انسانیت

Print Friendly, PDF & Email

Riffat Sabzwariمیں ایک ریسرچ کا مطالعہ کر رہا تھا جس میں چند اعداد و شمار بھی دیئے گئے تھے جس کے مطابق دنیا میں قریباً چار ہزار سے زائد مختلف مذاہب موجود ہیں. ہم تو چند ایک ادیان سے ہی شناسا ہیں یا ان کے بارے میں پڑھ رکھا ہے. میں نے کوشش کی کہ دین کی تعریف کروں تو سمجھ میں یہی آیا کہ کہ دین اقدار کا مجموعہ ہے اعلیٰ اخلاقی انسانی اقدار … معروف حدیث نبویؐ ہے انما بعثت لاتمم مکارم الخلاق. یعنی انبیاء کی بعثت کا مقصد اخلاق کی تکمیل تھا یعنی انسان کو شعوری و فکری طور پر اعلیٰ بنانا تھا. پھر آئیے ہم اپنے معاشرے پہ نظر دوڑاتے ہیں کہ ہم اخلاقی طور پہ کس نہج پر ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم گدھوں کا گوشت کھانے کے عادی ہیں ، غیر معیاری مشروبات بیچتے ہیں اور جعل سازی میں سبقت لے چکے ہیں. مقصد کسی پر تنقید کرنا ہر گز نہیں مگر محاسبہ کرنا ضروری ہے کہ ہم اخلاقی پستی کا شکار کیوں ہیں؟ میری ناقص رائے میں ہم نے اصل مفاہیم کو چھوڑ کر چھلکے سے چپکے رہنے کو ترجیح دی ہے. ہم نے قرآن کو رٹ ضرور لیا ہے مگر اس کے آفاقی پیغام سے رجوع کرنے کی کوشش ہی نہیں کی. نتیجہ یہ ہے کہ ہم تیسری دنیا میں رہ رہے ہیں. دنیا اگلے تیس برسوں میں مریخ پہ آبادکاری کا سوچ رہی ہے مگر ہم طوطا فال سے قسمت کا حال معلوم کرنا چاھتے ہیں. قصور کس کا ہے؟ قصور ان تمام طبقات کا ہے جنہوں نےمعاشرے کی سوچنے کی صلاحیت کو سلب کرنے کی کوشش کی. زمانے کے ارتقاء کے ساتھ انسانی شعور کو ارتقاء کا موقع فراہم نہیں کیا. اور اگر کسی نے معاشرے کے مردہ ضمیر کو جھنجھوڑ کر اس میں طاقت پیدا کرنے کی کوشش کی اسکا حال برا ہی ہوا. ایک شعر حسب حال ذہن میں آرہا ہے
یہ ارتقاء کا چلن ہے کہ ہر زمانے میں
پرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے ہیں
ہمیں اسی ڈر کا خاتمہ کرنا ہے کہ ہم کسی کی دکان بند کرنے نہیں آئے مگر ہم سوسائٹی کو تھوڑی سپیس دینا چاہتے ہیں…
باتوں باتوں میں ہم کہیں اور نکل گئے مگر اس تمام تمہید کا مقصد فقط یہی ہے کہ انسانیت کی خدمت اور بھلائی کو ہی اگر ہدف قرار دیا جائے تو اسی صورت میں ہم ایک بہتر معاشرہ ترتیب دے سکتے ہیں . ایسے تمام کاموں سے اجتناب کریں جس سے بقا انسانیت کو خطرات ہوں.میرے خیال سے اسے اگر معیار قرار دے دیا جائے تو ہم حقیقی معنوں مردِ قلندر و مرد حُر بن سکتے ہیں. لیکن یہ سب ممکن کیسے ہو گا؟ بہت اچھا سوال ہے!!!
جواب یقیناً یہی ہونا چاہیے کہ معاشرے کی علمی سطح کو بلند کیا جائے، ہم اپنی درس گاہوں میں روبوٹ تیار کرنے کے بجائے انسان تیار کریں، اور انکے سوچنے اور فکر کرنے کی صلاحیت کو مفقود نہ ہونے دیں انکے اندر سے ڈر ختم کریں.
ہم سب ایک مہذب اور آئیڈیل معاشرے کا خواب دلوں میں رکھتے ہیں . معلوم نہیں کہ یہ خواب ہماری آنکھیں بند ہونے سے پہلے شرمندہِ تعبیر ہوگا کہ نہیں مگر ہم اس کی کوشش جاری رکہیں گے کیونکہ یہی انسان اور انسانیت کی بقا کے لیے ضروری ہے اور یہی انبیاء اور مصلحین کا بھی پیغام تھا.

Views All Time
Views All Time
426
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   طوائف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: