سب سمجھتی ہیں، چپ رہتی ہیں – ابن حیدر

Print Friendly, PDF & Email

یہ لڑکیاں بہت گہری ہوتی ہیں۔اندر ہی اندر دریاؤں سا جگر لئے، پہاڑ دل میں بسائے، نہ جانے کتنے طوفانوں کو آنکھوں کے گہرے بادلوں میں یونہی بہا لے جاتی ہیں مگر چپ رہتی ہیں۔ان کی چپ کا یہ مطلب ہرگز نہ نکالئے گا کہ یہ بے وقوف ہوتی ہیں سمجھتی نہیں ہیں۔یہ سب سمجھتی ہیں مگر چپ رہتی ہیں۔
مرد جب اعتماد اور محبت کے لفافے میں مقصد و مفاد کا زہر اخلاق کی شیرینی میں لپیٹ کر دیتا ھے تو یہ تب بھی وہ ان کہی منطق جو مرد کی آنکھوں سے واضح ہوتی ھے، سمجھ رہی ہوتی ہیں مگر چپ رہتی ہیں۔
جب کوئی خالہ ذاد، ماموں کا بیٹا، تایا کا بڑا بیٹا یا بعض اوقات سگا بھائی پیاری گڑیا، چھوٹی بہنا، میری رانی کہہ کر ان کے جسم کو چھوتا ہے، بوس وکنار کرتا ھے تو یہ اس چھونے میں موجود محبت و ہوس کے امتیاز کو صاف سمجھتی ہیں مگر چپ رہتی ہیں۔
جب قاری صاحب پیار سے گود میں بٹھاتے ہیں، گال سہلاتے ہیں یا پرائمری ومڈل کلاسز میں استاد دست شفقت سر پر رکھ کر اپنے نزدیک کرتا ھے تو اس قرب کے احساس میں شفقتِ پدرانہ اور حسِ حیوانیت کے مابین خوب فرق کرتی ہیں اور سمجھتی ہیں مگر چپ رہتی ہیں۔
جسم کے خدوخال کی تبدیلی اور اس تبدیلی سے گردونواح کی نگاہوں کے بدلتے زاویے انہیں اپنی ذات سے نکلنے کی بجائے، غنچہ کو کلی سے پھول ہونے کی بجائے اپنے خول میں بند ہونے اور عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا کرتی ہے، یہ جانتی ہیں سمجھتی ہیں مگر چپ رہتی ہیں۔سینہ کے ابھار اور آواز میں کھنک ان کا ذاتی جرم تو نہیں مگر اس کی سزا بھگتتی ہیں، دو سے تین، تین سے چار اور چار سے پانچ کپڑوں میں خود کو لپیٹتی چلی جاتی ہیں پھر بھی غیر محفوظ رہتی ہیں۔انکا کوئی جرم نہیں ہے، یہ جانتی ہیں سب سمجھتی ہیں مگر چپ رہتی ہیں۔
جب ابا جان کے دوست آتے ہیں اور ابا جان فخر سے انہیں اپنی بیٹی سے متعارف کرواتے ہیں اور سر پر شال اوڑھے جب یہ چچاؤں کی نیک تمنائیں سمیٹ رہی ہوتی ہیں تو چچاؤں کی نگاھوں کی لیزر شعاعوں کے اہداف سے بخوبی واقف ہوتی ہیں، اچھی طرح سے سمجھتی ہیں مگر چپ رہتی ہیں۔
کالج کے پروفیسرز جو بیٹا بیٹا کہہ کر پکارتے ہیں اور والد حقیقی سے زیادہ خیرخواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں اس کرم فرمائی کے رازونیاز بھی جانتی ہیں، سمجھتی ہیں مگر چپ رہتی ہیں۔
کلاس فیلوز جو بھائی بن کر یونیورسٹی کے جملہ معاملات کے سلجھاؤ کا ذمہ اٹھاتے ہیں اس کے سیاق و سباق کا بھی کچھ نا کچھ فہم رکھتی ہیں مگر بولتی نہیں ہیں چپ رہتی ہیں۔
سپروائزر، آفس باس یا سینئر کولیگ کے باربار اصرار میں چھپے اسرار اور محبت کے سبزباغ میں چھپے دشت پرخوار کی ہولناکیوں سے واقف ہوتی ہیں مگر خاموشی اختیار کرتی ہیں چپ رہتی ہیں۔
گھر کی چاردیواری میں بھائیوں کی کڑی نگرانی سے نکل کر رستے کے خونی آنکھوں سے تاکتے بنی آدم اور درس گاہ کے دانشوران کی نگاہوں میں چھپے تمام راز جانتی ہیں سمجھتی ہیں مگر چپ رہتی ہیں
بھائیوں، ابا اور اماں، پھوپھو اور خیش قبیلے کی صوابدید پر چنے گئے لڑکے سے نباہ کرنا کس قدر مشکل اور کٹھن کام ہے، انہیں اچھی طرح اندازہ ہوتا ہے مگر زبان کو سی لیتی ہیں ایک لفظ تک نہیں کہتیں، چپ رہتی ہیں۔
موسیقی، صحافت، کرکٹ و ہاکی، دوڑ اور تیراکی تمام میں اپنا آپ منوانے کی قابلیت و ہنر رکھتی ہیں، آگے بڑھ سکتی ہیں جانتی ہیں مگر پیچھے رہتی ہیں، چپ رہتی ہیں۔
یہ لڑکیاں، سب کچھ سمجھتی ہیں، کسی طور بھی لڑکوں سے کم نہیں ہیں مگر یہ چپ رہتی ہیں کیونکہ ان کی چپ میں ہی ان کی نجات ہے۔اگر یہ پانچ سال کی عمرمیں بھی قاری صاحب اور استاد محترم کے خلاف احتجاج کریں گی تو مدرسے سے اٹھا کر گھر پٹخ دی جائیں گی۔اگر یہ چچاذاد اور ماموں ذاد بھائی کے محبت سے اٹھنے والے ہاتھوں میں چھپی بو کا تذکرہ کرتی ہیں تو ان کا منہ تھپڑوں سے سرخ کر دیا جائے گا۔اگر یہ جسم کو ڈھانپے بغیر باہر نکلیں گی تو جو مرد ان کے خدوخال کا جائزہ لیں گے وہی انہیں فحاشہ و بے غیرت کا لقب بھی عنائت کریں گے۔اگر یہ کالج ویونیورسٹی کے بھائی صاحبان سے گریز کریں گی تو اسائنمنٹس سے لے کر نوٹس تک ان کی رسائی کوہ گراں بن جائے گی۔پروفیسرز اور سپروائزرز کے احکامات نہیں بجا لائیں گی تو جی پی اے کا گراف گرتا چلا جائے گا اور پروجیکٹ کبھی مکمل نہیں ہو گا۔ابا جان کے دوستوں کی نگاہوں میں چھپی شیطانیت کا شکوہ کریں گی تو بے ادب اور بد تمیز گردانی جائیں گی۔ خاندان کے فیصلہ کے مطابق شادی نہیں کریں گی تو مار دی جائیں گی۔باس کا کہا نہیں مانیں گی تو دفتر سے نکال دی جائیں گی۔کھیل کے میدان میں اتریں گی تو ریٹائرڈ سول آفیسر اور مجددالعصر سمجھے جانے والے اوریا مقبول جان جیسے دانشور ان کی چھاتیوں کے ابھار پر نقطئہ اعتراض اٹھائیں گے، گائیکی یا شوبز میں آئیں گی تو حشر قندیل بلوچ جیسا ہو گا، حقوق مانگیں گی تو حنا شاہنواز بنا دی جائیں گی، یہ لڑکیاں جانتی ہیں، سمجھتی ہیں مگر چپ رہتی ہیں۔
ان کی چپ ایک تھپڑ ھے سماج کے منہ پر، ان کی چپ ایک نشتر ھے رواج کے سینے میں، ان کی چپ ایک گالی ہے تفاخرانہ غیرت کے بت کو، ان کی چپ ایک احتجاج ھے چچاوں بھائیوں مدرسین دفتر عہدیداران اور ابن آدم کی نگاہ ہوس کے خلاف، ان کی چپ اک صدا ھے جو اٹھ رہی ھے ایک عرصے سے کہ شاید ابن آدم کا ضمیر جاگ جائے، شاید کہ اوریا مقبول جان جیسوں کی نگاھوں کے زاویے درست ہو جائیں، شاید کہ یہ چپ سنی جائے۔وہ جانتی ہیں کہ اس چپ کےاندر درد کا مرد کو کبھی احساس نہیں ہو گا، وہ سمجھتی ہیں مگر چپ رہتی ہیں

Views All Time
Views All Time
713
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   میں بھی | شاہانہ جاوید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: