Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پنجاب میں رینجرز کو کتنے اختیارات ملیں گے؟

by ستمبر 19, 2016 کالم
پنجاب میں رینجرز کو کتنے اختیارات ملیں گے؟
Print Friendly, PDF & Email

tahir-kiyaniاختیارات کا حصول حکومتوں کا اولین مقصد ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں مگر سیاسی و فوجی حکومتوں کا مقصد ان اختیارات کو عوامی مقاصد و مفادات کے لیے استعمال کم اور ذاتی و گروہی مقاصد کے لیے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ہماری ملکی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے۔یہ بھی درست ہے کہ اختیارات کے حصول اور پھر ان کی تقسیم پر فوج،سول حکومت اور عدلیہ کے درمیان کشمکش بھی رہی۔ یہ کشمکش آج تک جاری ہے۔سادہ بات یہی ہے کہ ہمارے ہاں سول حکومتیں کمزور اور اپنی بقا کے لیے جی ایچ کیو کی طرف دیکھ رہی ہوتی ہیں تو ان حکومتوں کے خاتمے کے لیے’’ تحریکیں‘‘ چلانے والے بھی اپنی باری کے لیے جی ایچ کیو کی طرف ہی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔عوام بھی جب سول حکومتوں کی کرپشن کہانیاں سنتے ہیں تو فوج کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ پھر فوجی اقتدار کے خاتمے کی دعائیں بھی یہی لوگ کر رہے ہوتے ہیں۔یہ بات مگر طے ہے کہ لوگ اب بھی فوج کو ہی اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ اس فہم کی کئی ایک وجوہات ہیں جن کا تعلق ہمارے معاشرتی و سیاسی رویوں سے ہے۔مثلاً سول حکومت اب بھی فوج کو اپنا ایک ماتحت ادارہ سمجھنے کے بجائے اسے اپنا ایک حریف ادارہ سمجھ رہی ہے۔اپوزیشن کی بعض جماعتیں جبکہ فوج کو اپنا ایک حلیف ادارہ سمجھ رہی ہیں۔یہ رویہ کسی طور بھی سیاسی نہیں۔ہمیں سیاسی بلوغت میں ابھی وقت لگے گا ،خاندانی سیاسی نظام کے بجائے ہمیں بہرحال سیاسی جماعتوں کے اندر ایک سیاسی عمل کی ضرورت ہے۔ جیسے جماعت اسلامی۔اگرچہ جماعت اسلامی کی سیاست سمیت مذہبی سیاسی جماعتوں کے طرز سیاست سے مجھے اختلاف ہے،مگر جماعت اسلامی وہ واحد جماعت ہے جس کے اندر ایک جمہوری عمل کا تسلسل ہے۔پی ٹی آئی اسی نقش پر چلنے کی آرزو مند ہے۔باقی ساری سیاسی جماعتوں میں’’ خاندانی جمہوریت‘‘ ملکی سیاست پر قابض ہے۔خاندانی سیاست کا کاروبار کیوں کر چمکتا ہے؟کہاں چمکتا ہے؟ ان معاشروں میں جہاں سیاسی شعور کی کمی ہوتی ہے۔ وہاں جہاں سیاسی وڈیرے اپنے مخالفین کو اغوا اور قتل کرانا کار ثواب سمجھتے ہیں۔ وہاں جہاں اپنے سیاسی مخالفین کے لیے نام نہاد مفتیوں سے قتل و کفر کے فتوے خریدے جاتے ہیں۔جہاں سیاسی نظام کمزور ہوتا ہے وہاں ریاست ایسے گروہوں سے بھی مفاہمت کر لیتی ہے جو معاشرے اور امن کے لیے خطرہ بنے ہوتے ہیں۔
اس حوالے سے کئی مثالیں ہیں۔پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو دہشت گردی کے خلاف آپریشن ہو رہے تھے مگر اے این پی اور پیپلز پارٹی نے بھی کالعدم تنظیموں کے ساتھ امن کے نام پر معاہدے کئے۔اگرچہ ان معاہدوں کی پاسدرای کالعدم جماعتوں کی قیادت کی طرف سے نہیں کی گئی ،پھر ریاستی طاقت کا استعمال ہوا ،نون لیگ کی حکومت آئی تو انھوں نے ریاست کے دشمنوں کے ساتھ مذاکرات کو اولین ترجیح دی۔یہاں تک کہ فوج نے ضرب عضب شروع کر دی اور اللہ اللہ کر کے دہشت گردی میں قابل ذکر کمی آئی۔ہمیں اس امر میں کلام نہیں کہ کالعدم جماعتیں اپنے نام بدل بدل کر کام کرتی ہیں، ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس لیے کہ حکومتیں اور ان کے اندر موجودطاقتور وزرا کالعدم جماعتوں سے گہرا لگاؤ اور ہمدردی رکھتے ہیں۔جب کوئی دہشت گردی کا بڑا واقعہ ہوتا ہے تو اس کی بھر پور مذمت تو کی جاتی ہے مگر زمینی حقائق یہی ہیں کہ دہشت گردوں کے سرپرستوں پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا۔کوئٹہ کا واقعہ ہوا تو باز گشت سنائی دی کہ کومبنگ آپریشن کو تیز کیا جائے گا۔سیاسی قیادت اور دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں ہو رہا۔اس کی مثال یہ دی جاتی ہے کہ کالعدم قرار دی جانے والی تنظیمیں دارالحکومت میں جلسے کرتی ہیں۔اپنے ویڈیو پیغام میں دہشت گرد تنظیم داعش کو پاکستان پر حملہ کرنے کی دعوت دینے والے آج بھی ریاستی طاقت کا منہ چڑا رہے ہیں۔یہ بات قابل فہم نہیں کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ بالکل ہوتا ہے۔ کیا القاعدہ کا کوئی دین،کوئی،عقیدہ نہیں؟کیا النصرہ کا کوئی عقیدہ نہیں؟ کیا طالبان کا کوئی عقیدہ نہیں؟کیا الشباب والوں کا کوئی عقیدہ نہیں؟ کیا الاحرار والوں کو کوئی عقیدہ نہیں؟ کیا داعش والوں کا کوئی عقیدہ اور ہدف نہیں؟بالکل ہے اور یہ سب اپنے عقائد جو بہرحال انتہا پسندانہ ہیں انھی عقائد کے ہاتھوں وحشیانہ رویہ اختیار کیئے ہوئے ہیں۔دہشت گرد کبھی بھی معتدل نہیں ہوتا۔یہ تمیز ہی غلط ہے کہ معتدل جنگجوؤں سے نرمی برتی جائے۔جس نے ریاست اور معصوم انسانوں کے خلاف بندوق اٹھا لی اس میں اعتدال کیسا؟میں نہیں سمجھتا کہ دہشت گردوں کے سرپرستوں اور ان کی مالی،فکری ،رہائشی اور’’ کھالوں ‘‘کے ذریعے مدد کرنے والوں کی سرکوبی کیے بغیر ہم ملک سے مکمل طور پر دہشت گردی ،جرائم اور دیگر معاشرتی خوفناکیوں سے جان چھڑا پائیں گے۔افغانستان کے صدر کے منہ میں مودی کی زبان ہے۔بھارت ایک کمزور اور اپنے زیر اثر پاکستان کے خواب دیکھ رہا ہے۔ ہمیں اپنی پالیسی بہر حال بدلنا ہو گی۔اپنے فکری رویوں میں تبدیلی لانا ہو گی۔ خاندانی سیاسی جمہوری نظام کے بجائے حقیقی پارلیمانی نظام کی مضبوطی کے لیے سیاسی فہم کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔
کب تک ہم کرپٹ لوگوں کے ماہرانہ جھوٹ کو سچ سمجھتے رہیں گے؟ تازہ خبر یہ ہے کہ پنجاب حکومت صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں رینجرز کی معاونت حاصل کرنے کے تو حق میں ہے تاہم رینجرز کو مکمل اختیارات دینے کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہے۔ یہ بھی خبر ہے کہ پنجاب حکومت پر رینجرز کو عام مجرموں کی گرفتاری کے اختیارات دینے کے حوالے سے شدید دباؤہے۔صوبائی حکومت نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی، سہولت کاروں اور کالعدم تنظیموں سے نمٹنے میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)اور پولیس کی معاونت کے لیے دو ماہ کے لیے رینجرز کی تعیناتی چاہتی ہے۔اس حوالے سے گزشتہ ہفتے ایک نوٹیفیکیشن بھی تیار کیا گیا جسے وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ کو منظوری کے لیے بھیجا جانا تھا۔سوال مگر یہ ہے کہ پنجاب حکومت اگر واقعی دہشت گردوں ان کے سرپرستوں،سہولت کاروں اور مجرموں کا خاتمہ چاہتی ہے تو رینجرز کو پورے اختیارات دینے میں تذبذب اور خوف کیوں؟ کہیں یہ ڈر تو نہیں کہ دہشت گردوں کے معروف سہولت کار بے نقاب نہ ہو جائیں؟ کہیں یہ ڈر تو نہیں کہ آرمی چیف نے کرپشن اور دہشت گردی کے جس گٹھ جوڑ کا بارہا ذکر کیا وہ افشا نہ ہوجائے؟ کہیں یہ خوف تو نہیں کہ سیاسی جماعتوں اور کالعدم تنظیموں کے خفیہ روابط طشت ازبام نہ ہوجائیں؟بے شک پنجاب میں صوبائی حکومت اور رینجرز میں اختیارات کے حوالے سے کشمکش ہو گی اور رینجرز والے اختیارات لے کر ہی رہیں گے۔ویسے بھی محرم الحرام کی آمد آمد ہے اور امن و امان کے لیے فوج نے ہی آگے آنا ہے۔

Views All Time
Views All Time
296
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   پی ایم ڈی سی کی عجب غفلت کی غضب کہا نیاں
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: