Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

میں عبدالستار ایدھی ہوں

by جولائی 12, 2016 بلاگ
میں عبدالستار ایدھی ہوں
Print Friendly, PDF & Email

edhiپاکستان کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم ایدهی فاؤنڈیشن کے بانی عبد الستار ایدهی کی نماز جنازہ اور لحد میں اتارے جانے کے مناظر…. یہ اس فانی زندگی کے وہ بنیادی حقائق ہیں جو ہرذی شعور انسان کی زندگی میں آتے ہیں مگر بہت خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جو بعد از مرگ بھی اتنی ہی محبت اپنے دامن میں سمیٹ کر جائیں جتنی اپنی زندگی میں سمیٹتے رہے ۔
بابائے قائد کے بعد یہ وہ واحد انسان تھا جو ملکی و غیر ملکی لوگوں کو سوگوار کر گیا۔ یہ وہ جنازہ تھا جس پر مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے، مختلف فرقوں میں بٹے، ہر رنگ و نسل، ذات پات، میں تقسیم گروہ انسانی دل پر ہاتھ رکھے افسردہ کھڑا تھا۔ بلاشبہ یہ عبدالستار ایدھی تھا۔ یہ پاکستان کا قیمتی اثاثہ تھا۔ یہ انسانی عشق کا ایسا لازوال کردار تھا جو پاکستانی تاریخ میں خوبصورت اضافے کے ساتھ اپنی پوری سچائی کے ساتھ روشن مثال بن چکا ہے۔ اوراب ہمارے لہو میں دوڑ رہا ہے ایسے عاشق کو بھلا کب موت آتی ہے ۔ وہ جسمانی طور پر تو مرگیا،مگر اپنے کام سے،اپنی بے لوث انسانی خدمت سے خود کو ہمیشہ کے لئے امر کر گیا۔
ہاں یہ عبد الستار ایدهی ہی تھا جو بین الاقوامی میڈیا کی ہیڈ لائنز کی شہ سرخیوں میں رہا، پورے اعزاز کے ساتھ، اور عقیدت کے ساتھ، اور اپنے ساتھ،پاکستان کو بھی قابلِ فخر بنا گیا۔گویا وہ اپنے قول و فعل سے یہ جتا گیا کہ ” ہم اصل پاکستان ہیں، جو جان بچانا جانتے ہیں، جو انسانوں کو ان کے مذہب سے بالا تر ہو کر سوچتے ہیں انھیں نوچتے کھسوٹتے نہیں،ہاں ہم ہی پاکستان کی وہ اصل شبیہ ہیں جو ذات پات، رنگ نسل کو ایک طرف رکھ کر انسانیت کی نمو کرتے ہیں انھیں تباہ و برباد نہیں کرتے،اور ہم کٹی پھٹی لاشوں پر تجارت نہیں کرتے بلکہ لاوارث لاشوں کو چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والی ہوں، پورے عزت و وقار کے ساتھ ان کی تدفین ان کے اپنے مذہبی رسم و رواج کے مطابق کرتے ہیں "ّ۔
پاکستان ایک فلاحی ریاست ہے۔ جس کا مقصد شہریوں کی فلاح و بہبود کا حصول ہے۔ مگر حقیقت کےبرعکس ہماری ریاست یہاں پربھی ناکام ہے۔ سرکار نے شہریوں کی فلاح کے لیے ادارے بنائے،کروڑوں،اربوں کے فنڈز سے چلنے والے یہ ادارے فعال نہیں، بدقسمتی سے یہ ہماری ریاست کے نمائشی ادارے ہونے کی بنا پر ایدهی جیسا شہری ہمارے معاشرے میں فعال ہوجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ غریب شہری سرکاری ایمبولینس کی بجائے ایدهی کی ایمبولینس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اگر کہیں حادثہ ہو جائے تو ایدهی رضا کار جائے حادثہ پر سب سے پہلے پہنچ کر اپنا فرض ادا کرتے ہیں اگر دیکھا جائے تو یہ فرض تو ریاستی اداروں کا ہے۔
ہمارے پاکستانی معاشرے میں بغیر نکاح کے پیدا ہونے والے پچوں کے ساتھ ناجائز کی اصطلاح بڑے طمطراق کے ساتھ استعمال کی جاتی ہے ایسے بچے حلال معاشرے میں حرامی جیسے لفظ سے فیض یاب ہو کر کچراکنڈیوں میں با آسانی پھینکے جاتے رہے ہیں اور ہماری ریاست ایسے بچوں کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہ کر سکی، مگر ایدهی صاحب نے اس سلسلے میں عملی قدم اٹھایا،اور جھولا سسٹم متعارف کروایا۔ اور ایسی دھتکاری معصوم سی مخلوق کی ولدیت کے خانے میں ایدهی صاحب اپنا نام لکھواتے رہے۔ جو بلاشبہ اس بے غیرت معاشرے میں اک مرد کی ہمت کی داستان ہے۔
تو تعجب کیسا؟ کہ اگر اسے ہیڈ آف دی اسٹیٹ والا ٹریبیوٹ ملے۔ عسکری وسول اعزاز کے ساتھ تدفین ہو، وہ شخصیت ہی ایسی تھی کہ پہلی بار چاروں صوبوں نے بغیر کسی اختلاف کے ایک ساتھ ایک ہی دن سوگ کا اعلان کیا۔ یہ سب اس کی بے لوث خدمامت کا نتیجہ تھا کہ اس کی جدائی کا غم ہر دل کو لگ رہا تھا۔ اس کا جنازہ ظاہر کرتا تھا کہ وہ اصلی وی آئی پی (vip) ہے وہ عام لوگوں کا وی آئی پی ہے،تبھی وہ جہاں سے گزر رہا تھا، لوگ اس کے ہم قدم تھے،اور اس کی زندگی میں بھی لوگ اس کے ساتھ تھے۔ وہ واحد وی آئی پی تھاجس کے لئے لوگ سڑکوں پر راستہ چھوڑ دیتے تھے۔ وہ جاتے جاتے اپنی قوم کو سکھاگیا کہ عملی سیاست کی ا،ب کیا ہوتی ہے۔ آپ نے سیاست کو نئی جہت، نئے معنی دئیے
یہی وجہ ہے کہ اس درویش کی نماز جنازہ میں وقت کے بڑے بڑے حکمران موجود تھے، یہ تاریخی جنازہ تھا۔ عموماً مر جانے والے لواحقین زیادہ متاثر ہوتے ہیں مگر یہ ایسا وی آئی پی تھا کہ جس نے پورے پاکستان کو متاثر کر دیا پورے پاکستان کو رُلا دیا۔ جو اپنے قول و فعل سے پہچانا گیا،جو احساس کا نام تھا،جو تھکی ماندی،لٹی پٹی، کٹی پھٹی روحوں کے لیے آخری پناہ گاہ تھا۔
بڑا انسان کون ہے؟ جو پرتعیش بنگلوں میں رہتا ہو، جو ڈھیر ساری نوٹوں کی گڈیوں میں سانس لیتاہو،مگر مادیت پرستوں کے اس دور میں آج یہ الجھن دور ہوئی کہ بڑا آدمی وہ ہوتا ہے جو دلوں پر حکمرانی کرے۔ بڑا آدمی عبدالستار ایدھی ہوتا ہے
ملکی تاریخ جب لکھی جائے گی تو دیکھا جائےگا کہ یہاں صنعت کار، سیاستدان یا حکمران طبقے نے قدر و منزلت پائی یا عبد الستار ایدهی جیسے لوگوں نے۔ مگر ایک بات تو طے ہے کہ یہ تاریخ جب بھی لکھی جائے گی آپ کا نام سنہرے حرفوں سے لکھا جائے گا۔

Views All Time
Views All Time
509
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سڑکوں اور موبائل سروس کی بندش پر جوابِ شکوہ | سیدہ قراۃ العین حیدر
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: