عمران حیدر ®TM

Print Friendly, PDF & Email

عمران حیدر اچانک چل بسے۔ وہ اپنی ہر تحریر کے نیچے اور بنائے گئے ہر کارٹون یا پوسٹر کے اوپر اپنے نام کے ساتھ®TM لکھا کرتے تھے۔ ابھی پچھلے ایک گھنٹے سے ان کی وال دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ یہ شخص ®TM بالکل صحیح لکھتا تھا کہ اس کا اسلوب، اس کا انداز، اس کی تخلیقی صلاحیت اور اور اس کی بے ساختگی واقعی اس کا ٹریڈ مارک تھی۔ میں نہیں جانتا کہ عمران حیدر کتنا پڑھا لکھا تھا، اس کے پاس کیا ڈگری تھی اور اس کے پاس کتنے ہزار کتابیں تھیں۔ لیکن میں یہ بات یقین کی حد تک جانتا ہوں کہ اس کے پاس مشاہدہ کرنے کی بلا کی صلاحیت موجود تھی، وہ ایک حساس دل رکھتا تھا، وہ چہرے پڑھنا جانتا تھا اور احساسات کو لکھنا جانتا تھا۔

وہ اپنی تحاریر پر تبصرہ کرنے والوں کو جس انداز سے جواب دیا کرتا تھا، اُس سے معلوم پڑتا تھا کہ بلا کا وضع دار آدمی ہے، انسان کی تکریم کرنے والا۔ وہ زیادہ تر مزاح لکھا کرتا تھا لیکن چند بار اس نے ایسا سنجیدہ فکشن لکھا کہ آج وہی فکشن، عمران کو یاد کرنے والے اسے عمران حیدر کی اپنی کہانی کے طور پر شئیر کر رہے ہیں۔ اس نے یہ فکشن دراصل ہر بے ہنگم اور تکلیف دہ تحریر کو فکشن کا نام دینے والے ایک خود پسند دانشور کو یہ بتانے کیلئے لکھا تھا کہ فکشن ایسے لکھا جاتا ہے۔ دل کو چیر دینے والی اس تحریر کا آغاز "میں قتل ہوگیا تھا” سے ہوا تھا اور اختتام قبر پر پڑے اُن چنبیلی کے پھولوں پر جو اُس کی بیوی قبر پر ڈال گئی تھی۔

آج صبح عمران کی تدفین ہوچکی اور میرے ذہن سے وہ چنبیلی پھول نکل کر نہیں دے رہے۔ حساس انسانی دل کی کرامت کہوں کہ شاید عمران حیدر اپنے ہی قلم سے اپنے دائمی سفر کی روداد لکھ گیا تھا۔ میں نے جتنا عرصہ عمران حیدر کو پڑھا ، اُسے کبھی غصہ کرتے دیکھا، نہ کسی کی دل آزادی کرتے دیکھا اور نہ ہی کسی کے لئے غلط الفاظ استعمال کرتے دیکھا۔ میں نے اس کی فیس بک وال پر ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے شخص کو ہنستے مسکراتے دیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج اس کے اچانک چل بسنے کی خبر سن کر اسے یاد کرکے ہر شخض دل گرفتہ ہے، ہر آنکھ نم ہے۔ سب اُس کے ساتھ ہونے والی اپنی گفتگو بطور یادگار شئیر کر رہے ہیں۔ سوائے اس ایک بدبخت ناصبی ضیاء ناصر کے جس کے دل پر سفاکیت مہر لگ چکی ہے اور مہر بھی ایسی کہ جس کے آثار اُس کے چہرے پر موجود اکھڑ پن، بے رحمی اور حیوانیت کی صورت جھلکتے ہیں۔ عمران حیدر سراپا محبت، مروت اور خوش اخلاقی تھا، اور یہ بدبخت تعصب کی بھٹی میں تیار کیا گیا ایک بدصورت پتلا۔

یہ بھی پڑھئے:   تاج محل-مدیحہ سید

پاکیزہ روحوں کی یہی خاصیت ہوتی ہے کہ ان کی جدائی پر ہر دل مضطرب ہوتا ہے اور آنکھیں بے اختیار نم ہوجاتی ہیں۔ ورنہ خود سوچیے کہ محض فیس بک کے تعلق کی وجہ کسی سے اس قدر قربت محسوس ہوسکتی ہے؟ فیس بک پر اکثر دوست احباب اپنے کسی نہ کسی عزیز کی وفات پر نماز وحشت قبر کی درخواست کرتے ہیں۔ میں عموما وقت نہیں نکال پاتا اس لیے مرحوم کیلئے دعائے مغفرت کردیتا ہوں۔ جھوٹ کیا بولنا، اکثر سستی بھی آڑے آجاتی ہے۔ لیکن گزشتہ دنوں نوجوان شاعر وسیم عون نقوی کے انتقال پر دل جیسے انتظار کرتا رہا تھا کہ تدفین کے بعد اس شاعرِ اہلیبیتؑ کیلئے نمازِ وحشتِ قبر پڑھ کر خود کو سعادت بخشوں۔ تین چار روز قبل عون وسیم نقوی کا چہلم تھا۔ اس جوان کے یوں چل بسنے پر بھی وہی کیفیت تھی جو آج عمران حیدر کی وفات پر ہے۔ آج بھی دل انتظار کر رہا ہے کہ رات کو اس وضع دار انسان کیلئے نمازِ وحشت قبر پڑھ کر خود کو سعادت بخشوں۔
بہت برس پہلے ایک قریبی عزیز کے جنازے پر رات گئے تدفین کیلئے لاہور کے مومن پورہ قبرستان گیا تھا۔ جنازگارہ میں جنازہ پڑھنے کے بعد میرے ایک کزن نے مائیک سنبھالا اور انتہائی افسردہ آواز میں اعلان کیا کہ "تدفین کے بعد اپنے گھر پہنچ کر مرحوم کیلئے نمازِ وحشت ضرور پڑھیے گا۔ آج ہم پڑھیں گے تو کل کوئی ہمارے لیے بھی پڑھے گا۔” مومن پورہ قبرستان کے اُس اداس ماحول کا اثر تھا کہ یہ اعلان مجھے اب تک یاد ہے۔ آپ میں سے بھی جس کیلئے ممکن ہو وہ عمران حیدر کیلئے نماز وحشت ضرور ادا کرے۔ اُس کا اصل نام افضال بھٹی تھا۔ البتہ ۔سوشل میڈیا پر وہ عمران حیدر کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وہی عمران حیدر جو اپنے نام کے ساتھ ®TM لکھا کرتا تھا۔ عمران حیدر واقعی ®TM تھا۔

Views All Time
Views All Time
179
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: