Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

حسين منى وانا من الحسين

by اکتوبر 11, 2016 اسلام
حسين منى وانا من الحسين
Print Friendly, PDF & Email

hannan-siddiquiسیدالانبیاء، وحی خدا کے بغیر نہ بولنے والے رسول حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی معروف حدیث ہے کہ "حسینؑ مجھ سے ہے اور میں حسینؑ سے ہوں۔” اس حدیث کے دونوں حصے اپنی اپنی جگہ تشریح طلب ہیں۔ پہلے حصے کو اگر سورہ مبارکہ الکوثر کی روشنی میں دیکھا جائے تو خداوند متعال نے رسول پاکﷺ کی نسل کو ان کی پاک بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا کی نسل سے بڑھایا اور گویا رسول پاکﷺ نے فرمایا کہ حسینؑ میری نسل سے ہے۔ لیکن اگر سیرت رسول پاکﷺ کی روشنی میں "حسین منی” کو دیکھا جائے تو امام حسینؑ کی سیرت اپنے نانا رسولﷺ کی سیرت کے مطابق نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر رسول اکرمﷺ نے اپنی زندگی کے چار اہم محاذوں کو سر کیا اور امام حسینؑ نے بھی انہی چار محاذوں کو اپنی زندگی میں سر کیا ۔اگرچہ ان محاذوں کے سر کرنے کا طریقہ کار اور حکمت عملی حالات کے تقاضوں کے مطابق مختلف ہے۔ پہلا محاذ ہجرت کا ہے۔ رسول پاکﷺ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور امام حسینؑ نے بھی مدینہ سے کربلا کی طرف ہجرت کی لیکن نانا اور نواسے کی ہجرت میں فرق ہے۔ نانا نے ہجرت کی تو چند افراد کو ساتھ لے کر گئے لیکن امانتیں پہنچانے اور مستورات کو لانے کی ذمہ داری مولا علیؑ کے سپرد کی۔ لیکن جب امام حسینؑ نے ہجرت کی تو جوان، مستورات اور دودھ پیتے بچے تک کو ساتھ لے کر گئے۔ دوسرا محاذ جنگ کا ہے۔ نانا نے بھی جنگ کی اور نواسے نے بھی جنگ کی لیکن دونوں کے جنگ کرنے میں بڑا فرق ہے۔ نانے کی جنگ میں مولا علیؑ اور دوسرے صحابہ تازہ دم ہو کر رسول پاکﷺ کے زورِ بازو بن کر لڑتے تھے لیکن نواسے کی جنگ میں تقریباً تین دنوں کے پیاسوں نے جنگ لڑی اور حتیٰ کہ چھ ماہ کے علی اصغرؑ بھی اس جنگ میں قربان ہو گئے۔ تیسرا محاذ صلح کا ہے۔ رسول پاکﷺ جب ایک بار عمرہ کی غرض سے صحابہ کے ہمراہ مکہ گئے تو کفار نے روک لیا اور عمرہ نہ کرنے دیا تو حدیبیہ کے مقام پر صلح کی اور گویا جارحیت کی سیاست سے اجتناب کر کے مظلومانہ سیاست کرتے ہوئے کفار کی تقریباً تمام شرائط کو تسلیم کیا تو کچھ لوگوں کو رسول پاکﷺ کی رسالت پر بھی شک ہوا لیکن رسول اکرمﷺ کی زبردست حکمت عملی کی بدولت اس سیاست کے ثمرات بعد میں ظاہر ہوئے۔ اسی طرح امام حسینؑ بھی آخر وقت تک اس کوشش میں رہے کہ جارحیت سے اجتناب کیا جائے اور صلح سے کام لیا جائے۔ اسی غرض سے کربلا میں لشکر یزیدی کے سپہ سالار عمر ابن سعد ملعون سے مذاکرات کا مرحلہ بھی ہوا۔ امامؑ خطبے دے کر اپنی عظمت بیان کرتے رہے تاکہ لوگ امام کے خون میں ہاتھ نہ نہ رنگ لیں۔ ایک بار تو ایسا ہوا کہ عمر ابن سعد اور امام حسینؑ مذاکرات کے لئے آئے تو ہر طرف شور و غل تھا۔ امام نے فرمایا کہ بات چیت کرنے سے قبل شور کو ختم کرواؤ۔ عمر ابن سعد نے سپاہیوں کو خاموشی کا حکم دیا تو سپاہی خاموش ہو گئے لیکن گھوڑوں کے ہنہنانے اور اونٹوں کے گلے کی گھنٹیوں کی آوازیں آ رہی تھی۔ امام نے فرمایا کہ میں نے خاموشی کا کہا ہے لیکن شور تو ابھی تک جاری ہے تو عمر ابن سعد نے جواب دیا کہ میری حکومت تو صرف سپاہیوں پر ہے، میں جانوروں کو کیسے خاموش کروا سکتا ہوں تو امامؑ نے اسی وقت فضا میں ہاتھ بلند کیا اور یکدم مکمل خاموشی چھا گئی تو امامؑ نے فرمایا کہ کیا ابھی بھی مجھے نہیں پہچانا کہ میں کون ہوں؟ جانور بھی میری عظمت کو پہچانتے ہیں لیکن اس ملعون پر کوئی اثر نہ ہوا اور امام ؑاپنے خطبوں میں فرماتے تھے کہ تمہارے اوپر میری باتوں کا اس لئے اثر نہیں ہوتا کہ تمہارے شکم حرام سے پُر ہو چکے ہیں تو پس معلوم ہوا کہ اگر انسان حرام خوری کرے تو کلامِ امام بھی اثر نہیں کرتا۔ چوتھا محاذ مباہلے کا ہے۔ رسول پاکﷺ نے اپنی حقانیت کی گواہی کے لئے اھل بیت علیہم السلام کو ساتھ لیا تھا اور امام حسینؑ نے بھی جب ننھے علی اصغرؑ کے لئے پانی مانگا تو ظالموں نے کہا کہ حسینؑ! پانی خود پیتے ہو اور بہانہ بچے کا کرتے ہو تو اس وقت ننھے علی اصغرؑ نے خشک لبوں پہ خشک زبان پھیر کے بابا کی صداقت کی گواہی دی۔ یہ تو تھی سر نامہ پر لکھی گئی حدیث کے پہلے حصے کی وضاحت کہ "حسینؑ مجھ سے ہے۔” حدیث کا دوسرا حصہ "میں حسینؑ سے ہوں۔” کی مختصراً وضاحت یہ ہے کہ رسول اکرمؑ اور باقی تمام انبیاء کے مشن کی بقا حسینؑ کی جدوجہد میں ہے۔ معصومینؑ سے منقول زیارت امام حسینؑ میں ہے کہ ہمارا سلام ہو اللہ کے برگزیدہ نبی آدمؑ کے وارث پر، نوحؑ نبی کے وارث، ابراہیمؑ خلیل اللہ کے وارث، موسیٰؑ کلیم اللہ کے وارث، عیسیٰؑ روح اللہ کے وارث، سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے وارث، امیرالمومنین حضرت علیؑ شیر خدا کے وارث حسینؑ پر ہمارا سلام۔ اب اس میں وراثت سے مراد مال و زر، دولت و جاگیر کی وراثت نہیں بلکہ تمام انبیاء کے کمالات و صفات اور مشن کا وارث حسینؑ ابن علیؑ ہے۔ پس رسول اکرمﷺ کا یہ فرمانا کہ میں حسینؑ سے ہوں، اس کا مطلب یہی ہے کہ حسینؑ کی جدوجہد، حسینؑ کی ہجرت، حسینؑ کی جنگ و صلح، حسینؑ کا یزید کے خلاف قیام، غرض یہ کہ حسینؑ کی ہر کاوش سیدالانبیاء ﷺکے مشن کی بقا کی ضامن ہے۔ امام حسینؑ انسانیت کے امام ہیں اور ان کی زندگی انسانیت کے لئے نمونہ عمل ہے۔ اسی لئے دنیا میں حریت پسندی کی ہر تحریک کربلا کی مرہون منت ہے۔ بقول شاعر جب بھی کبھی ضمیر کا سودا ہو دوستو قائم رہو حُسین کے انکار کی طرح اسی لئے امام حسینؑ کی حریت اور سیرت سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہر دور کی یزید کے خلاف آواز حق بلند کرنی چاہئے اور جب امام حسینؑ سے بیعت طلب کی گئی تب بھی امام نے یہی فرمایا تھا کہ مجھ جیسا کبھی یزید جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا تو اس کا مطلب حسینؑ کی فکر سے روشنی لینے والا کسی بھی دور کا انسان کسی بھی یزید کی بیعت نہیں کرے گا۔ یہی تعلیماتِ پیغمبرﷺ ہیں جن کی بقا اور ترویج کےلئے امام حسینؑ نے جان، مال، عزت و اولاد سب کچھ قربان کر دیا اور حسینؑ منی وانا من الحسین ؑکے مصداق قرار پائے۔ حسین منی کی توضیح سجدۂ احمد من الحسین کی تفسیر کربلائے حُسینؑ

Views All Time
Views All Time
1246
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   علی اصغر علیہ السلام | نور درویش
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: