Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

میرا قتل ہوا تھا۔۔۔ عمران حیدر

Print Friendly, PDF & Email

یہی کوئی تین سال پہلے گھر سے نکلا تو دو موٹر سائیکل سواروں نے گولی مار دی۔ جب تک جسم سے نکل کر ان کا چہرہ دیکھتا وہ جا چکے تھے۔ ویسے چہرہ دیکھ بھی لیتا تو کیا کرتا، ایک مرا ہوا شخص کر ہی کیا سکتا ہے؟

ایک بیٹا تھا ایک بیوی، ماں باپ کو بڑھاپے میں جو درد دیا تھا ان کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ سو وہیں سے قبرستان چلا آیا
اپنی بے وقت موت کا دکھ تو تھا مگر شکر ہے قبرستان میں اچھے ساتھی ملے جنہوں نے کافی حوصلہ دیا ۔
آج تین سال ہونے کو ہیں جب بھی گھر سے کوئی آتا ہے تو قبر سے نکل کر دور چلا جاتا ہوں

اماں کے تو خیر گھٹنوں میں درد رہتا ہے شروع شروع میں آتی رہیں بعد میں آنا چھوڑ دیا ۔ کچھ ماہ پہلے آنے والے ماسٹر جی بتاتے ہیں اب اماں کے لیے چلنا ممکن نہیں رہا ، ہر وقت بیمار رہتی ہیں۔ گلی محلہ بھی اچھا ہے۔ زیادہ بیمار ہوں تو ہسپتال بھی لے جاتے ہیں ۔ یہی سوچ کر دل کو تسلی دیتا ہوں کہ میرا بیٹا جوان ہوجائے گا تو دادی کو سنبھال لے گا ۔

اور ابا شاید ناراض ہیں۔ کبھی عید شب برات بھی ملنے نہیں آتے ۔ جنازے کے ساتھ بھی آئے تو جنازہ پڑھ کے چل دیے۔میری خواہش ہی رہی کہ جب قبر میں اتاریں گے تو ایک بار گلے لگا لوں گا۔ مگر خیر غلطی تو میری ہی تھی اگر اس دن ان کا کہا مان کر گھر میں رک جاتا تو آج شاید یہاں نا ہوتا ۔

یہ بھی پڑھئے:   تو کیا ہوا بچی ہے

میری بیوی اکثر بیٹے کے ساتھ آتی ہے۔ ساتھ کی قبر والے شیخ صاحب بتا رہے تھے میرے بیٹے کو قبر کی تختیاں پڑھنا آگئی ہیں اور سارا وقت اپنی ماں کو قبروں کے کتبے سناتا رہتا ہے۔ میری بیوی خاموشی سے قبر دیکھتی رہتی اور پھول چڑھا کر چلی جاتی ہے۔پورے قبرستان میں صرف میری قبر ہے جس پر چنبیلی کے پھول ہوتے ہیں حالانکہ میری بیوی کوچنبیلی کے پھولوں سے الرجی تھی۔ چنبیلی کا پھول تو دور سے دیکھ کر ہی اسے چھینکیں آنے لگتیں۔

میں اکثر اسے کہتا کہ مجھے چنبیلی کے پھول پسند ہیں اور شرارتا ََچنبیلی کا پھول اسے تنگ کرنے کیلیے خرید لاتا۔ وہ خوف سے آنکھیں بند لیتی اور میں وہ پھول اس کے ناک کے قریب کرتا کبھی اس پر پھینک کر تنگ کرتا ۔ناجانے اب کیسے وہ چنبیلی کے پھول خریدتی ہوگی؟  اس کو تو ان سے الرجی تھی اور خوف کھاتی تھی۔
وہ پھول جب تک قبر پر پڑے رہیں میری ہمت نہیں ہوتی کہ ان کے قریب بھی جا سکوں۔

آج بھی وہ آئی تھی۔۔۔۔۔۔
میں رات کے اس پہر قبر سے باہر ان پھولوں کے سوکھ کے اڑ جانے کا انتظار کر رہا ہوں
اب مجھے بھی چنبیلی کے پھولوں سے الرجی ہے۔

Views All Time
Views All Time
520
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: