عمران خان بمقابلہ احمد لدھیانوی

Print Friendly, PDF & Email

شرک، بدعت اور کفر کا الزام کس قدر سنگین ہوتا ہے کہ پاکستان کی ایک مقبول سیاسی جماعت کا مقبول سربراہ عمران خان بھی کل سے وضاحتیں کرتا نظر آرہا ہے کہ اس نے چوکھٹ کو بوسہ لیا تھا، سجدہ نہیں کیا تھا۔ تحریک انصاف کے آفیشل فیس بک پیج پر وضاحتی پوسٹر اور ویڈیوز شئیر ہورہی ہیں، جنہیں تحریک انصاف کے فالوورز کثیر تعداد میں آگے شئیر کر رہے ہیں۔ کئی احباب اس الزام کے جواب میں نواز شریف کی داتا دربار حاضری کی ویڈیو شئیر کر رہے ہیں۔ عمران خان ایک مقبول سیاسی لیڈر، ان کی جماعت نوجوانوں کی کثیر تعداد کی حمایت والی جماعت لیکن کل سے اس الزام کے دفاع میں دلائل دینے میں مصروف جس کے پیچھے صرف فتویٰ برگیڈ، نون لیگ ہی نہیں بلکہ حیرت انگیز طور پر وہ لبرلز بھی شامل ہیں جنہیں اس معاملے کی حساسیت کا ادراک سب سے زیادہ ہونا چاہیئے تھا مگر افسوس کہ یہ ملاوٹ زدہ لبرلزم ہے۔

اس صورتحال سے ہمیں سبق سیکھنا چاہیئے کہ یہ فتویٰ و الزام فروشی کا کھیل کس قدر مہلک ہے کہ مقبول سیاسی لیڈر بھی وضاحتیں پیش کر رہا ہے اور اپنے ایمان کی گواہی دے رہا ہے۔ لیکن یہ سہولت ہر ایک کو میسر نہیں ہوتی۔ نہ مزاروں پر جانے والے صوفیوں کو جنہیں بدعتی مشرک کہہ کر مارا جاتا رہا ہو، نہ ذکر حسینؑ کرنے والے شیعوں کو جنہیں گستاخ کہہ کر قتل کیا جاتا رہا ہو اور نہ شہزاد اور شمع مسیح جیسے مسیحیوں کو جن پر توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگا کر اینٹوں کی بھٹی میں پھینکا جاتا رہا ہو۔ سچ پوچھیں تو مجھے یہ سب دیکھ کر ہر اس طبقے کی بے بسی کا احساس ہورہا ہے جس کی وضاحت سننے پر کوئی آمادہ نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھئے:   شیعہ نسل کشی – کچھ تلخ حقائق

آخر میں مبشر زیدی(ڈان نیوز)، نصرت جاوید، گل بخاری سمیت ان تمام نام نہاد لبرلز کو مخاطب کرکے کہنا چاہوں گا کہ نون لیگ کے ان پانچ سالوں میں جتنا بے نقاب آپ کا چہرہ ہوا ہے، شاید اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ کل سے میں اس لبرل طبقے کا عمران خان کے بابا فریدؒ کے دربار کی چوکھٹ پر بوسے کے خلاف طرز عمل دیکھ کر سوچ رہا ہوں کہ فتویٰ برگیڈ میں اور اس لبرل طبقے میں فرق کیسے روا کروں۔ ان سے سوال تو پوچھا جانا چاہیئے کہ اگر آپ کو سیہون شریف میں شیما کرمانی کا دھمال ڈال کر خراج عقیدت پیش کرنا بہت اچھا بتایا تھا تو عمران خان کی بابا فریدؒ کی تعظیم پر آپ نے مفتی اعظم کا روپ کیوں دھار لیا؟ یقین جانیئے، جھوٹ بالکل نہیں بولوں گا مگر اس لبرل کلاس کے بارے میں جس رائے پر میں ان پانچ سالوں میں پہنچا ہوں، اسے اگر 180 کے زاویے پر تبدیل رائے کہوں تو غلط نہ ہوگا۔ آپ سب قابل رحم ہیں۔

آپ سب کو اس وقت ہم آواز ہوکر ارباب اختیار اور بالخصوص ان ارباب اختیار سے سوال پوچھنا چاہیئے تھا، جن کے خلاف آپ دن رات نواز شریف کے خلاف سازش کا راگ الاپ کر نون لیگ کا "اینٹی اسٹبلشمنٹ” منجن فروخت کرتے ہیں، کہ ہمارے ملک کو گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے اور آپ کالعدم تکفیری تنظیموں پر سے پابندیاں ہٹا رہے ہیں،ان کے سربراہوں کو فورتھ شیڈول سے نکال رہے ہیں اور ان کے منجمد اثاثے بحال کر رہے ہیں۔ جن کے ہاتھوں ہر ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں کا خون ہے، بالخصوص وہ پاکستانی جنہیں انہوں نے گستاخ مشرک بدعتی کہہ کر مارا۔ لیکن آپ یہ ہرگز نہیں کریں گے کیوں کہ اسی تنظیم سے تعلق رکھنے والا عابد گجر آف کوٹلہ تو آپ کی لبرل نون لیگ کا امیدوار برائے قومی اسمبلی ہے۔ آپ کیسے بولیں گے کیوں کہ اسی تنظیم کے سربراہ احمد لدھیانوی کے دلکش انٹرویو آپ اپنی ویب سائٹ میں چھاپ کر تنقید کرنے والوں کو طالبان کہتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   حزب اللہ کیوں کھٹکتی ہے

آخر میں ایک گزارش اپنے ان شیعہ دوستوں سے بھی جو محض عمران خان سے سیاسی اختلاف کی وجہ سے اس ایشو پر وہی لائین اختیار کیے نظر آرہے ہیں جو اوپر مذکورہ گروہوں نے اختیار کر رکھی ہے۔ آپ عمران خان پر سیاسی تنقید کریں، اس کی غلط پالیسیوں پر اعتراض کریں لیکن بابا فریدؒ کے دربار پر اس کے بوسے پر تنقید کرکے آپ اس حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ برصغیر کا کلچر اسی صوفی سنی اور شیعی ثقافت کے ساتھ صدیوں سے چلتا آیا ہے جس سے نفرت فقط اس طبقے کو ہے جو مزاروں اور عزاداریوں کو نشانہ بناتا آیا ہے،کبھی دھماکے کر کے اور فتوے دے کر۔ آپ کو خود کو اس مہم سے دور رکھنا چاہیئے تھا۔

Views All Time
Views All Time
1624
Views Today
Views Today
3

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: