سلمان حیدر اور میرے مشترکہ دُکھ – عمران بخاری

Print Friendly, PDF & Email

جیسا کہ اپنی گذشتہ تحریروں میں بیان کر چکا کہ سلمان سے میرے تعلق کی ابتدا 2002ء میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں میرے داخلے سے ہوئی۔ میں یہ بھی بیان کر چکا ہوں کہ سلمان لبرل خیالات کا حامل تھا جبکہ میں ڈاکٹر اسرار احمد کی اسلامی انقلاب کی تحریک کا رُکن تھا۔ سوچ اور فکر کے اِس بُعد کے باوجود مجھے یہ سچ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ فکر و عمل کے اِس تضاد میں ہم دونوں کی باہم دوستی اور قربت میں بنیادی کردار سلمان کی وسعتِ نظری اور وسعتِ قلبی کا رہا ہے۔
سلمان کی یہ خوبی تھی کہ وہ اختلافِ رائے کو (اگر عقلی بنیادوں پر ہو) بخوشی قبول اور تسلیم کر لیتا تھا۔ وہ کسی بھی نقطہِ نظر کا تنقیدی جائزہ عقلی بنیادوں پر کیا کرتا تھا۔ بارہا ایسا بھی ہوا کہ میں نے اُسے اپنے ہی مکتبہٴ فکر  کے افراد پر بھی تنقید کرتے ہوئے پایا۔ وہ ایک کھُلے دل کا انسان تھا جو حق بات کو تسلیم کرنے میں ذرہ برابر بھی دیر نہیں کرتا تھا۔ اُس کی تنقید افکار سے زیادہ اُن افکار کی بنیاد پر ظلم اور استحصال کرنے والوں پر ہوتی تھی۔ یہ بات غلط ہے کہ سلمان مذہب کے خلاف تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اُس کی تنقید مذہب میں موجود تفریق اور مختلف غیر منطقی و غیر عقلی دلائل و نظریات پر ہوا کرتی تھی۔ یہی ہمارا پہلا مشترکہ دکھ تھا کہ مذہب کو امن کا گہوارہ کہنے والے خود کسی ایسے مشترکہ نظریہ پر کیوں نہیں پہنچ سکتے جو امن کا باعث بن سکے۔
ہمارا دوسرا مشترکہ دکھ ریاست کے کردار سے متعلق تھا۔ ہمارا یہ عقیدہ و نظریہ ہے کہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ اپنے شہریوں کے حقوق اور فلاح کا بندوبست اور حفاظت کرے۔ گویا ہم دونوں ایک فلاحی ریاست کے پرچارک ہیں۔ ایسی ریاست جس میں ریاست کے حقوق کم اور فرائض زیادہ ہوں، جس میں ریاست خود وہ ایندھن ہو جس سے لوگوں کے چولہے جلیں، نا کہ شہری ریاست کا ایندھن بنیں۔
جن ریاستوں کا ارتکاز فرائض کی بجائے اپنے حقوق پر زیادہ ہو تو ایسی ریاستوں میں عوام ظلم، جبر اور استحصال کی چکی میں پِسنے پر مجبور ہوا کرتے ہیں۔ ہم دونوں اِس بات پر کُڑھتے تھے کہ یہ ملک (جسے بناتے وقت اِسکے بانیان نے ایک فلاحی ریاست کا خواب لوگوں کو دکھایا تھا) اپنے مقصدِ وجود کو کھو بیٹھا ہے۔ آج یہ ملک اپنی مظلوم عوام کے لیے ایک ایسی بھیانک حقیقت بن گیا ہے جہاں طاقت، اقتدار اور دولت چند مخصوص ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گئے ہیں۔ اور ظلم کی چکی میں پِسنے والی مظلوم عوام اگر اپنے حق کے لیے آواز بلند کرے تو اُس پر غدار، دین دشمن یا ایجنٹ کا لیبل لگا کر یا تو مار دیا جاتا ہے یا غائب کر دیا جاتا ہے۔
ایسی ہی ایک آواز سلمان حیدر کی تھی جسے گمشدگی کا لباس پہنا دیا گیا ہے۔ اور حسبِ روایت اب اُس کے لیے بھی دین دشمن اور غدار کے القابات صادر فرمائے جا رہے ہیںٓ سلمان کا اصلی جرم یہ ہے کہ اُس نے جانوروں کی طرح محض اپنی جبلتوں تک محدود رہ کر زندگی گزارنے سے انکار کیا۔ وہ یونیورسٹی کا پروفیسر تھا اور اُس کی اپنی ضروریات کے لیے اُس کی تنخواہ کافی سے بھی زیادہ تھی۔ اُس کا جرم یہ تھا کہ اُس نے اپنے نہیں بلکہ دوسروں کے حقوق اور بنیادی ضروریات کے لیے ریاست کے ظلم کے خلاف عَلمِ بغاوت بلند کیا۔ اُن تمام قوتوں کے خلاف عَلمِ بغاوت بلند کیا جو کہیں مذہب کی آڑ لے کر تو کبھی ریاست کے مفادات کی آڑ لے کر لوگوں کے بنیادی حقوق غصب کرتے ہیں۔
اُس کا جرم یہ تھا کہ وہ انسان تھا، جس نے حیوان بننے سے انکار کیا۔۔۔

#RecoverSalmanHaider

مزید پڑھیے : کچھ باتیں سلمان حیدر کی – عمران بخاری

Views All Time
Views All Time
3858
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   بلوچستان یونیورسٹی: ناہل انتظامیہ ، بے بس طلبہ | ظریف رند

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: