Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اگلے جنم میں مجھے پاکستان میں نہیں بھیجنا

by جولائی 3, 2016 بلاگ
اگلے جنم میں مجھے پاکستان میں نہیں بھیجنا
Print Friendly, PDF & Email

larkiسر! میں چاہتی ہوں کہ مرا اگلا جنم کم از کم پاکستان میں نہ ہو-
میں یہ فقرہ سن کر ذرا چونک گیا – اور اس سے کہا کہ وہ ایسا کیوں کہتی ہے ؟
"پہلے تو اس جنم میں ” بٹیا ” کے روپ میں جنم لینا ہی مجھے احساس کمتری میں مبتلا کرنے کے لئے کافی ہے- دوسرا یہاں پاکستان میں ایک سخت گیر مذہبی گھرانے میں جو کہ نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہو وہاں پہ پرورش پانا کسی عذاب سے کم نہیں ہے-میں اے سی سی اے کے فائنل سمسٹر میں ہوں اور بدقسمتی سے مجھے صرف نصابی کتب سے جڑے رہنے کی عادت نہیں ہے –میں عالمی ادب ، تاریخ ، فلسفہ ، سماجیات سب ہی کو پڑھا ہے-پھر دنیا کی بڑی بڑی فیمنسٹ سکالرز کو بھی-میں ” مذہب ” کے بارے میں اب وہ خیال نہیں رکھتی جو یہاں ایک اوسط درجے کا ہر دوسرا ، تیسر آدمی رکھتا ہے-میں کھل کر اپنے نظریات کے ساتھ جینا چاہتی ہوں-اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا خیال ہے مجھے-اور سب سے بڑھ کر میں اپنے شریک حیات کا انتخاب بھی اپنی مرضی سے ہی کرنا چاہتی ہوں اور یہ بھی چاہتی ہوں کہ یہ کب ہونا ہے اس کا اختیار مجھے ہی حاصل ہو-لیکن یہ سب میں نہیں کرسکتی –کیونکہ میرے گھر والے اور اردگرد میں کوئی بھی مجھے سپورٹ نہیں کرے گا-جب میرا فکری ارتقاء شروع ہوا تو میرے گھر میں ” شیعت ” تھی اور یہ ایک انتہائی سطحی مذہبیت سے جڑی ہوئی تھی –میں نے تاریخ ميں معاشرت کے ارتقاء کے سفر کو پڑھا تو اس کی بہت سی چیزیں مجھے ازکار رفتہ لگیں اور سب سے بڑھ کر مجھے یہ نظریہ امامت انسانوں کی آزادی کے خلاف لگا اور مجھے کسی حد تک اہل تسنن کا ” اتفاق سے رہنماء ” چن لینے کا طریقہ اور خیال جمہوری لگا تو مرا جھکاؤ اس طرف ہوا اور ایک موقعہ پہ مجھے لگا کہ میں ” سنّی ” ہوجاؤں –اور پھر میں خفیہ طور پہ سنّی ہوبھی گئی لیکن میں ذرا سی بھی گھر میں اس حوالے سے کوئی بات کرتی تو سب مجھے کھانے کو پڑتے تھے- میں یہ دیکھ کر جرات ہی نہ کرپائی کہ میں اپنے خاندان کے مسلک کو ترک کردوں-اس دوران میری شادی کی بات چل نکلی –میں نے کچھ لوگوں سے مشورہ کیا تو مجھے کہا گیا کہ اگر جان کا خطرہ ہے تو کسی بھی سنّی مدرسے میں آکر تبدیلی مسلک کا اعلان کردیں-بلکہ کراچی کے ایک مدرسے سے مجھے پیغام ملا کہ آپ بس آکر دو حرف کہیں باقی ہم دیکھ لیں گے-مجھے یہ سب تنگ فرقہ واریت لگی-میں نے اس موقعہ پہ پوچھ لیا کہ اگر ” دین مین جبر نہیں تو کل اگر مجھے لگا کہ سنّی مذہب ٹھیک نہیں یا مذہب بذات خود ٹھیک نہیں تو کیا اس طرح مجھے تحفظ ملے گا جیسے اب پیشکش ہورہی ہے-یہ سن کر مرے مخاطب کا چہرہ سرخ ہوگیا کہنے لگا کہ ارتداد کی سزا قتل ہے-میں چپ کرگئی –اور آج جب میں ” لاادری ” کی کیفیت میں ہوں تو مرے اندر یہ ہمت ابھی تک نہیں آئی کہ میں ” اپنے ہونے ” کا اعلان کرسکوں – اس لئے کہتی ہوں کہ اگر اس کائنات کا کوئی خدا ہے اور آواگون کا کوئی وجود ہے تو اگلے جنم مجھے پاکستان میں پیدا نہیں ہونا-ایسے معاشرے میں جنم لینا ہے جہاں ” آزادی ” سب سے بڑی قدر ہو”
میں نے اس کی ہلادینے والی یہ کہانی سنی تو چپ کرگیا-ایسے ہی مجھے میری ایک اور کولیگ نے اپنی بپتا سنائی-کہنے لگی کہ اس کے گھر والے اسے اپنے گھر کا سب سے گندا انڈا کہتے ہیں-میں اس کے چہرے پہ انتہائی فرسٹریشن کے آثار دیکھ رہا تھا- اور پہلی مرتبہ اسے میں نے اتنا کمزور ، شکستہ اور ٹوٹا ہوا دیکھا-کیونکہ وہ بہت ہی ہنس مکھ ، بات بات پہ دوسروں کی بھد اڑانے والی عورت تھی-اکثر جب میرے افسانے اور مضامین پڑھتی تو مجھے اس کا پیغام ملتا کہ تم جیسی دکھی ،اداس آتمائیں مجھے زہر لگتی ہیں-زندگی سے مسرت کشید کی جانی چاہیے اور کہتی ایپی کیورس تو کارل مارکس کا پسندیدہ یونانی فلسفی تھا-اور وہ فلسفہ نشاط کے بانیان میں سے تھا- خوش رہنے کو وہ انسان کا بنیادی حق خیال کرتا تھا اور تم ہو کہ ہر وقت بس اداسی کے رنگ ہی پینٹ کرتے رہتے ہو-میں اس پہ رشک کرتا اور خواہش کرتا کہ کاش میں بھی اس کے جیسے ہوجاتا-لیکن اس دن وہ ایک دم سے بدل گئی – کہنے لگی کہ
"تمہیں پتہ ہے کہ جب میں یہاں سے گھر جاتی ہوں تو رات 8 بجے کے بعد میرا موبائل آف کرکے مما اپنے پاس رکھ لیتی ہے- سب لائٹس آف کردی جاتی ہیں اور سب کو سونے کا حکم دے دیا جاتا ہے-رمضان مين طاق راتوں کو اس روٹین ميں فرق آتا ہے اور اماں مجھے زبردستی مصلّے پہ کھڑا کرلیتی ہیں-اور مرے کمرے سے کوئی کتاب غیر مذہبی نکل آئے تو مجھے وہ کچھ سننے کو ملتا ہے کہ دل کرتا ہے کہ زمین پھٹ جائے اور ميں اس ميں دفن ہوجاؤں- اور تمہیں بتاؤں جب میرے فادر نے مجھے دوسرے شہر میں یونیورسٹی مین داخلہ دلوایا تو میری والدہ بغیر بتائے اچانک ہاسٹل آجاتیں ، آکر میرے روم کی خوب تلاشی لیتیں ، میرے موبائل فون کی لاگ بک چیک کرتیں اور اور میرے جسم کو بغور چیک کرتیں تھیں –مجھے لگتا کہ میرا عورت ہونا جرم ہوگیا ہے-گھر والے ” دیوبندی ” تھے اور سچی بات یہ ہے کہ ميں کب ” صوفی ازم ” کی محبت میں مبتلا ہوئی مجھے یاد نہیں-یہ عشق شاہ حسین کو دریافت کرنے سے شروع ہوا تھا اور پھر مجھے ” دیوبندیت ” کا ماڈل اپنے لئے ایک پنجرہ لگنے لگا- اماں مجھے تبلیغی جماعت ميں عورتوں کے نظم میں جانے کو کہتی تھيں- میرا دل نہیں کرتا تھا- اور میں تو بس ایک عجیب طرح کی بھگتی نام کی مالا جپتی تھی-مجھے عقائد کی بنیاد پہ لوگوں کے بارے میں رویے بنانے والے لوگ زہر لگتے تھے- ملک اسحاق کے مرنے پہ میرے منہ سے نکل گیا "خس کم جہاں پاک ” تو میری اماں اور ابّا دونوں مجھ پہ ایسے گرجے جیسے میں نے بانی دارالعلوم دیوبند مولانا قاسم ناناتوی کی توہین کردی ہو-اپنی مرضی سے جینا کیا ہوتا ہے یہ میں آج تک سمجھ نہیں سکی-”
میں نے اس سے پوچھا کہ اس نے اس ساری فضاء سے نکلنے بارے نہیں سوچا؟ تو اس کے جواب نے مجھے پھر سکتے میں ڈال دیا-
” ہمیں لگتا ہے کہ کوئی مرد ہمیں اس جبر کی فضاء سے نکال سکتا ہے-اور میرے جیسی عورتیں اکثر جب کبھی روشن خیال ، ترقی پسند ، انسانی آزادی کے علمبردار مردوں سے مکالمے ميں آتی ہیں اور پہلے پہل ان کی جانب سے اپنے خیالات کی ستائش سنتی ہیں اور ان سے عزت پاتی ہیں اور یہ احساس ان میں جاگزیں ہوتا ہے کہ ہاں ان کی حیاتیاتی ساخت سے آگے ان کو ایک انسان خیال کیا جارہا ہے تو وہ تھوڑا سا تحفظ محسوس کرنے لگتی ہیں اور ایسے ميں کسی سے وہ مدد کی طالب ہوتی ہيں مگر اس کا نتیجہ (ہر مرتبہ ہی نہيں) لیکن 99 فیصدی بولہوسی کی صورت نکلتا ہے اور پتہ یہ چلتا ہے کہ یہاں بھی عورت کو کامودیٹی سے آگے جاکر دیکھنے کا رواج نہیں ہے-ميں نے بہت سے عورتوں کو دیکھا جو بہت احترام اور بڑی واہ واہ کے ساتھ ” آزادی کا سمبل ” بن کر آئیں اور پھر عبرت کا نشان بن گئيں –”
میں جب یہ سن رہا تھا تو میرے ذہن میں نجانے کہاں سے ” نسیم کوثر ” کا خیال آگیا- سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پہ یہ عورت دیکھتے ہی دیکھتے بہت نمایاں ہوئی اور اس نے اپنی آزادی پہ اصرار شروع کیا اور دیسی لبرلز نے واہ واہ کرنی شروع کی تو قدامت پرست بلکہ بیمار مردوں کو جلال آگیا-” نسیم کوثر ” کا قصور یہ تھا کہ وہ ایک نچلے متوسط طبقے کی عام آدمی والی سماجی بنیاد رکھتی تھی- وہ نہ تو کسی بڑے بزنس مین کی بیٹی تھی نہ ہی کسی بیوروکریٹ کی اور نہ ہی کسی ہائی فائی پروفیشنل کلاس کا پس منظر رکھتی تھی اور اس کے پڑھنے والوں ميں بھی اربن چیٹرنگ کلاس کی بجائے ” سر تن سے جدا ” والے یا پھر اپنی جنسی ناآسودگیوں کو عام سے گلی محلے سے ساتھ لے کر آنے والے ڈھونگی لبرلز تھے تو اس کا حشر یہ ہوا کہ اسلام آباد ، کراچی ، پشاور سمیت اس کے خلاف بلاسفیمی کے مقدمات درج ہوچکے ہيں-فیس بک اکاؤنٹ ڈی ایکٹویٹ ہوچکا ہے-اس نے ایک معافی نامے پہ مشتمل وڈیو بیان بھی جاری کیا تھا لیکن کچھ نہیں بنا-نسیم کوثر کے کیس کو کسی نے بھی اہمیت کا حامل نہیں جانا کیونکہ یہ سول سوسائٹی کی مارکیٹ میں زیادہ بکنے والا کیس لگتا نہیں تھا-
عام طور پہ کہا جاتا ہے کہ ہماری لوئر مڈل کلاس اور غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والی عورتوں کے اندر قدامت پرستی ترقی کررہی ہے-اور مذہبی جنونیت میں اضافے کا ڈھونڈرا بھی پیٹا جاتا ہے-اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہاں کی عورتیں اپنے فکری ارتقاء کے بچپنے کی منزل پہ ہیں اور وہ گھٹنوں کے بل بھی چلنا نہیں سیکھ پارہی ہیں-اس تاثر کو اس لئے بھی ایک حقیقت خیال کرلیا جاتا ہے کہ عورتوں کی جو خلوت ہے ، ان کی زندگی کے جو اندر کے گوشے ہيں ان مين جھانک کردیکھنے کے مواقع بہت ہی کم مل پاتے ہیں-ہمارے کالجز ، یونیورسٹیز ، کام کی جگہیں ، اقامتی ہاسٹلز یہاں پہ جو عورتیں ہیں ان میں بہت سی عورتیں ہیں جن کو ایک فکری ارتقاء سے گزرنا پڑا ہے اور ذہنی طور پہ انہوں نے فرسودہ رسوم و رواج ، ازکار رفتہ ہوگئے خیالات اور عقائد کو خیرباد کہہ دیا ہے اور سب سے بڑھ کر وہ ” صنف ” سے آگے اپنے بطور ” کامل انسانی وجود ” کے اپنی مکمل آزادی کا ادعا کرنے کی حواہش رکھتی ہیں لیکن اس خواہش کے اظہار پہ جو ردعمل آتا ہے وہ اتنا خوفناک ہوتا ہے کہ ایسی عورتوں کی مزاحمت اور ہی روپ اختیار کرلیتی ہے اور اسے ہم زیر زمین مزاحمت بھی کہہ سکتے ہیں-

Views All Time
Views All Time
989
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   پھٹیچرعدالتی نظام - نادیہ عنبر لودھی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: