سب شہید ہیں تو خود کش کیوں نہیں ؟ – ابن حیدر

Print Friendly, PDF & Email

 جی جناب۔ملت اسلامیہ کی تاریخ کے مختلف الانواع باغیچے میں سے کوئی بھی شگوفہ نما کتاب اٹھائیے اور اس میں صاحب تصنیف کے مطابق للمقصدالعظیم اپنی جان، جان آفریں کے سپرد کرنے والے کے احوال اخروی کا جائزہ لیجئیے، سیاسی و حکومتی مقاصد کے لئے جماعتی، حکومتی یا نظریاتی ایجنڈے کے لئے لڑنے والوں کی فہرستیں کھنگالئے اور فوت شدگان کے بارے ان کے پسماندگان کی رائے لیجئے، زیادہ باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے کہ آپ کی قیمتی تر مصروفیات آپ کو اس کاربےکار میں الجھے رہنے سے مانع رکھیں گی، آپ بس دائرہ اسلام میں رہتے ہوئے "شہید” کی اصطلاح اور اس کے استعمال کا دائرہ کار ملاحظہ فرمائیے۔
 یوں تو فہرست بہت طویل ہے مگر چلیں ہم چیدہ چیدہ شواہد کی روشنی میں رہتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
 ممکنات میں سے ہے بلکہ یقینی بات ہے کہ راقم کے بے وقعت حروف سے دانشمندان عظام کو اختلاف اور ناچیز کی خبط علمی پر ناگواری محسوس ہو گی اور "ملا یا کافر” کی بظاہر متصادم مگر فی الحقیقت مترادف پھبتیوں میں سے جو جی میں آئے گا، ناچیز کی پر تقصیر قامت پر داغ دی جائے گی مگر کیا کروں کہ یہاں معاملہ ہی کچھ ایسا ہے کہ عالمگیر مذہب اسلام کی چاردیواری کے اندر کسی بھی نکتہ یا نظریہ پر عالمگیریت یا آفاقیت کا کوئی ایک نمونہ پیش کرنا محال ہے۔خداوند کریم جل جلالہ کی ہمہ جہات واحد و احد ذات کو بھی وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے پیمانوں پر سمجھنے پرکھنے والے، قرآن کو مخلوق و غیر مخلوق کے ترازو پر تولنے والے، علم المعانی اور منطق کے گھوڑوں پر متن قرآن کو سوار کر کے امت کے بخیے ادھیڑنے والے، حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے مختلف من پسند معانی و مطالب اخذ کر کے قوم رسول ہاشمی میں بٹوارے کی روایت ڈالنے والے، خلافت کے مسئلہ کو بنیاد بنا کر عین وصال آنحضرت علیہ التحیہ والتسلیم کے پندرہ منٹ بعد محفل نزاع کا انعقاد فرمانے والے، ذات گرامی اقدس صلی اللہ و بارک علیہ وآلہ سلم کو نور و بشر اور حاضر ناظر کی دوچشمی عینک سے تنازعہ بنانے والے دانشمندان و اکابرین سے اس مسئلہ کا حل دریافت کرنا کہ کون شہید اور کون ہلاک ہے، سوائے ضیاع وقت کے علاوہ کچھ نہیں۔
 جب جنگ صفین اور جنگ جمل میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور امیر المومنین سیدنا علی المرتضی کرم الکہ وجہ الکریم جیسے کبار فریقین و مخالفین کی جانب سے آپس میں لڑ کر وفات پانے والے ہر دو مقتولین شہید ہیں، جب عباسی اور اموی سلاطین کی باہمی جنگوں کے نتیجہ میں سرکار الوقت کے زیر سایہ لڑنے والے فوجی اور خلیقہ وقت کے مخالف ابو مسلم خراسانی کے لشکری ہر دومقتولین شہید ہیں، اگر واقعہ کربلا میں خانوادہء امام عالی مقام کے مقتولین اور حاکم وقت کے ایما پر تیغ حسینی سے تہ وبالا ہونے والے آنجہانی فوجیان شہید ہیں، جب محمد شاہ رنگیلا اور شہاب الدین غوری کے لشکری جنگجو تخت دہلی و لاہور،بھارت مہان کی مٹی کے حصول اور اس پر علم اسلامی کی بلندی کے عظیم جزبے سے سرشار ہر دو فریقین کے مقتولین شہید ہیں، جب روس کے اسلامی جہاد میں عالم اسلام کے آں وقتی عظیم ہیرو اور بعداز حصول مقصد باغی اسامہ بن لادن کے لشکری شہید ہیں، اگر وانا و وزیرستان میں مرنے والے ہردو فریقین پاک فوج اور مزاحمتی مجاہدین شہید ہیں، اگر سوشلسٹ اسلام کے علمبردار ذوالفقار علی بھٹو اور مرد مجاہد امیر المومنین ضیاءالحق ہر دو مقتولین شہید ہیں، اگر بنگلہ دیشی انیس صد اکہتر کے جہاد میں پاک فوج اور مجیب الرحمان کے زیر سایہ کلمہ گو مقتولین شہید ہیں، اگر ریاستی حدود کی وسعت کے لئے لڑی جانے والی جنگوں میں لقمہ اجل بننے والے بھارتی سینا اور پاک فوج کے کلمہ گو مقتولین شہید ہیں، اگر ناموس رسالت پر مر مٹنے والے غازی ممتاد قادری اور ناموس انسانیت پر جان وارنے والے سابق گورنر سلمان تاثیر شہید ہیں، قتل شیعہ کو مباح قرار دینے والے لشکر جھنگوی کے حق نواز، ضیاءالرحمان فاروقی اور علی شیر حیدری شہید ہیں، سنی تحریک کے سلیم قادری شہید ہیں، تو قبلہ عاجز کا امت مسلمہ کے روشن خیال و قدامت پسند سپوتوں سے عاجزانہ سوال ہے کہ پاکستان میں جاری خود کش حملہ جات کے سلسلہ میں مقتولین کو شہید اور خود کش حملہ آور کو ہلاک قرار دینے کی کیا منطق ہے ؟
 یاد رہے کہ مذکورہ بالا افراد کے بارے میں شہید قرار دئے جانے کا فیصلہ نہ تو گوتم بدھا کے ماننے والوں کاہے، نا صلیبیوں کا، نہ یہودا خداوند کے صیہونی پجاریوں کا، نہ واہے گو کا راگ الاپنے والوں کا، نہ ہنومان جی کے متوالوں کا اور نہ خبط علم میں غلطیدہ مرتدوں کا۔یہ بھی ذہن نشین رہے کہ یہ خیر امت کے ان تمام شہدا کا سلسلہ ہے جن کے شہید ہونے کا فیصلہ بھی مسلمین کا ہے اور ان کے قاتلین بھی نہ تو عیسیٰ ؑو موسیٰؑ کے نام لیواؤں میں سے ہیں نہ ہنومان جی یا گرونانک کی مالا جپتے ہیں۔
 اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے۔خود کش حملہ آور "اسلام” کی تعلیمات کی روشنی میں غلبہ اسلام کے لئے تیار کیا جاتا ہے یا "کفر” کی تعلیمات کی روشنی میں خاتمہ اسلام کے لئے تیار کیا جاتا ہے ؟ توجیحات و تشریحات کے اختلاف کا بہانہ بنا کر اس حقیقت سے صرف نظر کرنا بلی دیکھ کبوتر کے آنکھیں موند لینے والا معاملہ ہے۔یہ خود کش بمبار عیسائی کونونٹ یا ہندو پاٹ شالہ سے تعلیم و تربیت یافتہ ہوتے ہیں یا جامعہ اسلامیہ فلاں ڈھمکاں الا بلا سے سند ہلاکت لے کر مشن امپاسیبل پر نکلتے ہیں؟ دونوں سوالوں کا جواب راقم کو قاری سے مطلوب ہے۔ نیز ہمیں ان تمام تر وجوہات کو دیکھنا ہو گا جو ایک کم سن نوجوان کو ہزاروں لوگوں کی زندگیوں سے کھیل کر انہیں ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے کے مصداق اپنی قیادت میں قبل از وقت جنت لے جانے پر آمادہ کرتی ہیں۔ نابالغ ذہن میں حوران بہشت سے مجامعت، ریشم کے جارجیو ارمانی کے ملبوسات،دودھ و شہد سے بہتی نہروں میں اشنان اور مشک وعنبر سے مزین گراسی پلاٹ کے کنارے بنے لاس ویگاس کے دلفریب محلات کی تصویر کشی کر کے جو برین واشنگ کا ٹیکہ موصوف خود کش حملہ آور کے ذہن میں لگایا جاتا ہے اس کا فارماسوٹیکل نسخہ کس لیبارٹری سے تیارشدہ ہوتا ہے یہ کوئی مبہم بات نہیں ہے۔خود کش حملہ آور کی برین واشنگ کے آلات جراحی جیساکہ مقصدیت، نصاب، فوائد اور مستقبل کی آسائش کے تمام مشمولات کے تانے بانے کہاں ملتے ہیں، کوئی مسئلہ فیثاغورث نہیں ہے۔
 ماننا پڑے گا کہ قتل و غارت کا یہ کھیل ایک ایسے دائرے میں کھیلا جا رہا ہے جو جامعیت و مانعیت کی پرکار سے کھینچا گیا قرطاس اکملیت پر منقوش ایک اٹل سچائی ہے۔اگر حصول جنت کا یہی طریقہ ہے کہ پروٹیکٹر کے ایک سرے پر درجہ صفر کا خود کش حملہ آوری زاویہ فکری اعتبار سے بالکل برعکس دوسرے کونے پر کھڑے قلندر کے ویہڑے میں ناچتے ایک سو اسی زاویہ کے صوفی کو اپنے ہمراہ خون میں لت پت چشم زدن میں جنت پہنچا سکتا ہے تو سوال اس خط قاعدہ پر اٹھے گا جس کا سرا خود کش حملہ آور کی جیکٹ میں بھرے بارود اور زبان پر جاری اللہ اکبر کو لکیر مذہب پر چلاتا کھینچتا سرے پر کھڑے صوفی کی زبان پر جاری درود اور وجود پر طاری وجد میں کوئی فرق روا نہیں سمجھتا۔سوال اس نظریہ پر اٹھے گا جس کی آڑ میں صفین وجمل سے لے کر سیہون نگری تک کے ایکدوسرے کی تلوار سے کٹ کر بہشتی ہونے والے تمام مقتولین کو جنت میں آمنے سامنے پلاٹ تقسیم کئے جاتے رہے ہیں، سوال اس دیوار میں جڑی سیمنٹ و بجری پر اٹھے گا جس میں بھٹو اور ضیاء، سلمان اور ممتاز، داراشکوہ اور عالمگیر، حجاج اور عبداللہ ابن زبیر اکٹھے چن دئیے گئے ہیں، سوال اٹھے گا کہ سب شہید تو خود کش حملہ آور کیوں نہیں ؟

Views All Time
Views All Time
780
Views Today
Views Today
3
یہ بھی پڑھئے:   پنچایت زدہ معاشرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: