Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

برازیل میں بے مثال انسانی کارنامہ

by جولائی 24, 2016 بلاگ
برازیل میں بے مثال انسانی کارنامہ
Print Friendly, PDF & Email

hafiz muzzafar ahmedپاکستان کی طرح برازیل کو بھی بجلی کی کمی کا سامنا ہے
خصوصاََ وہاں کا مرکزی شہر راؤڈی جنیرو اکثر اندھیروں میں ڈوبا رہتا تھا.
2007 میں برازیلی حکومت کو احساس ہوا که شہر میں 2014 میں فٹ بال عالمی کپ اور 2016 میں اولمپکس ہونے والے ہیں.
لہذا ایسی عالمی تقریبات کے دوران شہر میں بجلی چلی گئی تو یہ بڑے شرم کی بات ہوگی.
چنانچہ اسی سال راؤڈی جینرو کو پوری بجلی فراہم کرنے کی خاطر ایک ڈیم ،سمپلیسیو ہائیڈرو الیکٹرک کمپلیکس (Simplicio Hydro Electric Complex) کا آغاز کردیا گیا. یہ منصوبہ انسانی قدرت ،ذہانت اور محنت کا لازوال مظاہره ہے
یہ ڈیم دریائے پاریبا پر تعمیر ہونا تھا. معلوم ہوا که مجوزه جگہ ڈیم بنا تو قریب واقع سوا لاکھ آبادی کا شہر ساپوسیا ڈوب جائے گا. چونکہ اور کوئی موزوں جگہ نہیں تھی. لہذا فیصلہ ہوا که یہ ڈیم شہر سے سولہ میل دور تعمیر کیا جائے
اور یہ کہ سرنگوں اور سپل ویز کے ذریعے دریا کا پانی ڈیم تک پنہچایا جائے.
یوں سولہ میل کے رقبے میں ڈیم کی تعمیر کا آغاز ہوا اور یہ دنیا کا سب سے بڑا تعمیراتی علاقہ بن گیا ،
ڈیم تک پانی پنہچانے کےلیۓ سات پہاڑوں کے اردگرد چکر کھاتی سات سرنگیں کھودی گئیں جو ایک سو اسی فٹ چوڑی ہیں. یہ دنیا کی سب سے چوڑی سرنگیں ہیں. سات سرنگوں اور چھ سیل ویز کے ذریعے سالانہ 750ارب گیلن پانی ڈیم تک پنہچے گا.
ڈیم میں نصب ٹربائن سالانہ 337 میگاواٹ بجلی پیدا کریں گی. دیکھ لیجئے کچھ کر دکھانے کا جذبہ ہو تو انسان ناممکنات کو بھی ممکنات میں بدل دیتا ہے.
واضح رہے ، پاکستان کے مانند برازیل کو بھی قدرت نے کئی دریاؤں کی نعمت عطا کی ہے مگر وه اس سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں. برازیلیوں نے دریاؤں پر 663 ڈیم تعمیر کیۓ ہیں جو سالانہ 87 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرتے ہیں. یہ برازیل میں جنم لینے والی بجلی کا 77 فیصد ہے
دوسری طرف ہمارے ہاں صرف پانچ بڑے ڈیم ہیں جو کل 6,335 میگاواٹ بجلی بناتے ہیں
جبکه ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی دریاؤں پر نئے ڈیم بنا کر کم از کم 40 ہزار میگاواٹ مزید بجلی مل سکتی ہے اگر ہو جستجو باقی!!!!…..

Views All Time
Views All Time
328
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   اسلام آباد ایئرپورٹ کا منظر
Previous
Next

One commentcomments

  1. Abdul Aziz Khoso

    MashaAllah baht aschi tahreer hai.aur ju baat likhi hai wo darust hn.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: