوف و خطر ادھ کھلے کفنوں، لاشوں اور ڈھانچوں کے درمیان سے ہوتا ہوا ایک بار پھر اُس کی قبر اور خود اُس کی تلاش میں نکلا، کیوں کہ اب مجھے نہ معلوم کیوں قین ہوگیا تھا کہ وہ بھی دوسروں کی طرح اپنی قبر سے نمودار ہوکر کھڑی ہوگی۔ اور ہوا بھی ہے۔ میں نے اُس کو فوراً پہچان لیا، حالاںکہ اُس کا چہرہ کفن میں ڈھکا ہوا تھا۔ اور مرمریں صلیبی تختے پر کچھ گھنٹوں پہلے میں نے جو لکھا دیکھا تھا:
”اُس نے محبت لُٹائی، اُس نے محبت سمیٹی اور دنیا سے رخصت ہوگئی“ اُس کی جگہ اب لکھا تھا: ”وہ اپنے ٹوٹ کر چاہنے والے سے وفادار نہیں تھی اور ایک روز وہ اُس سے بہانہ بناکر دوسرے آدمی کے پاس جانے کے لیے بارش میں نکلی تو ٹھنڈ کا شکار ہوگئی اور چل بسی“”پھر ایسا لگتا ہے کہ دوسرے دن کے آغاز کے وقت میں لوگوں کو اُس کی قبر پر بیہوش پڑا ہوا ملا۔“ بشکریہ یاسر حبیب فیس بُک گروپ: عالمی ادب کے اردو تراجم

Views All Time
Views All Time
210
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: