Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

یہودی سازشوں کے انتظار میں

by اگست 20, 2016 بلاگ
یہودی سازشوں کے انتظار میں
Print Friendly, PDF & Email

Rukhshan Mirمیں نے ماننے سے انکار کیا اس کے باوجود بار بار بدصورت تحاریر اور فیس بک سٹیٹس میری آنکھوں کے سامنے گردش کرتے رہے۔ انتہا پسندی، کرپشن ، ملاوٹ، بچوں کے ساتھ زیادتی اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی جیسی اخباری سرخیاں تو مجھے اپ سیٹ رکھتی ہی ہیں مگر ایسے مضحکہ خیز تجزیے میرا جینا دشوار کر دیتے ہیں۔ ایسے بیشتر جھٹکے کھانے کے بعد بھی میں شاک پروف نہیں ہو سکا۔ اس طرح کی بےتکی باتیں ہر بار پہلی بار جتنی ہی تکلیف دہ ہوتی ہیں۔
آپکے ساتھ شیئر کرتا ہوں، شائد میرا کتھارسس ہو جائے، کچھ آپ سمجھ لیں، تھوڑا میں سیکھ لوں اور شائد کچھ یہودی سازشوں کے انتظار میں بیٹھے محنتی اور قابل پاکستانی بھی ہوش کے ناخن لیں
یہ بات تو طے ہے کے مذہب سے محبت ایک فطری عمل ہے۔ اس میں تشہیر کرنے والی کوئی بات نہیں۔ جب انسان بے بس اور لاچار ہوتا ہے تو اسکے ذہن میں ایک ہستی ہی آتی ہے۔ انسان مشکل وقت میں اپنے خدا کو ہی یاد کرتا ہے۔ جس نے اس خوبصورت کائنات کو تخلیق کیا۔ آسمان کو بلند کیا اور زمین کو بچھایا۔ زمین سے فصلوں کو اگایا اور لذیذ میوے پیدا کئے۔ پتھر میں رہنے والی چیونٹی سے لے کر سمندر کی گہرائیوں میں تیرتی مچھلی تک اپنی تمام مخلوق کے رزق کا بندوبست کیا۔ انسانی عقل کو سمجھنے کے اوصاف دیے جس کی بنا پر آج انسان ترقی کی اس بلندی پرپہنچ چکا ہے جہاں اس نے سالوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرنا سیکھ لیا ہے۔ دنیا سمٹ کر ایک چھوٹے سے موبائل فون میں آگئی ہے۔ علم کا حصول اتنا آسان ہے کہ صرف ایک کلک کی دوری پرہے۔ اس ترقی میں مسلمانوں کی شرکت تھوڑی کم ہے بلکہ نا ہونے کے برابر ہے۔ جسکی وجہ میرے نزدیک تو یہ ہے کے ہم روز آفزینش سے ہی اپنی غلطیاں ، اپنی کوتاہیاں دوسروں پر مسلط کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ جو انتہائی مسخ شدہ اور شکست خوردہ ذہنیت کی علامت ہے۔ کوئی مسئلہ ہو جائے وہ یہودی سازش ہوتی ہے یا اسکے پیچھے امریکا کا ہاتھ ہوگا۔
برطانیہ اور فرانس کے درمیان طے پائے جانے والے ‘سائیکس پیکو’ جیسے خوفناک معاہدوں کا مطالعہ کرنے کے بعد تو کسی حد تک میں بھی نظریاتی سازشوں پر یقین رکھتا ہوں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں ایک ریاست دوسری ریاست کے خلاف سازش کرتی ہے۔ موجودہ حالات میں چین بھی تو امریکا کے خلاف ایک حساب سے سازش ہی کررہا ہے اور امریکا اسکے خلاف ۔ جب کوئی بھی ملک یا کوئی نظریہ طاقت پکڑتا ہے تو وہ دوسری قوتوں کو دبانے کے لئے سازشیں ہی کرتا ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ نظریے کے پہچان ہی پھیلنا ہے، یہ رکتا نہیں۔ اسے روکنے کے لئے سازشیں ہی کرنا پڑتی ہیں۔ اب ہم اس کا مطلب یہ لے لیں کہ اپنی ہر غلطی، خامی، کوتاہی، کجی دوسروں پر مسلط کر دیں؟ جیسے نکمی اولاد اپنے والدین پر کرتی ہے۔ بہت ہی مضحکہ خیز تجربہ گزشتہ دنوں ہوا جب انٹرنیٹ پر ‘پرزما’ نامی ایک اپلیکیشن بہت مقبول ہوئی ۔ سب ہنسی خوشی اس میں اپنی تصاویر ایڈٹ کر کے فیس بک پر شئیر کر رہے تھے کے اچانک کسی نے شوشہ چھوڑ دیا کے یہ یہودی سازش ہے۔ دنوں نہیں بلکہ گھنٹوں میں اس موقف کی تصدیق کرنے بہت سے دانشور ابھر آئے، ویڈیوز بن گئیں۔ دلائل سے ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی کے یہ یہودی سازش ہے، اور دلائل بھی ایسے کے الامان الحفیظ۔ اس پرزما اپلیکیشن کے ذریعے آپکا ڈیٹا یہودیوں تک پہنچ جائے گا اور اسکے پیچھے illuminati اور فری میسنز جیسی خفیہ تنظیموں کا ہاتھ ہے۔ بہت سے خود ساختہ دانشوروں نے یہ موقف اپنا لیا۔ ایسی تحریریں پڑھنے کے 20 منٹ تک تو میں مایوسی سے انکار میں سر ہلاتا رہا اور پھر کچھ دیر بعد جبراً اپنے آپ کو سمجھا لیا۔ اب قارئین ہی مجھے بتائیں کے یہ کس طرح کا مائنڈ سیٹ ہے؟ میں اس سوچ اور فکر کو کیا نام دوں؟ دنیا ‘ٹرانس ہیومن ازم’ تک پہنچ گئی اور ہماری سوچ ہے کے روز بروزتباہ حال ہوتی جا رہی ہے۔ میری التجا ہے کے خدارا اس تاریک دلدل سے نکل کر اپنے ارد گرد کی دنیا پر بھی نظر ڈالیں کے یہ جا کہاں رہی ہے، اور آپ نے اسے کیسے کمپیٹ کرنا ہے۔ کمپیٹ کرنا بھی ہے یا آئندہ نسلیں بھی قرضوں کے سائے میں پل کر جوان ہوں گی ؟ علم حاصل کرنے کی کوشش کریں کے یہی مومن کی کھوئی ہوئی میراث ہے۔ جب ہم خود اس دنیا میں ترقی یافتہ ممالک کو کمپیٹ کرنے کے قابل ہو جائیں گے تو ہمیں سازشیں بھی کم دکھائی دیں گی۔

Views All Time
Views All Time
599
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   خواہشوں کا برمودہ ٹرائی اینگل
Previous
Next

One commentcomments2

  1. Ali Arslan Danish

    Same observations here.Well written.Well, i too feel mentally harassed while reading such (illogical) logics.I don’t now where many so-called intellectuals are leading many people to.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: