پیشوائے بنی گالہ اور ریحام خان

Print Friendly, PDF & Email

عمران خان کی 2014ء میں ریحام خان سے شادی ہوئی اور پھر چند ماہ بعد 2015ء میں طلاق بھی ہوگئی۔(اب وہ تیسری اہلیہ کے ساتھ مقیم ہیں)جتنی شادی اچانک تھی اتنی طلاق بھی۔خبروں کا تعاقب کرنے والے دونوں مواقع پر پوری قوت سے دوڑ رہے تھے کچھ منہ کے بل گرے چند نے کہانیوں کو خبر کا نام دیا بعض کے پاس خبر بھی تھی۔ کچھ تعلق ایسے تھے کہ بعض دوستوں نے اصرار کیا اس موضع پر لکھا جائے۔ بہت ادب سے معذرت کرلی۔ ایک دوست نے معذرت کی وجہ پوچھی تو عرض کیا۔ عمران خان میرے ذاتی دوست ہیں دوست کی نجی زندگی پر صحافت کی گاڑی چلانا اچھا نہیں لگتا۔

آخری ملاقات ان سے 2013ء میں اس وقت ہوئی جب وہ شوکت خانم میں زیر علاج تھے انتخابی ماحول کا بانکپن عروج پر تھا۔ انہوں نے ملاقاتی سے سوال کیا۔ کیا کہتے ہو انتخابی نتائج کیا ہوں گے؟۔عرض کیا اندازہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سنگل لارجسٹ پارٹی بن کر ابھرے گی۔ قومی اسمبلی میں 30سے اوپر نشستیں ہوں تو بونس سمجھ لیجئے گا۔انہوں نے کہا یہ تو مجھے معلوم ہے کہ حادثے کے نتیجے میں میرے زیر علاج ہونے کی وجہ سے انتخابی نتائج متاثر ہوں گے مگر حالات ایسے بھی نہیں تحریک انصاف جیت نہ پائی تو پھر بھی ملک کی دوسری بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی۔عرض کیا پیپلزپارٹی کو انڈر اسٹیمیٹ کرنے کی ضرورت نہیں وہ سندھ کے بل بوتے پر بڑی اپوزیشن جماعت بن کر سامنے آئے گی۔ہسپتال کے بستر پر دراز عمران خان نے قہقہہ بلند کرتے ہوئے کہا۔ شاہ تمہاری نسل کا المیہ یہ ہے کہ اب بھی بھٹو کے سحر میں گرفتار ہے۔ مجھے کہنا پڑا کہ بھٹو صاحب سے محبت اور بی بی بے نظیر بھٹو کے لئے بہنوں جیسا احترام ہے اس سے انکار نہیں مگر صحافت میری روزی روٹی کا ذریعہ ہے۔

2013ء سے تا دم تحریر ان سے صرف ایک ملاقات ہوئی وہ بھی ایک شادی کے تقریب میں مختصر ملاقات میں چند جلی کٹی انہوں نے سُنائیں اور شکوہ کیا کہ میں مشرق پشاور میں ان کی جماعت اور صوبائی حکومت کے خلاف لکھتا ہوں۔ اپنے بعض ساتھیوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھاکہ میں تو قعات پر پورا نہیں اترا۔عرض کیا کہ دو باتیں سُن لیجئے۔ اولاً یہ کہ ریحام خان کی طلاق کے بعد راشد محبوب ہاشمی کی معرفت آپ کا پیغام ملا کہ اس بکھیڑے میں نہ پڑنا۔ ایک دوست کی حثیت سے تعمیل واجب ہوئی۔البتہ آپ کی پارٹی اور خیبر پختونخوا حکومت کی شکایات درست نہیں جن کالموں پر انہیں شکایات ہیں ان میں ایک لفظ بھی اپنے پاس سے نہیں لکھا بلکہ صوابی، مردان ، نوشہرہ اور پشاور میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے صاحبان نے جو کہا وہ من وعن لکھ دیا۔ رخصت ہوتے وقت میں نے ان سے کہا تھا کہ اگر مجھے نوکری کرنا ہوتی تو وہ پیشکش اچھی تھی جب 2002ء اور 2005ء میں آپ نے اپنا پریس سیکرٹری بننے کی آفر کی تھی۔ مجھے معلوم ہے کہ سیاستدانوں اور دوستوں کی ملازمت میں عزت نفس اور آزادی مجروع ہوتی ہے۔خان مسکراتے ہوئے ہاتھ ملا کر چل دیا۔

یہ بھی پڑھئے:   کیا عمران خان اپنی پالیسیز پر عمل درآمد کر پائیں گے؟

یہ سطور لکھتے ہوئے بھی مجھے ان سے دوستی پر خوشی ہے نہ ملال کیونکہ ان کی سیاست اُن کی ہے اور میرا روزگار میرا، آراء اور سوچ کا اختلاف ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے عوامی بھلائی کے منصوبوں شوکت خانم و نمل یونیورسٹی کے لئے لکھنے پڑھنے کی خدمت فرض سمجھ کر کرتا ہوں اور سیاسی اٹھان جدوجہد اور کہہ مکرینوں پر تنقید صحافی کی حیثیت سے۔ ان کے خیال میں ریاست کے وجود کی ضمانت ادارے ہیں میری رائے میں ریاست ادارے بناتی ہے ادارے ریاست نہیں بناتے۔ اس لئے اداروں کو ریاست کے تابع فرمان رہنا چاہئے۔
پچھلے ڈیڑھ عشرے کے دوران عموماًاور 2011ء کے بعد سے خصوصاً ان کالموں میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ وہ سیاستدان سے زیادہ سماج سدھار ہیں پر افسوس کہ انہوں نے آئی ایس آئی کے ایک مرحوم سربراہ اور ایک اخبار کے مالک کے کہنے پر اصل کام چھوڑ کر سیاست میں قدم رنجہ فرمایا تبدیلی اور انقلاب کی باتیں کرتے پھرے اور پھر ایک دن سب پر عیاں ہوگیا کہ وہ اداروں کے محافظ کے طور پر سیاست میں حصہ کے طلب گار ہیں۔
اگلے مرحلہ میں انہوں نے دوسری جماعتوں کے ’’نگینے‘‘ تحریک انصاف میں بھرتی کرنا شروع کئے۔

اسی دوران ایک ادارے کے ضلعی سربراہوں نے اپنے اپنے اضلاع کے با اثر لوگوں (ان میں نون اور پیپلزپارٹی والے بھی شامل ہیں) کو ٹیلیفون پر تحریک انصاف میں بھرتی ہونے کا حکم دیا۔پچھلے برس ان سطور میں عرض کیا تھا کہ ادارے سیاسی عمل میں جو نئے تجربے کررہے ہیں وہ مستقبل میں گلے پڑ جائیں گے۔ ان سطور کو لکھتے ہوئے مکرر عرض کرتا ہوں کہ یہ درونسینہ رازہر گز نہیں کہ تحریک انصاف کو مقبولیت کے پانچوں آسمان پر لیجانے میں اداروں اور ’’حب الوطنی‘‘ کے اسیر میڈیا کا ہاتھ ہے ورنہ کس کو سمجھ نہیںآتاکہ ادھار پر لئے اور جبری بھرتی والے لشکر سے تبدیلی آتی ہے نہ انقلاب۔

یہ بھی پڑھئے:   سوال تو ہوں گے، برا مت منائیں

عمران خان ان دنوں اپنی دوسری سابق اہلیہ ریحام خان کی مبینہ کتاب کی زد میں ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر مبینہ کتاب کے مندرجات کو لے کر جو دھول اڑائی جا رہی ہے کسی دن تحمل کے ساتھ اس پر غور ضرور کریں کہ دھول اڑانے میں وہ خواتین و حضرات پیش پیش کیوں ہیں جن کے صحافتی کردار کو اداروں کا مرہونِ منت کہا جاتا ہے؟۔کہیں ایسا تو نہیں کہ اداروں کا عمران خان سے جی بھر چکا انہیں تحریک انصاف نامی جماعت کی تو متبادل جماعت کے طور پر ضرورت ہے مگر عمران خان کے حوالے سے ان کی ضرورت پوری کرچکے؟۔خان اور اس کے مریدین چاہیں تو لکھ کر رکھ لیں کہ انہیں آسمان پر چڑھانے والوں نے سیڑھی کھینچنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

غلطیاں عمران خان سے بھی سرزد ہوئیں اور سب سے بڑی غلطی ان کی یہ تھی کہ انہوں نے بلیک میل ہو کر ریحام خان سے شادی کی تھی۔کیا وہ دو باتوں سے لاعلم تھے اولاًیہ کہ ریحام خان کو عمران کے کنٹینر تک پہنچانے میں ماروی میمن کا ہاتھ تھا؟ ثانیاً یہ کہ ریحام خان نے انہیں تسخیر ایک منصوبے کے تحت کیا تھا؟۔یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ انہوں نے کمزوریاں خود بھاگ بھاگ کر بتائیں بلکہ تحفہ میں دیں سواب بھگتیں بھی۔
کاش انہوں نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں عوام کے تعاون سے تبدیلی لانے کے مشن کو ترک نہ کیا ہوتا لیکن اب تو صرف کاش ہی ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ بہت دیر ہوگئی۔ آخری بات یہ ہے کہ انہیں نفرت کے حصار سے نکل کر کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہئے کہ وہ مردم شناس تھے نا ہیں ورنہ ایک سابق خاتون ایم این اے کی صاحبزادی اور صاحبزادہ ان کی نجی زندگی پر حاوی نہ ہوتے اور وہ ریحام خان کے چنگل میں بھی نہ پھنستے۔

Views All Time
Views All Time
509
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: