Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مسلمان دہشت گرد ذہنیت کیسے تیار ہوتی ہے؟

by جولائی 13, 2016 کالم
مسلمان دہشت گرد ذہنیت کیسے تیار ہوتی ہے؟
Print Friendly, PDF & Email

irfanآج کچھ صاف صاف بات ہو جائے۔ جس کو دنیا دہشت گردی کہتی ہے، جسے اہل احتیاط عسکریت پسندی کہتے ہیں اور جسے اہل مدارس جہاد کہتے ہیں، جس کے غیر انسانی رویے آئے روز المناک داستانیں رقم کر رہے ہیں، ان رویوں کا علمی، اخلاقی اور اسلامی جواز کیسے پیدا کر لیا جاتا ہے؟ کس طرح وہ دین جس کو دینِ امن کہتے ہیں اور جس کے نبی کو نبیِ رحمت ﷺ کہتے ہیں ،اس دین کے طلبا، ‘طالبان ‘کیسے بن جاتے ہیں؟ یہ بے گناہ غیر مسلموں کو قتل کرنا کیوں جائز سمجھتے ہیں؟ یہ انسانیت کے نام پر ہی سہی، ان سے ہمدردی کیوں نہیں جتاتے؟ بلکہ جو جتاتے ہیں ان پر بھی لعن طعن کرتے ہیں۔ یہ اپنے ہم مذہب مسلمانوں کو بھی قتل کرنے سے کیوں نہیں جھجھکتے؟ یہ پشاور کے آرمی پبلک سکول کے معصوموں کے قتل پر بھی قرآن و حدیث سے دلائل کیسے لے آتے ہیں؟ یہ یہ روضہ رسول کے سائے میں بھی، رمضان کے مقدس مہینے میں بھی، اپنی جان دے کر بھی دوسرے مسلمان کی جان لینے کو سعادت کیوں سمجھتے ہیں؟ یہ کس طرح اس سب قتل و غارت کے لیے اپنی جان تک دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، اور اس پر خدا سے اجر و ثواب کی امید کیسے کرتے ہیں ؟
ہمارے کلاسیکی فقہ و فلسفے کے طلباء کو مدراس میں کیا سکھایا اور پڑھایا جاتا ہے؟ امت کے اربوں روپے، اسلام کے جن قلعوں پر لگ رہے ہیں وہ آپ کے لیے کیا سوغات تیار کرتے ہیں، وہ آئیڈیالوجی جس کے بطن سے یہ فساد فی سبیل اللہ پیدا ہو رہا ہے، وہ جاننا ضروری ہے:
غلبہ دین کا تصور، یعنی دین کا سیاسی غلبہ اس امت پر فرض ہے۔ مولانا تقی عثمانی ‘ان الحکم الا للہ ‘ کے تحت فرماتے ہیں کہ جس خدا کا حکم آسمانوں میں قائم ہے اس حکم کا زمین پر بھی قائم ہونا لازم ہے۔ مولانا زاہد الراشدی فرماتے ہیں:
"مسلمانوں کے تمام فقہی مذاہب کا متفقہ فیصلہ ہے کہ "خلافت اسلامیہ” کا قیام ملت اسلامیہ کا اجتماعی دینی فریضہ ہے۔”
اس نظریے کو مولانا مودوی کے حاکمیتِ اسلام کے نظریے نے منطقی دلائل مہیا کر دئیے۔ انہوں نے اسلام کو ایک نظام بتایا اور دوسرے نظاموں کو طاغوت قرار دے کر ان کی اطاعت کفر کی اطاعت کے مترادف قرار دیا۔ جمہوریت بھی ان میں سے کچھ کے نزدیک نظامِ کفر ہے، جو خدا کی بجائے انسانوں کی مقتدرِ اعلی قرار دیتی ہے۔ ان سب اجزا سے جو ملغوبہ تیا ر ہوا اس کے نزدیک اگر ایک مسلم حکومت اسلامی نظام نافذ نہیں کرتی تو وہ قرآن کی رو سے کافر قرار پاتی ہے:
وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ (سورہ مائدہ 44)
جو خدا کے نازل کردہ احکام کے مطابق حکم نہیں دیتے تو وہ کافر ہیں۔
اگر مسلمان ایسا کریں تو گویا وہ تو مرتد ہیں اور مرتد کی سزا ان کے نزدیک موت ہے۔ نظامِ اسلام کے قیام کے لیے ایسی مسلم حکومت کے خلاف لڑنا بھی جائز ہے۔ اب جو عام لوگ اپنے وو ٹ، ٹیکس وغیرہ کے ذریعے اس نظامِ کفر کو سپورٹ کرتے ہیں، وہ بھی نظامِ کفر کے مددگار ہیں، چنانچہ یا تو وہ بھی کافر ہیں یا خدا کے باغی ہیں ان کا قتل بھی برا نہیں۔ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ کیوں آپ کا قتل جائز ہے یا کم از کم قابلِ افسوس نہیں!
مسلمانوں کی حکومت اگر ہے تو اس پر فرض ہے کہ اپنے دائرہ حکومت میں اسلام کے قانون کا نفاذ کرے اور اس کے بعد ساری دنیا پر اس کو بزور قوت نافذ کردے۔ غیر مسلم حکومتوں کو آپشن دیا جائے گا کہ یا تو وہ اسلام قبول کر لیں، یا مسلمانوں کے سیاسی اقتدار میں ماتحت بن کر رہیں، اور یہ بھی نہیں مانتے تو ان کے ساتھ جنگ کی جائے گی۔ انہیں محکوم بنایا جائے گا۔
اگر حکومت میسر نہ ہو تو مسلمان خود اپنے طور جتھا بندی کر کے جہاد شروع کریں گے۔ اور اس راہ میں اگر مسلمان حکومتیں رکاوٹ بنتی ہیں تو ان سے بھی لڑیں گے۔ اس آئیڈیالوجی پر اب ان کی طرف سے قرآن اور حدیث سے ان کے دلائل ملاحظہ فرمائیے:
رسول اللہ کا ارشاد ہے کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا، اور اس جہاد سے مسلح جہاد مراد ہے، مولانا مسعود اظہر فرماتے ہیں کہ نبیﷺ کے زمانے میں جب جہاد کے نا م لیا جاتا تھا تو مسلمان قلم نہیں اٹھا لیتے تھے، اسلحہ اٹھاتے تھے۔
پھر قرآن کا یہ فرمان سنایا جاتا ہے:
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (سورہ توبہ 33)
اس خدا نے رسول بھیجا کہ باقی تمام ادیان پر غالب ہو جائے،
وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّـهِ (سورہ انفال 39)
ان سے لڑتے رہو حتی کہ فتنہ باقی نہ رہے۔
اور رسول اللہ ﷺ کا ارشاد کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک ان کفار سے لڑوں جب تک وہ لا الہ کا اقرار نہ کر لیں۔ (بخاری)
ویسے تو ہماری ساری فقہ ہی ان نظریات پر قائم ہے لیکن نمونے کے طور پر شاہ ولی اللہ کے بیانات نقل کرنا کافی ہوگا، جن کی علمی سیادت پر سب کو اتفاق ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
1۔ معلوم ہونا چاہیے کہ نبی ﷺ کو خلافتِ عامہ کے ساتھ بھیجا گیا تھا۔ اور دین کا غلبہ دیگر تمام ادیان پر جہاد اور اس کے آلات و وسائل کی تیاری کے بغیر ممکن نہیں ۔ تو جب لوگ جہاد چھوڑ دیں گے، اپنے مال مویشیوں میں لگ جائیں گے، تو ذلت ان کو گھیر لے گی، اور دیگر ادیان والے ان پر غالب آ جائیں گے۔ ( ولی اللہ، شاہ، حجۃ اللہ البالغۃ، محقق سید سابق، بیروت، دارالجیل، 2005، جلد دوم، ص 268)
2۔ مسلمانوں کے حکمران پر واجب ہے کہ وہ مسلمانوں کے غلبے اور کفار کے ہاتھوں کو مسلمانوں سے دور رکھنے کے اسباب کے حصول کی فکر کرے اور اس سلسلے میں خوب محنت اور غور و فکر کرے اور پھر اپنے نتائجِ فکر پر عمل کرے۔ (حجۃ اللہ البالغہ،270)
3۔ مسلمانوں کا حکمران اہلِ کتاب اور مجوس سے لڑتا رہے یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو جائیں یا وہ اپنے ہاتھوں سے ذلت کے ساتھ جزیہ ادا کریں۔ (حجۃ اللہ البالغہ،271)
4۔ اور تیسرے حال (کہ اہلِ کتاب سے ذلت کے ساتھ جزیہ وصول کیا جائے) سے یہ مصلحت حاصل ہوتی ہے کہ کفار کی شان و شوکت کا زوال ہوتا ہے اور مسلمانوں کی شان و شوکت کا اظہار ہوتا ہے۔ اور نبی ﷺ انہیں مصالح کے لیے مبعوث فرمائے گئے تھے۔ (حجۃ اللہ البالغہ،270)
شاہ صاحب، مسلم حکمران کے لیے لازم قرار دیتے ہیں کہ وہ غیر مسلم قوتوں کے خلاف ہر حال میں جنگ کرے ۔ اور صلح صرف اس صورت میں کرے جب مسلمان کمزور ہوں یا صلح کوئی سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے کی جائے:
5۔ مسلم حکمران، غیر مسلم حکومتو ں سے مال کے ساتھ یا بغیر مال کے صلح کر سکتا ہے۔ یہ اس لیے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مسلمان کفار سے لڑنے کے قابل نہیں ہوتے اس لیے انہیں صلح کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، یا کبھی وہ انہیں مال کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ قوت حاصل کر سکیں، یا صلح کی ضرورت اس لیے ہوتی ہے کہ وہ ایک قوم کے شر سے محفوظ ہو کر دوسری قوم سے جہاد کر سکیں۔ (حجۃ اللہ البالغہ،271)
اس اسلامی حکومت یا خلافت جو ساری دنیا پر جنگ مسلط کر دے، کا حصول اب پرائیویٹ جہاد کے سوا ممکن نہیں، کیونکہ کوئی مسلم حکومت یہ پوزیشن لینے کے تیار نہیں ۔ اس پرائیویٹ جہاد کا مطلب ہے کہ کچھ حوصلہ مند اٹھیں اپنے جھتے بنائیں اور اس مقصد کے لیے سر پر کفن باندھ لیں ۔اس پرائیویٹ جہاد پر ابھارنے کے لیے عملی نمونے حضرت حسین رض سے لے سید احمد شہید تک کی تمام تحریکوں سے فراہم کیے جاتے ہیں کہ اگر یہ لوگ چند افراد کے ساتھ خدا کے نظام کو قائم کرنے چل پڑے تھے اور اپنی جانیں دے دی تھیں تو ہمیں بھی چاہیئے کہ اسی اسوہ پر عمل کریں۔ پرائیویٹ جہاد کے جواز پر سید احمد شہید کے ارشادات ملاحظہ فرمائیے :
1۔ "جو حکومت اور سیاست کے مردِ میدان تھے، وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں اس لیے مجبورًا چند غریب و بے سر و سامان کمر ہمت باندھ کر کھڑے ہو گئے اور محض اللہ کے دین کی خدمت کے لیے اپنے گھروں سے نکل آئے۔ ( ندوی، ابو الحسن علی، سیرتِ سید احمد شہید، طبع نہم، لکھنؤ، مجلسِ تحقیق و نشریاتِ اسلام، ص389)
2۔ حقیقت کے مطابق مقولہ: سلطنت و مذہب جڑواں ہیں”، اگرچہ یہ قول حجتِ شرعی نہیں لیکن مدعا کے موافق ہے کہ دین کا قیام سلطنت سے ہے۔ (سیرت سید احمد شہید ، 391-392)
3۔ "اس فقیر کو مال و دولت اور حصولِ سلطنت و حکومت سے کچھ غرض نہیں، دینی بھائیوں میں سے جو شخص بھی کفار کے ہاتھوں سے ملک آزاد کرے، رب العالمین کے احکام کو رواج دینے اور سید المرسلین کی سنت کو پھیلانے کی کوشش کرے گا اور ریاست و عدالت میں قوانینِ شریعت کی رعایت و پابندی کرے گا، فقیر کا مقصود حاصل ہو جائے گا اور میری کوشش کامیاب ہو جائے گی۔ (سیرت سید احمد شہید ،391)
4۔ اس کے بعد میں اپنے مجاہدین کے ساتھ ہندوستا ن کا رخ کروں گا تاکہ اسے کفر و شرک سے پاک کیا جائے۔ ( سیرت سید احمد شہید ، 410)
5۔ اس قدر آرزو رکھتا ہوں کہ اکثر افرادِ انسانی، بلکہ تمام ممالکِ عالم میں رب العالمین کے احکام، جن کا نام شرع متین ہے، بلا کسی کی مخالفت کے جاری ہو جائیں۔ (سیرت سید احمد شہید ، 410)
یہ سید صاحب کے عالمی ایجنڈے کا اظہار ہے۔ یعنی ساری دنیا پر اسلام کا سیاسی غلبہ آپ کے پیشِ نظر تھا۔
مزید یہ کہ روایتی فقہ میں غیر مسلم ممالک دارالحرب قرار پاتے ہیں۔ جہاں اسلام کی حکومت نہ ہو وہ دارالحرب ہوتا ہے۔ چونکہ دارالحرب میں رہنے والے بھی اپنی کفار کی حکومتوں کو سپورٹ کرتے ہیں اور ان کے لیڈر مسلمانون پر حملے کرتے ہیں اور ان ‘مجاہدوں’ کو مارتے ہیں جو خلافت قائم کرکے ان کو محکوم بنا سکتے ہیں ، اس لیے غیر مسلم فوجیوں کے علاوہ ان کے عوام کو بھی قتل کرنا جائز ہے جو ان کی مضبوطی کی وجہ ہیں۔ قرآن کہتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةًوَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ مَعَ الْمُتَّقِين (سورہ توبہ 123)
اے ایمان والو، تمہارے گرد و پیش جو کفار ہیں ان سے لڑو اور چاہیے کہ وہ تمہارے رویہ میں سختی محسوس کریں اور جان رکھو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔
اب آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ بیانیہ کہاں تیار ہوتا ہے اور ان کے تیار کرنے والے کون ہیں۔
کبھی تو منبر و محراب تک بھی آئے گا
یہ قہر، قہر کے اسباب تک بھی آئے گا

Views All Time
Views All Time
573
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   جبری گمشدگیوں میں لبرل پریس کہاں ڈنڈی مار رہا ہے ؟ - عامر حسینی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: