Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

گو وہ نہیں رہتا پر نام سدا رہتا ہے

Print Friendly, PDF & Email

افکارِ شہداء پاکستان کی جانب سے شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے کراچی میں دورانِ مرکزی جلوس چہلم امام حسین علیہ السلام تصویری نمائش کا انعقاد کیا گیا۔۔۔۔ جس میں کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں شہید ہونے والوں کی تصاویر آویزاں کی گئیں۔ یہ ایک بے حد متاثر کن کاوش ہے جس کے ذریعے شہداء کی قربانیوں کو یاد کرکے ان کے افکار و اذکار کا پرچار کیا جاتا ہے۔

دوستوں نے اس نمائش کی بہت سی تصاویر ارسال کیں، تصاویر دیکھتے دیکھتے میری نظر ایک ایسی تصویر پر رک گئی کہ جسے دیکھ کر کلیجہ منہ کو آنے لگا اور آنکھوں سے بے ساختہ آنسو جاری ہوگئے۔۔ یہ تصویر ایک ماں کی تھی۔۔۔ جس کے جواں سال بیٹے کو کچھ عرصہ قبل کراچی میں شہید کردیا گیا تھا۔ یہ خاتون جلوس میں شامل تھیں اور چلتے چلتے اس تصویری نمائش کے قریب آ پہنچیں۔ جہاں ان کی نظر شہداء کے بیچ موجود ان کے لختِ جگر پہ پڑی۔۔ اس وقت ایک ماں کی کیفیت کیا ہوگی یہ بیان کرنے سے قاصر ہوں۔۔ لیکن یہ تصویر دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ کیسے کیسے ہیرے ہم سے جدا کردیئے گئے۔ کتنی ماؤں کی گودیں اجاڑ دی گئیں۔ کتنے بچوں کو یتیم کردیا گیا۔کتنی قربانیاں دی ہیں اس رسمِ عزا کے لئے۔

یہ بھی پڑھئے:   سحر اور زینب کی باتیں

پروردگار ان ماؤں کو اجر عظیم عطا فرمائے کہ جنہوں نے ایسے چاند اور تارے پال کے وطن کی محبت اور دین پر نچھاور کردیئے۔۔
آخر میں مرزا دبیر کا شعر افکارِ شہداء پاکستان کے دوستوں کی نظر کرتے ہوئے دعا گو ہوں کہ خدا ان کی توفیقات میں مزید اضافہ فرمائے۔۔آمين
جو کہ مصروفِ سلامِ شہداء رہتا ہے
گو وہ رہتا نہیں پر نام سدا رہتا ہے

 

Views All Time
Views All Time
73
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: