Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

جشن آزادی: ایک تقریر کا ایک جزو، آگے بس اندھیرا

by اگست 14, 2016 کالم
جشن آزادی: ایک تقریر کا ایک جزو، آگے بس اندھیرا
Print Friendly, PDF & Email

aamir hussaini newآج چودہ اگست کو پاکستانی ریاست اور اس کے اشراف حکمران زور و شور سے جشن منانے میں مصروف ہیں اور سرکار کی اوپر سے لیکر نیچے تک کی مشینری پاکستانی نیشنل ازم کا ڈھونڈرا پیٹنے میں مصروف ہے ۔ اس ملک کے اشراف اور مراعات یافتہ طبقات اور سماجی گروہوں کی جانب سے جشن منانے کا جواز بھی نظر آتا ہے کیونکہ تقسیم کے بعد نئی بننے والی ریاست کے ڈھانچے اور ساخت نے ان کو بے انتہا فائدہ پہنچایا اور اس ریاست کی ساری طاقت کو ان کے مفادات کے تحفظ پہ مامور کردیا جوکہ اس سے پہلے کسی صورت ممکن نہیں تھا ۔پاکستان میں سرکاری نیشنل ازم پہ مبنی بیانیہ سے انحراف ہمیشہ سے ایک ایک ناقابل معافی جرم رہا ہے۔ اگر آپ کو سزا نہ بھی دی جائے تو اچھوت ضرور بنادیا جاتا ہے۔میں دیکھ رہا ہوں کہ پاکستانی مرکز پسند دانشور جو لبرل اور قدامت پرست دو صفوں میں تقسیم ہیں دونوں میں یہ دوڑ لگی ہوئی کہ پاکستان اور اس کے بانی کی تاریخ سے اپنے لبرل یا قدامت پرست نظریات کی تائيد ڈھونڈ کر لائیں اور اپنے اپنے خیالات کو ہی ” جناح ” کے اصلی اور حقیقی نظریات بناکر پیش کریں۔لیکن ان میں سے بہت کم ہیں جو اتہاس ( تاریخ) کے پنّوں ( صفحات ) پہ بکھرے کچھ ان خیالات کو بھی سامنے لیکر آئیں جو خود جناح ، گاندھی ، نہرو اور دیگر کرداروں کو بھی انصاف سے دیکھنے اور رائے دینے پہ مجبور کرتے ہوں۔میرے سامنے اس وقت ہندوستان کے قانون دان ،دانشور اور کالم نگار اے جی نورانی کی کتاب "جناح اینڈ تلک۔کامریڈ ان فریڈم سٹرگل ” ( جناج اور تلک ۔جدوجہد آزادی کے ساتھی )کا ضمیمہ نمبر 26 ہے ۔عنوان ہے : جناح اور مسلمانان ہندوستان ۔اس ضمیمہ میں اے جی نورانی نے حوالوں سے یہ بات ثابت کی ہے کہ جناح جوکہ اقلیتوں کے حقوق کے سب سے بڑے علمبردار بنکر ابھرے تھے وہ کیسے پاکستان کے قیام کے بعد خود اقلیتوں کے مقدمے سے دست بردار ہوگئے۔اے جی نورانی نے رائٹرز نیوز ایجنسی کے نمائندے ڈنکن ہوپر کو 25 اکتوبر ،1947ء کو دئے گئے انٹرویو میں جناح کے خیالات ظاہر کیے:
یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو دھمکی آمیز لہجے میں کہا جاتا ہے کہ وہلیگ کی قیادت سے وفاداری کے حلف سے دست بردار ہوں اور پاکستان بنانے کی حمایت جیسے عمل کو اعلانیہ اپنی حماقت تسلیم کریں۔اور دو قومی نظریہ کو بھی ایک حماقت قرار دیں ۔اور ان سے وفاداری کے ثبوت کے لئے خاص معیارات اور امتحانات پہ پورا اترنے کے مطالبے بھی کئے جارہے ہیں۔ جہاں تک دو قومی نظریہ کا تعلق ہے تو یہ ایک نظریہ نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے۔۔۔۔۔۔مسلم اقلیت اور ان کے رہنماء جو ہندوستان میں رہ گئے ہیں کے لئے میں نے پہلے یہ نصیحت کردی تھی کہ ان کو اپنی منتخب کردہ قیادت کے تحت خود کو منظم کرنا چاہئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میں نے ان کو کہا تھا کہ ان کی پہلی ترجیح حکومت ہند سے وفاداری ہونی چاہئیے ۔۔۔۔۔۔۔
جناح نے اپنے اس انٹرویو میں ایک طرف تو "دو قومی نظریہ” کو ایک تھیوری کی بجائے ایک حقیقت قرار دیتے ہوئے دوسرے سانس میں ہندوستان کی حکومت سے وفاداری مسلمانان ہندوستان کی پہلی ترجیح قرار دے ڈالا ۔اور یہاں ہمارے پاس کرنے کو سوال یہ بھی ہے کہ اگر مذہب سے قوم بنتی ہے تو 11 اگست 1947ء کو جناح نے دستور ساز اسمبلی سے تقریر کرتے ہوئے ریاست کی شہریت کو ایک سیکولر شکل کیوں دی تھی ۔اور یہ کیوں کہا کہ ریاست کی نظر میں سب شہری برابر اور اس میں ان کے مذہب کا کوئی تعلق نہیں ہوگا ۔یہاں یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ اگر قوم مذہب سے بنتی ہے تو صرف ہندو اور مسلمان ہی دو قوم کیوں ہوئے ہندوستان میں ؟ اور یہ سٹیٹس سکھوں اور دلت ، کرسچن کو کیوں نہ ملا؟اور ذرا کرانیکل ترتیب بھی دیکھ لیں کہ قائد اعظم کی دو قومی نظریہ کو تباہ کرنے والی تقریر اگست کی 11 تاریخ کو سال 1947ء میں سامنے آئی اور اس کے بالکل الٹ بات انہوں نے صرف دو ماہ بعد اکتوبر 1947ء کو کرڈالی جس میں انہوں نے ایک بار پھر دو قومی نظریہ کو ایک حقیقت قرار دے ڈالا ۔اے جی نورانی کہتے ہیں کہ جناح جن کو ہمیشہ ہندوستان میں ہندو اکثریت کے علاقوں میں مسلم اقلیت کے مستقبل بارے بات کرتے سنا گیا تھا اور قرارداد لاہور 1940ء میں بھی دو الگ ڈومینن میں اقلیتوں کے تحفظ کے لئے ایک میکنزم اور پالیسی تیار کرنے کا ذکر کیا گیا تھا اسے مکمل نظر انداز کردیا گیا تھا ۔اے جی نورانی حقائق کی بنیاد پہ نتیجہ نکالتے ہیں :
” انہوں نے ہندوستان اور پاکستان میں موجود اقلیتوں کے حوالے سے مشترکہ پالیسی بنانے کے لئے باہمی تعاون کے لئے کوئی کوشش نہیں کی۔اس کے برعکس انہوں نے حسین شہید سہروردی کی جانب سے اس سمت حرکت کو کاٹ دیا۔اور جناح کا یہ فیصلہ ان تین فیصلوں میں سے ایک تھا جس نے ہندوستانی مسلمانوں کے مفادات کو بہتر بنانے کی بجائے ان کو نقصان پہنچایا ۔چوہدری خلیق الزماں کو ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی میں بہت زیادہ غیر جانبدار نواب اسماعیل کی جگہ لیگ پارٹی کا سربراہ مقرر کرنا بہت غلط تھا۔اور پھر چوہدری خلیق الزماں کو کشمیر بارے پاکستانی لیگ قیادت کی پالیسی کی پیروی نہ کرنے پہ ان پہ شدید طعنہ زنی کرنا اس سے بھی بدترین فعل تھا ۔پاکستان کے وزیر خارجہ چوہدری ظفراللہ نے اقوام متحدہ میں مسلمانوں کو ذبح کئے جانے بارے اپنی تقریر میں بات کی تھی ۔اس کا جواب چوہدری خلیق الزماں نے 20 ستمبر 1947ء کو دیا۔اس کو ہندوستان میں اس کے ماضی کے حوالے سے تنقید اور طنز کا سامنا تھا ۔اور جب 5 اکتوبر 1947ء کو وہ جناح سے ملا تو اس سے اس کے بیان بارے پوچھا گیا ”
اے جی نورانی اس سے آگے چوہدری خلیق الزماں کی جناح سے ہونے والی بات چیت کو درج کرتا ہے۔ اس میں خلیق الزمان کو کہا جاتا ہے کہ کشمیر پہ ان کے بیان نے حکومت پاکستان کی سبکی کروائی ہے۔اس پہ چوہدری خلیق الزماں نے ان کو یاد کرایا کہ یہ ہندوستان میں مسلم لیگ کے اپوزیشن لیڈر کا بیان ہے اور اس سے پاکستان کی حکومت کا کیا تعلق ہے۔ چوہدری خلیق الزماں کہتے ہیں کہ اس جب وہ دہلی میں تھے تو حسین شہید سہروردی نے ان کو ہندوستان و پاکستان میں اقلیتوں کے تحفظ بارے تیار کی گئی ایک پالیسی کا مسودہ دکھایا گیا تھا جسے جناح کو جب دیا گیا تو انہوں نے اس پہ کوئی تبصرہ کئے واپس کردیا گیا۔
اے جی نورانی کے مطابق رفیع قدوائی کے گھر پہ چوہدری خلیق الزماں کی حسین شہید سہروردی سے ملاقات ہوئی اور سہروردی نے پہلی مرتبہ ان کو ایک پالیسی ڈرافٹ دکھایا جوکہ ہندوستان میں مسلمانوں کے تحفظ کے لئے دونوں ریاستوں کے درمیان ایک مشترکہ میکنزم کی بات کرتا تھا ۔اس پہ گاندھی جی کے یہ ریمارکس لکھے تھے کہ ” کیا جناح اس معاہدے کی پابندی کریں گے ” بس یہی ریمارکس جناح کو بروفروختہ کرنے کے لئے کافی تھے ۔حسین شہید سہروردی تقسیم کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کے تحفظ کے لئے جو پالیسی ڈرافٹ لئے پھررہے تھے اور جناح سے انہوں نے خطوط میں کیا باتیں کیں تھیں اس کا پتہ دو ہزار ایک میں ” جناح پیپرز ” کی اشاعت کے بعد ہی چل سکا ۔حسین شہید سہروردی نے ایک خط میں جناح کو لکھا کہ وہ ہاتھ جوڑ کر ان سے درخواست کرتے ہیں کہ اس ڈرافٹ کو منظور کرلیں تاکہ دونوں ریاستوں میں اقلیتوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جاسکے ۔لیکن اس حوالے سے کوئی التجاء کارگر نہ ہوئی۔
“ I beg this of you with folded hands. Please do not leave us in lurch……We only want you to cooperate, with Indian Union so that the minorities conditions improve.”( Jinnah Papers۔1 October۔31 December1947 ۔ Volume 6 )
پھر اس سے بھی بدترین چیز کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کی کونسل کا 14 دسمبر سے 15 دسمبر 1947ء کو ہونے والے اجلاس میں سامنے آئی ۔جس میں پارٹی کو دو حصّوں میں بانٹ دیا گیا۔اور جناح نے اس سپلٹ پہ ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کرنے والے لیگی لیڈروں کی خواہش کے برعکس اصرار کیا اور کہا کہ ہندوستان میں رہنے والے ازسرنو لیگ کو قائم کریں۔جناح کا کہنا تھا کہ اگر اس سے ہٹ کر کچھ اور کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ ختم ہوجائیں گے۔اس اجلاس میں حسین امام بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ آل انڈیا مسلم لیگ کو دو حصوں میں بانٹنے والی قرارداد اگر ناگزیر ہی ہے تو اس میں ” ہوں گی ” کی بجائے ” کرسکتے ” ہیں کرلیا جائے ۔کیونکہ یہاں پاکستان میں موجود لوگ نہیں سمجھ سکتے کہ وہاں ہندوستان کے مسلمان کن حالات سے دوچار ہیں۔ان کو اپنے مستقبل کا فیصلہ ان کے اپنے حالات کی بنیاد پہ کرنے کے لئے آزاد چھوڑ دیا جائے۔لیکن کسی ایک نے بھی ان کی اس ترمیم کی حمایت نہ کی ۔جناح نے اس موقعہ پہ حسن امام کو قرارداد دوبارہ پڑھنے کو کہا اور ان سے کہا کہ اگر وہ مسلم لیگ ہندوستان میں تشکیل نہیں دیتے تو وہ واپس 1906ء کی پوزیشن پہ چلے جائیں گے۔جناح نے اس بات پہ بھی اصرار کیا کہ ہندوستان ميں مسلمانوں آئیڈنٹی پالیٹکس کو جاری رکھیں اور مولانا ابوالکلام آزاد اور جمعیت علمائے ہند سمیت کانگریس نواز سیاست دانوں کی باتوں ميں نہ آئیں۔اس موقعہ پرحسین شہید سہروردی نے تقریر کرتے ہوئے کہا:
"میں اس قرارداد کی مخالفت کرتا ہوں۔میں ان لوگوں میں سے ہوں جنھوں نے کچھ عرصہ پہلے لیگ کی تقسیم کی تجویز پیش کی تھی ۔تو بعض کو مری مخالفت حیران کن لگے گی ۔لیکن تقسیم سے پہلے مجھے فکر ہے کہ ہمیں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے کچھ کرنا چاہئیے ۔میں کہتا ہوں کہ جب ہمارا مقصد حاصل ہوگیا تو ہمیں خود کو ایسے منظم کیوں نہیں کرنا چاہئیے جس میں اقلیتوں کو قومی بنیادوں پہ موقعہ ملے کہ وہ ہمارے ساتھ ایک ہی تنظیم میں شامل ہوں۔اگر آپ یہ پاکستان ميں کرتے ہیں تو یہ ہندوستان میں ہمارے لئے فائدہ مند ہوگا۔اگر آپ یہاں نیشنل باڈی بنادیتے ہو تو یہ ہندوستان میں گاندھی اور نہرو کو مضبوط کرے گا۔آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے ایک بہت ہی اچھی قرارداد پاس کی ہے ۔ہمیں بھی ایک ایسی ہی قرارداد پاس کرنی چاہئیے ۔”
اس پہ عبدالرب نشتر نے کہا : ہمارے دوست لیگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔میں کہتا ہوں اگر لیگ ہے تو اسلام ہے ، مسلمان ہیں ۔ہم کبھی بھی لیگ کی صف لپیٹنے نہیں دیں گے۔ہندوستان میں اقلیتوں کے تحفظ کا انحصار پاکستان کی مضبوطی پہ ہے۔
نوابزادہ لیاقت علی خان نے عبدالرب نشتر کی حمایت کی۔قرارداد پاس ہوگئی ۔صرف دس اراکین کونسل نے اس کے خلاف ووٹ دیا جس میں شہید سہروردی اور میاں افتحار الدین بھی شامل تھے۔جب پاکستان اور ہندوستان دو نئی ریاستیں بن گئیں تو آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت نے نہ تو برطانیہ سے اور نہ ہی ہندوستان سے ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کے تحفظات کے لئے کے قرارداد لاہور میں کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے اپنا فرض ادا کیا اور نہ ہی مسلم لیگ کی تقسیم کی قرارداد پاس کرتے ہوئے ان پہ غور کی زحمت کی گئی ۔برطانیہ کی جانب سے جب تقسیم کا اعلان کیا گیا تو بھی اس اعلان میں اقلیتوں کے تحفظ بارے کوئی ذکر شامل نہیں تھا۔آل انڈیا مسلم لیگ کی مرکزی کونسل کا دو روزہ اجلاس دسمبر 1947ء ميں جو کراچی میں ہوا اس ميں جناح بھی موجود تھے اور جناح نے اس اجلاس میں ایک مرتبہ پھر مسلم قومیت اور شناخت پہ زور دیا اور اس اجلاس میں ہمیں 11 اگست 1947ء میں دستور ساز اسمبلی میں کی جانے والی تقریر کا کوئی عکس پھر نظر نہ آیا۔بلکہ جناح نے اپنی زندگی ميں ہی سیکولر نیشنلسٹ آوازوں کو دبائے جانے کا سلسلہ روکنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔حسین شہید سہروردی جب آسام اور مغربی بنگال ميں پھوٹ پڑھنے والے فسادات ميں مسلمانوں کا تحفظ کرنے کے لئے گاندھی کے ساتھ شریک ہوئے تو حسین شہید سہروردی کو غدار اور بھارتی ایجنٹ تک قرار دیا گیا۔اور پھر ان کے مغربی پاکستان داخلے تک پہ پابندی عائد کی گئی۔ دلّی کی ساری مسلم آبادی لال قلعہ میں محصور تھی اور ان کا کوئی لیگی رہنماء پرسان حال نہ تھا۔اس وقت ابو الکلام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی وہاں پہنچے تھے اور انہوں نے دلّی کے مسلمانوں سے پوچھا تھا کہ مسلم قومیت کے نعرے ” بٹ کے رہے گا ہندوستان۔بن کے رہے گا پاکستان "تلے جدوجہد کا صلہ کیا ملا؟ آج پاکستانی ریاست سے یہ سوال بلوچ ، سندھی ، پشتون ، سرائیکی تو بہت ہی بلند آہنگ ہوکر کرتے ہیں ، یہ سوال گلگت بلتستان کے لوگ بھی اٹھاتے ہیں اور یہاں تک کہ خود کشمیر میں بھی یہ سوال ایک بڑے حلقے سے اٹھتا ہے۔اس ملک میں رہنے والے شیعہ ، احمدی بھی یہ سوال اٹھاتے ہیں کیونکہ ان کی اکثریت کو پتہ بھی نہیں تھا کہ یہ ایک دور میں یہ مسلم قومیت کے مین سٹریم دھارے سے باہر نکال دیے جائیں گے ۔یہ بات دھیان میں رہنے والی ہے کہ مسٹر جناح نے دو قومی نظریہ کی بنیاد پہ پاکستان کے قیام کا مقدمہ لڑا اور پھر انہوں نے 11 اگست 1947ء کو اپنی تقریر کے ایک جزو میں سیکولر نیشن سٹیٹ کی بات کی اور اس کے بعد پھر ان کی تقریروں اور بیانات میں ہمیں اس کا سراغ نہیں ملتا بلکہ ان کا عمل اور بکھرے اقوال اس کے الٹ نظر آتے ہيں۔جناح نے دو صوبوں کی منتخب وزراتوں کا خاتمہ کیا۔اور خود مسلم لیگ کے اندر سیکولر نیشنل ازم رکھنے والی آوازوں کو خاموش کرانے میں ساتھ بھی دیا۔میاں افتخارالدین اور حسین شہید سہروردی اس کی بڑی مثالیں ہیں۔جناح نے اردو کو واحد قومی زبان بنانے پہ اصرار کیا اور بعد ميں آنے والی فوجی و سویلین حکومتیں ان کے نقش قدم پہ چلیں ۔اس لئے میں نہیں سمجھتا کہ جناح کی سیاست اور بطور گورنر جنرل پاکستان سے ہمیں پاکستانی ریاست کو ایک تکثریت پسند سیکولر ریاست بنانے میں مدد مل سکتی ہے ۔لیکن ادھر ہندوستان میں کیا ہورہا ہے؟ وہاں بھی ہندو فاشزم کا جادو سرچڑھ کر بول رہا ہے۔دلت ، مسلمان ، مسیحی سب مشکل میں ہیں اور پورا جنوبی ہندوستان ، کشمیر برہمن واد پلس نیولبرل سرمایہ داری نظام کے خلاف بغاوت کرتا نظر آتا ہے۔

Views All Time
Views All Time
528
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   حریت فکر کے مجاہد عبدالحفیظ لاکھو مرحوم - حیدر جاوید سید
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: