Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مجھے داد نہیں داد رسی چاہیے

by جنوری 12, 2018 بلاگ
مجھے داد نہیں داد رسی چاہیے
Print Friendly, PDF & Email

وحشت ناک خبریں مجھے ہمیشہ ذہنی طور پر منجمد کر دیتی ہیں۔ میں نے حفاظتی تدابیر اختیار کر رکھی ہیں۔ میں نے گھر میں ٹی وی نہیں رکھا۔ مجھے چسکے لے لے کر چٹخارے دار خبریں سناتے چہروں کی داخلی مسرتیں محسوس کر کے سلگنے کی خواہش نہیں۔ پھر بھی خبریں کسی نہ کسی طور کسی ماہر کھوجی کی طرح کھرا اٹھائے میری بے خبری کو آ گھیرتی ہیں۔

صبح عین اس وقت جب میں نے موبائل آف کر کے سونا چاہا تو کسی ستم ظریف نے فیس بک پر معصوم زینب کی تصویر لگا دی۔ رات بھر کی جاگی آنکھوں میں ریت جھونکی گئی۔ سوشل میڈیا پر دریدہ بدن کتے مار مہم کے بعد کا منظر پیش کرتی ایک پھول سے بدن کی ننھی کلی۔ پتا نہیں اس کی روح کیسے بدن کے گلاب سے رخصت ہوئی ہو گی۔ تعفن میں کیسے حشرات اس پر رینگتے ہوں گے۔ ایک کھلکھلاتی بچی سے نعش بننے تک کیا گزری ہو گی۔ آج بہت سے لوگوں نے پیغامات بھیجے "زینب بے ردا” داد دی گئی۔ میرے اندر کسی بے بس طیش بھرے بچے نے مٹھیاں بھینچ کر کہا۔ مجھے داد نہیں داد رسی چاہئیے۔

بچپن میں کبھی بابا جان کہانی لکھنے کو کہتے تو ایک تصویر دیتے یہ تصویر کبھی طوطے کبھی بندر کبھی ڈوبتے سورج اور کبھی لکڑ ہارے کی ہوتی۔ اب سوچتی کہ اس کے آگے پیچھے دائیں بائیں کیا تصویر بنے گی۔ کبھی الفاظ کی فہرست ملتی حکم ہوتا سوچو، تخیل استعمال کرو، فرض کرو یہ کردار کیا باتیں کر رہے ہیں۔ سوچو، سنو اور لکھو۔ آج کئی مرتبہ خود پر نفرین بھیجی۔ اپنی اس سوچنے، سننے، اور محسوس کرنے کی تربیت پر۔ اب کہانی شروع ہوتی ہے کیسے زینب بابا ماما کو ائرپورٹ چھوڑنے جاتی ہے۔ دونوں اللہ کے گھر گئے ہیں۔ دعائیں مانگیں گے نا نعمتیں اور رحمتیں سمیٹ کر لائیں گے۔ زینب بھی تو رحمت تھی۔ رات کو دن گنتے گنتے سو جاتی اب اماں آ جائیں گی ان کے سینے سے لگ کر سو جاؤں گی۔ بابا آ جائیں گے ان کی انگلی تھام کر اسکول جاوں گی۔ تصویر میرے سامنے ہے۔ باتیں کرتی ہوئی۔ کسی مانوس چہرے نے پچکار کر بلایا ہو گا۔ زینب نے مسکرا کر انگلی تھام لی۔ چلیں؟ آپ کو چاکلیٹ ملے گا،کہانیوں کی کتابیں بھی، جھولے بھی، میرے موبائل پر گیم کھیلنا اورکارٹون دیکھنا۔ ننھے قدم شوق سے ہم قدم ہوئے۔ بڑے بڑے پیروں والے بھیڑیے نے نقاب کے پیچھے رال ٹپکاتی زبان ہونٹوں پر پھیری۔ لال ٹوپے والی کی بے فکر ہنسی سڑک پر بکھر گئی۔ دور بہت دور اللہ میاں کے گھر کے پاس دانہ چگتے کبوتر یہ دیکھ کر اڑ گئے۔زینب کواپنی انگلی پر بڑھتے دباؤ سے عجیب سی بے چینی ہوئی انکل ہم کہاں جا رہے ہیں؟

یہ بھی پڑھئے:   قائد کے نام خط

انکل ننھا ذہن نامعلوم خوف سے بے چین ہوا انکل مجھے گھر چھوڑ آئیں۔ گلی بھی سنسان ہو گئی تھی نکڑ پر کھڑی کار کے دروازے کھلے۔
انکل انکل۔۔۔۔ ایک زوردار تھپڑ نے زینب کا ذہن ماؤف کر دیا۔ بلھے شاہ کی گلیاں بین کرنے لگیں۔
بلھیا پئی مصیبت بھاری
کوئی کرو ہماری کاری
ایہہ اجہے دکھ کیسے جریئے
اب لگن لی کی کریئے
نہ جی سکیئے نہ مریئے
( بابا بلھے شاہ )​

پھول کی پتی سا بدن درندوں کے آگے ریزہ ریزہ ہوا۔ شکر ہے میری سماعت چھن گئی۔ صد شکر آنکھیں بے نور ہوئیں۔ میں نے یک چشم قلم کی نمکین سیاہی سے لکھا۔ "زینب بے ردا”۔ اے مدینة العلم سے نطق و تکلم سیکھنے والی تجھے تو وقت کے یزید نے دربار پہنچنے سے پہلے ہی آ لیا نجومیوں نے پیشگوئی کی ہو گی ایک زینب اٹھے گی جو تیرا تخت و تاج اچھال دے گی۔ دیکھو اس کی روح کو ایسا گھاؤ لگا کہ وہ لفظ کن کے حکم کی پیروی بھی نہ کر سکے۔ اس کا بدن کوڑے کا ڈھیر میں پھینک دے کہ مرنے کے بعد جب اٹھنے کا حکم ہو تو لرزیدہ روح اس ننھے غار میں واپس نہ جائے۔ میں تعریفی پیغام دیکھتی ہوں۔ لہو میں ڈوبے لفظوں کی داد سنتی ہوں۔

مجھے داد مت دیجیئے مجھے داد رسی چاہئیے۔
"خدا کے عدل کا قائل ہوں او بت کافر
ضرور داد رسی داد خواہ کی ہوگی”

یہ بھی پڑھئے:   بے حسی-سندس خان سدوزئی

کاش کسی بڑی کرسی پر بیٹھے کسی باپ کی گود میں کوئی زینب بیٹھی ہو اس کا دل دہل جائے۔ کاش اس اسلامی مملکت کے بدعنوان نظام میں کسی صاحب اقتدار کی کوئی دھڑکن باغی ہو کر اس زینب بے ردا کے دریدا بدن کا حساب مانگے۔ قاتلوں کے گریبان پکڑے۔ ان کے بدن کو سولی پر لٹکا دے۔ تاکہ باقی درندوں کو عبرت حاصل ہو وہ جنگلوں کا رخ کر جائیں۔ کاش والدین اپنی اولاد کو مرغی کی طرح پروں میں چھپائے رکھیں یا شاہین بنا دیں۔ زندہ درگور کی لڑکیوں سے سوال ہو گا نا۔ ’’جب سورج لپیٹ دیا جائے گا اور جب تارے بکھر جائیں گے اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی اور جب جنگلی جانور سمیٹ کر اکٹھے کر دیے جائیں گے اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے اور جب جانیں (جسموں سے) جوڑ دی جائیں گی اور جب زندہ درگور ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی؟ اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے اور جب آسمان کا پردہ ہٹا دیا جائے گا اور جب جہنم دہکائی جائے گی اور جب جنت قریب لائی جائے گی اس وقت ہر شخص کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے‘‘ (سورۃ التکویر:1-14)۔

سرکار دو جہاں علیہ الصلوۃ واسلام میں آپ کا دامن تھام کر پوچھنا چاہتی ہوں۔ کوڑے کے ڈھیر پر ماری گئی زینب سے کیا سوال ہو گا؟

Views All Time
Views All Time
153
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: