Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

آئیڈیلز

by جولائی 25, 2016 کالم
آئیڈیلز
Print Friendly, PDF & Email

akram sheikh newقوموں کے آئیڈیلز ان کے حکمران ہوتے ہیں یا پھر وہ جنہیں حکمرانوں نے سیاسی اور معاشی ضرورتوں کے تحت آئیڈیلز بنا کر نصاب کا بنایا ہوتا ہے‘ یہ نصاب ہی اجتماعی معاشرتی رویوں کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا اور پھر فرد کے خوابوں کی تعبیر میں قوت متحرکہ ہوتا ہے‘ پاکستان بننے سے پہلے ہمارے آئیڈیلز مذہب کے نام پر جنگیں لڑنے اور زمینی فتوحات کرنے والے تھے- محمود غزنوی‘ شہاب الدین غوری‘ اورنگ زیب عالمگیر اور احمدشاہ ابدالی- غوری اور ابدالی کے نام پر تو ہم نے تباہ کن میزائل بھی بنائے ہیں جن سے دشمن کو ماضی یاد کرا کے مستقبل سے بھی خوفزدہ کیا جاتا ہے- پھر پاکستان بننے کے بعد ہمارے آئیڈیلز حکمران جنرل ایوب‘ جنرل یحی‘ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف تھے‘ اس دوران میں صرف ذوالفقار علی بھٹی ہی غیر فوجی حکمران آئے یہ الگ بات کہ ان کا انجام ’’فوجی انصاف‘‘ کے تحت ہوا‘ یاد رہے کہ اس دوران میں بے نظیر بھٹو اور نوازشریف کی کنٹرولڈ حکومتیں بھی کنٹرولڈ ڈیموکریسی کے تحت یا پھر وقت اور حالات کے علاقائی اور بین الاقوامی جبر کے تحت قائم ہوئیں‘ بینظیربھٹو کے پاس اپنے باپ کا سیاسی ورثہ تو تھا مگر عملیت پسندی بھی تھی جس کی بنا پر اقتدار کی مصلحت پسندی کے اجزا بھی تھے پھر بھی وہ اپنے ورثہ کی بنا پر قابل قبول اور قابل برداشت نہیں ہوئیں تو باآاخر انہیں منظر سے ہٹا دیا گیا- ان کے بالمقابل نوازشریف کی شخصیت اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں تخلیق ہوئی‘ دلچسپ بات ہے کئی بار کی گستاخیوں اور بے ادبیوں کے باوجود وہی سرفراز ہوئے انہیں اولین ترجیح دی گئی-اگرچہ آجکل ایک اور ایسی ہی شخصیت کی تشکیل و تخلیق کا سلسلہ جاری ہے‘ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ پس پردہ حکمران طبقوں کو صاحب بصیرت‘ فہم و فراست کے ساتھ سیاسی شعور‘ علاقائی اور عالمی سیاسی‘ معاشی ترجیحات کا ادراک رکھنے والی کسی شخصیت کی ضرورت نہ تو کل تھی اور نہ ہی معروضی صورت حالات میں اب ہے- ورنہ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کو منظر سے ہٹانا مجبوری نہ بنتا‘ ان کی جگہ ایک تاجر اور اب ایک کھلاڑی کی سیاسی تربیت ہوتی اور نہ ہی ان کی شخصیت کو کرشماتی بنانے کی کوشش ہوتی اور یہ اس انپڑھ‘ جاہل اور ماضی پرست عوام کے آئیڈیلز ہوتے اور نہ ہی یہ اس مجبور‘ محروم اور بے بس عوام کے‘ جن کے پاس صرف خواب دیکھنے کے سوا کوئی سہارا نہیں رہا‘ یہ خوش قسمت حکمران ان کے راہبر وراہنما ہوتے- یاد رہے کہ ان کے پاس راہنمائی کی تو ایک بھی چنیدا صلاحیت نہیں‘ البتہ یہ عوام کے جذبات و احساسات پر ’’راہزنی‘‘ کا ہنر ضرور جانتے ہیں‘ اسی لئے تو قابل قبول ہیں اور انہیں منظر سے ہٹا کر بھی پھر سامنے لے آیا جاتا ہے-
بہرحال دوستو….. تاریخ کی یہ صداقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ حکمران کا کوئی مذہب کوئی نظریہ نہیں ہوتا‘ محض حکومت اور حکمرانی کا استحکام اور تسلسل ہوتا ہے مذہب اور نظریئے محض ہتھیار ہوتے ہیں جو بوقت ضرورت استعمال ہوتے ہیں جس کی بہترین مثال ہمارے دو حکمران ضیاء الحق اور پرویز مشرف ہیں ضیاء الحق نے وقت اور ضرورت کے تحت مذہب کو اقتدار کے تحفظ کی خاطر استعمال کیا- اس حوالے سے ان کا آئیڈیل مغل بادشاہ اورنگ زیب تھا‘ جنرل مشرف آئے تو دنیا اور علاقائی ترجیحات میں تبدیلی کا آغاز ہوچکا تھا اس لئے روشن خیالی کا نعرہ بلند کیا گیا‘ لیکن عملی اور فکری سطح پر کوئی اقدام نہیں ہوا کتوں کے ساتھ تصویر کی تشہیر کرکے دنیا اور عوام کو بے وقوف بنایا گیا ورنہ کسی روشن خیالی اور کیسی تبدیلی؟؟ کیسا آئیڈیل ازم؟؟ محض اقتدار اور اس کا استحکام تھا- ہمیں ان کے چشم تر سے جانے کے مناظر سے ’’محمود غزنوی‘‘ کا زندگی سے ناتہ توڑنے توڑنے کا تاریخ فرشتہ میں لکھا ہوا وقت اور اس کے مناظر بھی یاد آتے ہیں‘ وہ خزانے کو دیکھ کر دھاڑیں مار مار کر روتا رہا تھا-
یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی سیاسی تاریخ میں صرف بادشاہت اور ملوکیت ہے جمہوریت اور جمہوری رویے اور برداشت نہیں‘ بادشاہی اور اس کے استحکام کے لئے ’’فرامین‘‘ ہوتے تھے‘ مشاورت بھی محض وقتی اور عارضی ہوتی تھی فیصلہ بہرحال بادشاہ کے پاس ہی ہوتا تھا-
جو چاہے اس کا حسن کرشمہ ساز کرے
اسے حکمرانوں کی خواہش اور اجتماعی رویہ بھی کہا جاتا ہے جو مسلمان حکمرانوں کو تاریخی‘ تہذیبی اور ثقافتی ورثہ میں ملا ہے‘ مزید یہ کہ ’’ملائیت‘‘ نے بھی اس کو مفادات کے تحت تحفظ فراہم کیا ہے ایک تلخ حقیقت تو اس تناظر میں یہ بھی ہے دنیا میں سب سے زیادہ بادشاہت اور ملوکیت مسلمان ملکوں میں ہے جہاں براہ راست نہیں وہاں بالواسطہ ایسی ہی حکومتیں اور حکمران موجود ہیں‘ پاکستان کی سیاسی تاریخ اور حکومتی نظام میں بھی ایسے مناظر نمایاں ہیں ابھی تک ان کا حصار کمزور نہیں ہوا بلکہ ان کے اردگرد فلک بوس فصیلیں بن گئی ہیں جن کے ساتھ سر تو ٹکرائے جاسکتے ہیں لیکن انہیں توڑا نہیں جاسکتا تاوقتیکہ کوئی زلزلہ آئے اور ان فصیلوں میں دراڑیں پڑ جائیں‘ امید کی مشعلیں اندر جھانکیں اور ان دراڑوں کو داخلی راستے بنائیں لیکن افسوس کہ فکری بے سمتی اور الجھن نے یہ راستے ہموار نہیں ہونے دیئے اور قوم اجتماعی کنفیوژن کا شکار چلی آ رہی ہے-

Views All Time
Views All Time
352
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سیاست میں سوال تو ہوتے ہیں بابا
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: