Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

یادیں عاصمہ کی (تیسری قسط)

by مارچ 21, 2018 کالم
یادیں عاصمہ کی (تیسری قسط)
Print Friendly, PDF & Email

یہ 31 دسمبر 2001 کی بات ہے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار پیپلز رائیٹس کے اجلاس میں عاصمہ جہانگیر کی تجویز پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ واہگہ بارڈر پر امن کا پیغام لے کر جائیں گے۔ تیاری کے بعد اس روز دوپہر کے وقت ہم کچھ بسوں، فلائنگ کوچز میں واہگہ بارڈر پہنچے۔ اچھی خاصی تعداد تھی اس امن مظاہرہ میں حصہ لینے والوں کی۔ عاصمہ کی خوبی یہ تھی کہ ایکشن کے لئے وہ ایسی تجاویز پیش کرتی تھیں جن سے رضامندی کے علاوہ اور کوئی راستہ ہی نہیں بچتا تھا۔ وہ ایسے ایکشن کے حق میں ہوتی تھیں جس کے دور رس اور فوری نتائج برآمد ہونے کی توقع ہو اور جو میڈیا کے ذریعے بڑے پیمانے پر عام لوگوں تک پیغام کو موثر انداز میں لے جائے۔ واہگہ بارڈر پر یہ امن مظاہرہ ایسا ہی ایک پروگرام تھا۔

مجھے یہ ڈر تھا کہ بارڈر کے اس امن مظاہرہ میں پولیس اور رینجرز کوئی ایکشن نہ کر دیں اور عاصمہ کو ٹارگٹ نہ کر لیں، میں اس وقت دھرم پورہ میں رہتا تھا۔ میرے تین پہلوان قسم کے دوست تھے جن کی ہم نے ذمہ داری لگا دی کہ آپ نے عاصمہ کے ارد گرد رہنا ہے کہ کوئی انہیں ٹچ نہ کرے اور اگر پولیس یا رینجرز حملہ آور ہوتی ہے تو عاصمہ کے ارد گرد ڈھال بننا ہے۔ میرے یہ دوست کوئی زیادہ سیاسی نہ تھے مگر عاصمہ جہانگیر سے بہت متاثر تھے۔ بات یہ تھی کہ ہم نے دھرم پورہ میں اسٹدی سرکلز بھی کئے ہوئے تھے ایک دفتر بھی بنایا ہوا تھا۔ 9/11 کا واقعہ ہو چکا تھا، افغانستان پر نیٹو حملے کے بعد اور طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد پشاور پہنچی ہوئی تھی اور وہ مختلف افغان کیمپوں میں مقیم تھے، ان کی بری حالت تھی سردی بڑھتی جا رہی تھی۔

ایک دن طے ہوا کہ افغان مہاجرین کو سردیوں کے ان دنوں میں محلہ سے گرم کپڑے اکٹھے کر کے ان کو پشاور پہنچایا جائے اور افغان مہاجرین کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا جائے۔ ایک کیمپ بھی ہم نے لگا دیا۔ ہم نے اس وقت افغان ورکرز سالیڈریٹی کمپین نامی تنظیم بنائی تھی اس مقصد کے لئے۔ عاصمہ کو اس سرگرمی کی اطلاع ملی تو مجھے فون کیا کہ میرے پاس بھی کافی ایسے کپڑے ہیں جو افغان مہاجرین کے کام آ سکتے ہیں۔ اور ایک دن انہوں نے اپنے ڈرائیور کے ہاتھ کپڑوں سے بھرے تین سوٹ کیس بھجوا دیے۔ جب میرے ان پہلوان اور محلہ لیول کے “بدمعاش” دوستوں نے سوٹ کیس کھولے کیونکہ وہ ہی اس کیمپ کے انچارج تھے تو دیکھا کہ عاصمہ نے تو اپنے نئے سلے سلائے سوٹ بھجوا دئیے تھے۔ میرے یہ دوست عاصمہ سے بہت متاثر ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے:   مگر مچھ کے آنسو

“کیا کمال کی خاتون ہے، اتنے نئے اور مہنگے سوٹ، افغان مہاجر عورتیں تو بہت خوش ہوں گی یہ سوٹ لے کر، ایک دو میں نہ رکھ لوں اپنی بیوی کے لئے” ایک نے کہا۔ اس کی سب نے خوب خبر لی، خبردار کوئی سوٹ ادھر استعمال نہ ہو گا۔ تمام کپڑوں کو استری کرا کے ہم نے پشاور اپنے ساتھیوں کے ذریعے تقسیم کراو دیے واپس واہگہ بارڈر پر؛ یہ تینوں پہلوان اب عاصمہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے ان کے ارد گرد تھے۔

ہم نے واہگہ بارڈر پر پہلا گیٹ جو بند تھا دھکا دے کر کھول دیا اور زیرو پوائنٹ کی طرف امن کے نعرے لگاتے روانہ ہوئے۔ پولیس اور رینجرز کی بھی دوڑیں لگ گئیں۔ ان کو شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ ہم اندر داخل ہو کر نعرے بازی کریں گے۔ اب پولیس اور رینجرز لاٹھی چارج کر رہی تھی، عاصمہ کے ارد گرد میرے یہ دوست مار کھا رہے تھے مگرعاصمہ تک پہنچنے سے ان کو روک رکھا تھا۔ دھکم پیل میں عاصمہ کبھی ادھر کبھی ادھر ہو رہی تھیں ہم بھی مار کھا رہے تھے۔ پھر رحمان صاحب اور دیگر کی فوری مداخلت سے ہم نے زیرو پوائنٹ کی طرف مارچ روک دیا۔ لاٹھی چارج بھی رک گیا۔ لیکن مظاہرین کے جذبات بھڑکے ہوئے تھے۔ میں نے جوزف فرانسس کو کہا کہ میں ایک اسٹول لاتا ہوں تم اس پر کھڑے ہو کر تقریر کرو اور غصہ کم کرو، تھوڑا پانی ڈالو تا کہ ہم مذید مار سے بچ جائیں۔

یہ بھی پڑھئے:   خونی لکیر-سمیع اللہ ملک

جیسے ہی وہ لکڑی کے اسٹول پر کھڑا ہوا، وہ خود بھی بھڑک اٹھا۔ “آج انہوں نے ہم امن ہسندوں کو مظاہرہ نہیں کرنے دیا۔ ہمیں لاٹھیاں ماری ہیں ہم ان کو جانتے ہیں یہ کس طرح ڈھاکہ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔، وہ اول فول کہنے لگا۔ میں نے اس سے پہلے کہ وہ جملہ مکمل کرتا اس کو زبردستی اسٹول سے نیچے اتارا اور چپ کرایا۔ پھر میں نے اعلان کیا کہ آج مظاہرہ ختم، ہم لاہور پریس کلب جا رہے ہیں وہاں ابھی پریس کانفرنس کریں گے۔ جوزف فرانسس اگر بات مکمل کر لیتا تو شاید بات لاٹھی چارج سے آگے چلی جاتی۔ ہم لاہور پریس کلب پہنچے تو آئی اے رحمان، عاصمہ جہانگیر، عرفان مفتی اور میں نے پریس کو مطلع کیا کہ کا طرح پرامن مظاہرہ کو جو امن کے لئے تھا پرپولیس اور رینجرز نے تشدد کیا تھا۔

بی بی سی نے اس واقعہ پر یہ تبصرہ کیا “In another incident, there were scuffles when police broke up a peace protest on the Pakistan-India border crossing at Wagah, the BBC’s Rachel Wright reports. Hundreds of candle-carrying demonstrators had gathered on the Pakistani side of the border just outside Lahore where the last flag-lowering ceremony was taking place before the two countries officially severed links.” عاصمہ آج ہم میں موجود نہیں لیکن ایسے درجنوں مظاہرے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان امن قائم کرنے اور جنگ مخالف نظریہ پر منعقد ہوئے وہ عاصمہ جہانگیر کی پہل لینے سے ہی منعقد ہوئے۔

Views All Time
Views All Time
143
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: