Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ادھوری عید

by جون 29, 2016 بلاگ
ادھوری عید
Print Friendly, PDF & Email

zahra shah 1آنکھ کھلتے ہی چڑیوں کی چہچہاہٹ نے اسے صبح کاذب کے طلوع ہونے کی نوید سنائی۔ دل کے کسی انجان گوشے میں پنہاں کسی خیال کی یاد نے اس کے خشک، کٹے پٹے ہونٹوں پر ایک اداس سی مسکراہٹ بکھیری۔ وہ ایکدم اٹھی اور جانے کی تیاری میں لگ گئی۔
سارے ضروری لوازمات لے کر وہ ماں اور بھائی کے ساتھ گھر سے روانہ ہوئی۔
پچھلے ایک دو سالوں سے وہ ہر ایک خوشی کا تہوار اسی جگہ جاکر مناتی۔ اور آج تو عید کا موقع تھا۔ البتہ یہ اور بات تھی کہ پچھلے دو سالوں سے نہ تو ہاتھوں میں مہندی لگا پائی تھی اور نہ ہی چوڑیاں اسکے ہاتھوں کی زینت بنی تھیں۔ تنگدستی اور مفلسی کی ماری ماں میں اتنی استطاعت نہیں تھی کہ نئے جوڑے سلوا کے دے سکے۔ انتہائی نا خوشگوار اور تلخ تجربات پر محیط یہ دو سال اسے اور اس کے بھائی کو اتنا تو سکھا گئے تھے کہ وہ انتہائی ضرورت کی چیزوں کے لئے ہی ماں کو پریشان کرتے۔ کیونکہ ان کی ضرورت پوری نہ کرسکنے پر ماں جس کرب سے گزرتی وہ اس کے چہرے پر پڑی دائمی لکیروں میں ایک اور لکیر کا اضافہ کرتی اور وہ اپنی عمر سے مزید دس سال بوڑھی نظر آنے لگتی۔
پوری فضا میں اگربتیوں کی ایک عجیب سی مانوس سی خوشبو رچی بسی تھی۔ اب تو اس خوشبو سے اسے چڑ سی ہونے لگی تھی۔ اسے لگتا کہ اس خوشبو اور اس کی محرومیوں کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ جیسے جیسے وہ اپنی منزل سے قریب ہوتے گئے، خوشبو تیز ہوتی گئی۔
منزل مقصود پر پہنچے تو لوگوں کا ایک جم غفیر نظر آیا جو انہی کی طرح اپنی ادھوری خوشیوں کا ماتم کرنے اپنے پیاروں سے ملنے آئے تھے۔ اپنی مطلوبہ جگہ پر پہنچ کر انہوں نے پلاسٹک کے تھیلے سے اگربتیاں اور موم بتیاں نکالیں انہیں جلا کر باپ کی قبر پر سجایا۔ اس کا باپ دو سال پہلے دہشت گردی کے ایک واقعے میں شہید ہوا تھا۔ پھر سورہ فاتحہ پڑھنے کے بعد باپ کے سرہانے بیٹھ کر آہستہ سے supporting image 1سرگوشی کی،” عید مبارک بابا جانی”۔
اردگرد کی قبروں سے آہ و بکاہ اور سسکیوں کی آوازیں آرہی تھیں جو کبھی تیز اور کبھی مدھم ہو جاتیں۔ یہ جگہ ہزارہ کمیونیٹی پر ہونے والی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں شہید ہونے والوں کی قبروں کے لئے مختص کی گئی ہے۔ ہر طرف ایک دلخراش منظر تھا۔ کہیں کوئی ماں اپنے جوان بیٹے کی موت پر نوحہ کناں تھی تو کہیں بہنیں اپنے اکلوتے بھائی کی یاد میں گریہ و زاری کر رہی تھیں اور کہیں معصوم بچے اپنے باپ کی شفقت کو یاد کر کے امڈتے آنسوؤں کو چھپانے کی ناکام کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ غرضیکہ ان کو دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار تھی۔
یہ کسی افسانے یا ناول سے اقتباس نہیں ہے بلکہ ھزارہ قبرستان کی کئی سالوں پر محیط آہ و بکاہ کی داستان ہے۔ یہاں وہ نگینے بھی دفن ہے جنہوں نے کبھی فنون لطیفہ، سائنس، انجینیئرنگ، میڈیسن، ملکی دفاع، اور کھیل کے میدان میں اپنی چمک دمک سے ملک و قوم کی عزت و آبرو کو چار چاند لگائے تھے۔ یہاں ملک و قوم کے وہ معمار بھی منوں مٹی تلے ابدی نیند سو رہے ہیں جو یونیورسٹی جاتے ہوئے دہشت گردی کا شکار ہو کر ملک و قوم کا مستقبل سنوارنے کے خواب آنکھوں میں سجائے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ یہاں وہ دو سال کی بچی بھی دفن ہے جس کی عید کے دن لہو سے سرخ ہوتی ہوئی سفید فراک میں مسکراتی تصویر دیکھ کر بڑے بڑوں کا کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ یہاں وہ معصوم بچے بھی آرام کی نیند سو رہے ہیں جن کے کھیلنے کھودنے اور شرارتیں کرنے کے دن ابھی شروع ہوئے تھے کہ کسی کی جنت جانے کی خواہش نے ان سے ان کی زندگیاں ہی چھین لیں۔ البتہ ان سب میں ایک چیز مشترک تھی۔ ان میں سے کسی کو بھی یہ ادراک نہیں تھا کہ انہیں کس جرم کی پاداش میں اس بے رحمانہ طریقے سے قتل کیا جا رہا ہے۔
دو جیل نما علاقوں اور چند چیک پوسٹوں کے درمیان محبوس ہزارہ کمیونیٹی کی آزادانہ نقلsupporting image 2 و حمل پر پابندی سے ان کی زندگیاں مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔ نہ تو وہ بلا خوف و خطر اپنی ملازمتوں پر جا سکتے ہیں اور نہ ہی وہ تعلیم کے حصول کے لئے آزادانہ یونیورسٹی آ جا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی تفریحی سرگرمیوں اور مقامات مثلا پارک وغیرہ تک ان کی رسائی ممکن ہے۔
ان تمام محرکات کے نتیجے میں جنم لینے والے ان گنت معاشی، معاشرتی اور نفسیاتی مسائل نے ہزارہ کمیونیٹی کو چاروں طرف سے بری طرح جھکڑ لیا ہے۔ جذبہء حب الوطنی سے سرشار ہزارہ کمیونیٹی نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ملک و قوم کے لئے جو قربانیاں دی ہے ان کا صلہ انہیں ان کے قتل عام کی صورت میں دیا گیا ہے۔ بجائے سزا دینے کے ان کے قاتلوں کو ملکی اثاثے سمجھ کر پالا پوسا گیا ہے۔ ان کے قاتلوں کی گرفتاری کے بجائے انہیں خود دو جیلوں اور تین چار چیک پوسٹوں کے درمیان قیدیوں کی طرح زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

Views All Time
Views All Time
8348
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   داعش کی قید میں یزیدی لڑکی کی کہانی
Previous
Next

One commentcomments6

  1. Very well written by Mam Zahra Shah, but unfortunately, no words can truley express the pain felt by every Hazara in Quetta.

  2. Fida hussain beg

    Kalo khub, wa tamam shi haqiqat. Laken dill e tamam khun girya mona. Chara ki bey basi hami hasta, ki riyasat khod shi ami kar ra mona. Chahey man kanin ya na. E hasta riyasati dehshat gardi.

  3. Behtreen aur zinda tehreer,Allah karY zor e qalum aur aiyada zehra shah sahiba

  4. اللہ ہر کسی کا مشکل کشا بن جاں

  5. It’s very heart touching

  6. Thank you so much for sharing your well put together internet site

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: