پہلے خود کو سمجھائیے

Print Friendly, PDF & Email

ikram-ul-haqہم اکثر جو باتیں دوسروں کو بہت آسانی سے سمجھا لیتے ہیں خود کو نہیں سمجھا پاتے۔ دوسروں کو ہر وقت زندگی کا خوبصورت چہرہ دکھانے والوں کی اپنی زندگی اکثر تلخیوں سے بھرپورہوتی ہے۔
خود کو دوسروں سے الگ تھلگ سمجھ کر اُن کے طرز زندگی پر تنقید اور اپنی طرز زندگی کی تعریف و تبلیغ کرنے والے عموماً ایک خیالی دنیا میں رہتے ہیں۔ جو اپنی زندگی کے تلخ حقائق سے گھبرا کر ہی خیالی دنیا کا رُخ کرتے ہیں۔
اس ہجرت کا بنیادی سبب مسلسل ناکامیوں سے جُڑا ہوا احساس جرم ہے جس کی بدولت متاثرہ فرد ان تلخیوں کی موجودگی کے باوجود ان سے مُنہ موڑے رکھتا ہے۔ اپنے طرز عمل میں تبدیلی لا کر ان ناکامیوں کو کامیابی میں بدلنے کی کوشش کرنے کی بجائے مسلسل دوسروں کو مُوردالزام ٹھہرانا اس کا محبوب ترین مشغلہ بن جاتا ہے۔
اپنی بُزدلی اور کم ہمتی کو چھپانے کے لیئے وہ کسی فلمی ہیرو کی طرح بڑھکیں لگانے میں مصروف رہتا ہے۔ کہ جو مسائل دوسروں کو درپیش ہیں اس کے نزدیک ان کی ذرہ برابر بھی اہمیت نہیں۔
اپنی آنکھیں بند کر کے وہ دوسروں کو بھی تلقین کرنے لگتا ہے کہ اپنی زندگی میں آسانی پیدا کرنے کے لیئے اسی کی طرح زندگی کے حقائق سے اپنی آنکھیں بند کرکے ایک خیالی دنیا کا راستہ اختیار کرلیا جائے جہاں ان تلخیوں کو معمول سے بھی کم درجہ دے کر انہیں دور کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے اس کی طرح نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔
احساس جرم کے مارے ہوئے کسی بھی فرد کے لیئے اس خیالی دنیا کا تصور کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہوتا۔ اور وہ اپنے جیسے کسی بھی مایوس فرد سے ایسی دنیا کا تصور ملتے ہی اس میں فوراً قدم رکھ کر زمینی حقائق سے اپنا ناتا توڑتے ہوئے اپنے تئیں ایک مطمئن زندگی گزارنے لگتاہے۔
لیکن یہ اطمینان بےحد مختصر ہوتا ہے کیونکہ خیالی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد اس فرد کے خاندانی اور معاشرتی رشتے تیزی سے شکست و ریخت کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنی بے عمل زندگی اور خیالی دنیا کی بدولت اپنے عزیز و اقارب کے لیئے ایک بوجھ اور درد سر بن جاتا ہے۔ اب وہ انہیں اٹھتے بیٹھتے زندگی خوشی سے گزارنے کی تلقین تو کرتا ہے لیکن وہ جن مسائل سے نبردآزما ہیں ان کے حل کے لیئے کوئی عملی تعاون پیش نہیں کرتا۔ الٹا ان کی کوششوں پر ان کا مذاق اڑاتا ہے اور ان کی بھاگ دوڑ کو ان کی کم عقلی قرار دینے لگتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں اس فرد کی تنہائی دن بہ دن بڑھنے لگتی ہے اور مزاج کی تلخی اور چڑچڑاہٹ بھی۔
ایسے افراد میں سے کچھ اپنے کتھارسس کے لیئے خودکلامی کی عادت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ چلتے پھرتے بڑبڑاتے اور بعض اوقات ہاتھ ہلاتے ہوئے کسی غیر مرئی مخلوق سے محو گفتگو دکھائی دیتے ہیں، جنہیں جلد ہی پاگل قرار دے کر فاؤنٹین ہاؤس میں داخل کروا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ اس بیماری کی سب سے بےضرر صورت ہے۔
جبکہ بیشتر افراد اپنی ناکامیوں کا غصہ اپنے خاندان اور عزیز و اقارب پر نکال کر سکون محسوس کرتے ہیں۔ جنہیں معاشرے میں عام طور پر بہت بااصول افراد بھی مانا جاتا ہے جو کسی بھی بات پر ٹوکے اور تنقید کیئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ یہ اپنے قریب رہنے والے ہر فرد کی زندگی میں مسلسل زہر گھولنے میں مصروف رہتے ہیں۔
جبکہ اس بیماری کی سب سے خوفناک شکل دور حاظرہ میں فیس بک دانشوری کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ جہاں کوئی بھی فرد معاشرے کو دن رات لعن طعن کر کے اپنے جیسے مایوسوں کی تعداد میں اضافہ کر کے اپنے احساس جرم کا کتھارسس کرسکتا ہے۔
جو فرد ایسی طرز زندگی کا پرچار کرے جس پر وہ خود عمل پیرا نہ ہو ۔ اور اگر ہو بھی تو وہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہو جن کا اعلان وہ برسرعام کرتا دکھائی دیتا ہے تو ایسے فرد کو دانشور کی بجائے انارکسٹ سمجھا جانا چاہیے۔

Views All Time
Views All Time
485
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   عشق | سبطین نقوی امروہوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: