Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

جھلی سہیلی کا ایک خط – حمیرا نقوی

by نومبر 16, 2016 بلاگ
جھلی سہیلی کا ایک خط – حمیرا نقوی
Print Friendly, PDF & Email

Humaira Naqvi

!جان سے پیاری نگہت
گزشتہ کچھ دنوں سے ایک عجیب تحریروترکیب نظروں سے گزر رہی ہے۔ ای ۔میل اور کلاؤڈ کے دور میں "خط” لکھنا عجیب بھی ہے اور دلچسپ بھی۔ ایک صاحب ہیں جو اکثراپنی "ساری” کو خط لکھتے رہتے ہیں۔ جن میں کریٹوٹی اور امیجینیشن کی پیک بھی ہے اور احساسات کا الاؤ بھی، پھر کل نظر سے ایک اور خط گزرا۔ کسی نے اپنے محبوب کو خط لکھا تھا۔ بس تبھی میں نے سوچا کہ میں بھی کوشش کر دیکھوں شاید تم تک میری آواز پہنچے۔ لیکن میں نے سوچا ہے کہ یہ پہلا اور آخری خط نہیں ہو گا۔نہ ہی اسکی کو ئی گنتی ہو گی۔ جب میری تم سے محبت لامحدود ہے تواسکا اظہار گن گن کے کیسے کروں؟ جب دل کرے گا لکھوں گی اور سُنو تم منع بالکل مت کرنا کیونکہ تمہیں پتہ ہے کہ میرے دماغ میں جو بات آ جائے وہ کر کے رہتی ہوں لہذا تمہارا منہ بنانا بےکار ہے۔ 

آج ایک دوست کی وال پر کمنٹ کیا تھا کہ "ہم بنیادی طور پر مردہ پرست قوم ہیں۔” تو بظاہر تو وہ ازراہ مذاق کہا تھا (جس کے لئے اپنے دوست سے معذرت خواہ ہوں ،اگر اسے بُرا لگا ہو) لیکن بعد میں بہت وقت اسی بارے میں سوچتی رہی۔ تمہیں پتا ہے ناں اگرچہ میرا حلقہء احباب وسع ہے مگر میں بیسٹ فرینڈ بہت کم بناتی ہوں۔ بیسٹ فرینڈ کے نام پر آج تک صرف تین نام ذہن میں آتے ہیں۔ 2014 میں ملے تھے ناں ہم۔ ہے ناں ؟

سردیوں کی وہ شام یاد ہے مجھے جب تم مونگ پھلی لے کر میرے آفس آئی تھیں اور سب کو دیتے ہوئے بولی تھی کہ یہ ہمارے علاقے کی سوغات ہےاور میں دل میں سوچ رہی تھی کہ کتنی کنجوس لڑکی ہے۔ اتنی تھوڑی سی مونگ پھلی دی ہے اس نے مجھےاور پتا ہے سوہنی، مجھے وہ دن بھی یاد ہیں جب تمہاری دی ہوئی مونگ پھلی مُجھ سے ساری سردیوں بھی ختم نہیں ہوئی تھی اور تو اور میں نے گرمی میں بھی جی بھر کی کھائی تھیں۔ 

اور کنجوسی کی کوشش تو ہم بہت کرتے تھے لیکن ہم سے ہو نہیں پاتی تھی۔ پُرانی باتیں بہت ساری ہیں جو مجھے کبھی نہیں بھولتیں ،کس کس کا ذکر کروں؟ تمہیں یاد ہے جب ہم نے سیدپور روڈ سے کمرشل مارکیٹ جانا تھا۔ رکشہ والا ڈیڑھ سو روپے مانگ رہا تھا تو میں نے کہا کہ یہ ایک ٹرن لو تو الجنت مال آجائے گا۔ ہم دونوں چلتے چلتے تھک کر چُور ہو گئیں اور ہوش تب اُڑے جب چاندنی چوک سامنے آیا۔ تمہیں مجھ پر شدید غصہ تھا اور میں ہنسے جا ری تھی اور پھر تم بھی ہنسنے لگیں۔ سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ ہمارے دائیں ہاتھ چند قدم پر میٹرو سٹاپ ہمیں دکھائی نہ دیا اور ہم بائیں جانب ایک کلو میٹر مزید چل کر اگلے میٹرو سٹاپ پر گئے تھے۔ وہ ہمارا رکشہ بچت کا آخری دن تھا۔ 

اور یہ بھی تو کبھی نہیں بھولے گا ناں کہ ہم روزانہ واک ک لئے "راجہ بازار” جاتے تھے اور روزانہ ہی گُم ہو جایا کرتے تھے۔ موتی بازار کی ساری گلیاں ایک جیسی ہی تو ہیں۔ لیکن اب تو تم بہت اچھی جگہ پہ ہو۔ وہاں تو گلیاں نہیں بھولتی ناں؟ لیکن وہاں تو تمہیں کہیں جانا ہی نہیں پڑتا ہوگا۔ ہر چیزتو ہو گی تمہارے پاس۔ لیکن تمہیں پتہ ہے اب میں بازار جاتی ہی نہیں ہوں کیونکہ اکیلے گم ہونے کا حوصلہ نہیں ہے مجھ میں۔ 

اور وہ سنٹورس کا وزٹ بھی بھولنے والا تو نہیں۔ ہم میٹرو میں بیٹھ گئے مگر یہ نہیں معلوم تھا کہ اُترنا کہاں ہے اور ہمیشہ کی طرح کسی سے پوچھا نہیں کہ لوگ پینڈو نہ سمجھیں ہمیں۔ آخر ڈیزائنر لان اور ہائی ہیل پر اچھی خاصی تنخواہ لگا کر ہم اب پینڈو بننا افورڈ نہیں کر سکتے تھے۔ جتنی شدید گرمی تھی اتنی ہی بھیڑ بھی تھی۔ اور ہمارا ایک ہی ٹارگٹ کہ باہر نظر رکھنی ہے جہاں محسوس ہوا کہ یہی سنٹورس ہے وہاں اُتر جائیں گے ورنہ آخری سٹاپ پر اُتر کر اسی ٹوکن کے ساتھ واپس آ جائیں گے۔ لیکن ہماری قسمت میں سنٹورس اور خواری دونوں لکھے تھے سو ہمیں پمز سٹاپ پر اپنی منزل نظر آ گئی۔ دو گھنٹے ہم نے خوب کانفیڈنس کے ساتھ ونڈو شاپنگ کی جیسے آج تو سب کچھ ہی خرید لینا ہے۔ یاد ہے نائک کی آوٹ لٹ پر جا کر غریب کی ساری شاپ کھلوا دی۔ یہ الگ بات کہ تمام شوز پر دل للچا رہا تھا مگر بظاہر ہمیں کچھ پسند نہ آیا۔ جیب میں ٹوٹل 500 روپے تھے اور وہاں سب سے کم قیمت ترین جاگرز 12000 کے تھے۔ لیکن یہ تو اندر کی بات تھی کسی کو تھوڑی بتانا تھا۔ شدید بھوک کے باوجود ہم نے کچھ کھایا نہیں کہ وہاں سب کچھ بہت مہنگا تھا اور تم میرے واحد 500 لگوانا نہیں چاہتی تھیں اور تھک کر جب ہم وہاں سے نکلے تو تم تو پھر بھی برداشت رکھتی ہو مگر میری ہیل میرے ہاتھ میں تھی۔ لوگ مجھے گھور رہے تھے اور غصہ تمہیں آ رہا تھا۔ پھر ہم بھوک سے مجبور ہو کر ایک بیکری میں گئے کہ کوئی سنیکس ہی لے لیں۔ اور جب 6 سموسیوں (چھوٹے ویجیٹیبل سموسے) اور دو ڈرنکس کا بل آیا تو میرے 500 کے ساتھ تمہیں بھی اپنے 200 لگانے پڑ گئے۔ "تُو کی جانے بھولیئے مجے۔ ۔ انارکلی دیاں شاناں۔ ۔ ۔” غصے کے مارے ہم نے گھر آنے تک وہ سموسیاں نہیں کھائیں۔ نگہت! وہاں تو تمہیں اب چلنا نہیں پڑتا ہو گا ناں؟ میں بھی اب کہیں نہیں جاتی سو وزن 3کلو بڑھ گیا ہے۔ تم نے ٹھیک کہا تھا کہ میں جم جا کر ورزش نہیں کر سکتی کیونکہ صبح صبح نیند کی قربانی نہیں دے سکتی اور اپنی رننگ مشین بھی لے لوں تو اس پر بھی تکیہ لگا کے سو جاؤں گی۔ وہ ہمارا ٹرینر یاد ہے ناں تمہیں؟ کیسا شہزادہ آدمی تھا وہ بھی! روز صبح فون کر کے منتیں کیا کرتا تھا کہ اللہ کی بندی آکے ورزش کر لو اور میں ساری رات بہانے سوچا کرتی تھی کہ صبح چھٹی کیسے کرنی ہے۔ وہ کہتا تھا چھٹی عید والے دن اور میری اکثر عید ہوا کرتی تھی۔ بھلا ایسا بھی کوئی ٹرینر ہوتا ہے۔ اللہ خوش رکھے اسے نیک روح ہے وہ بھی۔ 

اور ایک وہ 14 اگست بھی تو تھی ناں یارجب میرے سر پر بھوت سوار تھا کہ نوازشریف پارک میں میلہ دیکھنے جانا ہے۔ اور ہم دونوں خوب ہری بھری ہو کے گئی تھیں۔ وہاں ہم نے گول گپے کھائے تھے۔ وہ لڑکی یاد ہے جو پیسے مانگ رہی تھی۔ جان ہی نہیں چھوڑ رہی تھی۔ جب اسکو ڈانٹا تو کتنی بدعائیں دی تھیں اس نے کہ اتنے امیر ہو اتنے نخرے ہیں اور ایک پلیٹ گول گپے نہیں کھلا سکتیں اور ہم اس کی ڈیمانڈ پر کتنا ہنسے تھا ناں۔ ہمارے پاس اس وقت صرف 50 کا نوٹ بچا تھا جس سے ہم نے میٹرو کے ٹوکن لینے تھے۔ تم نے کہا تھا ڈرو مت، اس نے امیر سمجھ کر بدعا دی ہے اور ہم تو امیر ہیں نہیں لہذا بدعا بھی نہیں لگے گی۔ لیکن بدعا یوں لگی کہ واپسی پر میٹرو سٹاپ کے بے تحاشا رش میں میرا بی۔پی۔ لو ہو گیا سو ہم ٹیکسی لے کر گھر پہنچے ۔گھر میں رکھے ریزرو اکاؤنٹ سے ٹیکسی کے 350 روپے دیئے۔ 15 اگست کا دن میرا بستر پہ گزرا تھا۔ 

نگہت! اس دفعہ بھی 14 اگست ویسی ہی تھی۔ ہم ساتھ تو نہ تھے مگر میں نے گرین سوٹ بھی پہنا تھا اور پارٹی پر جا رہی تھی کہ میری گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ میرے ماتھے اور بازو پر بہت چوٹ آئی تھی۔ ساری شام تم سے رابطے کی کوشش کی مگر وہاں تمہاری طرف سگنل بند تھے ناں تو بات نہیں ہو سکی۔ 14 اگست اس بار بھی مجھے بیمار کر گئی لیکن 15 اگست ویسی نہیں تھی۔ اس 15 اگست جیسا تو کوئی دن ہو ہی نہیں سکتا ناں۔ تم نے جاتے ہوئے ایک بار تو مجھے یاد کیا ہو گا نا نگہت؟؟ مجھے یقین ہے ضرور کیا ہوگا۔ مجھے اس لئے یقین ہے کہ کل جب میرا ایکسیڈنٹ ہوا تھا تو مجھے پہلا خیال تمہارا آیا تھا۔ اور سارا دن اس انتظار میں رہی کہ کب تمہیں بتاؤں کہ مجھے چوٹ لگی ہے۔ مجھے بہت درد ہے۔ میرے پاس تو کوئی اور رشتہ بھی نہیں تھا ناں جسکے ساتھ اپنی تکلیف شیئر کرتی۔ میں نے کسی کو نہیں بتایا اپنے ایکسیڈنٹ کا۔ کسی کے لئے میں اتنی اہم تھی ہی نہیں کہ وہ میرا درد بانٹتا۔ سب میری ہنسی کے دوست ہیں یار، آنسو تو صرف تمہارے کندھے پر ہی بہانے تھے میں نے۔ اور اب کی بارتم نے بھی نہیں دیکھے میرے آنسو۔ ایسے بھی کوئی کرتا ہے بھلا۔ مجھے چوٹ لگےگی یا بیمار ہوں گی تو کس کو بتاؤں گی۔ اگرچہ تمہارے پاس بہت رشتے تھے تکلیف کے وقت یاد کرنے کے لئے لیکن مجھے یقین ہے کہ تم مجھے بھولی بالکل نہیں ہوگی۔ لیکن یار تم نے تو کسی کو بتایا ہی نہیں ناں کہ تمہیں کتنا درد ہوا۔ کسی سے کوئی بات تک نہ کی تم نے۔ دیکھو ناں تمہاری دُعا کیسی قبول ہوئی۔ تمہیں چکوال سے پنڈی کا راستہ بہت پسند تھا اور تم دُعا مانگا کرتی تھی کہ یہ راستہ تمہاری تقدیر بن جائے۔ پنڈی میں جاب ملی تہ وہ راستہ تمہاری تقدیر بن گیا، وہی تقدیر تمہیں ہم سے دور لے گئی اور آج وہی راستہ ہماری بھی تقدیر بن گیا ہے۔ اب اس راستے سے کیسے سفر کیا کریں گے ہم یار؟؟

اچھا بس اور رونے والی باتیں نہیں کرنی مجھے۔ میرےایف۔بی۔ کے دوستوں کا شکریہ جنھوں نے مجھے تم سے بات کرنے کا یہ طریقہ بتایا ہے۔ مجھے امید ہے کی تم میرا خط پڑھو گی۔ تمہارے جیسی اُردو تو نہیں آتی مگر کوشش کی ہے۔ کوئی غلطی ہو تو بتانا۔ 

اور سُنو، خبردار جو تم نے وہاں کوئی دوست بنائی تو۔ تمہیں معلوم ہے ناں میرے ہوتے تم کسی سے بات کرتی تھی تو میں کتنی جیلس ہوتی تھی۔ میں شئیرنگ نہیں کر سکتی لہذا میں ابھی زندہ ہوں کوئی ضرورت نہیں نئی دوستیاں پالنے کی۔ ھر کوئی میرے جیسا نہیں ہوتا لوگ بہت خودغرض ہوتے ہیں۔ میری قدر کیا کرو۔ اور جواب دینے کی کوئی سبیل نکلے تو ضرور دینا۔ نہ بھی دو تو بس اپنی خیر مناؤ کیونکہ اب میں اکثر تمہارا دماغ کھانے والی ہوں۔ 

تمہیں یاد ہے ناں میں تم سے سب کچھ کہہ کر کتنی مطمئن ہو جاتی تھی۔ بہت دن ہوئے اس اطمینان کو۔ آج شاید کچھ تسلی ہو۔ اچھا چلو تمہیں بھی بہت کام ہوگا۔ مجھے یاد ہے یہاں بھی تو تم سکون سے نہیں بیٹھتی تھی ،آخر ہو ناں بے چین رُوح۔ مجھے بھی ابھی کھانا بنانا ہے۔ وہ کیا ہے ناں۔۔۔ ہم باتیں تو بہت کرتے ہیں کہ بچھڑ کر جینا مشکل اور مرنا دوبھر ہے لیکن ہمیں تو بھوک بھی لگتی ہے اور نیند بھی آتی ھے۔ اپنے آرام کی کوئی چیز ہم چھوڑتے کہاں ہیں یارا۔ انسان ایسا ہی ہے صرف منہ کا سگا۔ اور ایک بات بتاؤں؟ تم یہاں تھی تو ہمارا اکثر باتوں پر اختلاف ہو جاتا تھا۔ اور اب تم وہاں ہو تو مجھے اختلاف کی کوئی بات یاد نہیں آتی۔ کہا تھا ناں ہم مُردہ پرست قوم ہیں، زندہ لوگوں سے لڑتے ہیں اور مرنے والے کی اچھائیاں گنتے ہیں۔ 

اچھا اب اجازت دو۔ کچھ دن تک پھر تمہارا دماغ کھانے آؤں گی۔ تب تک اپنا بہت خیال رکھنا اور سُنو اللہ جی سے خاص سفارش کروانا کیونکہ میرے خط پر ڈاک ٹکٹ نہیں ہے۔ افورڈ نہیں کر سکتی۔ تم جانتی ہو کہ میں اتنی امیر تو نہیں ہوں ناں۔۔۔۔!!
مس یُویارا۔۔
فقط تمہاری
(جیسے تم کہا کرتی تھی)
جھلی سہیلی

Views All Time
Views All Time
967
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   خواب سے تعبیر اور خیال سے حقیقت کی کہانی - سید زیدی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: