رقم بڑھاؤ میاں صاحب ہم تمھارے ساتھ ہیں

Print Friendly, PDF & Email

Munna Hananمشہور واقعہ ہے میاں نواز شریف جلاوطنی کے دور میں جدہ سے برطانیہ تشریف لائے تو بڑی تعداد میں پاکستانی کمیونٹی لیگی کارکن استقبال کرنے تشریف لائے کارکنوں کا جوش و ولولہ دیدنی تھا میاں صاحب بھی ایک طویل عرصے کے بعد باہر نکلے تھے کارکنان نعروں کی گونج پھولوں کی برسات کرتے ہو ئے میاں صاحب کو خوش آمد ید کہ رہے تھے اسی اثناء میں کسی بھلے مانس کے منہ سے نکل گیا ،، میاں صاحب قدم بڑھاؤ ہم تمھارے ساتھ ہیں ،، میاں نوازشریف نے پیچھے مڑ کر دیکھا کئی سالوں کا غم باپ کی جدائی جنازے کو کندھا نہ تک نہ دینے کا الم ۔اقتدار طاقت کے چھن جانے کا ملال وطن سے دوری گو یا میاں نوازشریف اتنے عرصے بعد اپنائیت پیار کارکنوں کے عزم کو دیکھ کر جذبات پر کنٹرول نہ رکھ سکے اور آنکھیں چھم چھم برسنے لگیں میاں صاحب نے اس ورکر کی طرف آنکھ بھر کہ دیکھا اور پنجابی میں کہا، اسیں تے قدم ودھائے سی جدوں پیچھے مُڑ کے دیکھیا تے کوئی نئیں سی ،،مگر اب بات کچھ اور ہے میاں صاحب کو اس بار بھاگنے والی لیگی ورکر نہیں ملے بلکہ سالار قافلہ اقتدار مولانا صاحب کا روحانی و وجدانی فیض حاصل ہے مولانا صاحب وہ نابغہ روزگار شخصیت ہیں جو ہر حکومت وقت کو بحران میں پھنسا دیکھ کر اپنا اُلو سید ھا کرلیتے ہیں کچھ ایسا ہی اس بار ہو اموجودہ پانامہ لیکس کے بحران میں پھنسا دیکھ کر مولانا نے اپنے چھوٹے بھائی اٹھارہ گریڈ کے آفیسر ضیاالرحمان کو اٹھارویں گریڈ سے اٹھا کر بیسویں گریڈ میں کمشنر برائے افغان مہاجرین لگوا دیا موصوف پہلے ڈی سی او خوشاب تھے ۔ اسی طرح بنوں اورڈیرہ اسماعیل خان کیلئے تگڑے منصوبے حاصل کر لئے بات دراصل یہاں ختم نہیں ہوتی گزشتہ دنوں ایک غریب اسلامی جمہوری ملک اور ایک ایسی ریاست جس کے 70 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں دو وقت کا کھانا بھی میسر ہیں بیمار ہو جائیں تو ہسپتالوں میں دوائیں اور ڈاکٹر میسر نہیں ۔وسائل نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کو پڑھانہیں سکتے الغرض مسائل ہیں کہ انبار کہ انبار ۔ مگر میں صدقے وار ی جاؤں اسلامی جمہوریہ پاکستان جیسے غریب اور آئی ایم ایف زکوٰۃ قرضوں فطروں خیراتوں پہ چلنے والی اسلامی جمہوری ریاست کے عوامی نمائندوں پر جو عوام کے مسائل تو شاید کبھی نہ حل کر سکیں مگر اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے مسائل احسن بخوبی حل کر رہے ہیں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہر عوامی مسئلے اور ہر بل پر آپس میں دست وگریبان رہنے والے معزز عوامی نمائندے بشمول اپوزیشن و حکومتی ارکان اپنی تنخواہیں بڑھانے پر ایک ہو گئے اور تو اور سپیکر ، ڈپٹی سپیکر ،چیئرمین سینٹ ، ڈپٹی چیئرمین سینٹ سمیت قومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبران کی تنخواہوں میں 3 گُنا اور دیگر مراعات میں 10 گُنا اضافے کے حوالے سے رپورٹ مقدس ایوان میں بیٹھے معزز ارکان بِلا تردد متفقہ طورپر منظور کرلی ۔ قومی اسمبلی میں قائمہ کمیٹی برائے قواعد و استحقاق کے قائمقام چیئرمین محمود بشیر ورک نے رپورٹ ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہا ارکان کی تنخواہیں اور مراعا ت سیکرٹریز بیوروکریٹس سے کم ہیں ہم نے دنیا کے مختلف ممالک کے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات کا جائزہ لیکر رپورٹ تیا ر کی ہے تاکہ ایک ممبر آف پارلیمنٹ باعزت طریقے سے اپنے فرائض کی انجام دہی کر سکے ۔ ایوان نے ممبران کی مظلومیت اور بے چارگی کو دیکھتے ہوئے بل متفقہ طورپر منظو رکر لیا ۔ بل میں سپیکر قومی اسمبلی اور چیئر مین سینٹ کی موجودہ بنیادی تنخواہ 97 ہزار ایک سو چوبیس روپے سے بڑھا کر 4 لاکھ جبکہ ڈپٹی چیئرمین و ڈپٹی سپیکر کی بنیادی تنخواہ 89 ہزار آٹھ سو اکتالیس سے بڑھا کر 3 لاکھ 50 ہزار کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ مسودہ میں موجود 6 ہزار روپے مختلف الاؤنس بڑھا کر 50 ہزارروپے کر نے کی بھی تجویز دی گئی ۔ اراکین پارلیمنٹ اوراور انکی فیملی کے ائیرواؤچر کی مد میں سالانہ تین لاکھ روپے ، دفتر کی تزئین وآرائش کیلئے ماہانہ ایک لاکھ ، حلقہ الاؤنس 70ہزار اور یو ٹیلٹی الاؤنس کی مد میں 50 ہزارروپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ اراکین پارلیمنٹ کیلئے ان کی مدت میں ایک بار تین لاکھ روپے کا آئی ٹی سے متعلقہ سامان نصب کرنے کا بھی کہا گیا ہے اس ایکٹ کے نافذالعمل ہونے کے ساتھ ہی ایک رکن پارلیمنٹ سپیکر اور چیئر مین سینٹ کی طرح ہسپتال ائیر پورٹس ودیگر مقامات پر وی آئی پی پروٹوکول حاصل کر سکے گا ۔ کوئی بھی سابق رکن جو ایک بار بھی ممبر آف پارلیمنٹ رہ چکا ہو وہ ان مراعات کا اہل ہو گا ۔ خیر روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگانے والے بھٹو کے جیالے رضاربانی نے یہ بل مستر د کر دیا جو ایک خوش آئند بات ہے مگر میرا سوال پاکستان کی اٹھارہ کروڑ عوام سے ہے میرا سوال اس پارلیمنٹ سے ہے جس کے صدر دروازے پر کلمہ توحید لکھا ہوا ہے میرا سوال اس غریب مزدور کسان مڈل کلاس اور عام آدمی سے ہے جو آگے بڑھ بڑھ کر ان غنڈو ں کے نعرے مارتے ہیں کیا قومی اسمبلی میں کوئی ایک بھی رکن ایسا نہیں تھا جو کھڑا ہو کر یہ کہتا۔ سپیکر صاحب کسان اپنے آلو روڈپر رکھ کر آگ لگا رہا ہے کسان کو باردانہ نہیں مل رہا ۔ ٹیچرز سڑکوں پر ہیں ۔ یہ کیسا ملک ہے یہ کیسی ریاست ہے جہاں مہینہ میں ایک ہفتہ کلرکس ایسویسی ایشن مطالبات کیلئے احتجاج کر رہی ہوتی ہے اور دوسر ے ہفتے اساتذہ سڑکوں پر نکل آتے ہیں تیسرے ہفتے کسان ذلیل ہو رہے ہوتے ہیں اور کبھی ینگ ڈاکٹرز تو کبھی پیرامیڈیکل سٹاف الغرض لوگ خودکشیاں کر رہے ہوں اور یہ عوامی نمائندے خاد م ہونے کے دعوایداروں کی عیاشیاں ختم ہونے کانام نہیں لیتیں ۔ کتنے دکھ کی بات ہیں ہم غریب مسکین قابل ترس طفیلی ریاست ہیں اور حکمران ہمارے ، الاما ن الحفیظ ، ہمارے وزیراعظم میاں نواز شریف صاحب غیراعلانیہ عوامی رابطہ مہم کا آغاز کیئے ہوئے ہیں سکھر میں صرف دو گھنٹے کیلئے تشریف لے کے گئے ایسے شاہانہ انتظامات کہ سکھر کا 41 درجہ حرارت ڈگری سینٹی گریڈ کا علاقہ میاں صاحب کی آمد پر ایک ٹھنڈا ٹھارخیمہ تیار کروانے کیلئے کراچی سے ماہر کاریگروں کو بلایا گیا تین سو مزدور تین دن اور تین رات مسلسل کام کرتے رہے ۔ د س ہیوی اے سی پلانٹس دس جنریٹر پہنچائے گئے گرمی سے بچنے کیلئے تقریباََ پچاس لاکھ روپے خرچ ہوئے دوہزار افراد کیلئے شاندار پنڈال کی لاگت تقریباََ 75 لاکھ روپے آئی ۔ دو سو کے وی اے کا ٹرانسفارمر بھی میدان میں نصب کیا گیا بجلی کی سپلائی کیلئے چار پول بھی نصب کئے گئے بجلی کی مد میں تقریباََ پندرہ لاکھ روپے اخراجات آئے ظہرانے پر خرچہ تقریباََ پچیس لاکھ روپے آیا ۔ بڑی بڑی سکرینیں سٹیج پر ٹھنڈی ہوا کیلئے بیس سے زائد پاور سلپٹ برقی قمموں اور دیگر اخراجات کی مد میں تقریباََ بیس لاکھ روپے خرچ کئے گئے وزیراعظم سکھر سے بذریعہ سڑک روہڑی روانہ ہوئے تو 45 سے زائد گاڑیوں کا لشکر ساتھ تھا مختلف اضلاع سے 5 ہزار سے زائد پولیس اہلکار فرد واحد حاکم وقت شہنشاہ وقت کے تحفظ کیلئے پیش پیش رہے ۔ تو یہ کو نسی جمہوریت ہے میاں صاحب یہ وہی طائر لا ہوتی ہے جس کا تذکرہ آپ جلسوں میں فرمایاکرتے تھے غریب بھوک سے مر رہا ہے افلاس و بیروزگاری ہے ۔ میرا عرفا ن کہتا ہے جب اس ،، ن ،، کے ساتھ لگا ہوا مسلم لیگ قائدا عظم محمد علی جناح کی روح دیکھتی ہوگی اور ان حکمرانوں کی عیاشیوں اللوں تللوں اوربھٹہ پہ کام کرنے والی دوشیزہ کا پھٹا ہوا لباس تھر میں بھوک سے مرتے بچے کوئی وقت تھا لوگ کہتے تھے کبھی کوئی بھوک سے مرتا دیکھا بھوک سے کوئی نہیں مرتا ہر کوئی کھا کہ سو تا مگر کتنے افسو س کی بات آج تھر کے نومولود پیدا ہونے سے پہلے مر جاتے ہیں کیو نکہ ان کے پاس خوراک نہیں پینے کےلئے پانی نہیں ۔ پاکستانی عوام یاد رکھیں یہ اشرافیہ اور جاگیردار طبقہ کبھی عام اور غریب آدمی کے حقوق کا دفاع نہیں کر ےگا ۔ میرا جمعیت علمائے اسلام سے سوال ہے کہ سیر ت خلفائے راشدین یہی ہے کہ کیا یہی درس تھا ۔ مفتی محمود اور حسین احمد مدنی کا کہ غریب شہر مرتا رہے آپ خزانے بھرتے رہیں ۔ کفایت شعاری سادگی مساوات کا درس دینے والے پاکستان تحریک انصاف کے قائدین نے بھی مجھے مایوس کر دیا کیا اپوزیشن کا کام یہی ہے کہ جب ذاتی مفا دکی بات آئے تو خاموشی سے بند ربانٹ کر لو ۔ کیا ان 357 اراکین کے سینے میں پتھر کا دل ہے کیا یہ لوگ غریب کی سسکیوں کو نہیں سنتے کیا ان لوگوں کو گردے بیچ کر علاج کرواتے لوگ نظر نہیں آتے کیا والدین اولادوں کو ذبح کرتے ہوئے نظر نہیں آتے ۔ کیا اسمبلی میں بیٹھے ان سجادہ نشینوں کی آنکھوں پہ پٹی بندھی ہوئی ہے جو یہ سب خاموشی کے ساتھ پیٹ پہ ہاتھ پھیر کر وصولیاں کر تے جا رہے ہیں افسو س کہ ہمارے اندر انسانیت ختم ہو چکی انسانیت کا درد رخصت ہو گیا وہ کسی نے سچ کہا ہے یہاں سب کچھ بکتا ہے جو چاہوخرید لو دام لگا ؤ پھر کچھ دام بڑھاؤ اور مالک بن جاؤ ۔ یہی کام میاں صاحب نے کیا کہ نہ ہو گا بانس نہ بجے گی بانسری پورے کا پورا ایوان ہی خرید ڈالو

Views All Time
Views All Time
346
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   محمود خان اچکزئی کے متنازع بیانات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: