Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

میں ہوں ایدھی

by جولائی 15, 2016 کالم
میں ہوں ایدھی
Print Friendly, PDF & Email

Noor ul Hudaہم بے حس تھے ، بے درد تھے ، اس نے ہمیں لوگوں پر شفقت کرنا سکھایا ۔۔۔ ہم انسانیت سے بے پرواہ تھے ، اس نے ہمیں درد آشنا بنایا ۔۔۔ دوسروں کے دکھوں اور غموں کو بانٹنا سکھایا ۔۔۔ ہمیں اپنے حاصل وسائل پر بھروسہ کرکے جینا سکھایا ۔۔۔ ہم مظلوموں کے غم بانٹنے کا صرف سوچتے رہے مگر اس نے عملی طور پر انسانیت کا لبادہ اوڑھ کر دکھایا ۔۔۔ ہماری خوشیوں کا دشمن یہاں لاشیں گراتا رہا اور وہ آکر اٹھاتا رہا ۔۔۔ ہم نت نئے ڈیزائن کے لباسوں کے شوقین ، اس نے ہمیں 2 جوڑوں میں جی کر دکھایا ۔۔۔ وہ ہم گناہوں سے لتھری قوم کیلئے باعث مغفرت تھا ۔۔۔ وہ اتنا عظیم تھا کہ جاتے جاتے اپنی آنکھیں بھی ہمیں دے گیا ، کہ لو ، ان سے دنیا کو دیکھو اور مظلوموں ، محروموں ، یتیموں ، مسکینوں اور بے سہاروں کو پہچانو ، ان کا ہاتھ تھامو ۔۔۔ وہ اس مردہ معاشرے میں واحد زندہ انسان تھا ۔۔۔ وہ سادگی کا پیکر اور حقوق العباد کا صحیح معنوں میں عملی نمونہ تھا ۔۔۔ اس نے ہر ناممکن کو ممکن بنایا اور اپنی خواہشات مار کر دوسروں کی دنیائیں روشن کرتا رہا ۔۔۔ اس نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ انسانیت کی خدمت سیاست کے بغیر بھی ہوسکتی ہے ۔۔۔ عبدالستار ایدھی محبت ، شفقت ، مسیحائی ، فخر ، اخوت اور خدمت کا اک تاریخی عہد تھا ، اب نہیں رہا ۔۔۔
’’چل بندیا ایدھی لبھئے
ہویا کُل وطن لاوارثا ‘‘
آج ہر فرد عبدالستار ایدھی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں اپنا ہیرو گردان اور خراج تحسین پیش کررہا ہے ، لیکن صرف یہ کافی نہیں ہے ، ہمیں یہ باب بند نہیں ہونے دینا ، ہمیں ایک قدم اور آگے بڑھنا اور اپنی اپنی سطح پر ’’ایدھی‘‘ بننا ہوگا ، انسانیت کا رضاکار بنتے ہوئے مستند فلاحی اداروں کا ساتھ دینا ہوگا ۔ جب ہم یہ علم تھامیں گے اور پوری طرح اس مشن میں شامل ہوجائیں گے تبھی ایدھی صاحب کی روح کو سکون ملے گا ۔۔۔ خالی خولی نعرے لگانا اور کھوکھلے دعوے کرنا تو ہماری ریت ہے ، زندگی کا اصل مزہ صحیح معنوں میں انسانیت کی عملی خدمت میں ہی رکھا ہے ۔ جب متوسط طبقے کے لوگوں کے حالات زندگی بہتر کرنے کیلئے معاشرے کا ہر فرد انفرادی سطح پر اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے گا تو ہی قوم کی حالت بدلے گی۔۔۔
پاکستان میں اس وقت فلاحی اداروں کا جال بچھا ہوا ہے ۔ ہزاروں کی تعداد میں فلاحی و رفاہی ادارے سرگرم ہیں لیکن تمام تو نہیں البتہ بیشتر ادارے ضرور قابل اعتبار گردانے جاسکتے ہیں ۔ ہم تھوڑی سی کوشش اور چھان بین سے مستحق ادارے تلاش کرسکتے ہیں ۔۔۔ عبدالستار ایدھی دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے ہمیں اِک جذبہِ خدمت اور اپنی آنکھیں عطیہ کرگئے ہیں ۔ ہم ان سے دنیا کو دیکھ اور پہچان سکتے ہیں ۔ ہمارے پاس ایدھی فاؤنڈیشن کے ساتھ ساتھ الخدمت فاؤنڈیشن ، غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ ، ہیلپنگ ہینڈ ، سعدیہ کیمپس ، اخوت ، سندس فاؤنڈیشن ، شوکت خانم ، رائزنگ سن ، فاؤنٹین ہاؤس اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن جیسے معروف ادارے موجود ہیں جو پاکستان کا اصل چہرہ ہیں اور گذشتہ ایک عرصہ سے وسائل سے محروم انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں ۔۔۔ ان اداروں کو ہماری سرپرستی کی ضرورت ہے ۔
لاہور کے وسط میں واقع ’’سعدیہ کیمپس‘‘ خصوصی بچوں کو گذشتہ کئی سال سے تعلیم اور ہنر دے رہا ہے ۔ آج کل ایک ایسی بلڈنگ بنانے میں مصروف ہے جہاں ان بچوں کی آسانی کیلئے بیشتر سہولیات میسر ہوں گی ۔ اس ضمن میں اسے معاونت چاہئے ۔۔۔ ’’سندس فاؤنڈیشن‘‘ تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں کو صحت یاب کرنے کی کوشش میں مصروف ہے ۔۔۔ ’’غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ‘‘ تعلیم کے فروغ کے ذریعے جہالت کے اندھیرے دور کررہا ہے ۔۔۔ ’’ہیلپنگ ہینڈ‘‘ پاکستان میں معذور افراد کو مصنوعی اعضا مہیا کرکے ان کی زندگی بحال اور آسان بنا رہا ہے ۔۔۔ ’’الخدمت فاؤنڈیشن‘‘ اپنے کئی منصوبوں کے ذریعے ملک کے کونے کونے میں سرگرم عمل مجبوروں کے دکھوں کا مداوا کررہی ہے ۔۔۔ ’’ایدھی ٹرسٹ‘‘ کا تو نام ہی کافی ہے ۔۔۔ ’’فاؤنٹین ہاؤس‘‘ کئی بے سہاروں کا مان ہے ۔۔۔ یہ تمام ادارے پاکستان کی شناخت ہیں اور ہمیں دیے سے دیا جلاتے ہوئے اس شناخت کو مزید واضح کرنا ہے ۔
عبدالستار ایدھی کو ہماری دعاؤں یا خراج تحسین کی ضرورت نہیں ، ان کی روح کے ایصال ثواب کیلئے ہمیں اپنی اپنی ذات میں ایدھی بن کر دکھانا ہوگا ۔ آج تمام بڑے سیاستدان ایدھی سنٹر جاکر ٹی وی کیمروں کے سامنے ایدھی کے لواحقین سے اظہار تعزیت کم اور اپنی پروموشن زیادہ کررہے ہیں ، کیا ہی اچھا ہو اگر وہ وہاں سے کچھ اثرات لے کر لوٹیں اور ایدھی کی آنکھوں سے پاکستان کے عوام کو دیکھنا شروع کریں ، تو کتنے ہی لوگ انہیں بے سروسامانی کی حالت میں دکھائی دیں گے ، جو حکمرانوں اور سیاستدانوں کی ذمہ داری تھی لیکن غربت ، بیروزگاری اور ناانصافی اور مساوی حقوق کی عدم فراہمی کی وجہ سے ٹھوکریں کھانے یا خودکشیوں پر مجبور ہیں ۔ ملک میں دس کروڑ سے زائد افراد خط غربت سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں ۔۔۔ ساٹھ لاکھ سے زائد نوجوان بے روزگار ہیں ۔۔۔ 5 سے 16 سال تک کی عمر کے 42 لاکھ بچے یتیم ہیں ۔۔۔ کتنے ہی والدین حالات سے مجبور ہوکر اپنے بچوں کو قتل اور اپنی زندگی ختم کررہے ہیں ، اجتماعی و انفرادی خودکشی کی مثالیں ہماری روزمرہ تاریخ کا حصہ بنتی جارہی ہیں ۔۔۔ ان کی فلاح عامہ کیلئے خود کو وقف کرنا اور تعلیم ، صحت ، روزگار اور بنیادی ضروریات کے حصول کے مواقع مہیا کرتے ہوئے ان کی احساس محرومی کو دور کرنا یقیناًمعاشرے سے بڑھ کر بڑے بڑے دعوے کرنے والے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی ذمہ اری ہے ۔
’’زندہ رہنے کے سب اسباب مٹا کر ہم کو
کس قدر پیار سے جینے کی دعا دیتے ہیں ‘‘
عبدالستار ایدھی نے ’’دینے اور بانٹنے کا نظریہ‘‘ (Law of giving ) متعارف کروایا اور اگر سیاستدان یا ہم میں سے کوئی بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے اپنی ’’میں‘‘ کو مارنا ہوگا ، خود کو دوسروں کیلئے وقف کرنا ہوگا ۔ انسانیت کی فلاح کیلئے کام کرنے والے اداروں کا ساتھ دینا ہوگا ۔۔۔ اپنے معاشرے کے سفید پوشوں کی خاموش مدد کرنی ہوگی ۔۔۔ جب ہماری سی وی میں یہ تمام امور شامل ہوجائیں گے تو ہی ہم کامیاب کہلائیں گے ۔ نفس مطمئن ہوگا اور رضائے الٰہی حاصل ہوگی تو ہی جنت ہمارا مقدر بنے گی ۔۔۔ یہاں والدین کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ جس طرح ایدھی کی والدہ بچپن میں سکول جاتے ہوئے انہیں دو پیسے دیتی اور ایک پیسہ کسی غریب پر خرچ کرنے کی نصیحت کیا کرتی تھی ، آج کی مائیں بھی اپنے بچوں میں یہی جذبہ پیدا کرنے کا عہد کریں تو یقیناًوہ بڑے ہوکر ’’ایدھی‘‘ بنیں گے ۔ ان کے دل میں نیکی ، سخاوت مدد اور دوسروں کیلئے درد پیدا ہوگا ۔۔۔ یوں وہ دنیا کمانے کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت کو بھی سنہرا بنائیں گے ۔۔۔ یہی عمل صدقہ جاریہ بھی ہوگا اور والدین کیلئے بعد از مرگ باعث نجات بھی ۔۔۔ وگرنہ عبدالستار ایدھی کی وفات سے ہمارے سماجی رویوں میں جو تبدیلی پیدا ہوئی ہے وہ محض وقتی ثابت ہوگی اور کچھ ہی عرصہ بعد ہم ایدھی صاحب کو بھلا کر اپنی دنیا میں گم ہوجائیں گے ۔
اس کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کو بھی چاہئے کہ عبدالستار ایدھی کے یوم وفات کو آئندہ سال سے ’’ایدھی ڈے‘‘ کے طور پر منائیں ۔۔۔ ا س سے نہ صرف عوام میں انسانیت کی خدمت کے حوالے سے آگہی پیدا ہوگی بلکہ ان میں فلاح عامہ کا جذبہ بھی بڑھے گا ۔۔۔ کیونکہ کسی قوم کو پرکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ اپنے غریب اور نادار لوگوں کے ساتھ رکھا گیا رویہ اور برتاؤ ہے ۔ ایک معاشرہ کے مہذب ہونے کیلئے یہی دلیل کافی ہے کہ وہ اپنے ارد گرد موجود مجبور و بے کس اور ضرورتمند لوگوں کو خودانحصار بنانے کی جانب کتنی توجہ دیتا ہے ۔ اس ضمن میں ہم کہاں کھڑے ہیں ، اس کا جائزہ خود لیجئے ۔۔۔ تو پھر آئیے ، عہد کیجئے کہ آج سے ہم میں سے ہر فرد ’’ایدھی ‘‘ ہے ۔۔۔ کہ یہ وقت کی ضرورت بھی ہے ، ہماری اخلاقی و قومی ذمہ داری بھی ، اخلاقی گراوٹ سے نکلنے کا راستہ بھی اور روزِ آخرت ہماری کامیابی کا دارومدار بھی ۔۔۔

Views All Time
Views All Time
246
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   حافظ سعید ! پاکستان میں عوام کو گمراہ کرنا بند کرو - عامرحسینی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: