Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ابن انشاء کے مضامین

by فروری 15, 2017 ادب, صفحہ اول, مزاح
ابن انشاء کے مضامین
Print Friendly, PDF & Email

کبوتر

کبوتر بڑے کام کا جانور ہے۔ یہ آبادیوں میں جنگلوں میں، مولوی اسمعیل میرٹھی کی کتاب میں غرض یہ کہ ہر جگہ پایا جاتا ہے ۔ کبوتر کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ نیلے کبوتر ۔ سفید کبوتر ، نیلے کبوتر کی بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ نیلے رنگ کا ہوتا ہے سفید کبوتر بالعموم سفید ہی ہوتا ہے۔ کبوتروں نے تاریخ میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں۔

شہزادہ سلیم نے مسماة مہر النسا کو جب کہ وہ ابھی بے بی نورجہان تھیں ۔ کبوتر ہی تو پکڑایا تھا جو اس نے اڑا دیا اور پھر ہندوستان کی ملکہ بن گئی۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس سارے قصے میں زیادہ فائدے میں کون رہا؟ شہزادہ سلیم؟ نورجہاں؟ یا وہ کبوتر؟ رعایا کا فائدہ ان دنوں کبھی معرض بحث میں نہ آتا تھا۔

پرانے زمانے کے لوگ عاشقانہ خط وکتابت کے لئے کبوتر ہی استعمال کرتے تھے۔اس میں بڑی مصلحتیں تھیں۔ بعد میں آدمیوں کو قاصد بنا کر بھیجنے کا رواج ہوا تو بعض اوقات یہ نتیجہ نکلا کہ مکتوب علیہ یعنی محبوب قاصد ہی سے شادی کر کے بقیہ عمر ہنسی خوشی بسر کر دیتا تھا۔

چند سال ہوئے ہمارے ملک کی حزب مخالف نے ایک صاحب کو الٹی میٹم دے کر وائی ملک کے پاس بھیجا تھا۔ الٹی میٹم تو راستے میں کہیں رہ گیا۔ دوسرے روز ان صاحب کے وزیر بننے کی خبر اخباروں میں آ گئی۔ طوطے کے ہاتھ یہ پیغام بھیجا جاتا تو یہ صورت حال پیش نہ آتی۔

پیاسا کوا

ایک پیاسا کوے کو ایک جگہ پانی کا مٹکا پڑا نظر آیا۔ بہت خوش ہوا لیکن یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ پانی بہت نیچے فقط مٹکے کی تہہ میں تھوڑا سا ہے۔ سوال یہ تھا کہ پانی کو کیسے اوپر لائے اور اپنی چونچ تر کرے۔

اتفاق سے اس نے حکایات لقمان پڑھ رکھی تھی پاس ہی بہت سے کنکر پڑے تھے اس نے اٹھا کر ایک ایک کنکر اس میں ڈالنا شروع کیا۔ کنکر ڈالتے ڈالتے صبح سے شام ہوگئی۔ پیاسا تو تھا ہی نڈھال بھی ہو گیا۔

مٹکے کے اندر نظر ڈالی تو کیا دیکھتا ہے کہ کنکر ہی کنکر ہیں۔ سارا پانی کنکروں نے پی لیا ہے۔ بے اختیار اس کی زبان سے نکلا ہت ترے لقمان کی۔ پھر بے سدھ ہو کر زمین پر گر گیا اور مر گیا۔

اگر وہ کوا کہیں سے ایک نلکی لے آتا تو مٹکے کے منہ پر بیٹھا بیٹھا پانی کو چوس لیتا۔ اپنے دل کی مراد پاتا۔ہر گز جان سے نہ جاتا۔

اکبر بادشاہ

آپ نے حضرت ملا دو پیازہ اور بیربل کے ملفوظات میں اس بادشاہ کا حال پڑھا ہو گا، راجپوت مصوری کے شاہکاروں میں اس کی تصویر بھی دیکھی ہوگی، ان تحریروں اور تصویروں سے یہ گمان ہوتا ہے، کہ بادشاہ سارا وقت داڑھی گھٹوانے، مونچھیں تراشوائے، اکڑوں بیٹھا پھول سونگھتا رہتا تھا یا لطیفے سنتا رہتا تھا، یہ بات نہیں اور کام بھی کرتا تھا۔

اکبر قسمت کا دھنی تھا، چھوٹا سا تھا کہ باپ بادشاہ ستارے دیکھنے کے شوق میں کوٹھے سے گر کر جاں بحق ہو گیا اور تاج و تخت اسے مل گیا۔

ایڈورڈ ہفتم کی طرح چونسٹھ برس ولی عہدی میں نہیں گزارنے پڑے۔ ویسے اس زمانے میں اتنی لمبی ولی عہدی کا رواج بھی نہ تھا، ولی عہد لوگ جونہی باپ کی عمر کو معقول حد سے تجاوز کرتا دیکھتے تھے اسے قتل کرکے، یا زیادہ رحم دل ہوتے تو قید کرکے، تخت حکومت پر جلوہ افروز ہو جایا کرتے تھے، تاکہ زیادہ سے زیادہ دن رعایا کی خدمت کا حق ادا کر سکیں۔

بابر

بابر شاہ ثمر قند سے ہندوستان آیا تھا، تاکہ یہاں خاندان مغلیہ کی بنیاد ڈال سکے، یہ کام تو وہ با احسن و خوبی اپنے وطن میں بھی کرسکتا تھا، البتہ پانی پت کی پہلی لڑائی میں اس کی موجودگی ضروری تھی، یہ نہ ہوتا تو وہ لڑائی ایک طرفہ ہوتی، ایک طرف ابراہیم لودھی ہوتا دوسری طرف کوئی بھی نہ ہوتا، لوگ اس لڑائی کا حال پڑھ پڑھ کر ہنسا کرتے۔

یہ بادشاہ تزک لکھتا تھا، ٹوٹے پھوٹے شعر بھی کہتا تھا، پیشنگوئیاں بھی کرتا تھا، کہ عالم دوبارہ نیست اور دو آدمیوں کو بغل میں داب کر دوڑ بھی لگایا کرتا تھا، ظاہر ہے اتنی مصروفیتوں میں امور مملکت کیلئے کتنا وقت نکل سکتا تھا۔

شراب بھی پیتا تھا، یاد رہے، اس زمانے کے لوگوں کو مذہبی احکام کا ایسا پاس نہ تھا، جیسا ہمیں ہے، کہ محرم کے عشرہ کے دوران میں شراب کی دوکانیں بند رہتی ہیں، کسی کو پینی ہو تو گھر میں بیٹھ کر پئیے، کابل کو بہت یاد کرتا تھا، وہیں دفن ھوا، اس زمانے میں کابل شہر اتنا گندہ نہیں ہوتا تھا جتنا آجکل ہے۔

سوالات:

1۔ بابر نے خاندان مغلیہ کی بنیاد کیوں رکھی، خاندان تغلق یا خاندان موریا کی کیوں نہیں؟

2۔ اگر پانی پت کی پہلی لڑائی میں بابر کے علاوہ ابراہیم لودھی بھی شریک نہ ہوتا تو اس کا کیا نتیجہ ہوتا؟

بھارت

یہ بھارت ہے، گاندھی جی یہیں پیدا ہوئے تھے، لوگ ان کی بڑی عزت کرتے تھے، ان کو مہاتما کہتے تھے، چنانچہ مار کر ان کو یہیں دفن کر دیا اور سمادھی بنا دی، دوسرے ملکوں کے بڑے لوگ آتے ہیں تو اس پر پھول چڑھاتے ہیں، اگر گاندھی جی نہ مرتے یعنی نہ مارے جاتے تو پورے ہندوستان میں عقیدت مندوں کیلئے پھول چڑھانے کی کوئی جگہ نہ تھی

یہی مسئلہ ہمارے یعنی پاکستان والوں کے لئے بھی تھا، ہمیں قائدِ اعظم کا ممنون ہونا چاہئیے کہ خود ہی مرگئے اور سفارتی نمائندوں کے پھول چڑھانے کی ایک جگہ پیدا کردی ورنہ شاید ہمیں بھی ان کو مارنا ہی پڑتا۔

بھارت بڑا امن پسند ملک ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ اکثر ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اس کے سیز فائر کے معاہدے ہوچکے ھیں،1956 میں ہمارے ساتھ ہوا اس سے پہلے چین کے ساتھ ہوا۔

بھارت کا مقدس جانورگائے ہے ، بھارتی اس کا دودہ پیتے ہیں، اسی کے گوبر سے چوکا لیپتے ہیں، اور اس کو قصائی کے ہاتھ بیچتے ہیں، اس لئیے کیونکہ وہ خود گائے کو مارنا یا کھانا پاپ سمجھتے ہیں۔ آدمی کو بھارت میں مقدس جانور نہیں گنا جاتا۔

بھارت کے بادشاہوں میں راجہ اشوک اور راجہ نہرو مشہور گزرے ہیں۔ اشوک سے ان کی لاٹ اور دہلی کا شوکا ھوٹل یادگار ہیں، اور نہرو جی کی یادگار مسئلہ کشمیر ہے جو اشوک کی تمام یادگاروں سے زیادہ مضبوط اور پائیدار معلوم ہوتا ہے ۔

راجہ نہرو بڑے دھر ماتما آدمی تھے، صبح سویرے اٹھ کر شیر شک آسن کرتے تھے، یعنی سر نیچے اور پیر اوپر کرکے کھڑے ہوتے تھے، رفتہ رفتہ ان کو ہر معاملے کو الٹا دیکھنے کی عادت ہوگئی تھی، حیدر آباد کے مسئلہ کو انہوں نے رعایا کے نقطہ نظر سے دیکھا۔

یوگ میں طرح طرح کے آسن ہوتے ہیں، نا واقف لوگ ان کو قلابازیاں سمجھتے ہیں، نہرو جی نفاست پسند بھی تھے دن میں دو بار اپنے کپڑے اور قول بدلا کرتے تھے۔

پاکستان

حدود اربعہ پاکستان کے مشرق میں سیٹو ہے، مغرب میں سنٹو، شمال میں تاشقند اور جنوب میں پانی یعنی جائے مفر کسی طرف نہیں۔

پاکستان کے دو حصے ہیں، مشرق پاکستان اور مغربی پاکستان یہ ایک دوسرے سے بڑے فاصلے پر ہیں، اس کا اندازہ اب ہورہا ہے۔ دونوں کا اپنا اپناحدود اربعہ بھی ہے۔

مغربی پاکستان کے شمال میں پنجاب ، جنوب میں سندھ ، مشرق میں ہندوستان اور مغرب میں سرحد اور بلوچستان ہیں، یہاں پاکستان خود کہاں واقع ہے اور واقع ہے بھی نہیں اس پر آج کل ریسرچ ہورہی ہے۔

مشرقی پاکستان کے چاروں طرف آج کل مشرقی پاکستان ہی ہے۔

دین الہی

دینیات کی طرف اکبر کے شغف کو دیکھتے ہوئے وزیر با تدبیر ابوالفضل نے اس کے ذاتی استعمال کیلئے دین الہی ایجاد کر دیا تھا اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس کے پہلے خلیفہ کی ذمہ داریاں خود سنبھال لی تھیں۔

چڑھتے سورج کی پوجا کرنا اس مذہب کا بنیادی اصول تھا، مرید اکبر کے گرد جمع ہوتے تھے اور کہتے تھے کہ اے ظل الہی تو ایسا دانا و فرزانہ ہے کہ تجھ کو تاحیات سربراہ مملکت یعنی بادشاہ وغیرہ رہنا چاہیئے۔

اس کے نام کا وظیفہ پڑھتے تھے، اور اس کی تعریف میں وقت بے وقت بیانات جاری کرتے رہتے، پرسشتں کی ایسی رسمیں آج کل بھی رائج ہیں، لیکن ان کو دین الہی نہیں کہتے۔

ایک دعا:

یا اللہ کھانے کو روٹی دے پہننے کو کپڑا دے رہنے کو مکان دے عزت اور آسودگی کی زندگی دے

میاں یہ بھی کوئی مانگنے کی چیزیں ہیں؟ کچھ اور مانگا کر بابا جی آپ کیا مانگتے ہیں؟ میں؟ میں یہ چیزیں نہیں مانگتا میں تو کہتا ہوں اللہ میاں مجھے ایمان دے نیک عمل کرنے کی توفیق دے۔

بابا جی آپ ٹھیک مانگتے ہیں انسان وہی چیز تو مانگتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی۔

ہمارا ملک:

ایران میں کون رہتا ہے؟ ایران میں ایرانی قوم رہتی ہے؟ انگلستان میں کون رہتا ہے؟ انگلستان میں انگریز قوم رہتی ہے؟ فرانس میں کون رہتا ہے؟ فرانس میں فرانسیسی قوم رہتی ہے؟

یہ کون سا ملک ہے؟ یہ پاکستان ہے اس میں پاکستانی قوم رہتی ہوگی؟ نہیں اس میں پاکستانی قوم نہیں رہتی ؟ اس میں سندھی قوم رہتی ہے اس میں پنجابی قوم رہتی ہے اس میں بنگالی قوم رہتی ہے۔

اس میں یہ قوم رہتی ہے اس میں وہ قوم رہتی ہے لیکن پنجابی تو ہندوستان میں بھی رہتے ہیں؟ سندھی تو ہندوستان میں بھی رہتے ہیں؟ بنگالی تو ہندوستان میں بھی رہتے ہیں؟ پھر یہ ملک الگ کیوں بنایا تھا؟

غلطی ہوگئی معاف کردیجئے، آئندہ نہیں بنائیں گے؟

پانی پت

پانی پت میں اس وقت تک صرف ایک لڑائی ہوئی تھی پانی پت والوں کا اصرار تھا ایک اور ہونی چاھئیے، چناچہ اکبر نے پہلی فرصت میں بہیروبنگاہ کے ساتھ ادھر کا رخ کیا۔

ادھر سے ہیموں بقال لشکر جرار لے کر آیا، اس کے ساتھ توپیں بھی تھیں اور ہاتھی بھی تھے، ایک سے ایک سفید گھوڑا ، گھمسان کا رن پڑا، ہیموں کی جمعیت زیادہ تھی، لیکن الکبری لشکر نے تابڑ توڑ حملے کرکے کھلبلی مچادی۔

بعض ہمدردوں نے اس کے جدی وطن سے پیغام بھجوایا کہ تم اور ہیموں دونوں یہاں تاشقند آؤ، صلح کرائے دیتے ہیں، لیکن اکبر نہ مانا۔

ہیموں ایک ہاتھی کے ہودے میں بیٹھا روپے آنے پائی کاحساب لکھ رہا تھا کہ اس لڑائی کا مال غنیمت فروخت کرکے کس کاروبار میں پیسہ لگایا جائے، ناگہاں ایک تیر قضا کا پیغام لے کر اس کی آنکھ میں آن لگا اور وہ بے سدھ ہو کر گر گیا، بقال کو ہم تاریخ کا پہلا موشے دایان کہہ سکتے ہیں۔

ادب کی سرپرستی

انارکلی ایک کنیز تھی جس کی وجہ سے شہزادہ سلیم کا اخلاق خراب ہونیکا اندیشہ تھا۔ اکبر نے اسے دیوار میں چنوا دیا، ایک مصلحت اس میں یہ تھی کہ سید امتیاز علی تاج اپنا معرکہ آرا ڈرامہ لکھ سکیں اور اردو ادب کے ذخیرے میں ایک قیمتی اضافہ ہوسکے۔

درباری شاعری نظیری نیشا پوری نے ایک بار کہا کہ میں نے لاکھ روپے کا ڈھیر بھی نہیں دیکھا، بادشاہ نے ایک لاکھ خزانے سے نکلوا کر ڈھیر لگا دیا۔

جب نظیر اچھی طرح دیکھ چکا تو روپے واپس خزانے میں بھجوا دئیے، نظیری دیکھتے کا دیکھتا رہ گیا۔

اصل میں نظیری یہ حرکت خانخاناں کے ساتھ پہلے بھی کر چکا تھا، خانخاناں نے شاعر کی نیت کو بھانپ کر کہہ دیا تھا کہ اچھا اب یہ ڈھیر تم اپنے گھر لے جاؤ، لیکن اکبر ایسا کچا آدمی نہ تھا۔

اکبر کی حکمت عملی

اکبر میں تعصب بالکل نہ تھا خصوصا شادیوں کے معاملہ میں کچھ ریاستیں فوجوں سے فتح کیں، باقی راجاؤں کی بیٹیوں کو اپنے حرم میں اور ان کے علاقوں کو اپنے سلطنت میں شامل کر لیا۔

آج کل کے سیٹھ اور مل مالک جو ایسا کرتے ہیں، تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔

برکات حکومت غیر انگلشیہ عزیزو بہت دن پہلے اس ملک میں انگریزوں کی حکومت ہوتی تھی اور درسی کتابوں میں ایک مضمون برکات حکومت انگلیشہ کے عنوان سے شامل رہتا تھ۔

اب ہم آزاد ہیں، اس زمانے کے مصنف حکومت کی تعریف کیا کرتے تھے، کیونکہ اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا، ہم اپنے عہد کی آزادی اور قومی حکومتوں کی تعریف کریں گے۔

اس کی وجہ بھی ظاہر ہے۔ عزیزو انگریزوں نے کچھ اچھے کام بھی کئے ہیں، لیکن ان کے زمانے میں خرابیاں بہت تھیں، کوئی حکومت کے خلاف بولتا تھا یا لکھتا تھا تو اس کو جیل بھیج دیتے تھے، اب نہیں بھیجتے۔

رشوت ستانی عام تھی، آج کل نہیں ہے، دکاندار چیزیں مہنگی بیچتے اور ملاوٹ بھی کرتے تھے، آج کل کوئی مہنگی چیزیں نہیں بیچتا، ملاوٹ بھی نہیں کرتا، انگریزوں کے زمانے میں امیر اور جاگیردار عیش کرتے تھے، غریبوں کو کوئی پوچھتا نہیں تھا اب پوچھتے ہیں تو وہ تنگ آجاتے ہیں، خصوصا حق رائے دہندگی بالغاں کے بعد سے ۔

تعلیم اورصنعت و حرفت کو لیجئے، ربع صدی کے مختصر عرصے میں ہماری شرح خواندگی اٹھارہ فی صد ہوگئی، غیر ملکی حکومت کے زمانے میں ایسا ہوسکتا تھا؟

انگریز شروع شروع میں ہمارے دستکاروں کے انگوٹھے کاٹ دیتے تھے، اب کارخانوں کے مالک ہمارے اپنے لوگ ہیں، دستکاروں کے انگھوٹے نہیں کاٹتے ہاں کبھی کبھی پورے دستکار کو کاٹ دیتے ہیں۔

آزادی سے پہلے ہندو بنیے اور سرمایہ دار ہمیں لوٹا کرتے تھے، ہماری خواہش تھی، کہ یہ سلسلہ ختم ہو اور ہمیں مسلمان بنیے اور سیٹھ لوٹیں، الحمد اللہ کہ یہ آرزو پوری ہوئی۔

جب سے حکومت ہمارے ہاتھ میں آئی ہے ہم نے خاصی ترقی کی ہے۔ خاص برآمدات دو ہیں، وفود اور زرمبادلہ، درآمدات ہم گھٹاتے جارہے ہیں، ایک زمانہ میں تو خارجہ پالیسی تک باہر سے درآمد کرتے تھے ، اب یہاں بننے لگی ہے۔

خانخاناں

خانخاناں کا خطاب ذوالفقار الدولہ کا تھا، اکبر کا سب سے کم عمر وزیر تھا، ذہین اور خوش تقریر، اکبر اسے بہت عزیز رکھنے لگا اور باہر کی ولایتوں سے ہر طرح کی معاملت اس کے سپرد کر رکھی تھی۔

ٹوڈر مل کو یہ بات پسند نہ آئی کیونکہ خانخاناں کامیلان مہاراجہ سام گڑھ کے بجائے فغفور چین کی طرف زیادہ تھا، آخر نو رتنوں کے حلقے سے نکلوا کر دم لیا۔

کہتے ہیں کہ پانی پت کی دوسری لڑائی کے سلسلے میں بھی بادشاہ سے خانخاناں کے اختلافات ہو گئے تھے، اکبر ہیموں بقال سے صلح پر آمادہ تھا، خانخاناں اس کا مخالف تھا۔

خانخاناں کو یہ بھی پسند نہ تھا کہ امرا بڑی بڑی جاگیروں پر قابض ہوں، یا علما جائدادیں بنائیں، اس لئے دربار کے علما بھی اس سے ناراض ہوگئے تھے، اور اس کے عقائد میں نقص نکالنے لگے تھے۔

خانخانان نے بد دل ہو کر پرچم بغاوت بلند کیا تو لاکھوں لوگ اس سے آملے لیکن ان میں روسا اور خاندانی امیر بہت کم تھے، زیادہ تر عام طبقے کے آدمی تھے۔

خانخاناں اپنا دربار پیپل کے ایک درخت کے نیچے لگاتا تھا، اس لئے اس کے حامی بھی پیپل والے مشہور ہوئے۔

رامائن

رامائن رام چندر جی کی کہانی ہے، یہ راجہ وسرتھ کے پرنس آف ویلز تھے لیکن ان کی سوتیلی ماں کیکی اپنے بیٹے بھرت کو راجا بنانا چاھتی تھی اس کے بہکانے پر راجا وسرتھ نے رام چندر جی کوچودہ برس کے لئے گھر سے نکال دیا۔

ان کی رانی سیتا کو بھی ان کے بھائی لچھمن بھی ساتھ ہو لئیے بن باس کے لئے نکلتے وقت رام چندر جی کے پاس کچہ نہ تھا، بس ایک کھڑاواں تھی، وہ بھی بھرت نے رکھوائی کہ آپ کی نشانی ہمارے پاس رہنی چاہئیے۔

اس کھڑاواں کو بھرت تخت کے پاس بلکہ اوپر رکھتا تھا تاکہ رام چندر جی کا کوئی آدمی چرا کے نہ لے جائے۔ جنگل میں رہنے کی وجہ سے ان کو گزارے میں چنداں تکلیف نہ ھوتی تھی رام جی تو آخر رام جی جی تھے، زیادہ کام ان کا لکشمن یعنی برادر خود کیا کرتے تھے۔

یہ لوگ گن گن کر دن گزار رہے تھے کہ کب بارہ برس پورے ہوں اور کب یہ واپس جاکر راج پاٹ سنبھالیں اور رعایا کی بے لوث خدمت کریں۔

ایک روز جب کہ رام اور لکشمن دونوں شکار کوگئے ھوئے تھے لنکا کا راجا آیا اور سیتا جی کو اٹھا کر لے گیا۔ اس پر رام چندر جی اور راون میں لڑائی ھوئی۔

گھمسان کا رن پڑا جیسا کہ دسہرے کے تہوار میں پڑتا آپ نے دیکھا ہوگا۔ ہنومان جی اور ان کے بندروں نے رام چندر جی کا ساتھ دیا اور وہ راون اور اس کے راکشسوں کو مار کر جیت گئے اور پرانے خیال کے ہندو اسی لئے بندروں کی اتنی عزت کرتے ہیں، ان کو انسانوں پر ترجیح دیتے ہیں۔

فعل دیگر

فعل کی بنیادی قسمیں دو ہیں، جائز فعل، ناجائز فعل، ہم صرف جائز فعل کے افعال سے بحث کریں گے، کیونکہ قسم دوئم پر پنڈت کو آنجہانی اور جناب جوش ملیح آبادی مبسوط کتابیں لکھ چکے ہیں۔

فعل کی دو قسمیں فعل لازم اور فعل متعدی بھی ہیں، فعل لازم وہ ہے جو کرنا لازم ہو، مثلا افسر کی خوشامد، حکومت سے ڈرنا، بیوی سے جھوٹ بولنا وغیرہ۔

فعل متعدی عموما متعدی امراض کی طرح پھیل جاتا ہے ایک شخص کنبہ پروری کرتا ہے، دوسرے بھی کرتے ہیں، ایک رشوت لیتا ہے، دوسرے اس سے بڑھ کر لیتے ہیں، ایک بناسپتی گھی کا ڈبہ پچیس روپے میں کردیتا ہے دوسرا گوشت کے ساڑھے بارہ روپے لگاتا ہے، لطف یہ ہے کہ دونوں اپنے فعل متعدی کو فعل لازم قرار دیتے ہیں۔

ان افعال میں گھاٹے میں صرف مفعل رہتا ہے، یعنی عوام ، فائل کی شکایت کی جائے تو فائلیں دب جاتی ہیں۔

فعل ماضی ماضی میں کسی شخص نے جو فعل کیا ہو اسے فعل ماضی کہتے ہیں، کرنے والا عموما اسے بھولنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن لوگ نہیں بھولتے۔

ماضی کی کئی قسمیں مشہور ہیں، سب سے زیادہ شاندار ماضی ہے، جس قوم کو اپنا مستقبل ٹھیک نظر نہ آئے وہ اس صیغے کو بہت استعمال کرتی ہے۔

ایک ماضی شکیہ ہے جن لوگوں کا ماضی مشکوک ہو وہ ماضی شکیہ ذیل میں آتے ہیں عموما ہاتھوں لئے جاتے ہیں۔

ماضی شرطی یا ماضی تمنائی جن لوگوں نے ریس میں یا تاش پر شرطیں بدل بدل کر اپنا ماضی تباہ کیا ہو ان کے ماضی کو شرطی کہتے ہیں، چونکہ ان لوگوں کی تمنا ہوتی ہے کہ اور پیسے آئیں تو انکو بھی ریس میں لگائیں اور اس لئے شرطی اور تمانئی دونوں ماضیاں ساتھ ساتھ آتی ہیں۔

اس کی دو اور قسمیں ہیں ماضی قریب اور ماضی بعید ، ماضی کو حتی الوسع قریب نہ آنے دینا چاہیئے، جتنی بعید رہے گی اور جتنے اس پر پردے پڑے رہیں گے، اتنی ہی بھلی معلوم ہوتی ہے، ماضی کا بعید رہنا مستقبل کیلئے بھی اچھا ہے۔

لفظ اور صیغے پرانے زمانے میں تذکیر و تانیث کے قاعدے مقرر تھے، قاعدہ یاد ہوتو لباس اور بالوں وغیرہ سے پہچان ہوجاتی ہے، اب مخاطب سے پوچھنا پڑتا ہے، کہ تو مذکر ہے یا مونث اور بتا تیری رضا کیا ہے؟اس کے بعد اس سے صحیح صیغے میں گفتگو کرتے ہیں یا ایران ہوتو اس کے ساتھ صیغہ کرتے ہیں۔

بہت سے واحد ایک جگہ اکھٹے ہوں تو جمع کے صیغے میں آجاتے ہیں، جمع کے صیغے میں تھوڑی احتیاط ضروری ہے خصوصا جن دنوں شہرمیں دفعہ 144 لگی ہوتی ہے، ان دنوں جمع نہیں ہونا چاہئیے، واحد رہنا ہی اچھا ہے۔

Views All Time
Views All Time
452
Views Today
Views Today
4
یہ بھی پڑھئے:   کشمیر کے بغیر پاک۔بھارت مذاکرات نہیں ہوں گے۔ سرتاج عزیز
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: