الحاد و اسلام: مشترکہ مسائل پر چند لفظ – ابن حیدر

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان کی اکثریتی مسلم آبادی میں ملحدین کے لئے عدم برداشت کی روش و رویہ کی بنیادی و اصولی وجوہات میں سے ایک وجہ ملحدین کا متشددانہ اور متعصبانہ رویہ بھی ہے۔اکابرین اسلام اور اسلاف کے بارے نازیبا اور سخت سست کلمات کا استعمال نچلے طبقے کے ملحدین میں بالکل اسی شدومد کے ساتھ پایا جاتا ہے جس تعصب و تنگ نظری کا مظاہرہ مولوی حضرات اپنے عقائد کے دفاع اور دوسرے فرقے کے عقائد کی مخالفت میں استعمال کرتے ہیں۔
 جس طرح مولوی حضرات نے تعصب اور اشتعال انگیزی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اسی طرح ملحدین کی صف میں بھی بعض افراد نے محض اسلام دشمنی،ہتکِ اکابرین اور گالم گلوچ کو اپنا نصب الحیات بنا لیا ہے۔
 خدا کا انکار کرنا، مذہب سے بیزار ہو جانا یا کسی بھی عقیدے پر کاربندہونا ہر شخص کا ذاتی و انفرادی فعل ہوتا ہے جسے دوسروں پر تھوپنے، اس کا پرچار کرنے اور اس ضمن میں نفرت و بدمزگی کوہوا دینا کسی بھی طور جائز نہیں ہے۔ آپ اگر اپنا نظریہ جو کہ کچھ بھی ہے، دوسرے شخص تک پہنچانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے بنیادی اہم بات اس بات کا ادراک رکھنا ہے کہ مذکورہ عقیدہ، سوچ، شخصیت یا رائے دوسرے شخص کے لئے اتنی ہی اہم اور معتبرہو سکتی ہے جتنی آپ کے لئے غیر اہم اور غیر معتبر۔
 دوسری جانب مسلمین میں اکابرین و عقائد کے بارے میں اختلافی رائے سن کر آگ بگولاہو جانا، عدم برداشت کا مظاہرہ کرنا یا گالم گلوچ گلوچ پر اتر آنا بھی انتہائی غیر مناسب اور ناشائستہ عمل ہے۔ اول تو مکالمہ کے میدان میں اترنے کے لئے موضوع  کا بنیادی و جزوی علم اشد ضروری اور کلی علم ہونا مستحسن ہے۔اگر آپ کا علم درجہ صفر یا معمولی ہے تو مقصد سیکھناہو نا کہ اختلاف و نزاع پیدا کرنا۔جبکہ یہاں صورت حال یہ ہے کہ تقابل ادیان کے اصول و ضوابط تو درکنار، اسلام کا سطحی علم تک نا رکھنے والے لوگ غیر مسلمین و ملحدین کو اسلام سمجھانے و سکھانے میں جت جاتے ہیں جس کا نتیجہ بگاڑ کی صورت میں نکلتا ہے۔
 ہمیں ان تمام عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جو جہالت پر مصر رہ کر دانش کدہ کا ماحول بگاڑنے پر تلے ہوئے ہیں۔انبیاء و اکابرین اسلام ہوں، دیگر مذاہب کے اسلاف و پیشواہوں یا سائنس کے بڑے نام، ہم پر سب کی عزت و تکریم واجب ہے اور ہر طرح کا سوال و اشکال اٹھانے کی کھلی آزادی حاصل ہے۔مگر سوال کا مقصد و منشاء حصولِ معرفت و تحصیلِ علم ہو نا کہ علمی بارود اکٹھا کرنا یا علمی بم مار کر پھٹ پڑنا۔
 جن لوگوں نے امام رازی کی تفسیر رازی کا مطالعہ کیا ہے وہ بخوبی جانتے ہوں گے کہ امام صاحب نے خود وجود باری تعالیٰ پر بحث کے دوران کس قدر دقیق اعتراضات اٹھائے اور ان کا جواب بھی دیا ہے۔چارلس ڈارون کی اوریجن آف سپیشیز میں کسی بھی مذہب کے اکابرین کو گالی نہیں دی گئی۔سٹیفن ہاکنگ وقت کی تاریخ میں کہیں بھی دشنام طرازی کرتے نظر نہیں آتے۔رچرڈ ڈاکنز نے گاڈ ڈیلوژن میں کسی بھی جگہ غیر اخلاقی رویہ نہیں اپنایا، پیر کرم شاہ الازہری ضیاءالنبی میں مستشرقین کے جواب دیتے وقت کہیں بھی آپکو متشدد یا حقارت آمیز کلمات ادا کرتے نظر نہیں آئیں گے۔علم سیکھنے کی چیز ہے اور جس نے جو سیکھا ہے اسکو اس پر کوئی بھی بنیاد کھڑی کرنے کا مکمل حق دینے کا نام ہے۔یہ کیا بات ھوئی کہ آپ جو پڑھ بیٹھے ہیں اور جو سمجھے ہیں اسے دوسرے پر مسلط کرنے کا تہیہ کر کے نکل پڑیں۔ ہمیں پاکستان کے علمی انحطاط کے ماحول میں نئی پنیری لگانے کی بنیاد ڈالنا ہو گی۔ہمیں ایک ایسا معاشرہ اور علمی فضا قائم کرنا ہو گی جس میں تمام کو اپنے عقائد پر کاربند رہنے کی مکمل آزادی فراہم کرتے ہوئے مذہب کو ذاتی معاملہ قرار دیناہو گا۔ ملحدین، عیسائی،احمدی، ہزارہ برادری، سنی و شیعہ کے تمام بکھیڑوں سے نکل کر ایک تعمیری نہج کے معاشرے کے قیام کی جانب عملی قدم رکھنا ہو گا۔تنگ نظر مولوی، شدت پسند ملحدین اور مادرپدر آزاد لبرلز کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے ایک ایسے ماحول کو استوار کرنا ہو گا جہاں پر ملحد کو وجودِ باری تعالیٰ پر اعتراض کرنے اور اسے کھوجنے کی، اسلام کی اساس پر اعتراض اٹھانے کی مکمل آزادی اور علمائے اسلام کو اس کا دفاع کرنے کی آزادی ہو مگر عوام الناس کو اس کارخیر میں دخل اندازی کی اجازت فقط سیکھنے سمجھنے اور جو چاہیں قبول کریں کی حد تک ہو۔ملحد کی حوصلہ شکنی یا اس سے نفرت خدا یا مذہب کا انکار کرنے پر ناہو بلکہ استہزائیہ رویہ اپنانے پر ہو اور اسی طرح اگر کوئی مسلمان کسی ملحد یا مشرک کو نفرت و شدت پسندی کا نشانہ بنائے تو اس کی بھی طبعیت درست کی جائے۔ناچیز کی نظر میں مستحکم پاکستان کی بنیاد اسی صورت میں نظر آتی ہے جب گلگت سے گوادر تک بسنے والے تمام شہریوں کی ایک ہی پہچان ہو کہ وہ پاکستانی ہیں اور انسان ہیں۔

 

Views All Time
Views All Time
583
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کرپشن بڑے پیمانے پر - بنتِ لیاقت

One thought on “الحاد و اسلام: مشترکہ مسائل پر چند لفظ – ابن حیدر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: