صدیوں کا بار | عماد قاصر

Print Friendly, PDF & Email

وجہِ تخلیقِ کائنات اور عالمین کے عظیم ترین عالم ؛ کہ جنہیں زندگی میں ہی بہشت و جہنم کی سیر تک کرائی گئی اور وہ کتاب نازل کی گئی کہ جس کے لیے خود ربِ کائنات نے فرمایا کہ اگر اسے کسی پہاڑ پر نازل کیاجاتا تو وہ ریزہ ریزہ ہو جاتا۔ تمام علوم کا سرچشمہ جن کی ذاتِ گرامی ٹھہری۔ ایسی ہستی نے بھی جب اللہ کے حضور دعا مانگی تو کہا "ربِ زدنی علما”۔ کیا سرورِ کونین کے پاس کسی زمینی یا آسمانی علم کی کمی تھی کہ خدا سے علم میں اضافے کی دعا مانگی؟ جو پہلی آیات آپ پر نازل کی گئیں وہ بھی علم و حصولِ علم سے متعلق تھیں۔ خاتم النبین نے اپنا تعارف بھی خود کو "علم کا شہر” کہہ کر کروایا۔ اپنے "اصحاب” کو یہودیوں تک سے علم حاصل کرنے کو کہا۔ کائنات کی سب سے برگزیدہ ہستی کہ جن کی تمام زندگی علم سے محبت اور علم بانٹنے میں گزری آج ان سے محبت اور "سنت” پر عمل کرنے کے دعوے دار اس بنیادی سنت "علم سے محبت” اور نبی کریم کے ارشاد "علم مومن کی گم شدہ میراث ہے جہاں سے ملے حاصل کر لو” سے بالکل بے بہرہ کیوں نظر آتے ہیں۔
کسی ظریف کا کہنا ہے کہ علم جس قدر کم ہو لہجے میں اعتماد اس قدر زیادہ ہوتا ہے۔ یوں اگر دیکھا جائے تو جوں جوں علم بڑھتا ہے عاجزی، انکساری اور یہ خیال کہ میں کچھ نہیں یا بہت کم جانتا ہوں ذہن میں تقویت پکڑتا ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ پیغمبر سمیت دین کی وہ برگزیدہ ہستیاں کہ جنہیں دنیا ہی میں جنت کی بشارت دی گئی، اب اپنے روزِ حساب کے نتیجے کا "علم” ہونے کے باوجود بھی ان ہستیوں نے اپنی عبادت و بندگی میں کوتاہی نہیں آنے دی یعنی علم نے تکبر کی بجائے بندگی بخشی۔
ہمارے آج کے اکثر "علماء” معلوم نہیں یہ لفظ کہنا بنتا بھی ہے یا نہیں، بہرکیف ان علماء کا تعلق خواہ کسی بھی مکتبہ فکر سے ہو اور کسی بات پر ان میں اتفاق ہو نہ ہو لیکن ایک قدر مشترک تمام میں پائی جاتی ہے کہ خود کو عقلِ کل گردانتے ہیں اپنی بات کو حرفِ آخر مانتے ہیں اور اپنے مقابلے میں کسی کو خاطر میں نہیں‌لاتے، گویا تکبر کی معراج پر ہیں۔ نبی کی سنت پر نہیں بلکہ خدا کی سنت پر عمل کرتے ہیں کہ تکبر صرف خدا کی ذات کو زیب دیتا ہے اور نبی کی سنت عاجزی اوربندگی ہے۔ خود کو عالمِ دین کہلوانے اور لکھوانے والے مکمل دین تو کجا صرف کسی ایک فرقے کے بارے میں مکمل آگہی نہیں رکھتے۔ کسی فتوے ،کتاب یا سند کو صرف جاری کرنے والے کے ” خاندانی نام” کو دیکھ کر رد یا قبول کیا جاتا ہے۔ کسی کا نام، حلیہ، شہر یا ملک نہیں پسند تو وہ عالم تو سرے سے ” short list” ہی نہیں‌ہوتے۔ مزید اگرکوئی کتاب کسی کی ذاتی لائبریری تک نہیں پہنچ سکی تو یہ اس عالم یا مکتبہ ء فکر کی اپنی قسمت۔
گزشتہ ایک دہائی سے "گوگل مفتیوں” کی بھی ایک کثیر تعداد "دین کی خدمت” میں مصروف نظر آتی ہے اور لوگوں کے ایمان و جنت و دوزخ کے فتوئے اپنے موبائل فون سے جاری کر دیے جاتے ہیں۔ ایسے مفتی ” اشکال و تصاویر” اور ڈائگرام ” جیسے ہتھیاروں سے بھی ہمہ وقت لیس ہوتے ہیں اور کسی بھی موقع کی مناسبت سے کوئی بھی تصویر ” accordingly amend” کر کے مناسب عبارت سے مزّین کر کے فوری فتویٰ تیار کر کے” دشمن ” کا منہ بند کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں ۔ جبھی تو بعض مواقع پر ایک ہی تصویر کبھی نیل کے ساحل کے عنوان سے پیش کی جاتی ہے اور بعد میں وہی کاشغر کی خاک کے طور پر نظر آتی ہے۔ چلیں اس حد تک تو علامہ اقبال کا خواب پورا ہوا۔ ویسے اللہ بہتر جانتا ہے انٹرنیٹ سے پیشتر ان مفتیوں کی گزر بسر کا کیا عالم ہوتا ہوگا۔
علم کا پہلا زینہ انسان تب طے کرتا ہے جب اسے احساس ہو کہ وہ کچھ نہیں یا کم جانتا ہے اور اسے مزید علم حاصل کرنا چاہیئے وگرنہ جو اس خیال سے مالا مال ہو کہ وہ حرفِ آخر ہے اور اسے مزید علم کی ضرورت ہی نہیں تو وہ کیونکر اپنا قیمتی وقت ضائع کرے۔ اور ظاہر گود سے گور تک علم کے حصول اور چین تک جانے والی احادیث تو پہلے ہی متنازعہ سمجھی جاتی ہیں کہ اس میں محنت کرنی پڑ سکتی ہے۔
قدیم فلسفیوں کا کہنا تھا کہ جب تک یہ ادراک نہ ہو کہ "the first thing to know is to know that you don’t know” کچھ نیا نہیں‌ سیکھا جا سکتا۔ سرفراز اے شاہ صاحب علم کے بارے میں سمجھاتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں‌ کہ اگر کوئی شخص کمرے میں‌ کھڑا ہے تو آس پاس پڑی چیزوں کے مقابلے میں اسے اپنا آپ بڑا نظر آئے گا، اب اگر وہی شخص کسی اسٹیڈیم میں کھڑا ہے اسے اپنا آپ نسبتاً چھوٹا محسوس ہوگا ، وہی شخص اگر کسی صحرا میں جا کھڑا ہو تو اب اسے اپنا وجود بہت ہی چھوٹا معلوم ہونے لگے گا کیونکہ ہرموقع پر اس کی حدِ نگاہ کا افق مختلف ہے اور وہ خود کو افق کے موازنے میں دیکھ رہا ہے۔ یہی حال علم کا ہے علم جس قدر کم ہوگا حامل خود کو اتنا ہی بڑا محسوس کرے گا یعنی حاملِ علم ہونے اور خود کو عالم سمجھنے میں ہمیشہ منفی تعلق "inverse relationship” ہوا کرتا ہے۔
میٹرک کے طالب علم کے لیے شاید تمام سائنس اس کے نصاب میں شامل فزکس، بائیولوجی اور کیمسٹری تک محدود ہے اور وہ نیوٹن کے Laws of motion پڑھ کر خود کو نیوٹن کے پائے کا سائنس دان سمجھنے لگتا ہے لیکن جب وہ تعلیم کی آگے کی منازل طے کرتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ میٹرک میں پڑھی گئی ان کتب کا ہر باب سائنس کی الگ شاخ ہے اور یوں وہ خود کو مکتب سے فارغ التحصیل ہو جانے کے باوجود طفلِ مکتب ہی سمجھتا ہے کہ یہی علم حاصل کرنے کی بنیادی کنجی ہے۔ کاش ہمارے علماء کسی طفلِ مکتب سے ہی کچھ سیکھ لیں اور اپنے دیدہ و دل پر پڑے صدیوں کے بار کو ہٹا کر دیکھیں تو شاید خدا اور انسان کو پا لیں۔ سعید احمد اختر کا شعر ان کی نذر:
ہمارے دیدہ و دل پر پڑے ہوئے پتھر
ہٹیں گے کیسے کہ صدیوں کا بار ہے ان پر

Views All Time
Views All Time
378
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   ھالیوم نعزی فاطمۃ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: