Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

محبت، دھرم اور چتن بھیل

Print Friendly, PDF & Email

تھانے کے چکر لگاتے ہوئے چتن بھیل کو آج تیسرا دن تھا
اس کی بیٹی اغواء ہوئی تھی
اس کے جگر کا ٹکڑا لاڈوں پلی سونیا جو ایک دن بھی بابل سے دور نا رہی آج تیسرا دن ہونے کو تھا مگر اس کا کوئی اتا پتا نہیں تھا
سپاہی نے آج بھی ٹرخا دیا کہ گھر جاؤ خود ہی آجائے گی
وہ تھانے کی سیڑھیوں پر بیٹھا اپنے چادر نما رومال سے پسینہ صاف کر رہا تھا جس میں آنسو بھی شامل تھے
گاؤں سے پیدل شہر آتے آتے اسکا برا حال تھا بھوک اور پیاس کا تو ویسے ہی ہوش نہیں تھا اوپر سے سخت گرمی نے بوڑھے کسان کو نچوڑ کے رکھ دیا
اس نے خشک ہونٹوں سے آسمان کی طرف دیکھا
ہے بھگوان ۔۔۔۔ مگر اس سے آگے کچھ نا کہہ سکا اور اپنی چادر میں منہ چھپا لیا
ایسے ہی ناجانے کتنی دیر بیٹھا رہا کہ پیچھے سے کسی نے آواز دی
اوئے اٹھ یہاں سے ۔ سیڑھیوں میں کیوں بیٹھا ہے؟
آواز سے چونک کر اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو بڑے صاحب دو سپاہیوں کے ساتھ کھڑے تھے
اس نے جلدی سے اٹھ کر ہاتھ باندھ لیے
اوئے تو وہی ہے ناں جس کی بیٹی بھاگ گئی ہے۔ ایک سپاہی نے سوال کیا
نہیں جناب وہ بھاگی نہیں اغواء ہوئی ہے اس نے روہانسی آواز میں کہا۔
اچھا اچھا تمہارا جو بھی مسئلہ ہے یہاں مت بیٹھو میرے کمرے میں آؤ ۔ بڑے صاحب نے اسے ہاتھ کے اشارے سے خاموش کروا دیا
وہ جلدی سے پسینہ پونچھ کر چادر کندھوں پہ ڈال کر ان کے پیچھے پیچھے چل دیا
آفس میں پہنچ کر بڑے صاحب نے اسے بیٹھنے کو کہا
اس نے خوف زدہ نظروں سے اپنے ساتھ کھڑے سپاہیوں کو دیکھا اور ایک سپاہی کا اشارہ پا کر کرسی پر بیٹھ گیا
ہاں اب بتاؤ ۔ بڑے صاحب نے بیٹھتے ہی پوچھا
مائی باپ کچھ دن پہلے میری بچی ۔۔۔۔۔۔ ابھی اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ اس کی آواز بھر آئی اور چادر میں چہرہ چھپا کر رونے لگا
پانی پلاؤ اسے ۔۔۔۔ بڑے صاحب نے ایک سپاہی کو حکم دیا
مگر دونوں سپاہی ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے
کیا ہوا ؟ میں نے کہا پانی پلاؤ بڑے صاحب نے غصے سے کہا
وہ سر اس کا نام چتن بھیل ہے مٹھن خان کی ہندو بستی سے آیا ہے
ایک سپاہی نے ہلکی سی آواز میں کہا
بڑے صاحب نے حیرت زدہ نظروں سے چتن کی طرف دیکھا

ہاں بھئی یہ رونا دھونا بند کرو اور بتاؤ کیا ہوا تھا۔ ؟ بڑے صاحب نے اس کو مخاطب کیا
چتن بھیل نے چہرہ صاف کرکے چادر اپنی گود میں رکھی اور وقوعہ بتانے لگا
وہ صاحب میری بچی تین دن پہلے گھر سے سلائی کڑھائی کا کام سیکھنے کے لیے گئی مگر گلی کی نکڑ پر تین لوگ اس کو زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔
کون لوگ تھے وہ؟ کیا تم جانتے ہو ان لوگوں کو؟ کسی سے دشمنی وغیرہ یا رشتے کا تنازعہ تو نہیں ہے؟ بڑے صاحب نے پوچھا
نہیں سرکار میں تو گھر پہ نہیں تھا مجھے نہیں پتا وہ کون تھے اور غریب کسان کی کسی سے کیا دشمنی ہوگی اور رشتے کا تنازعہ کہاں سے ہوگا ابھی تو اس کی عمر صرف 14 سال ہے ۔ یہ کہتے ہوئے چتن بھیل کی پھر سے آنکھیں بھر آئیں
اچھا تو جب تم گھر پہ ہی نہیں تھے تو کیسے کہہ سکتے ہو وہ اغواء ہوئی ہے؟ یہ بھی ہو سکتا ہے وہ خود ہی کہیں چلی گئی ہو۔
نہیں صاحب وہ تو میرے بنا دو پل نہیں رہ سکتی اس کے جوتے کپڑے سب گھر میں ہیں کچھ بھی غائب نہیں میری بچی تو ابھی بس۔۔۔۔۔۔۔ اتنا کہہ کر وہ پھر سے رونے لگا
اچھا اچھا رو مت تم ایسا کرو کل آنا میں کچھ کرتا ہوں ۔ بڑے صاحب کے اتنا کہنے دیر تھی کہ ایک سپاہی نے اسے کندھے سے ہلا کر اٹھنے کا اشارہ کیا
وہ ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا اور دونوں سپاہی اسے لے کر باہر نکل آئے
” اوئے جب میں نے تمہیں کہا تھا کہ دفع ہوجاؤ تو سیڑھیوں پر کیا کر رہے تھے؟ ایک سپاہی نے غصے سے پوچھا
وہ صاحب میں تو بس سانس لینے کے لیے بیٹھا تھا
اچھا اچھا اب جا اور کل آجانا
سنتری کا حکم سن کر وہ باہر کو چل دیا
پیچھے سے اسے سنتری کی مدھم سی آواز آئی
چوہڑے پین**د نے بزتی کروا دی ہماری
اس نے ان سنی کرتے ہوئے دھوپ سے بچنے کے لیے چادر کو سر پہ رکھا اور گاؤں کی طرف چل دیا۔
آج چوتھا دن تھا وہ دوبارہ تھانے کے باہر کھڑا تھا
اندر داخل ہوتے ہی اسے ایک سپاہی نے پہنچان لیا ۔ ہاں بھئی چتن مبارک ہو تیری بیٹی مل گئی
کیا ۔۔۔۔ خوشی سے اسکا چہرہ کھل اٹھا
کہاں ہے؟

یہ بھی پڑھئے:   اپنے حصے کا چراغ جلاتے جانا | شازیہ مفتی

بڑے صاحب کے کمرے میں
وہ دوڑتا ہوا بڑے صاحب کے کمرے کی طرف بڑھا اندر اس کی بیٹی ایک کرسی پر بیٹھی تھی
وہ کانپتی ہوئی ٹانگوں سے اس کو سینے سے لگانے کیلیے لپکا مگر ایک سپاہی نے روک لیا
میری بچی ہے۔ اس نے اپنی بیٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سپاہی سے کہا
ہاں ہاں تمہاری ہی بچی ہے مگر پہلے بیٹھو
وہ حیرت سے بیٹی کا سپاٹ چہرہ دیکھنے لگا جو اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہی ہوئی تھی اور کرسی پر بیٹھ گیا
دیکھو تمہاری بیٹی نے اپنی مرضی اور خوشی سے اسلام قبول کرکے اس لڑکے سے شادی کر لی ہے ۔ یہ دیکھو مدرسے اور عدالت کا سرٹیفیکیٹ کیا؟ چتن بھیل پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ۔ وہ دیوانوں کی طرح لڑکے اور اپنی بیٹی کو دیکھنے لگا جس کا چہرہ کسی پتھر کی مانند سپاٹ ہو چکا تھا اس لیے بڑے صاحب کی دوبارہ آواز گونجی اب ہم یہ بچی تمہارے حوالے نہیں کر سکتے یہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے
یہ جھوٹ ہے صاحب ۔ چتن نے ہاتھ جوڑ دیے میری بچی دھرم تو چھوڑ سکتی ہے مجھے نہیں چھوڑ سکتی ہمارے ساتھ یہ ظلم نا کریں میں تو جیسے تیسے رہ لوں گا مگر میری بچی میرے بنا نہیں رہ سکتی
بتا ناں سونیا ! اپنے بابل کے ساتھ جائے گی ۔ گھر میں تیری ماں انتظار کر رہی ہے
چل اٹھ میری بچی ۔۔ اس نے اٹھ کر اپنی بیٹی کا ہاتھ تھام لیا
ساتھ بیٹھے لڑکے نے فورا ہی چتن کا ہاتھ جھٹک دیا

یہ بھی پڑھئے:   پاکستانی قانون شکن قوم ہے۔۔۔؟؟ انور عباس انور

اب یہ سونیا نہیں نازیہ ہے خبردار جو دوبارہ اسے اپنا ناپاک ہاتھ لگایا
چوہڑا پین **د پراں ہٹ ۔۔ اس نے دھکا دے کر پیچھے کردیا
چتن نے بیٹی کی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں دیکھا جو خلا میں کہیں گھور رہیں تھیں بلکل سپاٹ چہرا اور پتھرائی ہوئی آنکھیں
چتن بھیل نے اردگرد بیٹھے سب لوگوں کی طرف دیکھا کچھ دیر بیٹی کا چہرہ دیکھتا رہا اپنے ہونٹ دانتوں میں دبا لیے اور واپس چل دیا
مگر اس کی چادر وہیں گر چکی تھی
کچھ دیر بعد سونیا نے سب کی نظروں سے بچتے ہوئے چادر اٹھائی اور اس میں اپنا چہرہ چھپا لیا۔
عمران حیدر®™

Views All Time
Views All Time
185
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: