بدعت کی فیکٹریاں

Print Friendly, PDF & Email

akhtar abbasشب برات آتی ہے اور لوگوں کو فکر لگ جاتی ہے کہ کہیں میں پٹاخے تو نہیں پھاڑوں گا ۔ کسی قبر پر فاتحہ تو نہیں پڑھ لوں گا۔ میرے نوافل پڑھنے کی فکر ان لوگوں کو بھی لگ جاتی ہے جنھیں میری عبادت گزاری کے بارے میں زیادہ خوش فہمی نہیں ہے۔ میسیجز، ایس ایم ایس اور سماجی محفلوں میں اشارے کنایے سے وہ احادیث جن میں نافلہ عبادات کو اکیلے میں کرنے کی فضیلت ہو، بیان ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بم بنانے والی اور دہشت گرد پھاڑنے والی فیکٹریوں سے پہلے ایک اور فیکٹری بنی تھی وہ تھی بدعت کے سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والی فیکٹری۔ بلکہ بہت ساری جگہوں پر یہ تینوں فیکٹریاں ایک ہی چھت کے نیچے پائی جاتی ہیں کہ سپلای چین مینیجمنٹ کے سارے اصول اس بات پرمتفق ہیں کہ اگر ویلیو اڈییشن کے پراسس میں وقفہ اور فاصلہ نہ ہو تو بچت بھی ہے اور کوالٹی کا بھی اچھا انتظام ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے خود کش حملہ آور نہ صرف ISO 9001 certified ہیں بلکہ دنیا میں ایکسپورٹ ہونے والی اصلی تے وڈی پیداوار بھی .
ویسے بھی دنیا میں صرف دو ہی مذہب ہیں ۔شریعت والے یا طریقت والے؛ باطن والے یا ظاہر والے ۔ یہودی کبالا ہو یا عیسای مسٹسزم ہو یا بدھسٹ نروانا ہو یا صوفی وجدان ہو یا شیعہ نفس مطمینہ سب باطن کو مانتے ہیں، طریقت کی سنتے ہیں۔ طالبانی شریعت ہو، سعودی اسلامی حکومت ہو، جماعت اسلامی کی جمہوریت ہو یا ایرانی ولایت ، سب شریعت کو مانتے ہیں، کتاب کی سنتے ہیں۔ تاریخ ہمیشہ شریعت اور طریقت کی لڑای ہی رہی ہے۔ شب برات کی لڑای بھی شریعت اور طریقت کی لڑای ہی ہے۔ ایک طرف فتوی اور دوسری طرف جذبہ۔
میں عملی یا فکری شیعہ نہیں ہوں۔ نسلی شیعہ ہوں۔ آپ اسے قبر پرستی کہہ لیں، شخصیت پرستی کہہ لیں یا پھر رچولسٹک سوچ۔ نسلی شیعہ کربلا کی روایت لے کر بڑھا ہوتا ہے۔ قتل گاہ، قبرستان، مٹی، کفن، اگر بتی، نیاز، نذر اور میلاد کی روایت کا امین۔ وہ چاہے بے دین ہو جاے، اللہ کی وحدانیت نہ مانے لیکن محرم کے جلوس میں سینہ زنی ضرور کرے گا کہ بقول جون ایلیا خدا ایک واہمہ ہے مگر حسین ایک سچای ہے۔بلکہ عقیدے کی بے ساکھی پر بوجھ جتنا کم ہوتا چلا جاتا ہے عقیدت کی ٹانگیں اتنا ہی شدت سے تھرکنا شروع ہو جاتی ہیں۔ مجذوبیت بڑھتی جاتی ہے جوں جوں فلسفہ کم ہوتا ہے۔ فنا فل اللہ کا دھیان کم اور فنا فی الشیخ زیادہ۔ طریقت کے مذاہب میں توسل اہم ہے، تواتر زرا کم۔ یہ توسل ہی وہ ہتھیار تھا جس کی بنیاد پر علی کی بیٹی نے یزید کے دربار میں خطبہ دیا۔ “یزید تو سن رہا ہے نا “ ماضی سے نسبت وہ کتھارسس تھا کہ جس نے امام زین العابدین کو مرتے دم تک شام کا سفر نہ بھولنے نہ دیا۔ یہ رچول ہے جس نے بنو امیہ اور بنو عباس کے دور میں آل محمد کا زکر زندہ رکھا۔ ماضی سے یہ توسل اور باطن سے یہ انسیت سرمد کا بھی نعرہ تھی اور سرمست کا بھی۔ یہ قبر پرستی نہیں بلکہ مردوں کی دنیا میں زندوں کی یاد ہے
میں سکردو کے قتل گاہ قبرستان کیوں نہ جاوں۔وہاں وہ قبریں ہیں جنہوں نے مجھے زندگی دی۔ کیوں میں مولوی کی دستار کی سلوٹوں میں اپنا دین چھپاوں جب آج سے چار سو سال پہلے کشمیر سے آنے والے سید علی ہمدانی سے ساتھی میرے باپ دادا کو اسلام شیرکھر پوچو کے نیچے اس ریت کے ڈھیر پر سکھا یا تھا۔ جب سردیوں میں آنے والے محرم کی بے مایگی کو گرمیوں میں اسد کے عاشورہ کے جلوس میں چھپایا جاتا تھا کہ حسین کا پرسہ جس سال ادا نہ ہو اس سال فصل کاٹ کی فصلیں کھانے والوں کے معدوں میں جذب نہیں ہوتی تھیں۔ کیوں میں بھول جاوں اس شہید حنیف کو جس کی خوش الحان آواز میں ان لوگوں کی باتوں کا جواب تھا کہ شیعوں میں قاری نہیں ہوتے اور جس کو بابو سر میں بس سے اتارنے والوں کو پتہ تھا کہ گولی کتنے فاصلے سے چلانی ہے۔ کیوں میں ان شہیدوں کو سلام نہ کروں جن کا جرم یہ تھا کہ ان کے نام حلق سے نقلنے والے ع کی آواز والے عبید الرحمن یا عبدلحفیظ نہیں بلکہ اردو کے گلے پر بوجھ نہ ڈالنے والے ح اور ع والے حسین اور عباس تھے ۔ کیوں میں قراقرم کے دامن میں ڈوبتے سورج کی سرخ روشنی میں خرم زکی کو یاد نہ کروں کہ میں اور وہ لال مسجد کے باہر کھڑے تھے تو کسی کو یہ نہیں پتہ تھا کہ اگلی گولی کس کا سینہ رنگین کر جاے گی ۔ میں اپنے دادا غلام حسین کی قبر پر کیوں نہ جاوں جس نے استور جیسے پس ماندہ علاقے میں میرے والد کو سکول بھیجا یہاں تک کہ لوگ کہنے لگے کہ اپنی بیوی کو بھی بستہ دے کر سکول بھیج دے۔ ایسی منڈی میں جہاں فصل کاٹنے والے ہاتھ اور لکڑیاں تولنے والے بازو سرمایہ ہوتے تھے، اس نے لفظوں کے وہ موتی خریدے جن کا دور دور تک کوی خریدار نہیں تھا۔ کیسی کیسی خوشبویں اس مٹی میں شامل ہیں جہاں ایک میں نے بھی مل جانا ہے۔
شب برات میں بہت کچھ ہے، پٹاخے ہیں، نوافل ہیں، ناراضگیاں ہیں اور شاید کچھ بدعتیں بھی۔ آپ مجھے سب سے منع کریں میں رک جاوں گا۔ مگر مجھے قبرستان جانے سے مت روکیے ۔ یہ وہ مٹی ہے جس میں میرا نروانا، میرا وجدان اور میری تکمیل ہے۔ یہ میرا ماضی بھی ہے، میرا حال بھی اور میرا مستقبل بھی۔ یہ وہ سورج ہے جو میرے جیسے بے ہنگم منزل سے بھٹکے سیارے کو اپنے کشش ثقل کے دایرے میں دیوانہ وار گھمایے رکھتی ہے۔

Views All Time
Views All Time
361
Views Today
Views Today
1
mm

اختر عباس

اختر عباس نہ لیفٹ کے ہو سکے نہ رائیٹ کے۔ دونوں کے درمیان صلح صفائی کی کوشش میں اکثر مار کھا جاتے ہیں۔ دہشت گردی، سیاست اور معاشرتی نظام کی بدلتی کہانیاں سناتے ہیں۔ انہیں آپ اس ٹویٹر ایڈرس پر فالو کر سکتے ہیں @Faded_Greens

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: