خرم ذکی – خوئے بوذری سے راہِ شہادت

Print Friendly, PDF & Email

ہم کل کی نہیں آج کی بات کرتے ہیں۔ یہ جو ٹریفک سگنل پر رکنے پر بھکاری اپنی سدا میں اللہ کے نام پر پنجتنؑ کے صدقے مانگتے دکھائی دیتے ہیں وہ اسلئے ایسا کرتے ہیں کہ ان بھکاریوں کو بھی یہ بات معلوم ہے کہ یہ وہ گھرانہ ہے جس نے ہمیشہ لوگوں کو دیا ہے کبھی کسی سے کچھ لیا نہیں۔ شاید وہ اسی گمان میں ہم سے ان کے نام پر طلب کرتے ہوں کہ ہم جن کے ٹکڑوں پر پلے ہیں ہمیں ان کے نام کا لحاظ ہوگا تو یقیناََ اس مانگنے والے کو خالی نہیں لوٹائیں گے۔

گرمیوں کے موسم میں ٹھنڈے پانی کی سبیل صرف محرم تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ کئی ایسے مقامات پر مستقل سبیلیں ہیں جہاں پر لوگوں کو پینے کا ٹھنڈا پانی ہر وقت میسر رہتا ہے، یہ اہتمام کرنے والے امام حسینؑ کی ننھی شہزادیؑ کے نام پر ہدیہ کرتے ہیں۔ ایامِ عزا کے دوران راستوں میں مختلف انواع کے کھانے تقسیم کرنا ہر کوئی اپنے رزق میں باعثِ برکت سمجھتا ہے۔ ملنگ کی سدائوں میں علیؑ علیؑ کا ورد ہونا، ماتمی کا حسینؑ حسینؑ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ یہ کریم ذوات ہی محشر میں خدا کے حضور ان کی بخشش کا ذریعہ بن سکتی ہیں ورنہ ہمیں کوئی نہ کوئی ایسا بھی نظر آتا جو کسی اور کا نام لے رہا ہوتا، مگر تاریخ کے پنوں میں ایسے کسی دوسرے در کا ذکر ملا ہی نہیں کہ جہاں کے مکیں خود بھوکے رہہ کر مانگنے والوں کو سیراب کرتے ہوں۔

یہ بات بھی سچ ہے کہ یہ گھرانہ جتنا کریم ہے اتنا ہی مظلوم بھی ہے! آج بھی وہی لوگ شناخت کرکے مارے جاتے ہیں جن کی نسبت اس گھرانے سے ہوتی ہے۔ ان کا شیعہ کہلوانا آج بھی اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے سے خالی نہیں ہوتا۔ ان مارے جانے والوں میں جو رضوی، نقوی اور زیدی وغیرہ ہوتے ہیں انہیں شیعہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس گھرانے کا فرد ہونے کے کا شرف حاصل ہوتا ہے اس لئے ان کی ایک اچھی خاصی تعداد ماری جا چکی ہے۔

اس گھرانے کا ایک چاہنے والا ان کی سیرت پر چلتا رہا, زمانے میں علم کا نور پھیلاتا رہا، مظلوموں کا حامی بن کر اٹھا اور ظالموں کو للکارتا رہا۔ اپنے قول فعل اور عمل سے لوگوں کی دلوں کو مائل کرکے انہیں سیرتِ اہلِبیتؑ سے روشناس کرواتا رہا اور بالآخر وہ بھی مارا گیا۔ خرم زکی کے نام سے جانا جانے والا یہ محبِ اہلِبیتؑ بھی صدیوں سے جاری اس حق و باطل کی جنگ میں سرخرو ہر کر سو گیا مگر خدا نے اس گھرانے کو یہ عظمت عطا کی ہے کہ جو بھی ان کی طرف دل سے مائل ہوتا ہے یہ اسے قطرے سے سمندر بنا دیتے ہیں لہٰذا عین ممکن ہے کہ کہیں سے کوئی اور دلاور نمودار ہو جائے سو میرے عزیز دوستوں غم نہ کریں ہم ابو طالبؑ کے گھرانے سے نسبت رکھتے ہیں کوئی لاوارث نہیں.

یہ بھی پڑھئے:   خرم زکی : غرورِ عشق کا بانکپن ، پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا | عامر حسینی
Views All Time
Views All Time
278
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: