Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

میر مرتضٰی کی یاد میں

by ستمبر 21, 2016 بلاگ
میر مرتضٰی کی یاد میں
Print Friendly, PDF & Email

rp_ali-zamin-300x246.jpgآج جب کہ ہندوستان ہر طرف سے للکار رہا ہے۔ امریکہ، برطانیہ اس قابل نہیں سمجھتے کہ آپ کے وزیرِ اعظم کو ملاقات کا وقت دیں۔افغانستان آپ کی تجارت کیلیے راستے بند کرنے کا اعلان کرتا ہے۔ بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم آپ کے ہاں ہونے والی کسی بھی کانفرنس میں آنے سے انکار کر دیتی ہے ۔جب سفارتی تنہائی میں گھرے ہوئے آپ کے ملک کو دور دور کوئی دوست دکھائی نہیں دیتا تو مجھے بھٹو یاد آتا ہے۔ کون بھٹو؟ وہ بھٹو جسے اس ملک سے عشق تھا۔ جو دن رات اس کے لیے سوچتا اور کام کرتاتھا۔ وہ بھٹو جس نے اسے دنیا کا لوہا بنانا چاہا۔ وہ بھٹو جس نے اسے ایٹمی طاقت بنایا۔ وہ بھٹو جس نے اسے اسلامی و تیسری دنیا کا لیڈر بنایا۔ وہ بھٹو کہ دنیا کے رہنما اس کی شخصیت کے سحر میں گرفتار رہتے تھے۔ اسی بھٹو کے ساتھ اس قوم نے کیا کیا؟ بے گناہ پھانسی پر چڑھا دیا بیگم کو بیوگی میں چار جوان لاشیں دے کر ذہنی مفلوج بنا دیا۔ بیٹی تو سرِ عام باپ کا نام لینے کے جرم میں گولی سے مار دی گئی ایک بیٹا تو زہر دیکر مار دیا گیا۔ دوسرا بیٹا تو گھر کے سامنے دن دیہاڑے گولیوں کی بوچھاڑ کر کے قتل کر دیا گیا وہ بھی اس عالم میں کہ اس کی اپنی مظلوم و بے اختیار بہن کے ہاتھ میں ملک کی باگ ڈور تھی۔ ایک ہی سازش سے بھائی کو مار ڈالا گیا اور قصور وار بہن کو ٹہرا دیا گیا۔ فیض صاحب کہہ گئے ناں۔ وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے۔ اور کل خاندانِ شہیداں کے اسی چشم و چراغ بھٹو کے اسی پگدار بیٹے میر مرتضٰی بھٹو کی برسی تھی۔ میر جسے باپ نے علی المرتضٰی ؑ شیرِ خدا کے نام پر مرتضٰی نام دیا اور وہ بھی اپنے نام کا اثر لیتے ہوئے قابل بھی خوب بنا اور شجاع بھی۔ جس نے نیوکلر انرجی میں ڈاکٹریٹ کی تو دوسری طرف یزیدِ عصر ضیاء الحق کے خلاف کلمہ حق پوری قوت کے ساتھ بلند کیا۔ جس کے نہ جانے کیا کیا خواب تھے اپنے باپ کے مشن کو آگے لے جانے کے لیے لیکن اس زبان کو ہی خاموش کر دیا گیا جس کی حقانیت کے سامنے یزیدت تھرتھراتی تھی۔ آج جب اسی میر مرتضٰی کے گوشہِ گمنامی میں جیتے بیٹے کو دیکھو یا اس کی جوان بیٹی جس کے سر میں وقت کی آزمائشوں نے چاندی اتار دی۔ یا اس کی بیوہ کو دیکھو۔ جو ارمانوں کیساتھ بیاہ کر پاکستان آئی تھی آج بیوگی کا داغ لیے زندگی کے باقی ایّام بسر کر رہی ہے تو دل دکھتا ہے، کڑھتا ہے اور دل سے یہی آواز نکلتی ہے کہ اس مٹی کی محبت میں بھٹو تیرے گھرانے نے وہ وہ قرض اتارے جو واجب بھی نہیں تھے ۔ اس مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے بھٹو خاندان سیاست چھوڑ چکا۔ شاید اب بھٹوؤں میں مزید جوان لاشے اٹھانے کی ہمت نہیں رہی۔ شاید ظلمت کامیاب ہو گئی۔ لیکن اسی اثناء میں ملک ہار گیا۔ اس کے عوام ہار گئے۔ ان کی امید ہار گئی۔ لیکن کیا ضیاء الحق بھٹو کی، میر کی محبت دل سے نکال سکا؟ جواب ہے نہیں یہ وہ محبت ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہی جاتی ہے۔ یہ وہ محبت ہے جو بھٹو اور اس کے مظلوم خاندان کے چاہنے والوں کے جسم میں لہو بن کر دوڑتی ہے۔ بھلا لہو بھی کوئی جسم سے نکال سکتا ہے؟ بھٹو آج بھی یاد آتا ہے۔ بھٹو کا پگدار مرتضٰی آج بھی یاد آتا ہے۔

Views All Time
Views All Time
1134
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   مچھر۔۔۔ انسان کا دوسرا بڑا دشمن
Previous
Next

One commentcomments5

  1. Outstanding writer ….what a beautifully u potrait ur feeling….marvellous…for syed ali zamin

  2. Amazing writer we seems ur true love superb welldone????

  3. Syed Ali Zamin Naqvi

    Thanks a lot Yasoob for usch encouraging comments

  4. Mir Murtaza a true comrade

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: