یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

Print Friendly, PDF & Email

umme rubab کیا؟ایک ماں نے بیٹی کو زندہ جلا کے مار ڈالا؟یہ خبر ہر شخص نے شدید حیرت اور صدمے سے سنی۔بیٹی کا قصور جو بھی تھا زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ یہ قبیح فعل ایک عورت اور وہ بھی ماں ،اس کے ہاتھوں سرزد ہوا۔پھر تو ہر کسی نے اسے ڈائن،سنگ دل،جلاد صفت ماں،خوں آشام بلا،زہریلی ناگن،بھیڑیا نما عورت اور نہ جانے کن کن خطابات سے نوازا۔میں سوچتی رہی کہ اس قتل کے وقت اس عورت کی، اس ماں کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت کیا تھی؟اور ایسے کیا معاشرتی اور سماجی حالات تھے جنہوں نے اس عورت کو قتل جیسے سنگین جرم تک پہنچا دیا۔ کبھی مجھے خیال آتا کہ ہو سکتا ہے بیٹی پیدا ہونے پر اسے بھی طعنے دئیے گئے ہوں اور جب بیٹی نے اپنی مرضی سے شادی کر لی تو اسے بیٹی کی غلط تربیت کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا گیا ہو۔بہر حال یہ سب تو مفروضے ہیں لیکن ہوتا یہی ہے کہ ہمارے معاشرے میں جب کسی کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے تو اس کی پیدائش پر نہایت مرے مرے لہجے میں تعزیتی انداز میں مبارک باد دی جاتی ہے. چلو مبارک ہو،انشااللہ اگلی بار بیٹا ہو گایعنی اس بار جو غلطی تم سے سر زد ہو گئی اگلی بار یہ غلطی دہرانے کی کوشش نہ کرنا۔ اور اگر کوئی عورت یہی غلطی چار بار،سات بار یا نو بار دہراتی ہے تو اتنی بیٹیاں پیدا کرنے کے جرم میں اس کا کلیجہ طعنوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے۔ جو عورت بیٹا پیدا نہ کر سکے اس میں اور ایک بانجھ عورت میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ایسے کتنے ہی گھرانے ہیں جہاں عورت کو خاندان کا وارث پیدا نہ کرنے کے جرم میں طلاق ہو جاتی ہے یا دلوا دی جاتی ہے۔ اب ان عقل کے اندھوں کو کون سمجھائے کہ بیٹی پیدا کرنے کی قصور وار صرف یہی عورت نہیں اصل قصور وار تو مرد ہے۔ جب ایک بیٹی اس دنیا میں آتی ہے تو ابتداء ہی اسے یہ سننے کو ملتا ہے کہ بیٹیاں تو بوجھ ہوتی ہیں،بیٹیاں تو پرایا دھن ہوتی ہیں، یہ گھر تمہارا نہیں تمہارا اصل گھر تو تمہارے شوہر کا گھر ہے۔یہ سب باتیں بے شک اپنی جگہ سچ ہوں گی مگر بیٹی شادی سے پہلے اپنے والدین کے گھر میں جو سکھ پاتی ہے ایسی باتیں کر کر کے اس بیٹی سے اس کا وہ سکھ چین بھی چھین لیا جاتا ہے اور وہی بیٹی جب بیاہ کے اپنے گھر جاتی ہے اور ماں بنتی ہے اور ہمارے معاشرے کے حساب سے بد قسمتی سے صرف بیٹیوں کی ماں بنتی ہے تو اس کا وہ اپنا گھر بھی اس کا اپنا گھر نہیں رہتا۔ جوں جوں زمانہ ترقی کی منازل طے کر رہا ہے ہم جہالت میں مزید ترقی یافتہ ہو رہے ہیں۔زمانہء جاہلیت میں لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفنانے کا رواج تھا ہم نے انہیں مارنے کے نت نئے طریقے وضع کر لئے ہیں،تیزاب پھینک دو،گولی مار دو،زندہ جلا دو،ونی کر دو،قرآن سے شادی کر دو،بس کسی بھی طریقے سے اسے زندہ درگور کر دو۔ جب کہ ہمارا مذہب کہتا ہے کہ بیٹی خدا کی رحمت ہے،بیٹی پیدا ہو تو جنت کا ایک دروازہ کھل جاتا ہے۔بیٹیاں والدین کو عزیز ہوتی ہیں، کوئی ماں یا باپ انہیں مارنا یا جلانا نہیں چاہتا،یہ معاشرہ یہ ہم لوگ ہی ہیں جو ان کا دل جلاتے ہیں بیٹیوں کے طعنے دے دے کے انہیں جیتے جی مار دیتے ہیں،زندہ درگور کر دیتے ہیں اور انہیں اس نہج پر پہنچا دیتے ہیں کہ آخر کوئی ماں زینت کی ماں بننے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ زینت کی ماں بھی اپنی بیٹی کی جان لینے پر دکھی ضرور ہوگی، پشیمان ہو گی۔اپنی لاڈلی بیٹی کو اپنے ہاتھوں جلا کراس کے دل میں بھی ایک خلش ہو گی جو اسے بے قرار رکھتی ہو گی۔وہ بھی اپنے کئے پر یقیناشدید نادم و شرمندہ ہو گی۔

Views All Time
Views All Time
701
Views Today
Views Today
2
mm

ایک محنت کش خاتون ہیں۔ قسمت پر یقین رکھتی ہیں۔کتابیں پڑھنے کا شوق ہے مگر کہتی ہیں کہ انسانوں کو پڑھنا زیادہ معلوماتی، دل چسپ، سبق آموز اور باعمل ہے۔لکھنے کا آغاز قلم کار کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ اپنی بات سادہ اور عام فہم انداز میں لکھتی ہیں۔ قلم کار ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   اندھا قانون
mm

امِ رباب

ایک محنت کش خاتون ہیں۔ قسمت پر یقین رکھتی ہیں۔کتابیں پڑھنے کا شوق ہے مگر کہتی ہیں کہ انسانوں کو پڑھنا زیادہ معلوماتی، دل چسپ، سبق آموز اور باعمل ہے۔لکھنے کا آغاز قلم کار کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ اپنی بات سادہ اور عام فہم انداز میں لکھتی ہیں۔ قلم کار ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: