چلتے ہو تو چین کو چلیے-ابن انشاء

Print Friendly, PDF & Email

اپریل کے مہینے کی چوبیسویں تھی اور اتوار کا روز کہ ہم علی الصبح دیوار چین کی زیارت کو روانہ ہوئے۔ یہ پیکنگ سے کوئی پچیس تیس میل کی دوری پر ہے اور چین کا لاکھوں مربع میل علاقہ اسکے شمال میں پھیلا ہے۔ اب سے بائیس تئیس سو برس پہلے جب یہ بنی تھی اسکا مقصد شمال سے تاتاریوں کے حملے کو روکنا تھا۔ تحقیق کہتی ہے جہاں تہاں دیواریں تو مختلف حکمرانوں نے پہلے ہی کھڑی کر رکھی تھیں۔

ہاں شہنشاہ اول چن شہ ہوانگ تی نے 214 ق م میں انکو مربوط کیا۔ ان پر برج بنائے اور دھوئیں کے سگنل دینے کا طریقہ رائج کیا جو اسکے پائیہ تخت سیان سے نظر آ سکیں۔ چین والے اپنی زبان میں اسکو دس ہزار میل لمبی دیوار کہتے ہیں لیکن فی الحقیقت یہ ڈیڑھ ہزار میل کے لگ بھگ ہے۔

کہیں یہ پندرہ فٹ اونچی ہے کہیں پچاس فٹ، کچھ حصہ بڑی اینٹوں سے بنا ہے کچھ پتھروں سے، دیوار کے زیادہ تر حصے کیساتھ ایک بیرونی خندق بھی کھدی دکھائی دیگی۔ یہ ڈیڑھ ہزار میل کا تسلسل بھی ٹوٹ گیا ہے کہیں سے ریل دراتی گزرتی گئی ہے کہیں سڑک بن گئی ہے۔ کہیں امتدار زمانہ نے شکست و ریخت کا عمل کیا ہے لیکن جھاں سے ھم نے اسے دیکھا اور اس پر چڑھے وھاں سڑک اسے کاٹ کر نھیں بلکہ اس کے نیچے سے گزرتی ہے ۔

سیڑھیاں چڑھ کے آپ ایک برج پر پھنچے ہیں جس پر چھت بھی ہے وھا سے چڑھائی شروع ہوئی ہے اور فرش اینٹوں کا ہے۔ یہ اینٹوں کا فرش بعد کا معلوم ہوتا ہے کیونکہ چودھویں و سولھویں صدی میں بھی اس کی مرمت ہو چکی ہے۔ بایں ھمہ نیچے کے آثار ضروردو ھزار برس سے زیادہ پرانے ہوں گے۔

یھاں سیر کو آنے والوں کا ھمیشہ ھجوم رھتا ہے اور اتوار کو بالخصوص زیادہ تر لوگ ریل سے آتے ہیں اور ریل کے سٹیشن سے جو غالباً میل بھر دور ہے ، پیدل اس کے بعد میلوں تک چڑھتے چلے جاتے ہیں ۔ آخری دو برجوں کے درمیان چڑھائی اتنی سیدھی ہے کہ ستر پچھتر درجے کا زاویہ بنتا ہو گا۔اُترنے میں گرنے اندیشہ زیادہ تھا ۔ جوتا پتھروں سے رپٹ رپٹ جاتا تھا اس لیے ھم اپنے جوتے اُتارکر ھاتھ میں لے لیے۔ جس نے دیکھا ھمیشہ ، تماشا سمجھا اور بچوں نے تو تالیاں بھی بجائیں۔

نیچے اس کے چھوٹا سا چائے خانہ ہے۔ وھاں چائے پی گئی اور پھر دیوار عظیم کے سائے میں تصویر کھنچوائی گئی۔ مسافر کو پرانی تھذیبوں اور گزرے زمانوں کے آثار ھر جگہ ھر ملک میں نظر آتے ہیں کچھ ایسے ہیں کہ دل کو فوراً گداز کرتے ہیں۔ ھم پر جو اثر شیراز میں مزار سعدی کی زیارت پر ہوا ویسی کیفیت تو پھر یا اس سے پھلے کبھی نہ ہوئی لیکن دیوار عظیم نے کہ اس کا احوال دنیا کے سات ، عجوبوں کے ضمن میں ھم نے بھت صغرمی میں پڑھا تھا ، ایک عجیب اثر جی پر چھوڑا یا پھر دل گداختگی کی یہ کیفیت کینٹین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صحابی ابی وقاص کے مقبرے اور نواحی قبرستان کے گل بونوں کو دیکھ کر طاری ہوئی۔

تو صاحبو اب واپسی ، لیکن راستے میں منگ بادشاھوں کے زیر زمین مقابر بھی دیکھتے چلو ۔

یہ مقبرے کہ زمین کی سطح سے چالیس پچاس گز نیچے ہوں گے ، غالباً اس لیے زیر زمین بنائے گئے کہ بعد کے آنے والوں کی تاخت و تاراج سے محفوظ رہیں ۔ منگ وہ چینی خاندان تھا جس نے چنگیز خان کے وارثوں سے سلطنت چھینی اور عھد اس کا 1368ء سے 1644ء تک ہے ۔ یوں کھیے کہ مقبروں والے یہ بادشاھ اکبر کے ھم زمانہ تھے۔

صدیوں یہ مقبرے دنیا کی نظروں سے پنہاں رھے۔ یہ غالباً پچھلی صدی کی بات ہے کہ تجسس کرنے والوں کی ایک لوح ملی جس میں ان کے راستے کی سمت مرموز تھی۔ برسوں کی کھدائی کے بعد ایک دروازہ تیغا کیا ملا۔ اندر اترے تو بند ایوانوں میں مقبروں کے علاوہ بڑے بڑے چینی کے ظروف میں انواع و اقسام کی نعمتیں موجود پائیں ۔ سونے ، چاندی اور جواھر کے ڈھیر لگے تھے۔ چوبی تابوت تو سلیمن اور موسمی اثرات سے خست و خراب ہو کر مٹی ہو چلے تھے اور بعد میں دوبارہ انھی نقشوں پر بنوائے گئے لیکن باقی چیزیں سلامت تھیں ۔

سیڑھیاں اُترنے کے بعد دروازوں کوکھولنا آسان نہ تھا ۔ جن لوگوں نے دروازے کیے انھوں نے اندر کی بلیاں گرا کر ایسا انتظام کیا تھا کہ کوئی باھر سے نہ کھول سکے ، لیکن دانشمندوں نے یہ گرہ بھی کھول ھی لی۔ عجیب آسیبی ماحول ہے۔ اوپر ستر اسی فٹ اونچی چھت ہے ۔ نیچھے غلام گردشیں اور طلاقچے ۔ ایک بڑے ظرف میں قربان گاہ کی بتیوں کے لیے تیل بھرا تھا ، اب بھی موجود ہے لیکن بھت گاڑھا ہو گیا ہے۔ اتنے میں ھمارے چینی دوستوں نے کھا کہ ایک چیز اور رہ گئے ہے ادھر آؤ۔

ایک بھت بوسیدہ چار پانچ سو برس پھلے کا چوبی دروازہ جھک کر پار کیا تو اندر پھنچ کر سب آنکھیں جھپکنے لگے ۔ تو کیا منگ زمانے میں ھماری طرح کے صوفے کرسیاں اور میز بھی ہوتے تھے میزبان مسکرائے ۔ اس دور کے اس بغلی کمرے مھمانوں کی نشس کے لیے درست کرلیا گیا تھا فقط دروازہ عھد قدیم کا باقی رکھا تھا۔ سب بیٹھے ، چائے آئی اور سب اپنی حیرانی پر ھنسے۔

معلوم ہوا کہ ابھی ایک دو مقبرے کھولے گئے ہیں نشاندھی سترہ اٹھارہ کی ہو چکی ہے جو ان نواعات میں میلوں تک نصف دائرے کی شکل میں پھیلے ہوئے ہیں۔

باہر آئے تو میزبانوں نے سب کو ٹھنڈا پلوایا۔ ٹھنڈا سے یہاں مطلب اورنج ہی لیجیے۔ ستر کروڑ کا یہ ملک دور جدید کے ان تمام لذائذ کوکا کولا، پیپسی کولا، سیون کناڈا ڈرائی اور فانٹا کو جانتا بھی نہیں۔ انکے بغیر ہی ترقی کر رہا ہے۔ تعجب ہوتا ہے کہ کیسے کر رہا ہے۔ جب یہ بیرونی نعمتیں اسکے دروازے ہانگ کانگ، اور پڑوسی جاپان تک میں موجود ہیں تو اپنے ہی سنگترے نچوڑنے پر اتنا اصرار کیوں؟

کھانے کی باتیں پھر کبھی سہی اب ذرا پینے کی بات سن لیجیے۔ عام آدمی کا مشروب گرم پانی ہے۔ آج سے نہیں صدیوں سے۔ یا تو گھر میں پتیلا چڑھا رہیگا اور نہ بازار میں دیگ ابل رہی ہے وہاں سے دو پیسے میں بالٹی بھروا لائیے۔ طالب علم سکول جانا ہے یا باہر تفریح کو تو اس کے بستے کیساتھ ایک گٹکا لٹکتا ہے۔ اس سے زیادہ عیاشی مطلوب ہے تو چند پتیاں چائے کی ڈال لیجئے اور چسکی لیتے رہیے۔ جہاں گئے اسی مشروب سے خاطر ہوئی۔

وزیر خارجہ چن ژی نے بھی اسی سے تواضع کی اور فیکٹری مزدوروں نے بھی۔ بازار میں یہ چیز ایک پیسے کی ہے۔ گھر میں تو مفت ہی سمجھیے۔ اسی ایک مد میں دیکھا جائے تو ہم جو شکر اور دودھ کا جوشاندہ پیتے ہیں۔ اسکے مقابلے میں چینی لوگ سال بھر میں کروڑوں روپے بچاتے ہونگے۔ ہم کالی چائے کے رسیا لوگوں کیلئے البتہ ہوٹلوں میں انتظام ہے۔ آپ بلیک ٹی مع دودھ اور شکر مانگیے میں اسے ” خونچا” کہتے ہیں۔ اس ایک لفظ میں ملباری ہوٹل کی چائے کا مزہ مٹھاس اور گاڑھا پن سبھی آ جاتا ہے۔

ریل میں ہر نشست کیساتھ چائے کے گلاس رکھنے کی جگہ ہے۔ اکثر سینماؤں اور تھیٹروں میں کرسی کی ددہنے ہتھنے کے اندر گلاس رکھنے کیلئے سوراخ بنا ہے۔ کام کرتے جائیے اور ایک ایک گھونٹ چسکتے رہے۔ تھوڑی دیر میں کوئی آئے گا اور اس میں مزید گرم پانی ڈال جائیگا۔ معلوم ہوا ہے کہ اس سے معدے کا نظام درست رہتا ہے۔ جراثیم کا دفیعہ بھی ہو جاتا ہے۔ کم خرچ بالا نشین۔ ہم نے بھی کچھ دن گرم پانی پیا پھر چھوڑ دیا۔

l

کھانے سے پہلے اور بعد بلکہ آپ یوں بھی باہر سے آئیں تو آپ کو گرم پانی میں بھیگا ایک تولیہ یا رومال پیش کیا جائیگا کہ اس سے منہ ہاتھ صاف کر لیں۔ واقع خستگی اور ماندگی اس سے دور ہو جاتی تھی۔ ہمارے پیر سائیں حسام الدین صاحب نے کچھ تولیے وہاں سے خریدے بھی کہ وطنِ عزیز جاکر میں بھی یہی کیا کروں گا۔ لیکن وطنِ عزیز آکر تو اور بھی بہت کچھ کرنے کا عزم ہمارے سارے ساتھیوں نے کیا تھا۔ کسی سے ایسے آثار ابھی ظاہر نہیں ہوئے۔ شاید کانِ نمک میں آکر پھر سب نمک ہو گئے۔ پیر صاحب تولیے استعمال کرنے کی حد تک ثابت قدم رہے ہوں تو شاید رہے ہوں۔

صحت کا خیال چینیوں کو اس حد تک رہتا ہے کہ وحشت ہوتی ہے۔ ہم ایسے آرام طلبوں کا تو جینا حرام ہو جائے۔ ورزش ہر کوئی ہر روز کرتا ہے۔ ہمارے ایک دوست ڈھاکے کے رہنے والے سڑکوں پر اتنا تھوکتے ہیں کہ ڈھاکہ میونسپلٹی کو ایک الگ داروغہ صفائی رکھنا پڑا ہے۔ جہاں یہ جاتے ہیں وہ سی آئی ڈی کیطرح انکے پیچھے پیچھے رہتا ہے۔ انکو وہاں بڑی تکلیف ہوئی کہ وہاں یہ رواج نہیں۔ نہ اجازت ہے۔ پانی ابال کر پیتے ہیں۔ موبل آئل وہاں گاڑیوں میں ڈالا جاتا ہے۔ اصلی یا بناسپتی گھی کہہ کر فروخت نہیں کیا جاتا۔

بھٹے کی اینٹیں بھی مکان بنانے میں استعمال ہوتی ہیں۔ ہلدی اور مرچ میں ملا کر ان سے تعمیر معدہ کا کام نہیں لیا جاتا۔ وہاں دودھ بھی گائیوں بھینسوں کا ہوتا ہے۔ تالابوں یا کمیٹی کے نلکوں سے حاصل نہیں کیا جاتا۔ پھر محنت ہر کوئی کرتا ہے۔ لہٰذا سارے چین میں ہم ایسے کسی شخص کی تلاش میں رہے تو بڑی نہ سہی چھوٹی موٹی توندہی کا مالک ہو۔

” سوچو” کے ہوٹل میں ہم نے کچھ چینی توندوں والے دیکھے تو خوش ہوئے اور وطنِ عزیز کی یاد آئی لیکن معلوم ہوا وہ یہاں کے نہیں۔ سنگاپور سے بغرض تفریح آئے ہوئے ہیں۔ لاغر آدمی بھی چین میں کوئی نظر نہیں آیا۔ واپسی پر ہمارے ایک امریکن دوست نے اس کی یہ توجیہ کی کہ جب کوئی غیر ملکی آتا ہے تو ڈھنڈورا پٹ جاتا ہے کہ لاغر آدمی اپنے اپنے گھروں میں بند ہو جائیں اور اندر سے کنڈیاں چڑھا لیں تاکہ غیر ملکی لوگ متاثر ہو جائیں۔

ہم نے کہا وہاں تو کوئی ایسا وقت نہیں آتا کہ غیر ملکیوں کے غول کے غول نہ گھومتے پھریں اور کئی بار تو وہ بلا اطلاع بھی دیہات، کھیتوں، کارخانوں، اور گلیوں میں جا نکلتے ہیں۔ چینیوں کو بھت تکلیف ہو گی۔ وہ صاحب بولے۔ خیر آپ یقین نہیں کرتے نہ سہی۔ ہم نے ایک کتاب میں پڑھا ہے۔

دوہان میں ہمارے ہسپتال جانے کی تقریب یہ تھی کہ وہاں کچھ فلو کا اثر معلوم ہوا۔ کم ازکم زکام ضرور تھا۔ دیکھا کہ ڈاکٹر پر ڈاکٹر چلا آ رہا ہے۔ پھر اطلاع ملی کہ ہسپتال کا سربراہ ہم سے ملاقات کا متمنی ہے۔ آخر ہم نے کہا بابا ہم خود چلے جاتے ہیں ہسپتال۔ وہاں گئے تو انہوں نے ہمارے اعضائے رئیسہ رئیسہ وغیرہ، رئیسہ ، آنکھ، کان، ٹانگ وغیرہ سب دیکھ ڈالے۔ دراصل اسی باعث ہم وہاں جانے سے کتراتے تھے اور خود کو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے کہ باقی سب لوگ وطن سدھاریں گے اور ہم یہاں داخل دفتر ہو جائینگے کیونکہ یہ ہم جانتے ہیں کہ فارما کوپیا میں شاید ہی کوئی مرض ہو گا، جو ہم میں نہ ہو گا۔ خیر ہسپتال تو ہم داخل نہ ہو سکے، دوا ضرور لے آئے اور ابھی استعمال بھی نہ کی کہ تندرست ہو گئے۔

یہ ہسپتال ساڑھے سات سو بیڈ کا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے جرمن زبان میں سات سال تک ڈاکٹر پڑھی تھی اور بیس سال سے پریکٹس کر رہے تھے۔ ہمارے جی میں آئی کہ ان سے پوچھیں کہ آپ کینیڈا کیوں نہیں چلے جاتے۔ وہاں ڈاکٹروں کو زیادہ تنخواہ ملتی ہے۔ یہ سوال پوچھا تو نہیں لیکن جی اسلیے چاہا کہ ہم خود کتنے ڈاکٹروں کو جانتے ہیں جو تنخواہ اور آمدنی کیلئے وطن عزیز چھوڑ کر کینیڈا، امریکہ اور برطانیہ میں پریکٹس کر رہے ہیں اور ہمارے ہاں آدمی موتیں بروقت ڈاکٹر میسر نہ آنے سے ہوتی ہیں۔ ان سے پوچھیے تو کہتے ہیں کہ وطن کی خدمت کرنے میں اعتراض نہیں لیکن یہاں ہماری قدر نہیں۔ ہمیں سر آنکھوں پر نہیں بٹھایا جاتا۔ اس پر ہمیں اسی چینی ادیب کی یہ بات یاد آئی کہ تنخواہ اور آمدنی کے علاوہ بھی کچھ قدریں۔ جن کیلئے آدمی کام کرتا ہے اور جاں سوزی برتتا ہے۔ ایسے ڈاکٹروں، انجینئروں اور دوسرے ماہروں کی تعداد سینکڑوں بلکہ ہزاروں تک پہنچتی ہے جو امریکہ اور یورپ کے ملکوں سے آرام اور تمول کی زندگی چھوڑ کر واپس آئے۔

اور اب معمولی کپڑوں میں معمولی تنخواہ لے کر معمولی مکانوں میں رہتے ہیں لیکن خوش ہیں۔ یہاں ڈاکٹروں کیلئے چند سال سرکاری خدمت لازمی قرار دی گئی تھی تو کہرام مچ گیا تھا اور دیہات میں جانے کے نام سے تو ہر کوئی کان پر ہاتھ رکھتا تھا۔ وہاں دیہات کو بھی ملک کا حصہ سمجھا جاتا ہے اور دیہاتی انسانوں میں شمار ہوتے ہیں جن کا پانی، بجلی، تعلیم، صحت، تفریح، تہذیب سب پر حق ہے۔امبیلکچول کہلاتے والے طبقے کے لوگوں، ادیبوں، پروفیسروں، ڈاکٹروں وغیرہ کو سال میں دو مہینے دیہات میں جاکر دیہاتیوں کیساتھ انہی کے مکانوں میں رہتا پڑتا ہے اور انہی کیساتھ کھیتوں کھلیانوں اور کارخانوں میں کام کرنا پڑتا ہے۔ اسی کا اثر ہے کہ یہ لوگ خود کو کوئی علیحدہ آسمانی مخلوق نہیں گردانتے اور اس قاعدے سے صدر ماؤزے تنگ تک مستثنیٰ نہیں ہیں۔

صحت میں علاج کی سہولتیں اور ورزش و محنت کے علاوہ کچھ دخل خوراک کا بھی ہے۔ چینی روغن جوش نہیں کھاتے، سادہ خوراک کھاتے ہیں۔

یہ رواج ہمارے ہاں کا ہے کہ جب تک کسی چیز کے تمام اجزاء کو جن میں وٹامن یا دوسری غذائیتیں ہونے کا خطرہ ہو پوری طرح ضائع نہ کر دیا جائے مزا نہیں آتا۔ خیر اس مسئلے پر ہم زیادہ زور نہیں دینا چاہتے کیونکہ بہت ڈاکٹر، حکیم ہمارے حلقہ احباب میں ہیں۔ انکی خوشحالی پر آنچ آنے سے ہم خوش نہ ہونگے تاہم گھروں کی اور کوچہ و بازار کی صفائی ہمیں بھی پسند ہے۔ وہاں کسی کو اپنے گھر کا گلی میں جھاڑو دینے میں عذر نہیں۔ ریل گاڑی تک کی دھلائی ہر روز ہوتی ہے۔ یہ حال تو مادی اور ظاہری صفائی کا ہے۔ انکی اخلاقی صفائی اور پاکیزگی کا کچھ ذکر ہم گزشتہ باب میں کر چکے ہیں جو مغرب کی تمام آلائشوں اور جنس کے مظاہرے سے دور رہنے سے پیدا ہوئی ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ سب خرابیوں کی جڑ زر کی فراوانی یا اسباب تمول کی ہوس ہے اور یہ ہوس تب پیدا ہوتی ہے جب اپنے ہمسائے کو دیکھتے ہیں کہ اسکے ہاں کار اور ریفریجریٹر آ گئے ہیں۔ میرے پاس کیوں نہ ہوں خواہ مجھے اسکیلئے رشوت یا بے ایمانی کیوں نہ کرنی پڑے۔ چین میں شاید ہی کسی گھر کو تالا لگتا ہو۔ چوری ہونا ایکطرف وہاں کسی چیز کا گم ہو کر گم رہنا بھی محال ہے۔

Views All Time
Views All Time
935
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ساحر لدھیانوی۔ایک سرکش سے محبت کی تمنا-راشد اشرف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: