Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

گر اجازت ہو تو سانس لے لوں صاحب!

by جون 7, 2016 بلاگ
گر اجازت ہو تو سانس لے لوں صاحب!
Print Friendly, PDF & Email

womenہم نے برطانوی سامراج سے آزادی آسانی سے حاصل نہیں کی اس کے لیے جوانوں نے خون بہا ادا کیا ہماری ماؤں بہنوں نے اپنے آنچل قربان کیے ،نومولود بچے نیزوں پے چڑھ گئے اس میدان دشت میں بوڑھے بھی اترے
1857 کی جنگ آزادی مسلمانوں کے احیا و استقلال کی نشانی بنی بد قسمتی سے ہم یہ جنگ ہار گئےاور انگریزوں کے عتاب کا نشانہ بنے. دو قومی نظریہ کہ بانی سر سید احمد خان نے قوم کی بحالی کا بیڑا اٹھایا اور مسلم نشاۃِ ثانیہ کے لیے کام شروع کیا، سیاسی شعور کی روشنی میں مسلم لیگ 1906 میں قائم ہوئی. یوں طویل جدو جہد کا آ غاز برصغِیر کے طول و عرض میں پھیلتا چلا گیا جو قرار داد لاہور1940 کو کامیاب بنانے کاپیش خیمہ بنا بلاخر انگریزوں کو ہم کالوں پر رحم آ گیا اور 3 جون کا منصوبہ 1947 وا ئسراۓ لارڈ ماونٹ بیٹن کی قیادت میں تشکیل پایا _ او ر پھر پاکستان آزاد ہو گیا
تالیاں
کالج میں دیا گیا پہلا ڈیمو، اور بیحد پذیرائی، مگر اندر ہی اندر میرا دم گھٹنے لگا
ٹیکسٹ بک پڑھتے، رٹتے اب ایسا بھی وقت آیا کہ آج ہم بھی و ہی باتیں رٹو طو طے کی طر ح دہرانے لگے _
ایگریمنٹ سائن ہوا ،پہلا جھٹکا تب لگا جب یہ چیز میرے علم میں آئی کہ فی میل کی تنخواہ میل کی نسبت کم ہے حلانکہ تعلیمی قابلیت مساوی ہی تھی مگر تنخواہ فی میل کی ہی کم کیوں؟
استحصال کا لفظ جسے پڑ ھتے آۓ تھے پورے معانی کے ساتھ اب سمجھ میں آنے لگا تھا ، باغی خیالات ابھرے اور پھر ڈھیر ہو گئے
کالج کا پہلا دن ،پہلا پیریڈ ہی بوائز سیکشن میں تھا جو لارڈ ما و نٹ کی نا انصا فیوں کے ذکر سے شروع ہوا ،ا ور تقسیم ہند پر ہندو کا شدید رد عمل جن میں سرفہرست گاند ھی کے بقو ل یہ تقسیم ہی جھوٹ ہے میری روح اس کے خلاف بغاوت کرتی ہے.
ابو لکلام آزاد ،جو مسلمان تھے ،کہنے لگے میں بنیادی طور پر پاکستان کے حق میں نہیں
پٹیل کے مطابق ،یہ د یوا نے کا خواب ہے
کے بیان پہ ختم ہوا.
غرض پہلے دن کا پہلا لیکچرکامیاب رہا
اچانک کلاس کے باہر ایک سٹوڈنٹ آئی. میں کلاس سے باہر آئی اس نے ایک لسٹ میرے حوالے کی اور چلی گئی
مگر بوائز کی نظریں دور تک اس کا پیچھا کرتی رہیں ان کی ذومعنی مسکراہٹ کے مشاہدے نے مجھے افسردہ کر دیا
اور اس افسردگی نے غصے کی جگہ لے لی _اور یوں لگا ،جسے گا ند ھی ، پٹیل ،آزاد ہم پر ہنس رہے ہوں
گھنٹی بجی اور میں بوجھل سانسوں کے ساتھ باہر آ گئی با غی خیا لات پھر ا بھر ے مگر اس بار میں انھیں جھٹک نہ سکی _
ہم ذہنی سطح کے کس مقام پر کھڑ ے ہیں ،کیا ہم حقیقتا آزاد ہو گئے ہیں؟
.میری نظریں آئین پاکستان کے آرٹیکل 34،35 پر جم گئیں تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں.محض جنس کے نام پہ کوئی امتیاز نہیں ہو گا
تمام شعبوں میں عورتوں کی شمولیت یقینی بنانے کے اقدامات………مملکت شادی ،خاندان ، ما ں اور بچے کی حفاظت کرے گی
لفظ ‘حفاظت’ پر ،میرا ذہن اٹکا ، الجھا ،اور پھر ایک گہری یاسیت دل میں اتر گئی. اسلامیہ جہموریہ پاکستان میں عورتوں ،بچوں کے حقوق کی زمہ دار ریا ست کتنے حقوق پورے کر رہی ہے؟
کیا ایک عورت کو بنیادی شہر ی حقوق حاصل ہیں؟
76 کیسز صرف آگ سےجلا ئی جانے والی عورتوں کے ہیں
160 کیسز تیزاب سے جلا ئی جانے والی عورتوں کے ہیں
چھر ی ،چاقو کے وار سے ہلاکت کے بے شمار کیسز ،اور اکثر تو ان میں سے رپورٹ بھی نہیں ہوتے !کیا ہما رے لیے عورت صرف جنس ہے؟
ماریہ کو شادی سے انکار پر نام نہاد ْ غیرت کے ما رے مرد نے جلا دیا
یہ واقعہ پارلیمنٹ سے ڈ یڑ ھ گھنٹے کی دوری پر وقو ع پزیر ہوا، 85فیصد جسم جل گیا اور وه مر گئی _اسلامیہ جہموریہ پاکستان میں کسی کو فرق نہ پڑا ،عنبرین جلا دی گئی اور ہما رے منتخب نمائندو ں کی چپ نہ ٹوٹی _
یہ وہی پارلیمنٹ ہے ،جس میں حقوق نسواں بل،حقوق تحفظ نسواں بل منظور ہوئے اور عالمی سطح پر وا وا بٹوری گئی مگر اندر و ن خا نہ خواتین کا گھیراؤ ،مارو جلاؤ ستم جار ی ہے _یہاں کھبی شادی کرنے کے جرم میں ماری جاتی ہیں ،تو کھبی شادی سے انکار پر ماری جا تی ہیں_ نہ ہمار ے منتخب نمائندے بولتے ہیں نہ،ہمار ے مذہبی رہنما، جو کشمیر، فلسطین میں ہونے والے مظا لم پر تو آواز اٹھاتے ہیں، مگر اپنی قوم کی بٹیوں پر ٹو ٹنے والے مردانہ بیہمانہ مظالم کے خلا ف بولنے پر ان کے پاس ٹائم نہیں ہے _
کیا ہم وا قعی آزاد قوم کے باسی ہیں؟ جسمانی طور پر آزاد،مگر ذہنی طور پہ محکوم _
انگریز آقاؤں کے دور میں بھی عو ر ت اتنی ہی بے بس تھی اور آزادی کے اڑسٹھ سال بعد بھی اتنی ہی بے بس !
کل ہندو ،سکھ انگریز اسکی چادر نوچتے رہے ،تو آ ج اسکے اپنے ،باپ بھائی یا علا قے کے بااثر شریف لوگ اس کا استحصال کر رہے ہیں کل بھی عورت ننگی کردی جا تی تھی اور آج بھی عورت کو سر بازار ننگا کر کے مشق ستم ڈھایا جاتا ہے
اب تو ہم پر کسی انگریز لارڈ کی حکو مت نہیں ہے ،کوئی ہندو بنیا نہیں ڈرا رہا ،ہم اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے باشند ے ہیں پھر کیوں پاکستانی عورت ان سے نبرد آزما ہے جو اس کے حقوق کے ضامن ہیں؟
اصل میں عورت کو عا قل و بالغ سمجھا ہی نہیں گیا بلکہ اسے کمزور کم عقل مخلوق کا درجہ دے کر رسوائی اس کا مقدر کر دی گیٰ.
عا قل مرد یہ فتویٰ بھی دیتے ہیں اس میں وہ خو د ذمہ دار ہے.وہ باہر نکلتی ہی کیوں ہے ؟
فیکٹ اینڈ فگرز کو دیکھا جائے تو پاکستان میں ملک کی کل آ بآ دی کا 51فیصد عورتیں ہیں جبکہ مرد 49فیصد ،جس کے مطابق آ بادی کا زیادہ تر حصّہ بچو ں اور عورتوں پر مشتمل ہے تقریباََ ملک کی آ دھی آ بادی خواتین پر مشتمل ہے ،تو ٹھیک ہے…….. اس آ بآ دی کو گھربٹھا دو.
نہ گھر سے نکلے ،نہ تعلیم حاصل کرے ،گھر میں کمانے والا کوئی نہ ہو تو پیٹ پر پتھر باند ھ لے اور اگر ہو سکے تو سانس بھی آدھی لے ،بلکے مرے خیال میں تو اپنے مرد سے پوچھے
گر اجا زت ہو تو سا نس لے لوں صاحب!

Views All Time
Views All Time
541
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   قلم کار کے دو سال
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: