برف

Print Friendly, PDF & Email

aamir

نوٹ: بهجن کمار ابهی جوان ہے ، اس نے یہ تصویر اپنی وال پہ پوسٹ کی ، میں بس 102 بخار میں تپ رہا ہوں کل سے اور کافی دیر سے شاید سرسامی کیفیت ہے اور ذهن جن خیالات کی آمجگاہ بنا ہوا انهیں باہر لانے کو دل کررہا ہے اگرچہ سکرین پہ نظریں جمانا ‘کارے دارد ‘ ہے اور سر درد سے پهٹا جاتا ہے لیکن میں پہلی بار تو ایسے بخار سے دوچار نپیں ہوا ، اور نہ ہی دل کی آواز سے مجبور ہوکر یہ سب لکهنے والا ہوں ، لیکن ایک فرق ہے کہ ماضی میں جب اس کیفیت سے دوچار ہوا تو اس زمانے میں یہ فیس بک نہیں تهی تو جو لکها جاتا وہ مری الماری کے اندر ہی محفوظ ہوجاتا تها لیکن اب یہ پہلی بار ہونے جارہا ہے کہ براہ راست میں فیس بک وال پہ لکه رہا ہوں ، تصویر مجهے پسند آگئی پے اور اس چہرے کے غم و اندوہ اور آنسو سے بنی لیکر مرے دل کی عکاس بن گئی ہے اور شعر مجهے پسند نہیں آیا تو اسے کاٹ دیا میں نے ، کئی تصویریں اور کئی مناظر ہیں جو اس دوران مرے ذهن کی سکرین پہ وقفے وقفے سے زرا دیر کو پیدائش نو کے عمل سے گزرتے ہیں اور پهر غائب ہوجاتے ہیں ….

ارے یہ کیا کہ ‘قرص شہر میں گیا وہ شاعر جسے اس کی شاعری سے زیادہ اس کی رپورٹنگ کی بنیاد پہ راندہ درگاہ قرار دے دیا گیا تها بس میں بیٹها تو اس کے ذهن پہ پہلے ‘برف ‘ اتری اور پهر شاعری اترنے لگی تهی اور شاعری کے سارے رنگ اس کے ‘بے دینی ‘ برش کے ساته نقش و نگار بنانے میں مصروف تهے ، وہ اپنی بے دینی کے ساته ‘انسانیت پسندی ‘کی بات منظوم کرنے میں لگا تها اور اس نے قرص شہر میں لڑکیوں کی خودکشی کے پیچهے چهپی رمز کو پالیا تها اور وہ اس صوفی سے کہیں زیادہ اچها تها جو اپنے بے ریش مرید خوبصورت لڑکے کے ساته اغلام بازی کا مرتکب ہوکر اسے بوقت عصر ذکر خفی اور بوقت فجر ‘زکر بالجہر ‘ کا درس دینے میں لگا ہوتا ہے اور وہ اس ‘قصائی ‘ خلیفہ نما صدر سے بهی بہت بہتر تها جو کلمہ طیبہ پڑھ کر مقبوضہ کردستان میں آگ برسا رہا تها اور ساته ‘کوبانی ‘میں جہادی سیکس انڈسٹری کو پروان چڑهارہا تها اور اسے ہزاروں میل دور بنگلہ دیش میں بنگالی عورت پہ اپنی نام نہاد مرادنگی کی مہر لگانے والے ‘مطیع جنس ‘کی پهانسی تڑپانے میں لگی ہوئی تهی جبکہ اس نے اپنے ملک اور پڑوس میں لاکهوں لوگوں کو بے گهر کرنے میں اہم کردار ادا کیا تها …… مجهے اس شاعر سے ہم دردی ہے جو قرص شہر میں اپنی سابق محبوبہ سے ملتا ہے مگر پرانی محبت کو دریافت کرنے کی بجائے وہ وہاں حجاب پہننے والی لڑکیوں کی خودکشی اور ذهن میں ‘منظوم ملحد برفباری ‘کے طوفان میں گهر کے رہ جاتا ہے ، ایک عجب سی برفاب نظم اس پہ اترتی ہے جس میں اداسی بهی سرد سی ہے اور جذبات پوری طرح سے بهڑک کے بهی برفانی تپش دے رہے ہیں اور وہ اس نظم کے اندر اس سابق کمیونسٹ کو دیکهتا ہے جو اب قرص شہر کا مئیر بنا ہوا ہے اور اپنے ‘کمیونسٹ ماضی ‘کو ایک بهیانک خواب قرار دیتا ہے
بغداد کی شہرزاد یہاں کیا کررہے ہیں ؟ قرص شہر سے باہر لیجانے والی ہر قسم کی ٹرانسپورٹ بند ہے ، میں تو یہاں محصور ہوں تو یہ یہاں کیا کرنے آگئی ہے ؟ شاعر سوچتا ہے اور پهر جہاں سارے ملحد ، بے دین ، لاادری اور لادین قرار دئیے گئے سیکولر مسلمان اکٹهے ہوتے ہیں اس تهیڑ میں اسے شہر زاد پهر دکهائی دیتی ہے ، وہ آج ‘کافرانہ لباس ‘میں ہے ، جینیز اور هاف بازو کی قمیص اس کے بدن پہ بہت سج رہی تهی ، لیکن یہ کیا کہ یہاں رندوں میں کوئی ایک بهی تو نہیں جو اس کی ڈریسنگ کو کسی خاص کوڈ کے تابع کرنے کی بات کررہا ہو
تم یہاں کیسے شہر زاد ؟
یہ ‘کوڑھ ‘ ڈرامہ میں ہی تو کررہی ہوں …… تو کیا ‘وہ ‘یہاں بهی پہنچ گیا ہے ؟ اس نے بے اختیار پوچها
کیا تمہیں یہاں نظر نہیں آرہا ……. شہر زاد نے سوال کیا
دیکهو تو سہی یہ کوڑھ تمہیں یہاں کے مئیر ، خطیب ، داروغہ ، مفتی ، اسکول ماسٹر ، فوجی افسر اور انتیلیجنس کے ہر چهوٹے بڑے کے بدن کو کهاتا ملے گا ، یہ سب کوڑهی ہوگئے ہیں اور ان سے وہ تعفن اٹهتا ہے کہ مرا سر پهٹا جاتا ہے ، آج ٹرانسپورٹ کهلے میں اگلے لمحے میں قرص چهوڑدوں
لیکن لیکن …. وہ شاعر کچھ کہنا چاہتا تها لیکن اس کے حلق میں جیسے کانٹے پڑ گئے ہوں ، زبان سوکه گئی اور اس کی آواز ہی نہ نکل سکی اور وہ لبوں پہ ہاته پهیر کے رہ گیا
ڈائریکٹر ڈرامہ اس دوران اس کی میز پہ چلتی ہوئی آتی ہے ….. مرا نام ‘عادیہ ‘ ہے اور تمہارا ….
میں ؟ مرا کوئی اپنا نام تو ہے نہیں ، میں تو ‘پامک ‘کے ناول کا ایک کردار ہوں اور تم مجهے کوئی بهی نام دے لو اور ہاں یہ تم اسقدر ‘دهندلی ‘کیوں ہو
میں دهندلی نہیں …. دراصل میں برف کے سفید گالوں نے تمہیں ہی دهندلادیا ہے
یہ ٹرانس سیکسچوئل ہے ……. شہرزاد سرگوشی کرتی ہے
شاعر اسے ایسے سنتا ہے جیسے یہ معمول کی بات ہو اور کہتا ہے تو پهر کیا ہوا
شہرزاد سٹپٹاجاتی ہے
وہ قبر دیکهی تم نے جس پہ کل رات گلاب کی پتیاں بہت تهیں اور ایک تصویر لگی تهی جس سے تهوڑی دور ایک بچہ بیٹها ہوا قبر کے درمیان ایسے تک جارہا تها جیسے وہ قبر کے اندر کسی کو تلاشنے میں لگا ہو ….. میں بهی ایک تازہ قبر کے سرہانے کهڑا تها یہ وہی ‘حجابی لڑکی ‘کی قبر تهی جو کل ‘خود کشی ‘کرگئی تهی ، قرص میں یونیورسٹی میں پڑهتی تهی بہت ذهین تهی نجانے کیسے اپنے خاتمے کا فیصلہ کربیٹهی تهی …. میں پهر تصویر لگی قبر کی جانب متوجہ ہوا ، ایک نوجوان عورت دبلی پتلی سی جو کالے برقعے میں خود کو چهپائے ہوئے تهی اور بس اس کا تهوڑا سا چہرہ اور اس پہ خوب روشن آنکهیں جن میں اداسی کے گہرے ڈورے دوڑ رہے تهے اور اسے یک
لخت ایسے لگا جیسے اندر قبر میں موجود شخص اس عورت کا سنگی ہو اور یہ اداسی کے ڈورے اس سے جدائی کی علامت تهے ،اتنے میں ایک نوجوان دوسری عورت وہاں پہ آتی ہے اور کہنے لگتی ہے …… سر !ایسے بهی کوئی جلدی سے رخصت ہوتا ہے جیسے آپ ہوگئے ……. اداسی میں ڈوبی وہ حجابی عورت انگلی کو ہونٹ پہ رکهکر آنے والی نوجوان عورت کو خاموش ہونے کا اشارہ کرتی ہے ….. میں اس سے باتیں کررہی ہوں تم ہمارا انہماک مت توڑو …….
شاعر ابهی اس منظر میں گم تها کہ اتنے میں کسی نے اس کے کندهے پہ پیچهے سے ہاته رکها ،اس نے پیچهے مڑکر دیکها …… ارے آپ یہاں کہاں ؟ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا
کیوں تم جو آئے ہو یہاں تو تم جیسا کوئی اور نہیں آسکتا ؟ آنے والے نے سوال کیا
اس نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا اور تاڑ لیا کہ شاعر کہاں دیکه رہا ہے
وہ ایک ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ کی قبر ہے ، یہ شخص وہاں دارالحکومت میں بڑی اچهی نوکری کررہا تها کہ پهر نجانے اسے کیا ہوا اور قرص آگیا اور یہاں اس نے ہر مذهبی بلعم باعور کو چیلنج کردیا اور آج سے پندرہ روز پہلے اس چهپر ہوٹل کے سامنے مارا گیا ، وہ عورت اس کی بیوی ہے اور جو بچہ نیچے بیٹها قبر کو ٹکٹکی بانده کر دیکهے جاتا ہے اس کا بیٹا ہے اور وہ جو عورت بعد میں آئی ہے قرص کی ایک سیٹھ فیملی کے بڑے اخبار کی ویب سائٹ کے بلاگز سیکشن کو دیکهتی ہے
اس نے ایک سانس میں یہ سب کہہ ڈالا
تو کس نے مارا اسے
واہ تم بهی کمال کرتے ہو ، کب سے ہو قرص میں تم ………سبهی جانتے ہیں لیکن کہتے نہیں ، یہ قاتلوں کا نام لیتا تها اسی لیے مارا گیا …… تو اب کوئی نہیں لے گا نام کیا ؟ ہاں اب صرف وہ لیتے ہیں جو سوشل میڈیا پہ اصل ناموں سے نہیں ہیں یا قرص سے بہت دور بیٹهے ہیں ….. وادی خموشاں میں بنی قبروں میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے ……. ویسے تمہیں کیا پڑی تهی کہ جرمنی چهوڑ کے یہاں قرص میں چلے آو …….. ویسے شہرزاد بهی بغداد سے یہاں آئی ہوئی ہے …… اس سے میں نے کہا تها کہ وہاں کوڑھ موصل سے آگے رمادی تک سب کچھ گلا کر سڑا گیا ہے اور تم اسے کرنے یہاں آگئی ہو تو کہنے لگی کہ میں نے سوچا جہاں اس کوڑه کے شکار چند ہیں ان کے سامنے فکشن میں اس کی مکمل تباہی کو تصویر کردوں تاکہ یہ یہیں رک جائے
کامریڈ ! مری ایک نظم پهنس گئی ہے برف کے طوفان میں اور نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہی
شاعر نے اس سے کہا
یہاں تو پورا قرص شہر ہی برف کے طوفان میں پهنسا ہوا ہے یہ نکلے گا تو تمہاری نظم بهی نکل آئے گی …. اس نے جواب دیا
یہ سنکر شاعر کی آنکهوں کے سامنے یک لخت اندهیرا سا چهاگیا ، قبریں اور ان پہ کهڑے وجود غائب ہوگئے اور اس کو واپس اورحان پامک کے ناول ‘برف ‘ میں پناہ لینا پڑگئی

Views All Time
Views All Time
850
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   محبت میں شرکت کون برداشت کر سکتا ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: