Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

عمران خان۔۔۔ دی گریٹ

عمران خان۔۔۔ دی گریٹ
Print Friendly, PDF & Email

rasheed angviعمران خان کئی لحاظ سے بہت خوش نصیب ہے۔ میانوالی کی پُر عزم اورجفاکشی جیسی نسبت اس کو پیدائشی حاصل ہوئی۔وہ کرکٹ جیسی محبوب ترین گیم کا عالمی ہیرو بن کر زندگی کا بہترین حصہ برطانیہ میں گزار کر وہاں کے بہترین تعلیمی وتہذیبی مراکز سے وابستہ رہا۔عمران خان نے ایک جمہوری معاشرے کا ایک محبوب فردبن کر وہاں کی زندگی کی حقیقتوں کو بہت قریب سے دیکھا اورپرکھا۔اس نے برطانوی جمہوریت کو کرید کرید کر دیکھا اوراُس کی لطافتوں کو سمجھا۔اس نے اسی انگریز کو جو برصغیر میں دوسروں کی تہذیبیں اجاڑنے والا سامراج تھا ٗ اس کے اپنی قوم کے ساتھ روّیوں کا بغور جائزہ لیا اورآزادی وغلامی کے فرق کو محسوس کیا۔اس نے انگریز کی تہذیب کو خوب جانچ پرکھنے کے باوجود اس کی ذہنی وفکری غلامی کو قبول نہ کیا۔یہی وجہ ہے کہ جب کرکٹ ہیرو ٗ سوشل سروس ہیرو کے مقامات سے کامیابی سے گزر کر سیاسی قیادت کے لیے میدان عمل میں اتراتو اپنی مظلوم قوم کو انصاف دینے کے لیے اس نے پارٹی کا نام ہی تحریک انصاف رکھا۔اس نے نہایت سنجیدگی سے قرآن پاک اورسیر تِ طیبہ کا مطالعہ کیا اورعلامہ اقبال کے افکار ونظریات کو دل ودماغ پر نقش کرکے علامہ کو اپنا فکری راہ نما بنایا۔اس کے ساتھ ہی حضرت داتا صاحب کی عظمت وپاکیزگی بھی اس کی رھنما بن گئی ۔ بعض لوگ عمران خان کی دھرنادور کی تقاریر وغیرہ کی بنا پر اسے محض ایک کھلنڈرا شخص سمجھتے رہے مگر ان کی غلط فہمی تھی ۔ عمران خان ٗ حقیقی جمہوریت کا بہت بڑا اورپرجوش طلبگار ہوتے ہوئے جب حرص وہوس کے بندوں اورمال ودولت کے پجاریوں کو جمہوری قیادت کے مقام پر فائز دیکھتا ہے تو اپنی قوم اور وطن کی شدید محبت کے زیر اثر وہ ان ’’بتانِ عصرِ حاضر‘‘کے خلاف جہاد کے لیے ڈٹ کر نشانہ بناتا ہے۔قابلِ غور بات ہے کہ عمران خان کو سب سے زیادہ نوجوان لوگوں نے سپورٹ کیااورہر دور کی سچی اوربے لوث کی پہچان ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ نوجوانوں کے دلوں میں بستا ہے۔ ایک دور میں بھٹو کو یہ امتیاز حاصل تھا اورفکری میدان میں کالج ٗ یونیورسٹی نوجوانوں کے دلوں پر سید مودودیؒ کے افکار کا راج تھا ۔ سچ یہ ہے کہ اس وقت ملکی قیادت کے میدان میں جتنے بھی لوگ موجود ہیں ٗ اُ ن میں حقیقی جمہوری شعور ٗمغرب کی مسلمان دشمن چالوں ٗ قوم کے سروں پر سوار مال پرست جھوٹی قیادتوں کو قیادت سے ہٹانے جیسے معاملات پر خان صاحب سے بڑھ کر یا ان کے برابر کوئی دوسرا نام نہیں ۔ پانامہ کی بات تو آج سامنے آئی ٗ عمران خان تو اپنی سیاست کے رو زاوّل سے چیخ چیخ کر قوم کو بتا رہا ہے کہ ان لیڈران کرام نے قوم کے لوٹے ہوئے مال سے بیرون ملک دولت کے انبار لگا رکھے ہیں اورلگتا ہے کہ قدرت کی جانب سے اولاد شریف کے لامتناہی خزانوں کی جو نشان دہی ہوئی ٗ یہ عمران خان کے مؤقف کی غائبی مدد ہے اورقوم کو سیاسی عقیدتوں کے فرسودہ کلچر سے نکل کر آنکھیں کھول کر فیصلے کرنے کی مہلت بھی ہے اوردعوت بھی۔ عمران خان قرآنی حکم سناسنا کر تھک گیا ہے جس کا شعر میں ترجمہ یہ ہے کہ ’’خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی ۔نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا‘‘۔راقم نے گزشتہ سالوں میں خان صاحب کی مخالفت میں بہت کچھ کہا مگر حالات نے خان کی سچائی اورملک وملت سے گہری محبت کو ثابت کردیا اورسچ یہ ہے کہ عمران خان کے لمبے سے چہرے پر اوپر سے نیچے جو لمبی لکیریں دکھائی دیتی ہیں ٗ ان کی گہری مشابہت اورمماثلت بابائے قوم کے چہرے سے ہے اوراس میں ’’عقل والوں کے لیے بہت نشانیان ہیں ‘‘۔ہمیں عمران خان کی صوبائی حکومت کے پی کے ٗ کے ایک حالیہ فیصلے نے اس قدر خوش گوار حیرت میں ڈالا کہ اس کی تعریف وتوصیف کے لیے قلم مناسب الفاظ نہیں پارہا۔یہ ہے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا معاملہ ۔ راقم نے اس حوالے سے ٹی وی چینلوں پر چھوٹے بڑے مردوزن اینکروں اورپینلسٹوں کی ایسی بے خبرانہ (معذرت سے )جاہلانہ گفتگو سنیں کہ کانوں کو ہاتھ لگانا پڑا۔ایک تو لفظ ’’مین سٹریم‘‘میں اپنے کو سمجھنے اوردوسروں کو اس سے لاتعلق سمجھنے کی بیماری نے عجیب صورت بنا رکھی ہے ۔ ان بے چاروں کو علم ہی نہیں کہ اکوڑہ خٹک کے علماء مین سٹریم سیاست کے مانے ہوئے سُپر ہیرو ہیں ۔ مولانا سمیع الحق کے والد گرامی کا نام شیخ الحدیث مولانا عبدالحق تھا۔وہ پری پارٹیشن دارالعلوم دیوبند میں پڑھاتے رہے۔ ایوبی دور اوربعد ازاں وہ قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوتے تھے اورکس شان سے ٗ ذرا سنیے ۔ بھٹو کے عروج کے دور میں جب ملک پر اس کا طوطی بولتا تھا اوراس کی شخصیت کا سحر عروج پر تھا تو اس نے اپنے صوبائی وزیر اعلیٰ نصراللہ خٹک کو قومی اسمبلی کے انتخابات میں حضرت شیخ الحدیث کے مقابلے میں امیدوار بنادیا۔یہاں نصراللہ خٹک کی ضمانت ضبط ہوگئی اوراس کا تاریخی بیان ریکارڈ پر ہے کہ ’’بھٹو نے مجھے ایسے آدمی کے خلاف لڑادیا جس سے لوگ پیغمبر کی طرح محبت کرتے ہیں‘‘۔حضرت شیخ الحدیث کو جب پشاور یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی تو تمام حاضرین کی یہ رائے تھی کہ اس ڈگری سے شیخ الحدیث کی عزت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا بلکہ ایسا کرکے خود ڈگری اوریونیورسٹی کی عزت میں اضافہ ہوا ہے۔ایک اوربات ٗ سابق وزیرِ قانون اوردنیائے وکالت وفلسفہ کے بے تاج بادشاہ جنا ب اے کے بروہی نے شیخ الحدیث کا ہاتھ اپنے دل پر رکھ کر بیان کیا کہ اللہ نے میرے دل پر آپ کو اختیاردے دیا ہے۔ایک اہم بیان سنیے:اردو ادب کی اپنے دور کی سب سے بڑی نابغۂ روزگار شخصیت حسن عسکری مرحوم ( ساکن کراچی ) سے ان کی زندگی کے آخری دور میں کسی نے دریافت کیا کہ آج کل آپ کیا کچھ مطالعہ فرما رہے ہیں تو فرمایا :صوبہ سرحد کے ایک گاؤں اکوڑہ خٹک سے ایک رسالہ ’’الحق‘‘آتا ہے بس اس کا مطالعہ کرلیتا ہوں(یہ جامعہ حقانیہ سے نکلنے والا ماہوار رسالہ ہے)۔تو اکوڑہ خٹک عالم اسلام کی عظیم الشان اسلامی یونیورسٹی کا مقام ہے ۔ کوئی شک نہیں کہ روسی یلغار کو افغانستان میں ناکام بنانے اورسرخ فوج کے دانت کھٹے کرنے والے مجاہدین کا ایک بڑا حصہ فاضلین اکوڑہ خٹک پر مشتمل تھا۔پورے افغان معاشرے میں علمائے حقانیہ کے شاگردوں کا وسیع سلسلہ موجود ہے ( اسے اتفاق سمجھئے کہ ایک حقانی کا نام لے کر امریکی ہمارے حکمرانوں کو ڈانٹ پلاتے رہتے ہیں اورامریکہ میں بیٹھا ایک ’’حقانی‘‘( جس کا اکوڑہ خٹک سے کوئی تعلق نہیں ) وہ بلیک واٹر سمیت نہ جانے کتنے سو یا ہزار لائسنس جاری کرتا رہا)۔خود مولانا سمیع الحق پاکستانی پارلیمنٹ کے ایوان بالا ( سینیٹ)کے ممبر منتخب ہوتے رہے ہیں۔ تو راقم ان سطور کے ذریعے کے پی کے حکومت کے اس اقدام کو خراج تحسین پیش کرتا ہے کہ جامعہ حقانیہ کے عظیم علمی وفکری اورتہذیبی منصوبوں میں مدد کے لیے ایک رقم مختص کی۔ کاش کہ لوگوں کو یہ علم اورادراک ہوتا کہ پنجاب میں تعلیمی امداد کے نام پر سامراجی تہذیب مسلط کرنے کے لیے کیا کچھ کیا جارہا ہے ۔ اس پر پھر کبھی بات ہوگی ۔ اکوڑہ خٹک کے بارے میں ایک ایک امدادی معاملے نے ہمارے تصورات کو تقویت بخشی کہ مغرب پرستی اورذہنی طور پر مغرب کی غلامی میں مدہوش قیادتوں کے درمیان عمران خان کی حریت پسند ٗ جمہوریت پسند ٗ عوام دوست قیادت وشخصیت ملک کے روشن مستقبل کی نشان دہی ہے ۔ اللہ کریم ہماری قوم خصوصاً ووٹ دینے والوں کو ہمت دے کہ سیاسی لیڈران کے بیت پاش پاش کرکے وقت کی پکار کو سنیں ۔ علامہ اقبال کیا فرما رہے ہیں :’’یہ دور اپنے ابراہیم کی تلاش میں ہے ۔ صنم کدہ ہے جہاں لاالہ الا اللہ‘‘۔جی ہاں سیاست کدے میں براجمان بت توڑنے کا زمانہ آگیا ۔آخر میں ہماری عمران خان سے درخواست ہے کہ وہ جلسوں میں جناح کیپ پہنا کریں۔

Views All Time
Views All Time
631
Views Today
Views Today
5
یہ بھی پڑھئے:   اسلامی نظریاتی کونسل اور خواتین
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: