Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

حیرت انگیز قرآن-پروفیسر گیری ملر

by اپریل 29, 2017 اسلام
حیرت انگیز قرآن-پروفیسر گیری ملر

ترجمہ: ذکی الرحمن غازی ندوی
‘‘قرآن حیرت انگیز کتاب ہے ’’۔اس بات کا اعتراف صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیرمسلم حضرات حتیٰ کہ اسلام کے کھلے دشمن بھی کرتے ہیں۔ عموماً اس کتاب کو پہلی با ر باریکی سے مطالعہ کرنے والوں کو اس وقت گہرا تعجب ہوتا ہے جب ان پر منکشف ہوتا ہے کہ یہ کتاب فی الحقیقت ان کے تمام سابقہ مفروضات اور توقعات کے برعکس ہے۔ یہ لوگ فرض کیے ہوتے ہیں کہ چونکہ یہ کتاب چودہ صدی قبل کے عربی صحراء کی ہے اس لیے لازماً اس کا علمی اور ادبی معیار کسی صحراء میں لکھی گئی قدیم، مبہم اور ناقابلِ فہم تحریر کا سا ہوگا۔ لیکن اس کتاب کو اپنی توقعات کے خلاف پاکر ان کو گہرا تعجب ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے پہلے سے تیار مفروضہ کے مطابق ایسی کتاب کے تمام موضوعات اور مضامین کا بنیادی خیال یا عمود صحراء اور اس کی مختلف تفصیلات مثلاً صحرائی مناظر کی منظر کشی، صحرائی نباتات کا بیان،صحرائی جانوروں کی خصوصیات وغیرہ ہو نا چاہیے۔ لیکن قرآن اس باب میں بھی مستثنیٰ ہے۔ یقیناً قرآن میں بعض مواقع پر صحرا ء اور اس کے مختلف حالات سے تعرض کیا گیا ہے، لیکن اس سے زیادہ بار اس میں سمندر کی مختلف حالتوں کا تذکرہ وارد ہوا ہے، خاص طور سے اس وقت جب سمندرآندھی، طوفان، بھنور وغیرہ اپنی ساری تباہ کاریوں کے ساتھ جلوہ نما ہوتا ہے۔

اب سے کچھ سال پہلے ہم نے ٹورنٹو میں مقیم ایک جہاز راں تاجر(Marine Merchant) کا قصہ سنا۔ اس تاجر نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ سمندر میں گزارا تھا، کسی مسلمان ساتھی نے اس کو قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے کے لیے دیا۔اس جہاز راں تاجر کو اسلام یا اسلامی تاریخ سے کچھ واقفیت نہ تھی، لیکن اس کو یہ ترجمہ بہت پسند آیا۔ قرآن لوٹاتے ہوئے اس نے مسلمان دوست سے پوچھا :یہ محمد کوئی جہاز راں تھے؟گویااس کو قرآن کی جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ سمندر اور اس کے طوفانی حالات سے متعلق قرآن کا سچا اور باریک بیں تبصرہ اور مسلمان کا یہ بتا دینا کہ’‘‘‘ در حقیقت محمدﷺ ایک صحرا نشیں انسان تھے‘‘اس تاجر کے اسلام لانے کے لیے کافی ثابت ہوا۔ اس جہاز راں کا بیان تھا کہ وہ بذاتِ خود اپنی زندگی میں بارہا سمندر کے نامساعد حالات کا سامنا کر چکا ہے اور اسے کا مل یقین ہے کہ قرآن میں مذکور سمندر کے طوفانی حالات کی منظر کشی صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو براہ راست اس کا مشاہدہ کر چکا ہو۔ ورنہ ان حالات کا ایساخاکہ کھینچنا انسانی تخیل کے بس کی بات نہیں :

أَوْکَظُلُمَاتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَغْشَاہُ مَوْجٌج مِّن فَوْقِہِ مَوْجٌ مِّن فَوْقِہِ سَحَابٌ ظُلُمَاتٌ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ اِذَا أَخْرَجَ یَدَہُ لَمْ یَکَدْ یَرَاہَا (النور: ۴۰)

‘‘ پھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا، کہ اوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے، اُس پر ایک اور موج، اور اُس کے اوپر بادل، تاریکی پر تاریکی مسلط ہے، آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھنے پائے۔’’ مذکور بالا قرآنی نقشہ کسی ایسے ذہن کی پیداوار نہیں ہو سکتا جو عملی طور پر ان حالات کو برت نہ چکا ہو اور جس کو تجربہ نہ ہو کہ سمندری طوفان کے گرداب میں پھنسے انسانوں کے احساسات اور جذبات کیا ہوتے ہیں۔ یہ ایک واقعہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ قرآن کو کسی خاص زمانہ یا مقام سے مقید و مربوط نہیں کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر اس کے علمی مضامین اور آفاقی سچائیاں چودہ سو سال پہلے کے کسی صحرا نشیں ذہن کی تخلیق ہرگز نہیں ہو سکتی ہیں۔

بعثتِ محمدی ﷺ سے بہت پہلے دنیا میں ایٹم(ذرہ) کے متعلق ایک معروف نظریہ (Theory of Atom) موجود تھا۔ اس نظریہ کی تشکیل میں یونانی فلاسفہ خصوصاً ڈیموکرائیٹس (Democritus) کی کاوشوں کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔ تا آنکہ بعد میں آنے والی نسلوں میں اس نظریہ کو مسلم الثبوت واقع کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ وہ نظریہ کیا تھا ؟یونانی فلسفہ کی رو سے ہر مادی شے کچھ چھوٹے چھوٹے اجزاء پر مشتمل ہوتی ہے۔یہ اجزاء (ذرات) اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ ہماری قوتِ بینائی ان کا ادراک نہیں کر پاتی، اور یہ ناقابلِ تقسیم ہوتے ہیں۔ عربوں کے یہاں بھی ایٹم کا یہی تصور رائج تھا، اور حقیقت یہ ہے کہ آج بھی عربی زبان میں ذرہ کے لفظ کاکسی بھی مادی شے کے ادنیٰ ترین جز پر اطلاق کیا جاتا ہے۔ لیکن جدید سائنس کی رو سے کسی بھی شے کا چھوٹے سے چھوٹا جز (ذرہ)بھی عنصری خصوصیات کا حامل ہوا کرتا ہے۔ یہ جدید نظریہ جس کے واقعاتی شواہد موجود ہیں دورِ حاضر کی پیداوار ہے، اور عصرِ حاضر سے پہلے اس کا وجود علمی دنیا میں ناپید تھا۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ موجودہ دور کی اس دریافت (Discovery) کا تذکرہ چودہ صدی قبل نازل شدہ قرآن مجید میں پایا جاتا ہے:

وَمَا یَعْزُبُ عَن رَّبِّکَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّۃٍ فِیْ الأَرْضِ وَلاَ فِیْ السَّمَاء وَلاَ أَصْغَرَ مِن ذَلِکَ وَلا أَکْبَرَ اِلاَّ فِیْ کِتَابٍ مُّبِیْنٍ (یونس:۶۱)

‘‘کوئی ذرہ برابر چیز آسمان اور زمین میں ایسی نہیں ہے، نہ اس سے چھوٹی نہ بڑی، جو تیرے رب کی نظر سے پوشیدہ ہو اور ایک صاف دفتر میں درج نہ ہو۔’’ اس میں شک نہیں کہ چودہ صدی قبل کے عرب باشندے جو کہ کسی شے کے ادنیٰ ترین جز کو ذرہ کے نام سے جانتے تھے، ان کو قرآن کی یہ تصریح بڑی غیر فطری اور غیر مانوس معلوم ہوئی ہوگی۔لیکن در حقیقت یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ زمانہ اپنی تیز رفتاری کے باوجود قرآن پر سبقت نہیں لے جا سکتا۔ عام طور پر کسی قدیم تاریخی کتاب کا مطالعہ کرنے والا اس بات کی بجا طور پر توقع رکھتا ہے کہ اس کے مضامین و فرمودات کے ذریعہ وہ اس زمانے کی صحتِ عامہ اور متداول طریقہ ہائے علاج کے متعلق کافی معلومات اکٹھا کر سکے گا۔دوسری تاریخی کتابوں مثلاً بائبل، وید، اوستھا وغیرہ میں واقعۃً ایسا ہے بھی، لیکن قرآن یہاں بھی یکتا ومنفرد ہے۔ یقیناً متعدد تاریخی مصادر میں ہمیں اس بات کا تذکرہ ملتا ہے کہ اللہ کے رسولﷺنے صحت و صفائی کی بعض ہدایتیں اور نصیحتیں عنایت فرمائی ہیں۔ لیکن ان کا تفصیلی تذکرہ قرآن میں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ بادی النظر میں غیر مسلموں کو یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان مفید طبی معلومات کو کتابِ محفوظ میں کیوں شامل نہیں فرما دیا؟

بعض مسلم دانشوروں نے اس مسئلے کی اس طرح تشریح کی ہے:اگرچہ طب سے متعلق اللہ کے رسولﷺ کے ارشادات اور ہدایتیں مبنی بر صحت اور قابلِ عمل ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے لامحدود علم و حکمت میں یہ بات تھی کہ آئندہ زمانوں میں سائنس اور میڈیسن (Medicine)کے میدانوں میں بے مثال ترقی ہوگی جس کے نتیجے میں روایتی طبی ہدایتیں پرانی اور فرسودہ (Outdated) سمجھی جانے لگیں گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں صرف اسی قسم کی معلومات کو درج فرمایا جو تغیرِ زمانہ سے متاثر نہ ہو سکیں۔ میری ناقص رائے میں اگر ہم قرآنی حقائق کو وحی الٰہی مان کر چلیں تو زیرِ بحث موضوع درست طریقے سے سمجھا جا سکے گا اور مذکورہ بالا بحث اور مناقشے کی غلطی بھی واضح ہو جائے گی۔

سب سے پہلے ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ قرآن اللہ کی وحی ہے، اس لیے اس میں وارد تمام معلومات کا سرچشمہ بھی وہی ذاتِ برحق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کو اپنے پاس سے وحی کیا اور یہ اس کلامِ الٰہی میں سے ہے جو تخلیقِ کائنات سے پہلے بھی موجود تھا۔اس لیے اس میں کوئی اضافہ، کمی اور تبدیلی ممکن نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم تو محمدﷺ کی ذات اور آپ کی ہدایات و نصائح کے وقوع پذیر ہونے سے بہت پہلے وجود میں آ کر مکمل ہو چکا تھا۔اور ایسی تمام معلومات جو کسی متعین عہد یا مقام کے خاص طرزِ فکر و طرزِ حیات سے متعلق ہوں کلامِ الٰہی میں داخلہ نہیں بنا سکتیں۔کیونکہ ایسا ہونا واضح طور پر قرآن کے مقصدِ وجود کے منافی ہے اور یہ چیز اس کی حقانیت، رہتی دنیا تک کے لیے اس کی رہنمائی کی صلاحیت،بلکہ اس کے خالص وحی الٰہی (Pure Divine Revelation)ہونے پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر سکتی ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن ایسا کوئی نسخۂ علاج (Home Remedies)تجویز نہیں کرتا جو مرورِ ایام کے ساتھ اپنی افادیت کھو دے، اور نہ اس میں اس ٹائپ کی کوئی رائے ذکر کی جاتی ہے کہ فلاں غذا افضل ہے یا فلاں دوا اس اس مرض میں شفا بخش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن نے صرف ایک چیز کو طبی علاج کے ضمن میں ذکر کیا ہے اور میری معلومات کی حد تک آج تک کسی نے اس کی مخالفت بھی نہیں کی ہے۔

قرآن نے صراحت کے ساتھ شہد(Honey) کو شفا قرار دیا ہے اور میری معلومات کی حد تک کسی نے آج تک اس کا انکار بھی نہیں کیا۔ اگر کوئی یہ مفروضہ رکھتا ہے کہ قرآن، کسی انسانی عقل کا کارنامہ ہے، تو بجا طور پر ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ ہم اس کتاب کے تالیف کرنے والے کے فکری و عقلی رجحانات کا کچھ نہ کچھ پر تو (Reflection) اس میں ضرور ڈھونڈ نکالیں گے۔ واقعہ یہ ہے کہ متعدد انسائیکلو پیڈیاز (Encyclopedias) اور نام نہاد علمی کتابوں میں بھی قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر وارد ہونے والے خیالات و توہمات (Hallucinations)کی پیداوار بتایا گیا ہے۔ (العیاذ باللہ) چنانچہ ضروری ہے کہ ہم خود قرآن میں اس دعوے کی صحت و عدمِ صحت کے ثبوت و دلائل تلاش کریں۔ لیکن کیا قرآن میں ایسے دلائل یا اشارے موجود ہیں ؟یہ جاننے سے پہلے یہ جاننا بھی ضروری ہوتا ہے کہ وہ معینہ اشیاء کیا ہیں جو صاحبِ کتاب کے ذہن و دماغ میں ہر آن گردش کرتی رہتی تھیں ؟اس کے بعد ہی ہم فیصلہ کر سکیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کن کن افکار نے قرآن میں اپنے اثرات چھوڑے ہیں۔

تاریخ اسلامی کے ہر طالب علم کو یہ بات معلوم ہے کہ آپﷺ کی زندگی مشقتوں اور پریشانیوں سے بھری تھی۔آپ کی حیات میں ہی دیکھتے دیکھتے آپﷺ کے کئی بچے وفات پا گئے۔ حضرت خدیجہؓ آپﷺ کی محبوب و وفادار شریکِ حیات تھیں، وہ آپ کا بیحد خیال فرماتیں اور ہر مشکل گھڑی میں آپ کا سہارا بنتی تھیں۔ آزمائش و ابتلا کے تاریک دور میں ہر غم کی شریک بیوی بھی انتقال فرما جاتی ہیں۔ یہ بات ملحوظِ خاطر رہنی چاہیے کہ امّ المومنین حضرت خدیجہؓ فولادی کردار کی مالک اور بڑی دانش مند خاتون تھیں۔ احادیث میں آیا ہے کہ آپ ﷺ پہلی وحی کے نزول پر سراسیمگی میں تیزی سے گھر واپس لوٹے اور سارا ماجرا حضرت خدیجہؓ کو سنایا۔اس زمانے کو چھوڑیے، آج بھی ہمیں کوئی ایساعرب باشندہ نہیں مل سکے گا جو یہ اعتراف کرے کہ ‘‘میں فلاں موقعے پر اس درجہ خوف زدہ ہو ا کہ بھاگ کر اپنی اہلیہ کے پاس جا پہونچا ’’عرب حضرات عام طور پر ایسا نہیں کرتے۔ لیکن یہ واقعہ حضرت خدیجہؓ کی اثر آفریں (Influential)اور طاقتور شخصیت کی دلیل ہے۔ یہ ان موضوعات میں سے کچھ کی مثالیں ہیں جن کے بارے میں قوی اندازہ ہے کہ انہوں نے بتقاضائے بشریت، محمدﷺ کے شفیق دل میں اپنے اثرات ضرور چھوڑے ہوں گے۔ لیکن یہ چند مثالیں ہی میرے نقطۂ نظر کی بھرپور تائید کرتی نظر آتی ہیں۔ میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اگر قرآن کریم محمدﷺ کے لا شعورانسانی ذہن کی اختراع اور ایجاد ہے، تو اس میں ضرور بالضرور ان جاں گسل واقعات کا تذکرہ یا ان کی طرف تھوڑا بہت اشارہ دکھائی پڑنا چاہیے، لیکن حقیقتِ واقعہ اس کے برعکس ہے۔ قرآن کہیں پر بھی محمدﷺ کے بچوں کی موت، پیاری شریکِ حیات کی جدائی اور اول وحی کے نتیجے میں پیدا ہونے والا خوف، جس کو آپﷺ نے باحسن طریق اپنی زوجہ محترمہ کے ساتھ بانٹا تھا، قرآن کہیں بھی تفصیلاً یا اجمالاً ان بشری احساسات و جذبات کا تذکرہ کرتا دکھائی نہیں پڑتا۔ نفسیاتی نقطۂ نظر سے بھی یہ بات مستبعد ہے کہ ان چیزوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل و دماغ پر گہرے اثرات مرتسم نہ کئے ہوں گے۔ اب اگر یہ قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بشری ذہن کی ایجاد ہے تو اس میں ان واقعات کے گہرے اثرات، یا کم از کم ان کے متعلق ادنیٰ اشارہ تو ہونا ہی چاہیے۔ لیکن ایسا نہیں ہے، اور یہ نہ ہونا قرآن کے کلامِ الٰہی ہونے کا اٹل ثبوت ہے۔

قرآن کو علمی طور پر دیکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ قرآن علمی سطح پر ہمیں ایسے خزانے عطا کر سکتا ہے جن کے عشر عشیر سے بھی دیگر صحائف کے اوراق خالی ہیں۔ آج دنیا کو قرآن کے لازوال علمی سرچشمہ کی تلاش ہے اور وہ جتنا جلد اس کو پالے اس کے لیے بہتر ہوگا۔ دنیا میں آج بھی ایسے لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو کائناتی نظام کے بارے میں اپنے منفرد افکار و نظریات رکھتے ہیں۔ایسے لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں، لیکن سنجیدہ علمی حلقوں میں ان کی گفتگو سننا تک گوارا نہیں کیا جاتا۔ ایسا کیوں ہے؟اس کا سبب یہ ہے کہ گزشتہ صدی کے اواخر سے علمی حلقوں میں کسی بھی مفروضہ یا تجربہ کے درست ہونے، نہ ہونے کے لیے ایک اصول تنقیع بر بِنائے تغلیط (Falsification Test) متعین کر دیا گیا۔ اہلِ علم کے الفاظ میں وہ زریں اصول یہ ہے:اگر تمہارے پاس صرف کوئی تھیوری ہے تو براہِ مہربانی اسے سمجھانے میں ہمارا وقت ضایع نہ کرو، البتہ اگر تمہارے پاس اس تھیوری کی صحت و عدمِ صحت کو ثابت کرنے کا کوئی عملی طریقہ موجود ہے تو ہم سننے کے لیے تیار ہیں۔‘‘ اسی معیار کے اتباع میں علمی حلقوں نے صدی کے آغاز میں آئن سٹائن(Einstein) کی پذیرائی کی، آئن سٹائن نے ایک نئی تھیوری (Theory of Relativity)پیش کی اور کہا:میرا ماننا ہے کہ کائنات اس ترتیب پر چل رہی ہے، تمہارے پاس میرے نظریہ کو غلط یا صحیح جانچنے کے تین راستے ہیں۔‘‘ اور پھر چھ سال کی مختصر مدت میں اس کے نظریے نے تینوں راستوں کو کامیابی کے ساتھ عبور کر لیا۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ فی الواقع آئن سٹائن کوئی عظیم انسان تھا، البتہ اتنا ضرور ثابت ہوتا ہے کہ وہ اس لائق تھا کہ اس کی بات کو بغور سنا جائے۔

قرآن اپنی حقانیت کے ثبوت میں انسانوں کے سامنے اِسی نوعیت کا معیارِ تفتیش پیش کرتا ہے۔ اس معیار کی روشنی میں قرآن کے بعض حقائق نے ماضی میں اپنی صحت کا لوہا منوایا ہے، جبکہ اس میں کچھ حقائق ابھی زمانے سے اپنی تصدیق کے منتظر ہیں۔ قرآن اس بات کی صراحت کرتا ہے کہ ’’اگر یہ کتاب اپنے کلامِ الٰہی ہونے کے دعوے میں جھوٹی ہے تو تم فلاں طریقے سے اسے غلط ثابت کر کے دکھاؤ۔‘‘ حیرتناک بات یہ ہے کہ چودہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی آج تک کسی نے اس کے دعوے کے مطابق اس کے تجویز کردہ طریقے سے اسے باطل ثابت نہیں کیا۔ یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ مخالفین کی ہزار جز بز کے باوجود یہ کتاب اپنے دعوے میں صد فیصد سچی اور قابلِ اعتماد ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اوروں کے پاس اس قبیل کی کوئی چیز نہیں۔ان کے پاس جھوٹ اور سچ ثابت کرنے والا ایسا کوئی معیار، کوئی برہان نہیں۔ بلکہ ان بیچاروں کی اکثریت کو اس بات کا احساس تک نہیں کہ ہمیں اپنے عقائد و نظریات کو پیش کرنے کے پہلو بہ پہلو مخاطب کو ان کی تردید و تغلیط کا موقع بھی دینا چاہیے۔ بہرحال اسلام ایسا کرتا ہے، قرآن اپنے مخاطبوں کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ آؤ اور مجھ کو غلط ثابت کر کے دکھاؤ۔ یہ قرآن کی چوتھی سورت میں ہے، میں آپ کو بیان نہیں کر سکتا کہ پہلی بار اس آیت کو پڑھ کر میری کیا کیفیت ہوئی تھی۔قرآن کا چیلینج یہ ہے:

أَفَلاَ یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِندِ غَیْْرِ اللّہِ لَوَجَدُواْ فِیْہِ اخْتِلاَفاً کَثِیْراً (النساء :۸۲)

‘‘کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے؟اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی۔’’

یہ قرآن کا سیدھا اور کھلا چیلنج ہے۔ یہ اصلاً منکرین کو سیدھی دعوت دیتا ہے کہ وہ اس میں کوئی خطا یا غلطی نکال کر دکھائیں۔ اس نوعیت کی دعوتِ مبارزت دینا کسی انسان کے بس کا روگ نہیں ہو سکتا۔دنیا میں کوئی آخری درجہ کا عالم و فاضل شخص بھی اس بات کی جرأت نہیں کر سکتا کہ امتحان گاہ سے اٹھتے ہوئے اپنی کاپی کے پہلے صفحے پر یہ نوٹ آویزاں کر دے کہ اس کاپی میں مندرج جملہ جوابات درست ہیں اور اگر کسی جانچنے والے کو اپنی قابلیت کا غرہ ہو تو اس دعوے کو غلط ثابت کر کے دکھائے۔ایسا کوئی نہیں کر سکتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کو پڑھ کر کوئی بھی ممتحن اس میں غلطی کو ڈھونڈے بغیر ساری رات سو نہ سکے گا۔ لیکن یقین جانئے کہ قرآن اپنا پہلا تعارف اسی حیثیت سے کراتا ہے۔اپنے پڑھنے والے کے ساتھ قرآن کا ایک اور رویہ بھی انتہائی حیرتناک ہے۔وہ قارئین کے سامنے گوناں گو موضوعات پر بڑی شرح وبسط کے ساتھ اپنی معلومات پیش کر تا ہے اور چلتے چلتے کچھ اس قسم کی نصیحت کر دیتا ہے کہ ’’اگر تمہیں مزید معلومات درکار ہوں یا میری بتائی باتوں سے تم مطمئن نہ ہوئے ہو تو ایسا کرو کہ متعلقہ موضوع کے ماہرین سے استفسار کر کے دیکھ لو۔‘‘ یہ بھی ایک غیر مانوس اور عجیب بات ہے۔ ایسا تقریباً ناممکن ہے کہ کوئی شخص جو جغرافیہ (Geography)، نباتیات(Botany)،حیاتیات(Biology) جیسے علوم پر اتھارٹی نہ ہونے کے باوجود متعلقہ موضوعات پر قلم اٹھائے۔ اورپھراس کا دعوی بھی ہو کہ اگر کوئی میری کتاب کے مشمولات سے متفق نہیں ہے تو اسے اختیار ہے کہ وہ ان موضوعات کے مسلم الثبوت ماہرین سے ان کا تجزیہ کرا لے کہ آیا اس کتاب میں فی الواقع کوئی غلط بات کہی گئی ہے یا نہیں ؟

مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ بے شمار دانشوروں نے سائنسی موضوعات پر بیان کردہ قرآنی تفصیلات کو اپنی تحقیق وجستجو کا میدان بنایا اور اس کے نتیجے میں حیرت انگیز اکتشافات انجام دیے۔ماضی میں لکھی گئی مسلمان اہلِ علم و حکمت کی کتابوں میں موجود قرآنی آیات کے حوالے اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ یہ حضرات اپنے علم و تحقیق میں کس درجہ قرآن کی روشنی سے مستفیض ہوتے رہے تھے۔اسلاف کی یہ کتابیں اشارہ کرتی ہیں کہ ان بزرگوں کو مذکورہ بالا علمی میدانوں میں کسی مخصوص شے کی تلاش ہوتی تھی جس کو قرآن نے قطعی حقیقت کی حیثیت سے بیان کر دیا تھا۔ ان کے اعترافات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآنی تصریحات نے انہیں اس رخ میں چلنے پر آمادہ کیا تھا، کیونکہ قرآن کا اندازاس معرض میں بھی سب سے نرالا ہے۔وہ کسی بھی موضوع پر بات کرتے ہوئے آخری اور کلی حقائق بیان کر دیتا ہے۔ عبوری مراحل کی تفصیلات سے تعرض نہ کرتے ہوئے وہ صرف اتنا اشارہ کر دیتا ہے کہ یہ چیزیں اپنی تمام تر تفصیلات کے ساتھ کہاں کہاں مل سکتی ہیں۔ ساتھ ہی وہ ہر انسان کو بحث و تحقیق کی دعوت دیتا ہے اور بلا دلیل وجستجو کے اندھی تقلید کے رویّے کو قابلِ مذمت قرار دیتا ہے:

وَالَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوا بِآیَاتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوا عَلَیْْہَا صُمّاً وَعُمْیَاناً (الفرقان:۷۳)

‘‘جنھیں اگر ان کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پر اندھے اور بہرے بن کر نہیں گر جاتے’’۔

حالیہ دنوں میں مسلمانوں نے اس طرف خاطر خواہ توجہ دی ہے۔ چند سال قبل سعودی حکومت نے اپنے دارالسلطنت ریاض میں متعدد متخصص اہلِ علم کو اس بات کی دعوت دی کہ وہ رحمِ مادر میں بچے کے ارتقائی مراحل کا جائزہ قرآن کے بیان کردہ حقائق کی روشنی میں لیں۔اس علمی اجتماع کو منعقد کرنے میں سعودی اربابِ حکومت کے پیشِ نظر درجِ ذیل قرآنی حکم تھا:

فَاسْأَلُواْ أَہْلَ الذِّکْرِ اِن کُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ (الانبیاء :۷)

‘‘تم لوگ اگر علم نہیں رکھتے تو اہلِ علم سے پوچھ لو۔’’

حاضرین میں ٹورنٹو یونیورسٹی کے شعبۂ علم الجنین (Embryology)کے صدر پروفیسر کیتھ مور(Keith Moore) بھی تھے۔ موصوف نے اس موضوع پر درسی کتابیں تیار کی ہیں اور ان کا شمار اس موضوع پر دنیا کے معدودے چند نمایاں اہلِ علم میں ہوتا ہے۔ سعودی حکومت نے ان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے اختصاص کی روشنی میں اس موضوع پر قرآن کے بیان کردہ حقائق کا جائزہ لیں اور ان کی صحت و عدمِ صحت پر اپنی بے لاگ رائے کا اظہار کریں۔ریاض میں قیام کے دوران ان کو تمام مطلوبہ آلات ووسائل بہم پہنچائے گئے اور ہر قسم کی مدد فراہم کی گئی۔ یقین جانیے کہ وہ اپنے اس تجربہ سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ بعد میں انہوں نے اپنی تصنیف کردہ کتابوں میں کئی بڑی تبدیلیاں کیں۔انہوں نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب ’ہم ولادت سے پہلے‘(Before We are Born) کے دوسرے ایڈیشن میں اضافہ کرتے ہوئے، علم الجنین (Embryology) پر قرآنی تفصیلات کو بڑے مدلل انداز میں درست قرار دیا۔ اس سے جہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن ہر اعتبار سے زمانہ سے سابق ہے، وہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے پیروکاروں کا علم اس کے نہ ماننے والوں سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

میری خوش نصیبی تھی کہ میں نے پروفیسر کے ٹی وی پروگرام کو مسلسل دیکھا۔اس پروگرام میں پروفیسر نے اپنے تجربات کے نتائج پیش کیے تھے۔ ان دنوں اس پروگرام کا بڑا چرچہ تھا،پروفیسر موصوف نے اپنے پروگرام میں چند سلائیڈ تصویریں بھی دکھائی تھیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ رحمِ مادر میں جنین کے نشوونما کے بارے میں قرآن نے جو معلومات ذکر کی ہیں وہ اب سے تیس سال پہلے تک بھی علمی دنیا میں غیر معروف تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بذاتِ خود قرآن کی بیان کردہ معلومات میں ایک چیز سے آج تک قطعی ناواقف تھے۔وہ یہ کہ جنین (Embryo) اپنے ارتقائی مراحل میں سے ایک مرحلہ میں ’علقہ‘(جونک ،Leech) سے مشابہت رکھتا ہے اور یہ تشبیہ صد فیصد مطابقِ واقعہ ہے۔ اپنی کتاب میں اس واقعے میں انہوں نے مزید اضافہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ درحقیقت میں نے کبھی اس سے پہلے جونک کو نہیں دیکھا تھا۔ اس قرآنی تشبیہ کی سچائی جاننے کے لیے میں نے ٹورنٹو یونیورسٹی کے شعبۂ حیوانیات (Zoology) سے رجوع کیا اور وہاں سے جونک کی فوٹو حاصل کی۔اپنے تقابلی مطالعہ کو مبنی بر صحت پاکر انہوں نے اس موضوع پر تحریر کی ہوئی اپنی درسی کتابوں میں جنین اور جونک کی تصاویر کو شائع کیا۔اس کے بعد پروفیسر موصوف نے ایک کتاب ’علم الاجنہ السریری (Clinical Embryology ) کے نام سے تحریر کی اور اس میں قرآن کی بتائی ہوئی معلومات کی روشنی میں اپنے علمی نتائج پیش کئے۔اس کتاب کی اشاعت سے کینڈا کے علمی حلقوں میں ہنگامہ بپا ہو گیا۔ طول و عرض میں اخبارات کی سرخیاں اس کتاب کی نذر ہو گئیں۔ بعض اخبارات کا رویہ قدرے مضحکانہ بھی تھا، مثلاً ایک اخبار کی سرخی یہ تھی: Surprising things found in Ancient Book (حیرت انگیز چیزیں ایک قدیم کتاب میں پائی گئیں )۔

اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر عام لوگوں کو واقعہ کی حقیقت کا علم نہیں تھا۔ ایک پریس رپورٹر نے پروفیسر کیتھ مور سے سوال کرتے ہوئے پوچھا تھا: کیا اس بات کا امکان نہیں ہے کہ قدیم عربوں کو ان معلومات کا علم رہا ہو اور قرآن کے مؤلف نے ان کو کتابی شکل میں محفوظ کر دیا ہو؟ ہو سکتا ہے کہ عربوں نے ماضی میں عملِ جراحت کی ابتدائی شکل ایجاد کر لی ہو اور چند عورتوں کے پیٹ پھاڑ کر اس قسم کی چیزیں جان لی ہوں ؟سوال کا جواب دیتے ہوئے پروفیسر موصوف نے کہا تھا :آپ یہاں ایک اہم نکتہ فراموش کر رہے ہیں۔وہ یہ کہ جنین کے ابتدائی مراحل کی تصاویر جو آج ہر جگہ آسانی سے مل جاتی ہیں ان کو صرف اور صرف خُورد بین (Microscope) کے ذریعہ سے لیا جا سکتا ہے اور خُورد بین کب وجود میں آئی یہ آپ کی جنرل نالج میں ہوگا ہی۔یہ کہنا فضول ہے کہ چودہ سو سال پہلے کسی نے جنین کے ارتقائی مراحل جاننے کی کوشش کی تھی۔ کیونکہ اس زمانے میں لوگ اس کو دیکھ بھی نہیں سکتے تھے۔ قرآن میں مذکورہ جنین کے ابتدائی مراحل کی معلومات کو مجرد آنکھ سے دیکھنا ممکن ہی نہیں اور خُورد بین کا آلہ محض دو صدی قبل تک دنیا میں ناپید تھا۔یہ سوال پوچھے جانے پر کہ اب آپ اس کی کیا توجیہ کریں گے، انہوں نے صاف الفاظ میں کہا تھا:اس کی توجیہ اس کے سوا ممکن نہیں کہ قرآن اللہ رب العالمین کا نازل کردہ کلام ہے۔

مذکور بالا مثال میں قرآن کے علمی بیانات کی تصدیق کرنے والا شخص اگرچہ غیر مسلم تھا، لیکن اس بات سے کوئی اصولی فرق نہیں پڑتا۔ اگر کوئی عام آدمی اس نوعیت کے قرآنی بیانات کی وکالت کرے تو ضروری نہیں کہ ہم اس کی بات قبول کر لیں۔ لیکن اصحابِ علم کو حاصل اعتبار و احترام کے پیشِ نظر اگر کوئی متبحر عالم، جس کی اپنے اختصاص پر قدرت اور کمال مسلّم و مقبول ہو، اس بات کا دعوی کرے کہ میرے متعلقہ موضوع پر وارد قرآنی بیانات صد فیصد درست ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس کے نتائج کو صحیح نہ مانیں۔پروفیسر کیتھ مور کے تجربہ سے سبق لیتے ہوئے ان کے ایک ہم پیشہ ساتھی نے بھی اس قسم کوشش کی۔پروفیسر مارشل جونسن(Marshal Johnson)جو ٹورنٹو یونیورسٹی کے شعبۂ علم طبقات الارض((Geologyمیں استاد تھے، انہوں نے اپنے مسلم دوستوں سے اس بات کا مطالبہ کیا کہ وہ ان کے میدانِ اختصاص سے متعلق قرآن میں وارد معلومات کو اکٹھا کر کے انہیں دیں۔اور پھر ان کے علمی نتائج نے دوسری بار لوگوں کو حیرت واستعجاب میں مبتلا کر دیا کیونکہ اس موضوع پر بھی قرآنی بیانات سے جدید سائنسی انکشافات مکمل ہم آہنگ ہیں۔مختلف علمی موضوعات پر قرآنی بیانات کی رنگا رنگی کو دیکھتے ہوئے ہر علمی موضوع پر بحث و تحقیق کرنا ایک مستقل کتاب کا طالب ہے اور اس کے لیے طویل مدت بھی درکار ہوگی جو اس مختصر سے مقالہ میں ممکن نہیں۔

مذکور بالا تحقیقی بیانات کے تذکرے سے میرا مقصود یہ کہنا ہے کہ قرآن کریم مختلف موضوعات پر اپنی رائے بڑے نپے تلے لیکن واضح اسلوب میں پیش کر دیتا ہے اور اپنے قاری کو وصیت کرتا ہے کہ وہ ان موضوعات کے متخصص علماء و ماہرین کی تحقیقات کی روشنی میں قرآنی بیانات کو جانچے اور اہلِ علم و فضل سے مراجعت و مشاورت کے بعد ہی قرآن کی حقانیت پر صاد کرے۔ بلا شبہ قرآن کا اپنایا ہوا یہ جرأت مندانہ موقف ہمیں دنیا کی کسی دوسری کتاب میں نہیں ملتا۔ اس سے زیادہ حیرتناک بات یہ ہے کہ قرآن جہاں کہیں بھی اپنی معلومات پیش کرتا ہے وہ بیشتر اوقات اپنے قاری سے تاکید کرتا جاتا ہے کہ ان باتوں کو اس سے پہلے تم نہیں جانتے تھے۔واقعہ یہ ہے کہ دنیا میں آج کوئی ایسی مقدس کتاب موجود نہیں ہے جواس طرح کی صراحت کرتی ہو۔ مثال کے طور پر عہد نامہ قدیم (Old Testament)میں بہت سی ایسی تاریخی معلومات ملتی ہیں کہ فلاں بادشاہ کا زمانہ یہ تھا اور اس نے فلاں بادشاہ سے جنگ کی تھی، یا فلاں فلاں بادشاہ کے اتنے اور اتنے بیٹے تھے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیشہ یہ شرط بھی ملتی ہے کہ اگر تمہیں مزید معلومات درکار ہیں تو فلاں فلاں کتاب سے رجوع کرو، یعنی سابق الذکر معلومات کا مصدر کچھ کتابیں ہیں جن کی طرف بہ وقتِ ضرورت رجوع کیا جا سکتا ہے۔ لیکن قرآن کا معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے، وہ اپنے پڑھنے والے کو معلومات فراہم کرتے ہوئے صراحت کر دیتا ہے کہ یہ باتیں اپنے آپ میں تمہارے لیے نئی ہیں اور کسی خارجی مصدر سے نہیں لی گئی ہیں۔ اور قرآن کی یہ نصیحت تو برقرار رہتی ہی ہے کہ اس دعوی پر شک کرنے والے اگر چاہیں تو بحث و تحقیق کر کے اس کو غلط ثابت کر نے کی کوشش کر لیں۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ چودہ صدیوں کے طویل عرصہ میں کوئی ایک شخص بھی اس دعوے کو چیلینج نہیں کر سکا۔ حتیّٰ کہ کفار مکہ جو اسلام دشمنی میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں رکھتے تھے، وہ بھی قرآن کے اس دعوے کی تردید نہ کر سکے۔ کوئی ایک متنفس بھی یہ ادعاء نہ کر سکا کہ قرآن کی مبینہ معلومات سیکنڈ ہینڈ ہیں اور مجھے معلوم ہے کہ محمد ﷺ نے ان کو کہاں سے چرایا ہے۔اس قسم کا دعوی نہ کئے جانے کی وجہ یہ تھی کہ واقعتاً یہ حقائق اپنے آپ میں جدید تھے۔چنانچہ بحث وجستجو پر آمادہ کرنے والی قرآنی ہدایت کی پیروی میں خلیفۂ راشد ثانی حضرت عمر بن الخطابؓ نے اپنے عہدِ خلافت میں ایک وفد کو سدِ(دیوار)ذوالقرنین کی تلاش میں بھیجا۔ قرآنی وحی سے پہلے عربوں نے اس دیوار کے بارے میں کچھ نہیں سنا تھا، لیکن چونکہ قرآن نے اس کی علامات و قرائن واضح کر دیے تھے اس لیے انہوں نے اس دیوار کو ڈھونڈھ نکالا۔ اور در حقیقت یہ دیوار آج بھی موجودہ روس کے ڈربنڈ ((Durbendنامی مقام پر واقع ہے۔یہاں ایک بات ذہن نشیں کر لیجئے کہ اگرچہ قرآن میں متعدد چیزیں بڑی صحت اور دقت رسی کے ساتھ بیان کی گئی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر وہ کتاب جو چیزوں کو درستگی اور باریکی سے بیان کر دے وہ منزل من اللہ قرار پائے گی۔صحیح بات یہ ہے کہ صحت و باریکی، وحیِ الٰہی ہونے کی شرطوں میں سے صرف ایک شرط ہے۔ مثال کے طور پر ٹیلیفون ڈائیریکٹری اپنی معلومات میں صحیح و دقیق ہوتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ منزل من اللہ ہے۔ فیصلہ کن بات یہ ہے کہ قرآنی معلومات کے اصل منبع و مصدر کو دلائل و براہین کے ذریعہ ثابت کیا جائے، اور یہ ذمہ داری قرآن کے مخاطب کی ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئلہ کچھ اس طرح بنتی ہے کہ قرآن اپنے آپ میں ایک اٹل سچائی ہے، اب جس کو اس دعویٰ میں تردد ہو وہ قطعی دلیلوں سے اس کی تردید کر کے دکھائے۔اور خود قرآن اس قسم کی بحث و تمحیص کی ہمت افزائی کرتا ہے۔

یہاں یہ علمی حقیقت بھی ہمارے ذہنوں سے اوجھل نہ ہو کہ اگر کوئی انسان کسی کائناتی مظہرہ (Phenomenon) کی علمی توجیہ نہ کر سکے تو اسے لازماً دوسروں کی توجیہات کی صداقت کا اعتراف کرنا ہی چاہیے۔ ہم ایسا نہیں کہتے، لیکن اس صورت میں اس شخص کی ذمہ داری ہوگی کہ بذاتِ خود اس کی کوئی معقول توجیہ برآمد کر کے دکھائے۔ یہ علمی نظریہ ہماری زندگی کے بیشمار تصورات پر صادق آتا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر یہ قرآنی تحدی سے مکمل ہم آہنگ ہوتا دکھائی پڑتا ہے۔ قرآن اپنے منکرین کے سامنے بڑی پریشانیاں کھڑی کر دیتا ہے، وہ آغازِ گفتگو ہی میں اپنے مخالف سے اس قسم کا عہد لے لیتا ہے کہ اگر آپ کسی حقیقت کو صحیح تسلیم نہیں کرتے تو اس کو غلط ثابت کر کے دکھائیں۔

قرآن کی متعدد آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی شناعت بیان کی ہے جو حقائق سننے کے باوجود اپنی صلاحیتوں کے ذریعے سے ان کو نہیں آزماتے اور عقل کے اندھے ہو کر اپنے عناد و انکار پر اڑے رہتے ہیں :

وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیْراً مِّنَ الْجِنِّ وَالاِنسِ لَہُمْ قُلُوبٌ لاَّ یَفْقَہُونَ بِہَا وَلَہُمْ أَعْیُنٌ لاَّ یُبْصِرُونَ بِہَا وَلَہُمْ آذَانٌ لاَّ یَسْمَعُونَ بِہَا أُوْلَ ئِکَ کَالأَنْعَامِ بَلْ ہُمْ أَضَلُّ أُوْلَ ئِکَ ہُمُ الْغَافِلُونَ (الاعراف:۹۷۱)

’’اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔ ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں۔ ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے ہوے ہیں۔‘‘ گویا قرآن کے الفاظ میں ایسا شخص قابلِ ملامت ہے جو معلومات کو سن کر رد و قبول کے لیے اپنی عقلی صلاحیتوں کو رو بہ عمل نہیں لاتا ہے۔ قرآن کی صحت و صداقت جانچنے کے اور بھی طریقے پائے جاتے ہیں۔ان میں ایک مسلمہ طریقہ’’ استنفادِ بدیل ‘‘ (Exhausting the Alternatives) کا ہے۔ بنیادی طور پر ہم قرآن کا یہ دعویٰ دیکھتے ہیں کہ وہ وحیِ الٰہی ہے، اور اگر ایسا نہیں ہے تو کیا ہے؟دوسرے الفاظ میں قرآن اپنے قاری کو چیلنج کرتا ہے کہ اس کے علاوہ کوئی توجیہ پیش کرے، ورق اور سیاہی سے تیار شدہ یہ کتاب کہاں سے آئی ہے؟اگر یہ اللہ کی وحی نہیں ہے تو اس کا مصدر کیا ہے؟حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آج تک کوئی اس مظہرہ کی اطمینان بخش متبادل توجیہ پیش نہیں کرسکاہے۔

غیر مسلموں کی طرف سے قرآن کے منزل من اللہ نہ ہونے کے سلسلے میں جو توجیہات عرض کی گئی ہیں ان کو دو بڑے عنوانوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ مخالفین کی تمام ہرزہ سرائیاں ان دائروں سے باہر کم ہی نکلتی ہیں۔ مخالفین کا ایک گروہ جو متعدد اصحابِ علم، سائنس دانوں اور تعقّل زدہ لوگوں پر مشتمل ہے، کہتا ہے کہ بڑے طویل عرصہ تک قرآن اور محمد ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کر کے ہم اس نتیجے پر پہونچے ہیں کہ درحقیقت محمدﷺ ایک عبقری (Genius)انسان تھے،جن کو اپنے بارے میں (نعوذ باللہ) یہ وہم ہو گیا تھا کہ وہ ایک نبی ہیں۔اس کی وجہ ان کی عقل میں فتور اور نامساعد حالات میں ان کی پرورش و پرداخت ہے۔ ایک جملہ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ حقیقتاً ایک فریب خوردہ(Fooled) انسان تھے۔ اس گروپ کے بالمقابل مخالفین کا دوسرا گروہ ہے جس کا کہنا ہے کہ دراصل محمد ایک جھوٹے انسان تھے۔طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہ دونوں گروہ آپس میں بھی کبھی قرآن کے متعلق اتفاقِ رائے نہیں کر سکے ہیں۔اسلام اور اسلامی تاریخ پر لکھے گئے بہت سارے مغربی مصادر و مراجع میں ان دونوں مفروضات کا تذکرہ ملتا ہے۔ وہ پہلے پیراگراف میں محمدﷺ کو ایک فریب خوردہ،مختل الحواس انسان کی شکل میں پیش کریں گے اور معاً اگلے اقتباس میں انھیں جھوٹا، کذاب کے القاب سے نوازتے دکھائی دیں گے۔حالانکہ اندھی مخالفت کے زور میں یہ حضرات علمِ نفسیات کی ابجدی حقیقت کو بھی دانستہ یا نادانستہ فراموش کر جاتے ہیں کہ کوئی انسان بیک وقت محبوس العقل اور جھوٹا شاطر(Imposter) نہیں ہو سکتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر کوئی شخص مخبوط العقل ہے اور اپنے آپ کو نبی سمجھ بیٹھا ہے تو اس کا معمول یہ نہیں ہوگا کہ وہ رات کے آخری پہر میں جاگ کر اگلے دن کے لیے لائحہ عمل تیار کرے تاکہ اس کی نبوت کا ڈھونگ جاری رہ سکے۔ اگر وہ مختل العقل ہے تو وہ ہرگز ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ وہ اپنی دانست میں سچا نبی ہوگا اور اسے کامل یقین ہوگا کہ آئندہ کل جو بھی ناگہانی سچویشن رونما ہوگی، وحیِ الٰہی ہر موقعہ پر اس کی دادرسی کر دے گی۔ اور واقعہ ہے بھی کہ قرآن کریم کا ایک بڑا حصہ کفار و مشرکین کے سوالات و اعتراضات کے جواب میں نازل ہوا ہے۔مختلف خلفیوں (Back Grounds) کے حامل مخالفین الگ الگ سطحوں پر آپ ﷺ سے سوالات دریافت کرتے تھے اور اللہ کی جانب سے وحی کے ذریعے آپﷺ کو اس سے باخبر کیا جاتا تھا۔ لہٰذا اگر آنحضورﷺ کو دماغی خلل(Mind Delusion) کا شکار باور کر بھی لیا جائے تو فطری طور پر ان کا رویہ جھوٹے شخص کا سا نہیں ہو سکتا۔غیر مسلم مخالفین علمی سطح پر کبھی اس بات کا اقرار نہیں کر سکتے کہ یہ دونوں از قبیلِ اضداد صفتیں کسی ایک آدمی میں یکجا ہو سکتی ہیں۔کوئی بھی انسان یا تو فریب خوردہ ہوگا یا جھوٹا، بیک وقت دونوں ہرگز نہیں ہو سکتا۔ جس چیز پر میں زور دینا چاہتا ہوں وہ یہ کہ متعلقہ دونوں صفات دو متضاد شخصیتوں کا مظہر ہیں اور ایک شخص میں ان کا پایا جانا صرف خوابوں کی دنیا میں ممکن ہے۔

آنے والے منظر نامے کے ذریعہ آپ جان لیں گے کہ کس طرح غیر مسلم مخالفین، کو لہو کے بیل کی مانند ایک دائرے میں گھومتے گھومتے خود اپنے کھودے ہوئے اعتراضات کے گڈھوں میں آ گرتے ہیں۔اگر آپ ان میں سے کسی سے پوچھیں کہ تمھارے فہم کے مطابق یہ قرآن کہاں سے آیا ہے؟وہ جواب دے گا کہ یہ ایک مخبوط العقل انسان کی خیال آفرینی کا کرشمہ ہے۔ اب آپ اس سے پوچھیں : ’’اگر یہ کسی پاگل ذہن کی پیداوار ہے تو اس میں یہ علمی باتیں کہاں سے آ گئیں ؟اس کو تو تم بھی مانو گے کہ قرآن میں ایسی معلومات کا تذکرہ ہے جو اس وقت عربوں کو نہیں معلوم تھیں ‘‘، اب وہ لاشعوری طور پر اپنے جواب میں تبدیلی کرتے ہوئے کہے گا:’’ہو سکتا ہے کہ محمدﷺ مخبوط العقل نہ ہوں، اور انھوں نے یہ معلومات بعض غیر ملکی اجنبیوں سے سن کر ان کو اپنی طرف منسوب کر دیا ہو، اور اس بہانے جھوٹ موٹ نبوت کا دعوی بھی کر دیا ہو‘‘۔اس نقطہ پر آ کر آپ اس سے پوچھیں :’’اگر تمھارے مطابق محمد ﷺ جھوٹے نبی تھے تو کیا وجہ ہے کہ انھیں اپنے آپ پر اس درجہ اعتماد کیوں تھا؟کیوں ان کے تمام تصرفات سے فی البدیہہ جھلکتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو سچا نبی متصور کرتے تھے؟‘‘اس نقطہ پر پہونچ کروہ تنگ نائے میں پھنسی بلی کی طرح اپنے سابقہ موقف کی طرف پلٹی مارتے ہوئے کہے گا :’’ممکن ہے کہ وہ فی الواقع جھوٹا نہ ہو، بلکہ مخبوط العقل ہو جو کہ خود کی نبوت میں یقین کرتا تھا‘‘ یہاں آ کر بحث و تمحیص کا دائرہ گھوم کر پھر وہیں آ رکتا ہے جہاں سے اس کی ابتدا ہوئی تھی۔

جیسا کہ میں پیچھے ذکر کر چکا ہوں کہ قرآنِ کریم میں ایسے بہت سارے علمی حقائق مذکور ہیں کہ جن کو اللہ عالم الغیب کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا ہے۔علی سبیل المثال: کون تھا جس نے محمدﷺ کو سدِ ذی القرنین کے متعلق بتایا جبکہ وہ جزیرۃ العرب کی حدود سے باہر شمال میں ہزاروں کیلو میٹر کی دوری پر واقع ہے، ؟کون تھا جس نے علمِ جنین کے بارے میں بالکل درست معلومات سے محمدﷺ کو آگاہ کیا تھا؟ان حقائق کی کثرت کو دیکھتے ہوئے بھی جو لوگ ان کو ذاتِ الٰہی کا فیضان نہیں ماننا چاہتے، آٹومیٹیکلی ان کے پاس صرف ایک آپشن باقی رہ جاتا ہے۔ یعنی کسی گمنام اور مجہول شخص نے یہ بیش بہا معلومات کا خزانہ، محمدﷺ کی جھولی میں ڈال دیا تھا، جس کا خاطر خواہ استحصال کرتے ہوئے محمد ﷺ نے نبوت کا دعوی کر دیا۔ لیکن اس غلط مفروضہ کو بڑی آسانی کے ساتھ محض ایک مختصر سے سوال کے ذریعہ رد کیا جا سکتا ہے:اگر بموجب اس مفروضہ کے محمدﷺ ایک جھوٹے نبی تھے، تو آخر انھیں اپنے جھوٹ پر اتنا بھروسا کیوں تھا؟کیوں کر انھوں نے ایک بت پرستانہ ماحول میں رائج مذہبی عقائد ورسوم پراس درجہ بیباکی و شجاعت کے ساتھ تیز و تند تنقیدیں کیں، جس کا تصور بھی کسی نفاق پرست جھوٹے مدعیِ نبوت سے نہیں کیا جا سکتا؟۔ یہ بے مثال خود اعتمادی و بیباک شجاعت صرف اور صرف سچی وحیِ الٰہی کی سرپرستی میں میسر آ سکتی ہے۔

یہاں میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں، اسلامی تاریخ کے ادنیٰ طالب علم کو بھی یہ بات معلوم ہوگی کہ آنحضرت ﷺ کا ایک چچا ابولہب دینِ اسلام کی دعوت کا کٹر مخالف تھا۔ اسلام سے اس کی دشمنی کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ ملعون راستا چلتے آپﷺ کا پیچھا کیا کرتا تھا، جہاں آپﷺ رک کر کسی کو وعظ و تبلیغ فرماتے یہ فوراً جا پہنچتا اور بڑی شدومد کی ساتھ آپﷺ کی تردید کرنے لگتا۔ الغرض زندگی کے ہر ہر شعبے میں محمد ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات کے برعکس کرنا اس کی زندگی کا شیوہ تھا۔ اسی ابو لہب کی موت سے تقریباً دس سال پہلے آنحضرتﷺ پر ایک چھوٹی سورت نازل ہوئی۔ یہ مکمل سورت ابو لہب سے متعلق تھی اور یہی اس کا نام بھی پڑا۔ اس سورت نے پوری وضاحت اور قطعیت کے ساتھ ابو لہب کو جہنمی یا دوزخی قرار دیا ہے۔دوسرے الفاظ میں معلوم تاریخ میں پہلی بار کسی انسان کو مدتِ امتحان ختم ہونے سے پہلے ہی نتیجہ بتا دیا گیا۔قرآن جو کلامِ ربانی ہے اس میں اگر کسی کے بارے میں صراحت کے ساتھ اہلِ جہنم ہونے کا تذکرہ آ جائے تو اس کا سیدھا مفہوم یہ ہوگا کہ اب ایسے شخص کو قبولِ ایمان کی توفیق نہیں ہوگی اور ہمیشہ ہمیش کے لیے وہ ملعون و مردود ہی رہے گا۔

ابو لہب اس سورت کے نزول کے بعد دس سال تک زندہ رہتا ہے اور اس طویل مدت میں وہ اسلام کی بیخ کنی کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں رکھتا۔اس قدر اسلام دشمنی کے باوجود اس سے کبھی یہ نہ بن سکا کہ وہ بر سرِ عام یہ اعلان کر دیتا: ’لوگو!ہم سب نے سنا ہے کہ محمدﷺ کی وحی کے دعوے کے مطابق،میں کبھی اسلام قبول نہیں کروں گا اور میرا انجام دوزخ مقدر ہو چکا ہے، لیکن دیکھو میں آج اسلام میں داخلہ کا اعلان کرتا ہوں اور جان لو کہ میرا مسلمان ہو جانا محمد ﷺ کے لائے ہوئے قرآن کی روشنی میں ناممکن تھا، اب تم لوگ فیصلہ کرو کہ ایسی خدائی وحی کے بارے میں کیا کہو گے؟‘ وہ اگر ایسا اعلان کر دیتا تو یقین مانیے نہ صرف قرآن کی صداقت مشکوک ہو جاتی،بلکہ اسلام کی بیخ کنی کا اس کا دیرینہ خواب بھی شرمندۂ تعبیر ہو جاتا۔لیکن وہ ایسا نہ کر سکا، حالانکہ اس کی شر پسند طبیعت سے ایسے ردِ عمل کی بجا طور پر امید کی جا سکتی ہے، لیکن ایسا نہیں ہوتا، پورے دس سال گزر جاتے ہیں اور وہ اپنی طبعی موت مر کر ہمیشہ کے لیے واصلِ جہنم ہو جاتا ہے لیکن اس پوری مدت میں اس کے اندر قبولِ اسلام کا کوئی داعیہ پیدا نہیں ہو پاتا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر محمدﷺ اللہ کے سچے رسول نہیں تھے تو انھیں یقینی طور پر کیسے معلوم ہوا کہ ابو لہب قرآن کی پیشین گوئی کو حرف بہ حرف درست قرار دیتے ہوئے بالآخر کفر پر ہی مرے گا؟محمد ﷺ کو یہ خود اعتمادی کہاں سے حاصل ہو گئی کہ وہ اپنے مشن کے کٹر مخالف کو کامل دس سال اس بات کا موقعہ دیے رہیں کہ اگر وہ چاہے تو ان کے دعوۂ نبوت کو جھوٹا ثابت کر دکھائے؟اس کا بس یہی جواب ہے کہ آپﷺ فی الواقع اللہ کے سچے رسول تھے۔ انسان وحیِ الٰہی کے فیضان سے سرشار ہو کر ہی اس قسم کا پرخطر چیلینج پیش کر پاتا ہے۔

محمد ﷺ کا اپنی صداقت پر یقین اور اس کی تبعیت میں اللہ کی نصرت و حفاظت پر اعتماد کس بلندی کو پہنچا ہوا تھا، ہم اس کی دوسری مثال پیش کرتے ہیں۔ ہجرت کے موقعے پر آپﷺ نے مکہ کو خیر باد کہہ کر حضرت ابوبکر ؓ کے ساتھ مشہور پہاڑ’’ ثور‘‘ کے ایک غار میں پناہ لی تھی۔ کفارِ مکہ آپﷺ کے خون کے پیاسے بن کر پوری طاقت کے ساتھ آپﷺ کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ ایسی ہولناک صورتِ حالات میں یہ ہوتا ہے کہ تلاش کرنے والی ایک پارٹی قدموں کے نشانات کا پیچھا کرتے ہوئے ٹھیک اسی غار کے بالمقابل پہنچ جاتی ہے جس میں آپﷺ پناہ گزیں تھے۔ بس لمحہ کی دیر تھی کہ کوئی اس غار میں جھانک کر دیکھ لے اور اسلامی تاریخ کوئی دوسرا رخ اختیار کر نے پر مجبور ہو جاتی۔ حضرت ابو بکرؓ بھی حالات کی سنگینی سے خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔ یقین جانیے اگر محمدﷺ اپنے دعوے میں جھوٹے ہوتے اور آپ کی رسالت محض ایک دھوکا ہوتی، تو ایسی صورت میں آپ کا فطری ردِ عمل یہ ہونا چاہیے تھا کہ آپ ﷺ اپنے ساتھی سے کہتے: ’اے ابوبکرؓ ذرا غار کے پچھلی طرف جا کر تو دیکھو، کیا وہاں کوئی جائے فرار ہے؟یا فرماتے:ابو بکرؓ ! وہاں کونے میں دبک کے بیٹھ جاؤ اور بالکل آواز نہ کرو۔‘ آپﷺ نے ایسا کچھ نہیں فرمایا، اس وقت آپﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ سے جو کہا وہ آپﷺ کے توکل علی اللہ کا غماز اور اپنی نبوت کی سچائی پر کامل یقین کا مظہر تھا۔ قرآن نے اس وقت کی نازک صورتِ حال میں آپ کا ردِ عمل (Reaction)اس طرح ذکر کیا ہے:

ثَانِیَ اثْنَیْْنِ ِذْ ہُمَا فِیْ الْغَارِ اِذْ یَقُولُ لِصَاحِبِہِ لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّہَ مَعَنَا(التوبہ: ۴۰)

’جب وہ صرف دو میں کا دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘

اب مذکورہ بالا مثالوں کی روشنی میں فیصلہ کیجیے کہ کیا کسی جھوٹے،دھوکے باز مدعیِ نبوت کو ایسی پرخطر صورت حال میں اپنے جھوٹ پر اس درجہ اعتماد ہو سکتا ہے؟حقیقت یہ ہے کہ یقین و توکل کی یہ کیفیت کسی کاذب فریبی کو میسر آ ہی نہیں سکتی۔ جیسا کہ پیچھے ذکر آیا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ قرآن کو وحیِ الٰہی نہ ماننے والے اپنے آپ کو ایک خالی دائرہ (Vacant Circle )میں گھرا پاتے ہیں اور ان سے کوئی معقول جواب نہیں بن پاتا۔ کبھی وہ محمد ﷺ کو ایک دیوانہ شخص گردانتے ہیں اور کبھی جھوٹا دھوکہ باز۔ ان کی عقل میں اتنی موٹی بات بھی نہیں آتی کہ دیوانگی اور مکاری متضاد صفات ہیں اور کسی ایک آدمی میں ان کے اجتماع کی بات کہنا بذاتِ خود پاگل پن کی علامت ہے۔

سات سال پہلے کی بات ہے، میرے ایک وزیر دوست میرے گھر تشریف لائے تھے۔ ہم جس کمرے میں گفتگو کر رہے تھے، وہاں قریب میز پر قرآن مجید رکھا ہوا تھا، جس کے بارے میں وزیر موصوف کو علم نہیں تھا۔ دورانِ گفتگو میں نے قرآن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: میں اس کتاب پر ایمان رکھتا ہوں۔‘‘ وزیر صاحب نے از راہِ تفنن کتاب پر ایک اچٹتی سی نظر ڈال کر فرمایا: ’’میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ اگر یہ کتاب بائبل نہیں ہے تو ضرور بالضرور کسی انسان کی تصنیف کردہ ہے۔‘‘ میں نے ان کے دعوے کے جواب میں صرف اتنا کہا: ’’چلئے میں آپ سے اس کتاب میں موجود چند باتوں کا تذکرہ کرتا ہوں۔ اور تین یا چار منٹوں میں، میں نے ان کے سامنے قرآن کے چند علمی حقائق پیش کر دیے۔ ان چند منٹوں نے اس کتاب کے تعلق سے ان کے نظریہ میں بڑی تبدیلی پیدا کر دی، انھوں نے کہا: ’’آپ کی بات سچ ہے، اس کتاب کو کسی انسان نے نہیں بلکہ شیطان نے لکھا ہے۔‘‘

میری نظر میں اس قسم کا احمقانہ لیکن افسوسناک موقف اختیار کرنے کی کچھ وجوہات ہیں : اولاً یہ ایک جلدی میں تراشا ہوا سستا عذر ہے، اس کے ذریعہ کسی بھی لاجواب کر دینے والی سچویشن سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ بائبل کے عہد نامہ میں بھی اسی قسم کا ایک واقعہ درج ہے۔ قصّے کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ اپنی معجزاتی قوت سے ایک مردہ آدمی کو زندہ کر دیتے ہیں۔ اس آدمی کی موت چار دن پہلے واقع ہو چکی تھی، لیکن حضرت عیسیٰ کے ’قم‘ کہہ دینے سے وہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اس حیرتناک منظر کا مشاہدہ بعض یہودی بھی کر رہے تھے، اس واضح معجزہ کو سر کی آنکھوں سے دیکھ کر بھی ان کا جو تبصرہ تھا وہ قابل عبرت ہے۔ انھوں نے کہا: ’’یا تو یہ شخص (حضرت عیسیٰؑ ) بذات خود شیطان ہے یا شیطان اس کی مدد کر رہا ہے۔‘‘ اس قصے کو دنیا بھر کے عیسائی کلیساؤں میں بار بار ذکر کیا جاتا ہے اور عیسائی حضرات موٹے موٹے اشک بہاتے ہوئے اس قصے کو سنتے ہیں اور کہتے ہیں : ’’اگر ہم اس جگہ ہوتے تو یہودیوں کی سی حماقت ہم سے سرزد نہ ہوئی ہوتی۔‘‘ لیکن رونے کا مقام ہے کہ بعینہ یہی لوگ تین چار منٹ میں چند قرآنی علمی معجزات کو جان لینے کے بعد وہی طرز عمل اختیار کرتے ہیں جو ان کے نبی کے تعلق سے یہودیوں نے کیا تھا، یعنی یہ شیطان کا کام ہے یا اس کتاب کی تیاری میں شیطان کا تعاون شامل رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ حضرات جب مباحثہ کے دوران کسی تنگ زاویے میں پھنس جاتے ہیں اور کوئی معقول و مقبول جواب انھیں سجھائی نہیں دیتا تو پھر ان کی جانب سے اسی طرح کے سستے اور ریڈیمنڈ اعزاز کا سہارا لیا جاتا ہے۔

اس قسم کے کمزور فکری موقف کی دوسری مثال ہمیں کفارِ مکہ کے یہاں بھی دکھائی پڑتی ہے۔ اسلامی دعوت کے سامنے علمی و عقلی سطحوں پر ہزیمت اٹھانے کے بعد انھوں نے بھی اسی نوعیت کے عذر تراشنے شروع کر دیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شیطان ہی ہے جو محمدﷺ کو قرآن کی تعلیم دیتا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے اس طرح کی ساری افواہوں، عذر تراشیوں اور الزامات کی پر زور تردید کی ہے۔ اس سلسلے کی ایک خاص آیت یہ ہے:

وَمَاھُوَ بِقَوْلِ شَیْطَانِ رَجِیْمٍoفَأَیْنَ تَذْھَبُوْنَoاِنْ ھُوَ اِلاَّ ذِکْرٌ لِّلْعَالَمِیْنَo(التکویر۲۵-۲۷)

’’یہ کسی شیطان مردود کا قول نہیں ہے، پھر تم لوگ کدھر چلے جا رہے ہو؟ یہ تو سارے جہاں والوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔‘‘

اور اس طریقے سے قرآن نے، ان خیالی مفروضات کی قلعی کھولی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم میں بے شمار ایسے دلائل و شواہد موجود ہیں جو اس مفروضے کی، پوری وضاحت کے ساتھ تردید کرتے ہیں۔ مثلاً قرآن کی چھبیسویں سورت میں ارشاد فرمایا گیا ہے:

وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہِ الشَّیَاطِیْنُoوَمَایَنْبَغِیْ لَھُمْ وَمَا یَسْتَطِیْعُوْنَo اِنَّھُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَo (الشعراء:۲۱۰-۲۱۲)

’’اس (کتاب مبین) کو شیاطین لے کر نہیں اُترے ہیں، نہ یہ کام ان کو سجتا ہے، اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں، وہ تو اس کی سماعت تک سے دُور رکھے گئے ہیں۔‘‘

اور ایک دوسری جگہ یہ تعلیم دی جاتی ہے:

فَاِذَا قَرَأَتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ (النحل:۹۸)

’’جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطانِ رجیم سے خدا کی پناہ مانگ لیا کرو۔‘‘

اب ان آیات پر غور کر کے بتایا جائے کہ کیا شیطان اس طرح کی کتاب خود تیار کرسکتا ہے؟ کیا شیطان اتنا ہی سادہ لوح ہے کہ وہ اپنے قارئین سے التماس کرے گا کہ دیکھو میری کتاب پڑھنے سے پہلے تم اللہ سے اس بات کی دُعا ضرور کرو کہ وہ میرے کید و شر سے تمھاری حفاظت فرمائے۔ اس طرح کی حرکت آخری درجہ کی خود فریبی و حماقت ہے جس کی توقع انسان سے تو کی جا سکتی ہے مگر شیطان سے نہیں۔

مسئلہ کا دوسرا رُخ یہ ہوسکتا ہے کہ شاید شیطان ہی نے انسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے اس قسم کی ہدایت شامل کر دی ہے، تاکہ سادہ لوح سامعین اس پر فریب نصیحت کے بعد اس کی کتاب کے دجل و فریب کا آسانی کے ساتھ شکار ہوتے رہیں۔ لیکن یہاں پر ایک انتہائی خطرناک سوال رونما ہو جاتا ہے کہ کیا حکمت الٰہی کے تحت اس قسم کی آخری درجہ کی فریب دہی کا اختیار شیطان کو تفویض کیا گیا ہے؟ اور کیا اس طرح کے مفروضے کو مان لینے کے بعد کسی بھی موجودہ مذہب و دین کی صداقت شبہات کے دائرہ میں نہیں آ جاتی ہے؟ بہت سے عیسائی دینی رہنما اس بارے میں صراحت کے ساتھ توقف کا پہلو اختیار کر لیتے ہیں۔ جب کہ عیسائیوں کی اکثریت اس بات کا اعتقاد رکھتی ہے کہ شیطان ایسا نہیں کرسکتا کیونکہ اگر وہ کرنا بھی چاہے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ اگر شیطان کو اس قسم کی در اندازیوں اور چالبازیوں پر قادر مان لیا جائے گا تو دنیا کے تمام ادیان و مذاہب کا نفس وجود بھی شک و انکار کے گھیرے میں آ جاتا ہے۔ لیکن قرآن کے سلسلے میں اکثر غیر مسلم حضرات کا رویہ عملی طور پر یہی عکاسی کرتا ہے کہ ان کے نزدیک شیطان وہ سبھی کچھ کرسکتا ہے۔ جو صرف اللہ کی قدرت کاملہ سے متوقع ہے۔ کیوں کہ یہ لوگ قرآنی حقائق کے تئیں اپنی حیرت وپسندیدگی کا اقرار کرنے کے باوجود، اس کو شیطانی کارنامہ قرار دینے پر مصر نظر آتے ہیں۔

اللہ کا لاکھ شکر ہے کہ مسلم معاشرہ اس شیطانی مرض سے محفوظ ہے۔ ہمارے نزدیک شیطان کو کچھ استثنائی قوتیں حاصل تو ہیں لیکن ان قوتوں کا تقابل، اللہ کی قدرت کاملہ سے کرنا ایسا ہی ہے کہ سمندر کے مقابلے پانی کی چند بوندیں، یہی اسلام کا عقیدہ ہے اور اس کا اعتراف کیے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں رہ سکتا۔ اب ایک دوسرے پہلو سے غور کیجئے، عام آدمی تک کے احاطۂ معلومات میں یہ بات ہے کہ شیطان سے غلطیوں کا صدور ہوتا ہے اور یہ کہ وہ معصوم عن الخطا نہیں ہے۔ اس عام معلومات کا لازمی تقاضا بنتا ہے کہ وہ اپنی تصنیف کردہ کتاب کو بھی غلطیوں اور تناقضات سے بھر دے، جب کہ قرآن صراحت کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ اس کے اندر کسی قسم کا تناقض نہیں کیونکہ وہ منزل من اللہ ہے۔

اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلاَفاً کَثِیْراً۔ (النساء:۸۲)

’’کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی ہے۔‘‘

عام طورسے غیر مسلموں کے پاس اور بھی کچھ اعذار ہیں جن کی بنیاد پر، قرآن کو انسانی قوت مخیلہ کی اختراع قرار دیا جاتا ہے۔ غیر مسلموں کی جانب سے کیے گئے اسلام کے گہرے مطالعہ اور بحث و تحقیق کا جو حاصل عموماً نظر آتا ہے وہ چند باہم متناقض مفروضات کا پلندہ ہے۔ بیشتر مفروضوں کا بنیادی تھیم یہی ہوتا ہے کہ دراصل محمدﷺ کو ایک نفسیاتی بیماری لاحق تھی، اس بیماری کا نام اسطوری لمس یا خود پسندی کا جنون (Mythomania) ہے۔ اس بیماری میں مبتلا شخص اپنے ہر جھوٹ کو دل کی گہرائیوں سے سچ سمجھتا ہے۔ غیر مسلموں کا کہنا ہے کہ محمدﷺ بھی دراصل ایک ایسے ہی انسان تھے، ان کو اپنے بارے میں نبی ہونے کا واہمہ ہو گیا تھا۔ ان حضرات کے اس نظریہ کو بفرض محال کچھ دیر کے لیے تسلیم کر بھی لیا جائے تو بڑی دشواری یہ پیدا ہو جاتی ہے کہ اس مرض میں مبتلا انسان کبھی بھی زندگی کی سچائیوں اور روز مرہ کے واقعات سے خود کو ایڈجسٹ نہیں کر پاتا، لیکن محمدﷺ کے کیس میں ہم پاتے ہیں کہ ان کی لائی ہوئی کتاب پوری کی پوری حقائق پر مبنی اور واقعات کا مرقع ہے۔ اور قرآن کا مبنی بر حقیقت و صداقت ہونا، ہر انسان خود بخود بحث و تحقیق کر کے جان سکتا ہے۔

اس مرض میں مبتلا انسان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی خیالی دنیا میں رہنے والا گوشہ نشیں بن جاتا ہے۔ وہ جیتے جاگتے سماج کی گہماگہی کا سامنا نہیں کر پاتا، اس لیے خاموشی کے ساتھ اس سے کنارہ کشی اختیار کر لیتا ہے۔ جدید نفسیاتی طب بھی ایسے شخص کا علاج یہی تجویز کرتی ہے کہ اسے تسلسل کے ساتھ حقائق کی دنیا سے دوچار کرایا جاتا رہے۔ مثال کے طور پر اگر ایسا نفسیاتی مریض اپنے آپ کو انگلینڈ کا بادشاہ خیال کرتا ہے، تو اس کا معالج اس کی تردید میں یہ نہیں کہے گا کہ ’’تم بادشاہ نہیں ہو، بلکہ حقیقت میں تمہیں دماغی شکایت ہے‘‘۔ ایسے مریض کے طریقۂ علاج کی رو سے فوراً تردید کے بجائے اس کے سامنے حقائق پیش کیے جائیں گے۔ مثلاً اس سے کہا جائے گا: اگر تم ہی انگلینڈ کے بادشاہ ہو تو بتاؤ آج ملکہ کہاں قیام پذیر ہوں ؟ اور تمھارے وزیر اعظم کا اسمِ گرامی کیا ہے؟ اور تمھارے شاہی پہرے دار بھی نہیں معلوم کہاں ہیں ؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کا مریض ان سوالوں کے جواب میں صعوبت محسوس کرتے ہوئے الٹے سیدھے جواب دے گا، مثلاً آج ملکہ اپنے مائیکے گئی ہیں۔ وزیر اعظم کا انتقال ہو گیا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اور آخر کار ان حقائق کی کوئی معقول توجیہہ نہ پاکر وہ اس مضحکہ خیز مرض سے شفا پا جاتا ہے اور جیتے جاگتے واقعات کے سامنے سپرڈالتے ہوئے مان لیتا ہے کہ حقیقت میں وہ انگلینڈ کا بادشاہ نہیں ہے۔

قرآن حکیم کا اپنے سرکش مخالفین کے ساتھ تعامل بھی کم و بیش وہی ہوتا ہے، جو نفسیاتی نقطۂ نظر سے مائتھومینیا میں مبتلا شخص کے ساتھ برتا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں ایک معجزہ نما آیت ہے:

یَآأیُّہَاالنَّّاسُ قَدْ جَاء تْکُمْ مَّوْعِظََۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَ شِفَاء لَّمَا فِیْ الصُّدُوْرِ وَ ھُدَی وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُوۂ مِنِیْنَ۔ (یونس: ۵۷)

’’لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے، یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہ نمائی اور رحمت ہے‘‘۔

پہلی نظر میں یہ آیت بڑی مبہم اور غامض دکھائی پڑتی ہے— لیکن مذکورہ بالا مثال کی روشنی میں اس کا مفہوم بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صدقِ نیت کے ساتھ قرآن کریم کو پڑھنے والا یقینی طور پر ضلالت و تاریکی سے نجات پاتا ہے۔ قرآن حکیم نفسیاتی طریقۂ علاج استعمال کرتے ہوئے، صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے فریب خوردہ لوگوں کی مسیحائی کرتا ہے اور ظلمتوں کے خوگر مریضوں کے سامنے حقائق اور واقعات کانور روشن کر دیتا ہے۔ اس ضمن میں قرآن حکیم اکثر و بیشتر لوگوں سے کہتا ہے: ’’اے لوگو! تم قرآن کے بارے میں ایسا ایسا کہتے ہو، لیکن فلاں فلاں چیز کے بارے میں تم کیا کہو گے؟ اور تم فلاں بات کیسے کہہ سکتے ہو جب کہ تم جانتے ہو کہ اس کے لازمی نتائج دوسری طرف اشارہ کر رہے ہیں ‘‘۔ اس طرح قرآن حکیم اپنے قارئین کو مجبو ر کر دیتا ہے کہ وہ مسئلے کی تمام ابعاد (Dimensions) اور پہلؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی شئے کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراس پورے پروسس (Process) میں، وہ انسان کو گم راہی کی تنگ نائیوں سے نکال کر ہدایت کی وسیع شاہ راہ پر لا کھڑا کرتا ہے۔ اس پر حکمت لائحۂ عمل کے ذریعے سے، لاشعوری طور پر انسان کے حاشیۂ خیال تک سے یہ احمقانہ اعتقاد زائل ہو جاتا ہے کہ قرآن کریم میں بیان کردہ حقائق کسی انسانی ذہن کی اپج یا پینک ہیں۔

قرآن کریم کا یہ لوگو ں کو حقائق و واقعات کے ذریعے قائل کرنے والا انداز ہی متعدد غیر مسلموں کے اسلام کی طرف متوجہ ہونے کا باعث بنا ہے۔ عصر حاضر کے ایک اہم علمی مرجع جدید کیتھولک انسائیکلو پیڈیا (New Catholic Encyclopedia) میں قرآن کریم سے متعلق قابل ذکر تبصرہ کیا گیا ہے۔ قرآن کریم کے موضوع پر بحث کرتے ہوئے کیتھولک چرچ نے صراحت کے ساتھ یہ اعتراف کیا ہے: ’’ماضی کے مختلف ادوار میں قرآن کریم کے مصدر و منبعِ معلومات کے متعلق مختلف نظریات پیش کئے گئے ہیں، لیکن آج کسی عقلِ سلیم کے حامل انسان کے لیے ان میں سے کسی نظریے کو مان لینا ممکن نہیں ‘‘۔

تاریخ میں اپنی اسلام دشمنی میں بدنام کیتھولک چرچ کو بھی مجبوراً قرآن حکیم کو انسانی دماغ کی پیداوار سمجھنے والے نظریات کو غیر معقول قرار دینا پڑا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ قرآن حکیم تمام عیسائی چرچوں کے لیے ہمیشہ سے بڑا دردِسر رہا ہے۔ ان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ وہ قرآن حکیم سے کوئی ایسی دلیل ڈھونڈ نکالیں، جس کے ذریعے سے قرآن حکیم کو الہامی کلام کے بجائے انسانی کلام قرار دیا جا سکے، لیکن عملاً ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔ اِس سلسلے میں کیتھولک چرچ دیگر چرچوں سے اس بات میں ممتاز ہے کہ اس نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے مروجہ تمام احمقانہ توجیہات کو لغو قرار دیا ہے۔ کنیسا (Church) کی تصریح کے مطابق گزشتہ چودہ صدیوں میں قرآنی مظہرہ (Phenomenon) کی کوئی منطقی و معقول تفسیر پیش نہیں کی جا سکی ہے۔ بالفاظ دیگر اس کو اقرار ہے کہ قرآن حکیم کا قضیہ اتنا آسان نہیں کہ اسے درخورِ اعتنا ئ ہی نہ سمجھا جائے۔ بلاشبہ دوسرے لوگ اتنے علمی اعتراف و احترام کے بھی روادار نہیں ہوتے، بل کہ ان کا عام رد عمل یہی ہوتا ہے کہ ’’یہ قرآن حکیم ہوسکتا ہے اس طرح تصنیف دیا گیا ہوگا یا اس طرح‘‘۔ ان ٹامک ٹوئیوں میں سرگرداں یہ حضرات بیشتر اوقات خود اپنے اقوال کی نامعقولیت اور باہمی تناقض کا ادراک نہیں کر پاتے ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ کیتھولک کنیسا کی یہ تصریح خود عام عیسائی حضرات کے لیے دشواری پیدا کر دیتی ہے، کیوں کہ اس تصریح کی موجودگی میں ان کا قرآن کریم کے تئیں معاندانہ رویہ اپنا مذہبی اعتبار کھو دیتا ہے۔ چوں کہ ہر عیسائی شخص کے دینی فرائض میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ ہر صورت میں اپنے چرچ کے احکام و فرامین کا پابند رہے گا۔ اب اگر کیتھولک چرچ اعلان کرتا ہے کہ قرآن حکیم کے بشری تخلیق ہونے سے متعلق بازار علم میں جو بھی نظریات پھیلے ہوئے ہیں ان پر کان نہ دھرا جائے، تو ایک عام عیسائی اس مخمصے کا شکار ہو جاتا ہے کہ اگر کوئی دوسری توجیہ معتبر نہیں ہے تو آخر مسلم نقطۂ نظر سے اس پر غور کیوں نہ کیا جائے؟ اس کا اعتراف تو سبھی کرتے ہیں کہ قرآن حکیم میں کچھ تو ہے، جس کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ لہٰذا جب کسی دوسری تفسیر کا اعتبار نہیں تو آخر کیوں قرآن حکیم سے متعلق مسلم عقیدے کے لیے معاندانہ موقف کو برقرار رکھا جائے؟ مجھے معلوم ہے کہ مسئلے کے اس پہلو پر وہی غیر مسلم حضرات غور و تدبر کرسکیں گے جن کی بصیرت کو اندھے دینی تعصب نے بالکل محو نہیں کر دیا ہے اور جو حقائق کو کسی خاص فکر ونظرئیے کی عینک سے دیکھنے کے عادی نہیں ہوئے ہیں۔

موجودہ کیتھولک چرچ کے صف اول کے ممتاز رہنماؤں میں ایک نام مسٹر ہانس (Hans) کا آتا ہے۔ موصوف نے ایک مدت دراز تک قرآن حکیم پر ریسرچ کیا ہے اور اس سلسلے میں انھوں نے متعدد اسلامی ممالک میں لمبے عرصے تک قیام بھی کیا ہے۔ کیتھولک دنیا میں ان کو کافی اعتبار حاصل ہے۔ اپنے طویل ریسرچ کے خلاصے کے طور پر انھوں نے ایک رپورٹ مرتب کی تھی جو حالیہ دنوں میں شائع بھی ہوگئی ہے۔ اس رپورٹ میں انھوں نے لکھا ہے : ’’اللہ رب العزت نے محمد ﷺ کے واسطے سے انسان سے ہم کلامی کی ہے‘‘۔ ایک بار پھر ایک ممتاز غیر مسلم دینی را ہ نما نے، جو اپنے حلقوں میں معتبر بھی خیال کیا جاتا ہے، اس بات کی شہادت دی ہے کہ قرآن حکیم اللہ کا کلام ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ کیتھولک بابا (Pope) نے اس رائے کو مان لیا ہوگا، لیکن اس کے باوجود، عوامی مقبولیت کے حامل کسی معروف دینی راہ نما کا قرآن حکیم کے تئیں مسلم نقطۂ نظر کی تائید کرنا اپنے آپ میں کافی سے زیادہ وزن رکھتا ہے۔ مسٹر ہانس اس ناحیے سے بھی تحسین کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس واقعی حقیقت کا اعتراف کیا کہ فی الواقع قرآن کریم میں ایسا کچھ ہے جسے آسانی سے نظر اندا ز نہیں کیا جا سکتا اور ایسا اس لیے ہے کہ درحقیقت قرآنی کلمات کا مصدر و منبع خود ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔

جیسا کہ ہم واضح کر چکے ہیں کہ قرآن حکیم سے متعلق تمام احتمالات ختم ہو جاتے ہیں۔ مزید کسی ایسے احتمال کا امکان نہیں رہ جاتا جس کی موجودگی میں قرآن حکیم کا انکار لازم آتا ہو۔ قرآن کریم اگر وحی ربانی نہیں ہے تو وہ ایک دھوکا اور فریب ہے، اور اگر وہ دھوکا اور فریب ہے تو ہر انسان کو حق پہنچتا ہے کہ وہ معلوم کرے کہ اس عظیم الشان فریب کا مصدر کیا ہے اور کس کس مقام پر یہ کتاب ہمیں دھوکا دے رہی ہے؟ سچ بات تو یہ ہے کہ ان سوالات کے صحیح جوابوں پر ہی بڑی حد تک قرآن حکیم کی صداقت و صحت کا انحصار ہے اور ان سوالات پر چپ سادھ لینا اشارہ کرتا ہے کہ دعوے داروں کے پاس اپنے موقف کی تائید میں کچھ نہیں ہے۔ اتنا سب کچھ جان لینے کے باوجود اگر مخالفین کو اصرار ہے کہ قرآن حکیم محض ایک فریب ہے، تو انھیں اس دعوے کے کچھ دلائل بھی پیش کرنے چاہئیں۔ کیوں کہ اب دلائل دینے کی ذمے داری ان کی بنتی ہے اور یہ کوئی صحتمند رویہ نہیں کہ کوئی بھی شخص کسی معقول دلیل کے بغیر اپنے گھسے پٹے نظریے کو بس پیش کرتا رہے۔ میں ایسے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں : ’’مجھے قرآن حکیم میں موجود کوئی ایک دھوکا یا جھوٹ لا کر دکھاؤ۔ اگر تم ایسا نہیں کرسکتے تو اس کو مکر و فریب یا جھوٹ کہنا بند کرو‘‘۔

قرآن حکیم کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ غیر متوقع طور پر رونما ہونے والے حادثات کو بھی الگ اور انوکھے انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہ حوادث صرف زمانۂ ماضی پر موقوف نہیں ہوتے، بل کہ ان میں سے کچھ دراز ہوتے ہوتے ہمارے عہد سے بھی متعلق ہو جاتے ہیں۔ بالفاظ دیگر قرآن حکیم اپنے منکرین کے لیے جس طرح کل ایک محیرالعقول مسئلہ بنا ہوا تھا اُسی طرح آج بھی ہے۔ قرآن حکیم ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اپنی تائید میں دلائل کا اضافہ کرتا جاتا ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ قرآن حکیم آج بھی وہ حیرت انگیز طاقت ہے جس کے ساتھ آسانی سے لوہا نہیں لیا جا سکتا۔ میں ایک مثال دیتا ہوں، قرآن کریم کی ایک آیت ہے:

أَوَلَمْ یَرَالَّذِیْنَ کَفَرُوآأَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْا ٔرضَ کَانَتاَ رَتْقاً فَفَتَقْنَاہُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاء کُلَّ شَیْ ئِِ حَیِّ أَفَلَا یُوْمِنُوَْ) (الانبیآء: ۳۰)

’’کیا وہ لوگ جنھوں نے (نبیﷺ کی بات ماننے سے) انکار کر دیا ہے غور نہیں کرتے کہ یہ سب آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے انھیں جدا کیا اور پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی، کیا وہ ہماری اس خلاّقی کو ’’نہیں مانتے ‘‘ ؟

مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ آیت کریمہ میں مذکور بعینہ انھی معلومات کے نام نہاد انکشاف کرنے پر ۱۹۷۳میں انکارِ خدا کے قائل دو ملحدوں کو نوبل پرائز (Nobel Prize) سے نوازا گیا تھا۔ حالانکہ قرآن حکیم نے صدیوں پہلے اس کائنات کی ابتداء کے بارے میں وضاحت فرما دی تھی۔ لیکن انسانیت آج تک قرآن حکیم میں مذکور اس کائناتی سچائی کو ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہے۔

آج سے چودہ سو سال پہلے کے انسانی معاشرے میں اس حقیقت کا اعلان آسان نہیں تھا کہ کائنات میں زندگی کا آغاز پانی میں ہوا تھا۔ آپ تصور کر لیں کہ آپ چودہ سو سال پہلے کی دنیا میں کسی سنگلاخ صحرا کے وسط میں کھڑے ہیں اور اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کسی سے کہہ رہے ہیں :’’یہ جو کچھ تم دیکھ رہے ہو، یہ سب پانی سے تشکیل پایا ہے‘‘۔ یقیناً اگر آپ ایسا کہتے تو کوئی آپ کی تصدیق نہ کرتا۔ اس حقیقت کو ثابت کرنے میں انسانیت کو خُورد بین کے ایجاد ہونے کا انتظار کرنا پڑا اور اس طویل انتظار کے بعد معلوم ہوا کہ انسانی جسم جن خلیوں (Cells) سے تشکیل پاتا ہے ان کی حیات کا بنیادی مادہ (Cytoplasm) پانی سے بنتا ہے۔ ایک بار پھر واقعات نے ثابت کر دیا کہ گردشِ ایام کی رفتار قرآن حکیم کے پائے استقلال کو سرِمو نہیں ہلا سکی۔

قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ قرآن کریم کی صداقت کی بعض مثالیں وہ ہیں جو ماضی میں قرآن حکیم کے حق میں شہادت دے چکی ہیں اور کچھ ایسی شہادتیں بھی ہیں جو ماضی و حال دونوں کو اپنے حلقۂ اثر میں لیے ہوئے ہیں۔ قرآن حکیم کی صداقت جانچنے کے بعض پیمانے وہ تھے جو ماضی میں اللہ تعالیٰ کی عظمتِ کاملہ اور علمِ مطلق کی گواہی دے کر ناپید ہو گئے جب کہ دوسرے کچھ پیمانے ایسے ہیں جو آج بھی کسی ناقابلِ تسخیر چیلنج کی طرح ہمارے درمیان موجود ہیں۔ پہلی قسم کی مثال میں قرآن کریم کی اس تصریح کو پیش کیا جا سکتا ہے جو ابولہب کے متعلق کی گئی تھی۔ قرآن حکیم میں سورہ لہب میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اللہ عالم الغیب ہے اور وہ جانتا ہے کہ ابولہب اپنی شرپسندی کو چھوڑ کر اسلام نہیں لا سکتا ہے، اس لیے اس کا دوزخی ہونا مقدر ہے۔ اس سورت کے ذریعے جہاں اللہ کے علم مطلق اور اس کی لامحدود حکمت کا اثبات مقصود تھا، وہیں اس کے واسطے سے ابولہب اور اس کے ہم شاکلہ لوگوں کو ڈرا بھی مقصود تھا۔ سب نے دیکھا کہ قرآن حکیم کی یہ پیشین گوئی حرف بہ حرف صادق آئی۔ دوسری قسم کی مثال میں وہ آیات پیش کی جا سکتی ہیں جن میں مسلمانوں اور قومِ یہود کے باہمی تعلقات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ ان آیات میں قرآن حکیم کے پیش نظر یہ نہیں ہے کہ وہ دونوں دینوں کے متبعین کے باہمی تعلقات کو کم سے کمتر کرنا چاہتا ہے، بل کہ یہاں اس کا مقصد واقعی زندگی میں موجود دونوں جماعتوں کے اجتماعی تعلقات کا خلاصہ ہے۔ قرآن کریم نے دو ٹوک انداز میں اس بات کی پیشین گوئی کی ہے کہ یہودیوں کے مقابلے میں عیسائی حضرات کا رویہ مسلمانوں کے تئیں قدرے بہتر ہوگا:

لَتَجِدَنَّ اۂ شَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِلَّذِیْنَ آمَنُوْالْیَہُوْدَ وَالَّذِیْنَ أَشْرَکُوْا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃ لِلَّذِیْنَ آمَنُواْلَّذیْنَ قَالُوْااِنَّا نَصَارٰی۔(المائدہ:۸۲)

’’تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے اور ایمان لانے والوں کے لیے دوستی میں قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جنھوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں ‘‘۔

اس تصریح میں چھپی گہری حقیقت کا شعور اسی وقت ممکن ہے جب ہم اس کے حقیقی معنی کا اس کے جملہ ابعاد (Dimensions) و اطراف کے ساتھ ادراک کرسکیں۔ یہ درست ہے کہ تاریخ میں بہت سارے عیسائی اور یہودی حضرات نے اسلام قبول کیا ہے، لیکن اگر ہم اس موضوع کو ایک قاعدہ کلیہ کے طور پر دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہود اپنی کٹر اسلام دشمنی میں زیادہ مشہور رہے ہیں۔ میرے خیال میں بہت کم لوگوں کو احساس ہوگا کہ اس قسم کی آسمانی صراحت کتنے دور رس اندیشوں کو ہوا دے سکتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس آیت کے ذریعے یہودیوں کے ہاتھ اسلام کے ابطال اور قرآن حکیم کو غیر منزل من اللہ ثابت کرنے کا ایک سنہرا موقع میسر آ گیا ہے۔ ان کو صرف اتنا کرنا ہوگا کہ وہ عالمی سطح پر اتفاق کر کے چند برسوں کے لیے مسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کر لیں کیوں کہ اس کے بعد وہ ببانگ دہل اعلان کرسکتے ہیں کہ اب تمہارا مقدس قرآن حکیم تمہارے بہترین کرم فرماؤں کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ وہ یہود ہیں کہ عیسائی؟ دیکھو تمھارا قرآن ہمارے بارے میں کیا کہتا ہے جب کہ ہمارا عمل تمھارے ساتھ اس کے برعکس ہے، کیا اب بھی یہ قرآن تمھارے نزدیک کلام الٰہی ہے جی ہاں ! قوم یہود کو قرآن حکیم کو غلط ثابت کرنے کے لیے صرف اتنا کرنے کی ضرورت ہے، لیکن مسئلے کا حیران کن پہلو یہ ہے کہ وہ گزشتہ چودہ سو سال میں ایسا نہیں کرسکے ہیں اور یہ حیرت انگیز عرض (Offer) آج بھی لامتناہی مدت صلاحیت (Validity) کے ساتھ موجود ہے۔

اوپر جتنی بھی مثالیں مذکور ہوئی ہیں، وہ دلائل کی معروضی (Subjective) قسم سے تعلق رکھتی ہیں، آئیے اب ہم موضوعی (Objective) انداز میں بھی قرآن حکیم کی حقیقت کا جائزہ لیں۔یہ جاننا حیرت سے خالی نہ ہوگا کہ قرآن کریم کی صداقت کو ریاضی (Mathematics) کے کسی فارمولے (Rule of Probability) سے بھی ثابت کیا جا سکتا ہے۔ میں پہلے اس کی وضاحت کے لیے ایک مثال دیتا ہوں : اگر ایک شخص کے پاس کسی سوال کے جواب میں دو آپشن ہیں اور وہ اپنے اندازے سے کسی ایک کو اختیار کرتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ ہر دو بار میں ایک مرتبہ درست ہو، کیوں کہ اس کے پاس دو احتمالات میں ایک قطعی طور پر درست ہوگا۔ جیسے جیسے مسائل کی کثرت ہوتی جائے گی اندازے کی اصابت کا احتمال کم سے کم ہوتا جائے گا۔ اب ہم ا س مثال کو قرآن کریم پر آزماتے ہیں — سب سے پہلے ہمیں ان تمام موضوعات کی تعداد شمار کرنا ہوگی جن پر تبصرہ کرتے ہوئے قرآن حکیم نے اپنی کسی رائے کا اظہار کیا ہے۔واضح رہے کہ ان موضوعات پر قرآن کریم میں مذکور بیانات کی صحت کا احتمال، ریاضی کے سابق الذکر اصول کی روشنی میں بے حد کم ہے۔ بل کہ قرآن حکیم میں مذکور موضوعات کی تعداد اس قدر زیادہ اور متنوع ہے کہ عملی طور پر اس قاعدے کی روشنی میں ان کی صحت کا احتمال صفر سے کم بچتا ہے۔ اب اگر قرآن حکیم کے سامنے لاکھوں احتمالات غلطی کے ہیں اور وہ مسلسل درست اندازہ دیے جا رہا ہے تو اس کا سیدھا نتیجہ یہی ممکن ہے کہ اس کتاب کے مؤلف نے اس کی تیاری میں ظن و تخمین کے بجائے قطعی حقائق سے استفادہ کیا ہے۔ میں تین مثالیں دوں گا، ان شاء اللہ ان کی روشنی میں ثابت ہو جائے گا کہ قرآن حکیم اپنے درست بیانات کے ذریعے کس طرح ممکنہ غلط احتمالات کی تردید کرتا آیا ہے۔ قرآن کریم میں تذکرہ ملتا ہے کہ شہد کی مکھی اپنے چھتے کو چھوڑ کر غذا کی تلاش میں باہر نکلتی ہے :

وَأَوْحَیٰ رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ أَنِ اتَََّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتاً وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَ۔ ثُمَّ کُلِیْ مِنْ کّلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُکِیْ سُبُلَ رَبِّکَ ذُلَلّایَّخْرُجُ مِنْ بُطُوْنِہَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اۂ لْوَانُہُ فِیَہِ شِفَاء لِّلنَّاسِ اِنِّی فِیْ ذٰلِکَ َلآیٰۃً لِّقَوْمِ یَّتَفَکَّرُوْنَ۔ (النحل: ۶۸،۶۹)

’’اور دیکھو تمھارے رب نے شہد کی مکھی پر یہ بات وحی کر دی کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں اپنے چھتے بنا اور ہر طرح کے پھلوں کا رس چوس اور اپنے رب کی ہموار کی ہوئی راہوں پر چلتی رہ۔ اس مکھی کے اندر سے رنگ برنگ کا ایک شربت نکلتا ہے جس میں شفا ہے لوگوں کے لیے۔ یقیناً اس میں بھی ایک نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں ‘‘۔

اب کوئی شخص اندازے سے کہہ سکتا ہے : ’’یہ جو مکھی تم لوگ اپنے آس پاس اڑتی دیکھتے ہو، ممکن ہے کہ وہ مذکر (Male) ہو اور ممکن ہے کہ وہ مونث (Female) ہو، میں اپنے اندازے سے کہتا ہوں کہ وہ مونث ہے‘‘۔ یقیناًاس صورت میں اس کے دو میں سے ایک احتمال قطعی درست ہوگا۔ یہ کہنے کا امکان رہتا ہے کہ اس جگہ قرآن حکیم غیر علمی بنیاد پر اندازے سے درست بات ذکر کر بیٹھا ہے۔ لیکن صورت واقعہ یہ ہے کہ نزول قرآن کریم کے وقت لوگوں کا اعتقاد اس کے برعکس تھا۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ شہد کی مکھی کے مذکر و مونث ہونے میں کیا فرق ہوتا ہے؟ بے حد باریک فروق تو کوئی اس میدان کا متخصص (Specialist) ہی بتا پائے گا، یہاں صرف اتنا جان لیجے کہ حالیہ تحقیقات نے یہ انکشاف کیا ہے کہ مذکر مکھی کبھی غذا کی تلاش میں چھتے سے باہر نہیں آتی۔ ہینری چہارم (Henry the Fourth) لکھے گئے شیکسپیئر کے ڈرامے میں بعض کردار، شہد کی مکھی پر اپنی قیمتی آراء کا اظہار کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں : دراصل یہ شہد کی مکھیاں افواج ہیں اور ان کا ایک بادشاہ ہوتا ہے‘‘۔ شیکسپیئر کے عہد میں لوگوں کا یہ اندازہ تھا۔ یہ مکھیاں جو انسان اپنے آس پاس مشاہدہ کرتا ہے وہ مذکر مکھیوں کا لشکر ہے، جو اپنے بادشاہ کو جواب دہ ہوتا ہے۔ مگر جدید سائنس کی رو سے یہ نظریہ درست نہیں — حقیقت یہ ہے کہ یہ سب مکھیاں مونث ہوتی ہیں اور ان کی زمامِ کار کسی ملکہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ بڑی بحث و تحقیق اور طول طویل ریسرچ کے بعد اس حقیقت کا ادراک عصر حاضر میں ہوا۔ لیکن قرآن کریم نے جس وقت اس حقیقت کا برملا اظہار کیا تھا اس وقت تخمیناتی قاعدے کی رو سے اس کی صحت کا احتمال نصف فیصد تھا، لیکن جدید علم نے قرآن حکیم کے بیان کو صد فی صد درست قرار دیا ہے۔

شہد کی مکھی کے علاوہ قرآن کریم نے سورج اور خلا میں اس کی حرکاتی کیفیت کے متعلق بھی تبصرہ کیا ہے۔ یہاں پھر ہمارے سامنے دو آپشن آ جاتے ہیں، اول: سورج ہوا میں پھینکے گئے پتھر کے مانند حرکت کرتا ہے، دوم: سورج کی حرکت اس کی اپنی ہوتی ہے۔ قرآن دوسرے احتمال کا ذکر کرتا ہے، قرآن حکیم کی رو سے سورج اپنی ذاتی حرکت کی رو سے چلتا ہے۔ قرآن کریم نے خلا میں سورج کی حرکت کو ’سبح‘ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے:

لَا الشَّمْسُ یَنبَغِیْ لَہَآ أَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلاَ اللَّیْلُ سَابِقُ النَّہَارِ وَ کُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبِحُوْنَ۔ (یٰسین:۴۰)

’’نہ سورج کے بس میں یہ ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے۔ سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں ‘‘۔

عربی زبان میں سبح کے معنی تیرنے کے ہیں۔ لیکن اس میں باعتبارِ تضمن یہ شامل ہے کہ تیرنے والا اپنی کوشش و قوت استعمال کر کے تیر رہا ہو۔ کیوں کہ بے جان تنکے کی طرح پانی میں تیرتے رہنے کے لیے عربی زبان میں طفایطفواطفواً، کا فعل آتا ہے،جو کہ یہاں نہیں استعمال کیا گیا۔ قرآن کریم نے سورج کی خلائی حرکت کے لیے ’’سبح‘‘ کا لفظ استعمال کر کے آشکارا کیا ہے کہ فضا میں سورج کی حرکت بے ضبط و قید نہیں ہے۔ وہ کسی پھینکی ہوئی چیز سے مشابہ نہیں، بل کہ وہ اپنی حرکت اور اپنے سفر میں خود بھی گھوم رہا ہے۔ یہ تو قرآنی بیان ہے۔ لیکن ذرا سوچیے کیا اس چیز کا جان لینا آسان بات ہے؟ کیا کوئی عام آدمی بتا سکتا ہے کہ سورج اپنی حرکت کے دوران میں خود بھی گردش کرتا ہے؟ صرف عصرِ حاضر میں اس بات کا امکان پیدا ہوسکا ہے کہ ہم بینائی کھو دینے کا خطرہ مول لیے بغیر سورج کا بہ غور مطالعہ کرسکیں اور اس کی تصویریں اتار سکیں۔ ان تصاویر کے ذریعے پہلی بار ہمارے علم میں یہ بات آسکی ہے کہ سورج کی ظاہری پرت پر تین دھبے (Spots) ہیں جو روزانہ پچیس بار گھومتے ہیں۔ دھبوں کی اس حرکت نے تاریخ میں پہلی بار قطعی طور سے ثابت کر دیا کہ سورج محور پر گھومتا رہتا ہے۔ اس طرح قرآن حکیم کے ایک اور کائناتی بیان کی تصدیق، جو اب سے چودہ صدیوں قبل دیا گیا تھا، ناقابل تردید بنیادوں پر ہو گئی۔

اگر ہم آج سے چودہ سو سال پہلے کی دنیا میں لوٹ جائیں تو ہم پائیں گے کہ اس وقت کے ترقی یافتہ متمدن معاشروں کو بھی مناطق زمنیہ یا بالفاظ دیگر ٹائم زون (Time Zone) کے متعلق کچھ خبر نہ تھی۔ لیکن قرآن کریم اس ضمن میں جو اظہار خیال کرتا ہے وہ انتہائی حد تک حیرت انگیز ہے۔ یہ تصور کہ ایک خاندان کے بعض افراد کسی ملک میں صبح کا ناشتہ تناول فرما رہے ہوں، دریں اثناء اسی خاندان کے بعض دوسرے افراد کسی دوسرے ملک میں ڈنر ٹیبل پر تشریف رکھتے ہوں، اپنے آپ میں بڑا تعجب خیز ہے اور آج بھی اس کو عجوبہ سمجھنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ چودہ سو سال پہلے کا انسان اپنے کمزور وسائل سفر کے باعث اس قابل نہیں ہوسکا تھا کہ عام حالات میں وہ ایک دن میں تیس میل سے زیادہ مسافت طے کرسکے۔ مثال کے طور پر صرف ہندستان سے مراکش کا سفر کئی مہینوں میں ہوتا تھا اور گمان غالب یہی ہے کہ مراکش میں موجود ہندستانی مسافر دوپہر کا کھانا تناول کرتے ہوئے یہی خیال کرتے ہوں گے کہ ہندستان میں ان کے اہل خانہ بھی اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہے ہیں۔

قرآن حکیم چوں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے،جس کا علم مطلق ہے اور جس سے کائنات کی کوئی حقیقت پوشیدہ نہیں، اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم جب قیامت کی بات کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ قیامت کا معاملہ پلک جھپکتے واقع ہوگا :

وَمَآاۂ مْرُالسَّاعَۃِ اِلَّا کَلَمْحِ الْبَصَرِأَوْھُوَ أَقْرَبُ۔ (النحل: ۷۷)

’’اور قیامت کے برپا ہونے کا معاملہ کچھ دیر نہ لے گا مگر بس اتنی کہ جس میں آدمی کی پلک جھپک جائے، بل کہ اس سے بھی کچھ کم‘‘۔

تو وہ کہتا ہے کہ یہ قیامت بعض لوگوں کو دن میں آلے گی اور بعضوں کو رات میں آ دبوچے گی:

أَفَاۂ مِنَ أَھْلُ الْقُرَیٰ أَنْ یَأتِیْہُمْ بَأْسُنَا بَیَاتاً وَّہُمْ نَآئِمُوْنَ۔ أَوْأَمِنَ أَھْلُ الْقُرَیٰ أَنْ یّأْتِیَہُمْ بِأْسُنَا ضُحیً وَّہُمْ یَلْعَبُوْنَ۔أَفَأَمِنُوْا مَکْرَاللّٰہِ فَلاَ یَأْمَنُ مَکْرُاللّٰہِ اِلّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُوْنَ۔ (الاعراف: ۹۷۔۹۹)

’’کیا بستیوں کے لوگ اس سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ہماری گرفت کبھی اچانک ان پر رات کے وقت نہ آ جائے جب وہ سوتے پڑے ہوں ؟یا انھیں اطمینان ہو گیا ہے کہ ہمارا مضبوط ہاتھ کبھی یکایک ان پر دن کے وقت نہ پڑے گا جب کہ وہ کھیل رہے ہوں ؟ کیا یہ لوگ اللہ کی چال سے بے خوف ہیں ؟ اللہ کی چال سے وہی قوم بے خوف ہوتی ہے جو تباہ ہونے والی ہو‘‘۔

ان آیات سے پتا چلتا ہے کہ وقت کے مختلف مناطق کا علم کائنات کے خالق کے کلام میں موجود ہے، جب کہ یہ معلومات چودہ صدیوں پہلے کسی کے حیطۂ خیال میں نہیں تھیں۔ ٹائم زون کی آفاقی سچائی، قدیم انسان کی نظروں سے اوجھل اوراس کے تجربات کے دائرے سے خارج تھی اور تنہا یہ حقیقت قرآن کو منزل من اللہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔

گزشتہ مثالوں کی روشنی میں اگر آپ متبادل احتمالات کا فارمولا استعمال کریں گے تو معلوم ہوگا کہ ہر مثال کے ذریعے قرآن کی صداقت کچھ اور واضح ہو گئی ہے۔ اور بھی ایسی سیکڑوں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ ان کے ساتھ صحیح احتمالات کی فہرست بھی طویل ہوتی جائے گی۔ ہم ان تمام قرآنی موضوعات سے سردست نہ تعرض کرتے ہوئے صرف یہ عرض کریں گے کہ یہ احتمال کہ محمد ﷺ جو ایک ناخواندہ انسان تھے، انھوں نے بے شمار موضوعات پر بالکل درست اندازے لگائے اور اپنے کسی بھی اندازے میں ان سے غلطی کا ارتکاب نہ ہوا، بذات خود اس احتمال کی صحت کاتناسب اس درجے کم ہے کہ عقل سلیم کا حامل کوئی اسلام کا بدترین دشمن بھی اس کو نہ مانے گا۔ لیکن قرآن حکیم اس احتمال کے چیلنج کو بھی بڑے معقول انداز میں ختم کر دیتا ہے۔

یہاں میں ایک مثال پر اپنی بات ختم کروں گا، اگر کوئی اجنبی شخص آپ کے علم کی حد تک پہلی بار آپ کے ملک میں داخل ہوتا ہے اور آپ سے کہتا ہے: میں تمہارے والد کو جانتا ہوں، میں پہلے ان سے مل چکا ہوں تو یقیناً آپ اس نووارد کے بیان پر شک کریں گے اور آپ کا سوال ہوگا: تم یہاں ابھی پہلی بار آئے ہو، تمھیں میرے والد سے تعارف کیسے ہو گیا؟ آپ اس سے متعلق چند باتیں بھی دریافت کریں گے مثلاً میرے والد کا قد کیسا ہے؟یا وہ کس رنگ کے ہیں ؟ اگر اس نووارد نے ان تمام سوالات کے صحیح جوابات دے دیے تو آپ مطمئن ہو جائیں گے آپ کہیں گے: مجھے یقین ہے کہ تم میرے والد کو جانتے ہو وغیرہ البتہ مجھے نہیں معلوم کہ تم نے انہیں کیسے جانا؟ قرآن حکیم کا اپنے مخاطبوں کے ساتھ بھی کچھ یہی معاملہ ہے، وہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خالقِ ارض وسماء کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ سارے انسانوں کا حق ہے کہ وہ اپنے طور پر سوالات اور مباحثوں کے ذریعے اس کی صداقت کے با رے میں اپنا اطمینان کر لیں، اگر یہ خالق کونین کا کلام ہے تب یہ فلاں فلاں چیز کے بارے میں سب کچھ جانتا ہوگا… وغیرہ۔ اس ضمن میں یقینی بات یہ ہے کہ جو بھی خود سے قرآن میں بحث و تحقیق کرے گا وہ خود ہی حقیقت کا ادراک کر لے گا۔ ہم سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن حکیم ایک ایسا خزانہ ہے جو رہتی دنیا تک کو اپنے بیش بہا لعل و جواہر سے نوازتا رہے گا اور جو انسان جتنا اس کی گہرائی میں غواصی کرے گا اتنے ہی قیمتی موتی اس کی جھولی میں آتے جائیں گے۔ چنانچہ ہر صاحب عقل انسان پر لازم ہے کہ زندگی کے ہر مرحلے میں وہ اس کتابِ ہدایت سے مستنیر ہوتا رہے

ضمیمہ ٹورنٹو یونیورسٹی کے ایک فاضل انجینئر (Engineer) کو علم نفسیات میں گہری دلچسپی تھی اور اس سلسلے میں انھوں نے کافی کچھ مطالعہ بھی کیا تھا۔ انجینئر موصوف نے مصاحبین کی ایک جماعت کے ساتھ مل کر ’اجتماعی مباحثوں کی قوتِ تاثیر (Efficiency of Group Discussions) کے موضوع پر ریسرچ کیا ہے۔ اس ریسرچ کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ مجموعے کی وہ کیا تعداد ہوتی ہے جو بحث و مناقش میں زیادہ سودمند ثابت ہوسکتی ہے۔ اس ریسرچ کے جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ کافی چونکا دینے والے ہیں۔ اس ریسرچ کی روسے کسی بھی قسم کے مباحثے یا مناقشے کے لیے موزوں ترین تعداد دو افراد کی ہوتی ہے۔ کسی کو بھی اس ریسرچ سے ایسے نتیجے کی توقع نہیں تھی، لیکن اسی نصیحت کو قرآن کریم نے بہت پہلے دنیا کے سامنے پیش کر دیا تھا:

قُلْ اِنَّمَا أَعْظُکُمْ بِوَاحِدَۃِِ أَنْ تَقُوُمُوْا لِلّٰہِ مَثْنَی وَفُرَادَی ثُمَّ تَتَفَکَّرُوْا مَا بِصَاحِبِکُمْ مِنْ جِنَّۃِِ اِنْ ھُوَ اِلّاَ نَذِیْرٌ لَّکُمْ بَیْنَ یَدَی عَذَابِِ شَدِیْدِِِ۔ (سبأ: ۴۶)

’’اے نبیﷺ ! ان سے کہو کہ میں تم کو بس ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں۔ خدا کے لیے تم اکیلے اکیلے اور دو دو مل کر اپنا دماغ لڑاؤ اور سوچو، تمہارے صاحب میں آخر ایسی کون سی بات ہے جو جنون کی ہے؟ وہ تو ایک سخت عذاب کی آمد سے پہلے تم کو متنبہ کرنے والا ہے‘‘۔

اس کے علاوہ قرآن حکیم کی سورۃ الفجر میں ایک شہر کا نام ’ارم‘ (Iram) آیا ہے:

أَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادِِ۔ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۔ الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلَہَا فِی الْبِلَادِ۔ (الفجر: ۶۔۸)

’’تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے کیا برتاؤ کیا اونچے ستونوں والے عادِ ارم کے ساتھ، جن کے مانند کوئی قوم دنیا کے ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی تھی‘‘۔

قدیم تاریخ میں یہ شہر غیر معروف تھا، بل کہ مؤرخین کے حلقوں میں بھی اس کا کوئی تذکرہ نہیں پایا جاتا تھا۔ نیشنل جیوگرافک (National Geographic) میگزین نے ۱۹۷۸ء کے ماہ دسمبر کے اپنے شمارے میں اس شہر کے متعلق کچھ حیرت ناک انکشافات کیے ہیں۔ اس میگزین کے مطابق ۱۹۷۳؁ء میں ملک سوریا (شام) میں آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے ذریعے ’البا‘ (Elba) نامی شہر کا انکشاف ہوا ہے۔ معلوم پڑتا ہے کہ اس شہر کی عمر تقریباً چار ہزار تین سو سال ہے، لیکن اس سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کھدائی کرنے والوں نے اس شہر میں ایک مقام سے جو غالباً سرکاری استعمال میں تھا، ایک قدیم زبان میں لکھا رجسٹر بھی برآمد کیا ہے۔ اس رجسٹر میں ان تمام شہروں کے نام درج ہیں جن کے ساتھ اہلِ ’البا‘ کے تجارتی تعلقات قائم تھے۔ اب آپ کو یقین آئے یا نہ آئے اس رجسٹر میں ’ارم‘ نامی ایک شہر کا نام بھی درج ہے۔البا شہر کے باشندے کے ’’ارم ‘‘ نامی شہر کے ساتھ تجارتی روابط رکھتے تھے۔

آخر میں محترم قارئین سے التماس ہے کہ براہ کرم اس آیت کریمہ پر ضرور غور فرمائیں :

وَقَالُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَیْہِ آیَاتٌ مِّنْ رَّبِّہ قُلْ اِنَّمَا اْلآیَاتُ عِنْدَاللّٰہِ وَاِنَّمَا أَنَا نَذِیْرٌمُّبِیْنٌ۔ أَوْلَمْ یَکْفِیْہِمْ أَنَا أَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ یُتْلٰی عَلَیْہِمْ اِنِّیْ فِیْ ذٰلِکَ لَرَحْمَۃً وَّذِکْرٰی لِقَوْمِِ یُّؤمِنُوْنَ۔ (العنکبوت: ۵۱)

’’یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیوں نہ اتاری گئیں اس شخص پر نشانیاں اس کے رب کی طرف سے، کہو نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں، اور میں صرف خبردار کرنے والا ہوں کھول کھول کر۔ اور کیا ان لوگوں کے لیے یہ (نشانی) کافی نہیں ہے کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہے؟درحقیقت اس میں رحمت ہے اور نصیحت ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں ‘‘۔

تحریر: پروفیسر گیری ملر
اساک یونی ورسٹی، ترکی

Views All Time
Views All Time
185
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: