شہرِبُتاں

Print Friendly, PDF & Email

shehar e butanاسماء حسن ۔ہانک کانگ
وہ طلوعِ شام کوسجدہ کرنے کے منحرفی اورغروبِ آفتاب کی پرستش کےمنکرٹھہرے تھے۔۔۔ انہوں نے کسی نئے مسکن کی تلاش میں رختِ سفر باندھ لیا تھا۔۔۔وہ کُل”بائیس” تھے،جو پا پیادہ سفر کرتے ہوئے ایک ایسے جہانِ بُتاں میں داخل ہوئے،جس کے محلات وایوان سونا، چاندی کے ورق سے آراستہ تھے۔۔۔جہاں "صُم بُکم,عُمی” کے پہرے تھے۔خوابیدہ محل کے وہ لوگ جن کے ہونٹوں کو موٹی سوئی اوردھاگہ لےکرسی دیا گیا تھا۔۔جہاں زرخرید روحیں قیدِ با مشقت کاٹ رہی تھیں اور فرمانرواؤں کے پاؤں تلے دھرتی ماں بھی کانپ رہی تھی۔۔جب وہ وہاں پہنچے تھےتو زندہ لاشیں ادھر اُدھر گھوم رہی تھیں ۔۔ڈرے،سہمے اور مٹی میں اٹے چہروں نےجب انہیں دیکھا تو بھاگتے ہوئے،کسی نہ کسی اوٹ میں پناہ لینے لگے۔۔۔نہ توکسی نے ان پر پتھر اچھالے اور نہ ہی ان کے متحرک چُست قدموں کوزنجیرپہنائی گئ ۔۔ وہ آگے بڑھتے رہے تو زندہ لاشیں پیچھےہٹتی رہیں۔۔ ان کے سرخ وسفید چہروں پر کسی مہیب پرچھائی کا بسیرا صاف دکھائی دے رہا تھا۔۔
ان "بائیس”نے کچھ دور پہنچ کر ایک خاص مقام پرخیمے گاڑنے شروع کر دیئے تھے۔کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ ان کی دھرتی ماں پر قدم رکھنےکی لغزش میں کوئی ان سےجراتِ استفسار کرتا۔وہ کیلوں پرضرب لگاتے ہوئے خیمے گاڑتے چلے جا رہے تھے ۔ زوردار آوازیں لوگوں کے کانوں تک پہنچتیں تو وہ اپنی قوتِ سماعت سے محروم ہونے کی دعا کرنے لگتے ۔ان کے لئے اس سے زیادہ مناسب جگہ اور کوئی نہ تھی،جہاں سب کے ہونٹوں کے پیچھے قُفلِ ابجد کا سا راز پوشیدہ تھا۔جن کےھاتھ کٹے ہوئے تھے اور سیسہ پگھلا کران کی آنکھوں میں ڈال دیا گیا تھا۔۔ایسی زندہ لاشیں دیکھ کر وہ مطمئن ہو چلے تھے کہ وہ بالکل صحیح مقام پر ڈیرے ڈالنے والے ہیں۔شام گہری ہوتی چلی گئی اورآسمان پرسیاہ رات،کسی کالی ناگن کی طرح کنڈلی مارکر بیٹھ گئی۔ تاروں پر آزُردگی نے بُکل مارلی۔ ۔ہوکا ساعالم چاروں اور دکھائی دینے لگا ۔سب اپنے اپنے گھروں میں دُبک کر بیٹھ گئے ۔
لیکن ایک چودہ،پندرہ سال کا نوجوان خیموں کے سامنے والی کٹیا سے،غیض وغضب کےعالم میں انہیں دیکھ رہا تھا۔ ایسی ہی کالی رات کا ایک کرب ناک منظر،اس کی آنکھوں میں نقشِ جاوداں کی مانند ثبت تھا۔جس میں خون کی ہولی کھیلی گئی تھی۔جب اس کے”ابی”کو بڑی بےدردی سے گھسیٹا جا رہا تھا۔وہ اپنےابا کو پیارسے”ابی”بلایا کرتا تھا۔۔ باپ کا ہاتھ ابھی بیٹے کی انگلی تک ہی پہنچا تھا کہ اچانک "ابی” کو کچھ جانور نما ہاتھوں نے یوں گھسیٹا کہ رات کے آوارہ جانور بھی انسانی درندگی سے خوف زدہ ہو کر جھاڑیوں میں منہ چھپانے لگے۔ وہ "ابی ابی” پکارتا ہوا ان کے پیچھے بھاگتا رہا۔
مگر ! ظلم کی رفتار نے مظلومیت کو مات دے ڈالی تھی ۔۔
جب وہ گھر پہنچا تو اس کا چولا خون میں لت پت تھا۔اس کے ابی کو سزا ملی تھی،کالے پانی کی سی سزا۔وہ اماں کو کہا کرتا تھا کہ وہ کبھی اپنے لب نہیں سیئے گا۔
” نہیں اماں میں اپنے ہونٹ کبھی نہیں سیئوں گا۔میں بولوں گا،کبھی چُپ نہیں رہوں گا۔۔
تب وہ آخری باربولاتھا۔جب کانپتےہونٹوں سے اس نے”ابی”کا قصہ ماں کو بتایا تھا۔اس دن اس کی ماں نے اس کے ہونٹوں کو بھی موٹے دھاگے سے سی دیا ۔
وہ "بائیس”چور آنکھ سے اس "لڑکے” کو دیکھتے رہے۔جاڑے کی یخ بستہ ٹھنڈ ان کی رگ وپے میں سرایت کررہی تھی۔ محکوم فضا ان کے قدموں کو چھوتی ہوئی مُلتمسِ نو بہارتھی۔انہوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور چھوٹی چھوٹی لکڑیاں جمع کر کے آگ جلائی۔ دیکتےالاؤ کے گرد بیٹھے وہ، لکڑی کےچھوٹے،چھوٹے ٹکڑوں کو آگ کے سپرد کرتے تو ایک شعلہ سا بھڑک کر ان کے چہروں پر روشنائی بکھیر دیتا۔جوں جوں شعلہ بھڑکتا کوئی ان دیکھا خواب ان کی روح تک کو دہکانے لگتا۔نئی امنگیں جنم لیتیں اوران کا تخیل کسی بے کراں سمندر کی طرح ان کے اندر ٹھاٹیں مارنے لگتا۔آگ کے شعلوں سے اٹھنے والی چنگاریاں ان کے چہروں کو چھوتیں اور آسمان کی طرف پرواز کر جاتیں۔تیز ہوا،درختوں کے خشک پتوں اورڈالی سے بچھڑے پھولوں کو آگ کے بطن میں خودکشی کرنے پرآمادہ کر رہی تھی۔۔ مٹی کےننھےننھے ذرے ان کے چہروں سےٹکراتے اور دھرتی ماں کا قرض یاد کرواتے۔۔
دور بیٹھا وہ "لڑکا” بھی یہ سب تماشا دیکھتا رہا۔ اس کےہونٹوں پر لگی سلائیاں ادھڑنے لگیں ۔۔ چاند کی آنکھ میں دُبکی بیٹھی لالی باہر نکلنے لگی ۔ آسمان پر ستارہ صبح نمودار ہونے لگا،جس نے کالی بدلی کو اٹھا کر افق کے اُس پار پھینک دیا۔ ۔اُس نے علم اٹھایا اور لےجا کر،دیکتے الاؤ کے ساتھ گاڑ دیا۔ ان "بائیس”کےکان میں کوئی سرگوشی کی اور بھاگ کر کٹیا میں واپس چلا گیا۔
مدت کے بعد، صبح نے کھل کرانگڑائی لی تھی۔ موجِ شفق نےگھروں کےکونوں،کھدروں میں جھانکنےکی جسارت کی تولوگ خوفزدہ ہوکراٹھ بیٹھےاور ڈرے،سہمے ہوئےباہر نکلے،تو دیکھا کہ میدان پوری طرح صاف تھا اور خیمے اتار لئے گئے تھے ۔۔ وہاں صرف دہکتےکوئلوں کی آخری چنگاری باقی تھی ۔۔ آفتاب کی کرنیں چہارسُو پھیل رہی تھیں اور زندہ لاشوں پرمسکراہٹ پھیلا رہی تھیں۔ مگر وہ لوگ زندان خانے کے ایسے مقید تھے،جنہیں،صدیوں بعد سورج کی رفاقت کا موقع ملے تو وہ اس کی تمازت اور حدت کو برداشت نہ کرپائیں۔کوئےبتاں کے وہ مکین پہلے سے بھی زہادہ سہم گئے اوراپنےبچوں کی آنکھوں پرھاتھ رکھ کرکسی نہ کسی اوٹ میں پناہ لینے لگے۔ شائد وہ پھر سے جذبات فروشی کا سودا ہوتا دیکھنا نہیں چاہتے تھے ۔وہ انسانیت سوز درندگی کے پھر سے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔جہاں زندہ انسانوں کی کھالیں کھینچوا دی جاتی ہیں ۔جہاں حق بات کہنے کا خراجِ متخرفہ نہ جانے، کتنی دہائیوں تک ادا کرنا پڑتا ہے۔
سورج کی روشنی بڑھتی چلی جا رہی تھی مگر وہ لوگ،ہراساں و پریشان،ابھی بھی لات و منات جیسے بتوں کو پوچنے کے پابند تھے۔ جو سالہا سال اندھیروں کے پس منظر میں جیتے ہیں انہیں کیا معلوم کہ جب روشنی پھیلتی ہے تو معمولی سوراخ بھی پورے کمرے کوروشن کرسکتا ہے۔خوف اور دہشت کے مارے وہ لوگ،اپنے بچوں کے ہونٹوں کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط دھاگوں میں پرونے لگے۔۔ ۔گھروں میں موت کا ماتم روح قبض پونے سے پہلے ہی منایا جانے لگا۔۔ ان کے سامنے ٹنکے آئینوں میں مُردے نوحہ کناں تھے ۔۔ جن کے کفن بھی جگہ جگہ سے تار تار تھے ۔۔ وہ سب لوگ اس”لڑکے”کی طرف مشکوک نظروں سےدیکھ رہے تھے،مگر وہ دُبک کر بیٹھا رہا ۔۔
کچھ بینا و دانا نے اس کےہونٹوں کی اُدھڑی سلائی دیکھ لی تھی ۔۔۔
اسی اثنا میں دُور کہیں سے ایک آواز سنائی دی”میں گواہی دیتا ہوں”اور ساتھ ہی آواز دم توڑ گئی۔یہ سنتے ہی اس”لڑکے”کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔اس نے ہونٹوں کی سلائی کو پکڑ کر کچھ یوں اُدھیڑا،جیسے اس کے سامنے اس کے”ابی”کی کھال کو کھینچ کر اتار دیا گیا تھا ۔۔۔ ڈرے سہمے ہوئے شہر بُتاں والے محو حیرت تھے ۔۔ سکتہ کسی بھوت پریت کی طرح سایہ فِگن تھا۔۔ اس "لڑکے” نے گھر کی دہلیز سے باہر ننگے پاؤں قدم رکھ دیا تھا. وہ اس سمت بھاگنے لگا جہاں سے”میں گواہی دیتا ہوں”کی آوازیں مسلسل آرہی تھیں اور دم توڑتی چلی جا رہی تھیں ۔۔بائیسویں گواہی کے دم توڑتے توڑتے وہ "لڑکا” وہاں پہنچ چکا تھا۔۔ظالم سامراج قہقہے لگاتے ہوئے اپنی فتح کا جشن منا رہے تھے ۔۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ شائد اب کوئی گواہی باقی نہ رہی ہو۔مگر انہیں کیا معلوم کہ تئیسویں گواہی ابھی باقی تھی۔ فضا میں پھر سے ایک زوردار آواز گونجی تھی”میں گواہی دیتا ہوں "نشانہ باندھنےوالوں نےدیوانہ وار نشانےلگانےشروع کئے مگر کوئی نشانہ اپنی سمت متعین نہ کر سکا۔۔کیوںکہ آواز اب چاروں طرف سنائی دے رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھئے:   بی بی جی-سید حامد علی زیدی

بشکریہ محترم وحید قمر، عالمی افسانہ فورم

Views All Time
Views All Time
504
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: