Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

آئیڈیلز تیسرا حصہ

by جولائی 29, 2016 کالم
آئیڈیلز تیسرا حصہ
Print Friendly, PDF & Email

akram sheikh newحکومتوں اور حکمرانوں کے سیاسی اور سماجی رجحانات اجتماعی قومی رویوں پر اثرانداز ہو کر اس کی پہچان اور شناخت کی تخلیق میں اہم اور بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ آج پاکستانیوں کی جو بھی عالمی شناخت ہے وہ اسی کا عکس ہے۔ یعنی اگر ایک طرف انتہاپسندی کا تذکرہ ہے تو دوسری طرف موقع پرستی اور ریاکاری کی باتیں ہوتی ہیں تو اس کی ذمہ داری حکومتوں اور حکمرانوں کی ترجیحات پر عائد ہوتی ہے جنہیں سیاسی مفادات کے تحت اپنایا گیا تھا‘ عوام کے بارے اس تاثر کو حکمرانوں کے عمل و کردار کا آئینہ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ پرانی بات ہے جب کہا جاتا تھا‘ جیسے عوام‘ ویسے حکمران‘ وقت اور حالات کی نئی حقیقت اس کے برعکس ہے‘ جیسے حکمران ویسے عوام……بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔
لیکن دوسری طرف ایک اور حقیقت ہے کہ عوام حکمرانوں کو آئیڈیلائز کرتے ہیں جو انہیں پسند ہوتے ہیں اپنے بچوں کے نام انہی سے وابستہ کردیتے ہیں‘65ء کی پاک بھارت جنگ میں پاکستانی صدر ایوب خان اور وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو بہت ہی نمایا ں ہوئے تھے عوام نے اپنے بچوں کے نام ایوب رکھے‘ ذوالفقارعلی بھٹو بعد میں پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم بھی بنے انہوں نے جمہوریت کی بنیاد بھی رکھی ‘ ملک میں مساوات پر مبنی معاشی نظام کا نعرہ بھی بلند کیا اور اس کے لئے کوششیں بھی شروع کیں وہ غریبوں اور محنت کشوں میں بہت مقبول ہوئے‘ انہوں نے اپنے بچوں کے نام ذوالفقاراور بھٹو بھی رکھے۔ لیکن چونکہ یحییٰ خان کے زمانہ میں مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا تھا اس لئے وہ عوام کی ناپسندیدگی کا شکار ہوگئے۔ ضیاء الحق ایک مخصوص مکتبہ فکر کے پسندیدہ تھے جو انتہاپسند رویے کا داعی اور حامی تھا۔ چنانچہ اس مکتبہ فکر کے لوگوں نے اپنے بچوں کے نام معاویہ اور یزید رکھے جبکہ پہلے عمومی رویہ میں ایسا نہیں تھا۔ اس کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو اور نوازشریف سیاسی میدان میں آئے۔ بینظیربھٹو‘ ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بھی تھیں اور ان کے ساتھ ایک جدوجہد بھی جڑی ہوئی تھی چنانچہ اس دور میں بہت ساری لڑکیوں کا بینظیر کی صورت ظہور ہوا‘ نوازشریف چونکہ ضیاء الحق کی سرپرستی میں عروج کی راہوں پر چلے تھے‘ اس لئے وہ براہ راست عوام کو متاثر نہیں کرسکے جس سے عوام کی جمہوریت پسندی کا واضح اظہار ہوا اور یہ بھی ثابت ہوا کہ عوام نے جمہوریت مخالف یا پھر غیر جمہوری قوتوں کو کبھی پسند نہیں کیا۔
لیکن اس بات میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ضیاء الحق کے زمانہ سے جو مفاد پرستی اور موقع پرستی آغاز ہوئی تھی وہ وقت کے ساتھ آگے بڑھتی ہوئی سمای رویوں اور اخلاقیات پر بھی اثرانداز ہوئی‘ سیاستدانوں اور حکمرانوں کی جو نئی کھیپ تیار کی گئی وہ فکری اور نظریاتی اساس سے دور محض اور محض مفاد پرستی کا اثاثہ لے کر ہی آگے بڑھتی رہی۔اسی کا نتیجہ ہے کہ آج کا معاشرہ کرپشن اور بدعنوانی کی بدترین تصویر بنی ہوئی ہے دنیا ہمیں انتہاپسند اور موقع پرستوں کی اولین صف میں کھڑا دیکھتی ہے۔
اس تناظر میں ایک اور تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ حکومتوں‘ حکمرانوں کے ان سیاسی اور اخلاقی رویوں کی ترویج نے ادبی اور فکری تحریکوں کو بھی متاثر کیا‘ مختلف اور متضاد مباحث کو جنم دے کر معروض کو نئی سمت دینے کی کوشش ہوئی‘ ادب برائے زندگی کو تبدیل کرکے فکر برائے مفادات کے نظریے کی ترویج بھی ہوئی اور اس کی ریاستی اور حکومتی سرپرستی بھی ہوئی۔ ادیبوں‘ شاعروں اور مفکروں کے کردار بھی تبدیل ہوئے اور آئیڈیلز بھی۔ کوئی فیض احمد فیض‘ احمد ندیم قاسمی‘ ناصر کاظمی‘ فراز اور منیر نیازی بننے کے لئے جدوجہد میں شامل نہیں ہوا ہر کوئی میڈیا کا ادیب اور دانشور بن کے سستی شہرت کی دوڑ میں شامل ہوگیا‘ ایسی ہی صورت حالات خواتین کی تھی‘کوئی زہرہ نگاہ فہمیدہ ریاض‘ کشور ناہید‘ پروین شاکر اور نسرین انجم بھٹی بننے کے لئے اس صف میں شامل نہیں ہوئی‘ کسی نے قراۃ العین اور خاتون کو آئیڈیلائز نہیں کیا۔
بہرحال…….تاریخ‘ تہذیب اور ثقافت کے بھی معاشرتی رویو ں پر اثرات ہوتے ہیں عوام ان سے بھی آئیڈیلز تلاش کرتے ہیں ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے تو تاریخ کو بھی اپنی خواہشوں کا غلام بنا کر اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا اور وہ جو عوام کے پسندیدہ ہیرو تھے جنہیں فوک دانش نے بھی قبول کیا تھا۔ راجہ پورس‘ دلا بھٹی‘ احمد خان کھرل‘ نظام لوہار کو نظرانداز کرکے حملہ آوروں کو ہیرو بنا کر پیش کیا ان کا کردار مزاحمتی تھا وہ اپنی دھرتی کی حفاظت کرتے ہوئے قربان ہوئے تھے۔ شاہ حسین اور بلھے شاہ کو بھی پس پردہ دھکیلا گیا کہ وہ اپنے وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تھے اور ان کا پیغام ہر عہد کی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جدوجہد کی تدریس کرتا ہے‘ صرف اور صرف اسٹیبلشمنٹ کی حامی قوتوں کو ہر منظر میں نمایاں کیا جاتا ہے۔ یہی وہ متضاد منظرنامہ ہے جس میں عوام کی کسی کو آئیڈیلائز کرنے کی صلاحیت ہی معدوم ہو رہی ہے تو وہ خوش ہیں جن کے مقاصد پورے ہورہے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
296
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ’’ٹوٹے خوابوں کی کرچیوں سے زخمی روحیں‘‘
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: