Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

گھوڑے

by اگست 8, 2016 افسانہ
گھوڑے
Print Friendly, PDF & Email

horsesعالمی افسانہ میلہ 2016
عالمی افسانہ فورم
افسانہ نمبر6 ” گھوڑے ”
لیاقت علی ، ملتان ۔ پاکستان
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آج صبح سے دفتر کے بکھیڑوں میں اُلجھتا میں یہ تک بھول گیا کہ سہ پہر چار بجے تک ہر حال میں مجھے گھر پہنچنا ہے کیوں کہ شیگی بے چینی سے میرا انتظار کررہا ہوگا۔لیکن صد شکر کہ دوپہر کے وقت ہی یاددہانی کے لیے شیگی کی کال آگئی۔
’’بابا یاد ہے ناچار بجے میچ ہے۔۔۔؟‘‘
میں نے پنڈولم پر نگاہ دوڑائی دو بج رہے تھے۔
’’اوہویار میں تو بھول ہی گیا تھا اچھا کیا مجھے یاد دلا دیا۔‘‘
میں نے جواب دیتے ہوئے کھلی فائلیں سمیٹنا شروع کردیں۔
’’چپس کے پیکٹس، چاکلیٹس، جوس اور مونگ پھلیاں لیتے آئیے گا۔ کانٹے کا میچ ہے مزے سے دیکھیں گے‘‘۔
شیگی نے تاکیدکی۔
’’اوکے بابا او کے لے آؤں گا۔‘‘
میں نے فون رکھا اور اب تیزی سے بقیہ کام سمیٹنے لگا۔
یہ کرکٹ بھی عجیب خبط ہے جو مجھ سے میرے بیٹے میں منتقل ہوگیا ہے۔ اس کا بھی بھلا کیا قصور، اس نے بچپن سے اپنے باپ کو کرکٹ کے جنون میں مبتلا دیکھا ہے۔ اسے کیسے بھول سکتا ہے کہ جس روز پاکستان کا میچ ہوتا اس کا باپ گھر میں کرفیو نافذ کردیتا۔ کسی کو یہ جرأت نہ ہوتی کہ وہ ٹی وی پر کوئی اور پروگرام دیکھ سکے یا اس کو گھر سے کسی کام کے لیے باہر بھیج سکے۔ یہی وجہ تھی کہ شیگی بھی اس بخار میں اسی وقت سے مبتلا ہوگیا تھا کہ جب اسے ڈھنگ سے یہ بھی پتہ نہ تھا کہ کرکٹ میں سکور بنائے جاتے ہیں یا گول کیے جاتے ہیں۔ ہاں مگر میرے چہرے کا تغیر اُسے اطلاع دے دیتا تھا کہ اب ہم جیتنے والے ہیں یا ہارنے ، اور پھر جیت کا نتیجہ یہ نکلتا کہ گھر کا ماحول خوشگوار ہوجاتا۔ معمول کے برعکس اُسے دوستوں جیسا باپ میسر آتا جو نہ صرف اسے مزے مزے کے لطیفے سناتا بلکہ گھمانے پھرانے بھی لے جاتا اور کھلانے پلانے میں بھی روایتی تامّل سے کام نہ لیتا۔ پاکستان کے میچ کے روز اوّل تو میں چھٹی کرلیتا اور اگر ایسا ممکن نہ ہوتا تو وقفے وقفے سے شیگی فون پر مجھے تازہ ترین صورتِ حال سے باخبر رکھتا۔ سو وہ جو بچپن میں کرکٹ کے بنیادی اصولوں سے بھی پوری طرح واقف نہ تھا اور اپنے جذبات کا اظہار محض پاکستان زندہ باد کے نعروں سے کیا کرتا تھا اب خود کرکٹ کا ایسا دیوانہ بنا کر براہِ راست نشر ہونے والے میچ تو ایک طرف رہے اِدھر اُدھر کے نئے پرانے انٹرنیشنل، لوکل ہر طرح کے میچ بھی دیکھنے لگا۔ پاکستان ہی کیا اسے کم و بیش سبھی ٹیموں کے کھلاڑیوں کے نام ازبر ہوگئے اور گھر میں کرکٹ کے علاوہ کوئی چینل بدلنا گویا فساد کو دعوت دینا بن گیا۔ اس فساد کا بڑا سبب محض چینل کی تبدیلی ہی نہ تھا بلکہ پے در پے پاکستان کی شکست اس کی اہم وجہ تھی جس نے اس کی طبیعت میں بے حد چڑچڑا پن پیدا کردیا تھا۔
ویسے یہ کرکٹ بھی عجیب کھیل ہے۔ بھلے وقتوں میں ہمارے سر فخر سے بلند اور چھاتیاں تنی رہتی تھیں کہ ہم ایک شاندار ٹیم ہیں اور ہمارے کھلاڑی دنیا کے بہترین کھلاڑی ہیں۔ یہ ہمارے قومی ہیرو تھے اور ان کی ایک جھلک دیکھنے کو لوگ دیوانہ وار اسٹیڈیم کا رُخ کرتے اور ان کے آٹوگراف لینے کو بے تاب رہتے۔ مجھے اپنے کالج کا زمانہ یاد آتا ہے جب ہمارے اردو کے استاد لہک لہک کر مجید امجد کی نظم آٹو گراف سناتے اور پھر اس کا پس منظر بتاتے تو تالیوں کی گونج میں وکٹیں گراتا فضل محمود اور ڈھلکے آنچلوں سے بے خبر آٹو گراف ڈائریاں پکڑے دوشیزائیں ہمارے سامنے آن کھڑی ہوتیں ۔لیکن آج وہی کھیل ہمارے لیے ایک اجتماعی اضطراب بن گیا ہے۔ جب بھی کوئی اہم میچ ہو تیزی سے ترقی کرتا میڈیا جیت کی توقعات کو اس سنسنی خیز انداز میں لوگوں میں منتقل کردیتا ہے کہ لوگ شکست کے کسی امکان سے سمجھو تہ کیے بغیر بے چینی سے جیت کے بگل بجانے لگتے ہیں۔ لیکن ہوتا بالعموم یہ ہے کہ ہم ہار جاتے ہیں اور پھر یہ شکست من حیث القوم سب کو مغمو م کرجاتی ہے۔ اپنی اپنی مصروفیات ترک کرکے گھروں میں اہتمام سے پکوان پکا کر میچ دیکھنے، ایک ایک سکور اور وکٹ پر تبصرے کرنے اور دھڑا دھڑ موبائل میسجز کے ذریعے اپنے تاثرات بانٹنے والے لوگ آخر آخر جھلاتے، اک دوسرے سے الجھتے، ٹی وی بند کرتے سوجاتے ہیں۔ لیکن نیند بھی ڈھنگ سے کہاں آتی ہے۔
عجب بے چینی سی لگی رہتی ہے کہ یوں ہوجاتا تو کیا تھا۔ ایسا نہ ہوتا تو کیا تھا۔۔۔ ایسا کر لیتے تو کتنا اچھا ہوتا۔۔۔!
نکمے، جاہل، اناڑی۔۔۔ سفارشی نہ ہوں تو۔۔۔!
اگلے روز دفتروں، سکولوں، کالجوں اور نجی محفلوں میں یہ شکست اور اس کے اسباب زیرِ بحث رہتے ہیں اور سبھی اپنے اپنے انداز میں تبصرے نشر کرتے رہتے ہیں۔
شیگی بھی کرکٹ کے اسی جنون میں پل کر بچپن سے لڑکپن میں آیا ہے جب شکست ہمارا مقدر اور جیت ایک نہ پورا ہونے والے خواب بنتی جارہی ہے۔ ہاں کبھی کبھار مقابل ٹیم منہ کا ذائقہ بدلنے کو ہمیں جیت کی خوشی فراہم کردے تو ہمارا اپنی ٹیم ہی نہیں اس کھیل پر بھی اعتبار بحال ہونے لگتا ہے۔ شکست کے اس عہد میں جب میں شیگی کو اپنی ٹیم کی عظیم فتوحات کے شاندار قصّے سناتا ہوں تو وہ حیرت سے مجھے دیکھنے لگتا ہے۔ میں اسے فضل محمود سے جاوید میاں داد تک کتنے ہی عظیم کھلاڑیوں کے واقعات سناتا خود ہی سرشار ہوتا رہتا ہوں مگر وہ میرے ان ہیروز کو اساطیری کردار سمجھ کر یوں سنتا ہے گویا میں اسے کہانیاں سنا رہا ہوں جو اپنی تمام تر دلچسپی کے باوجود سچ بہرحال نہیں ہوتیں۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے میں نے اس کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ میں نے اپنی نسل کا رومانس تو اس میں منتقل کردیا ہے مگر اس پر لمحۂ موجود سے کوئی معتبر گواہ پیش کرنے سے قاصر رہا ہوں۔ پھر میں نے اپنے ملال کا حل یہ ڈھونڈا کہ ایک روز مارکیٹ سے وہ ساری سی ڈیز خرید لایا جن میں پاکستانی کرکٹ کی عظیم فتوحات قید تھیں۔ میں نے اسے سی ڈیز کا وہ پلندا تھماتے ہوئے کہا جاؤ دیکھو اب کہ ہم کیا تھا اور کیسے کیسے میچ ہم نے جیتے۔ اس نے یہ سی ڈیز دیکھنا شروع کیں تو میرے لیے یہ بات نہایت باعثِ اطمینان تھی کہ اس میں خوشگوار تبدیلی آنے لگی۔ اس سے پہلے کی صورتحال بہت مختلف تھی۔ وہ براہِ راست میچوں کی غیریقینی سنسنی کا شکار رہتا اور میچ سے کئی دن پہلے سے ایک ایک لمحے کا انتظار کرتا اور پھر میچ کے دوران ہر بال پر تبصرہ نشر کرتا رہتا۔ ٹیم کو بتدریج شکست کی طرف بڑھتے دیکھتا تو بے چینی سے دعائیں مانگتا، جھلّاتا اور مرجھانے لگتا۔ میرا حوصلہ جواب دے جاتا تو میں غصے سے کھلاڑیوں کو بے نطق سناتا چلّا کر کہتا ’’چلو لعنت بھیجو ان بھڑووں پے، ٹی وی بند کرو۔‘‘ لیکن وہ آخری گیند تک جیت کے امکان سے دست برداری پر آمادہ نہ ہوتا۔ ایک آس ہمیشہ دل میں رکھتا کہ کیا خبر کب پانسہ پلٹ جائے ۔۔۔۱
لیکن یہ پانسہ ایسے تھوڑا ہی پلٹتا ہے۔ نتیجتاً وہ نہ ڈھنگ سے کھانا کھاتا، نہ سوتا اور نہ ہی پڑھ پاتا۔ بات بے بات سب سے الجھتا اور اس کی پڑھائی شدت سے متاثر ہوتی۔
لیکن اب ان سی ڈیز نے اس پر خوشگوار اثرات مرتب کیے اور وہ ان میچوں کو بھی براہِ راست نشر ہونے والے میچوں ایسی دلچسپی سے دیکھنے لگا۔ اب وہ بھی ماضی میں پاکستان کے ان مایہ ناز کھلاڑیوں کا مداح بن گیا جو میری نسل کے ہیرو تھے۔ اب جب اس کے کلاس فیلو اسے حالیہ میچوں میں ملنے والی شکست کے ہزیمت بھرے قصّے سناتے تو وہ انہیں ظہیر عباس، جاوید میاں داد اور عمران خان جیسے کھلاڑیوں کی کارکردگی سے آگاہ کرتا۔ ایسے میں وہ سب اسے یوں دیکھتے گویا جھوٹے قصّے سنارہا ہو۔ ادھرمیں مطمئن تھا کہ اب میرے ہیرو اس کے ہیرو بھی بن گئے تھے۔ لیکن مجھے یہ اطمینان زیادہ عرصہ میسر نہ آیا۔ فتوحات کے قصّے آخر کب تک چلتے۔ کچھ ہی عرصے میں وہ بار بار یہ سی ڈیز دیکھ دیکھ کر اُکتا گیا اور پھر سے براہِ راست میچوں کے سامنے آن بیٹھا۔ نتیجہ پھر وہی نکلا۔ ہمارا حال، ماضی کی شہادت دینے سے قاصر رہا اور پے در پے شکست نے اس میں پھر سے وہ ساری جھلاہٹ، بے چینی اور بددلی پیدا کردی جو میں کھچ عرصہ کے لیے ان سی ڈیز کے ذریعے ملتوی کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
میں اب گہری تشویش میں مبتلا رہنے لگا کیوں کہ اس کی پڑھائی اس حد تک متاثر ہونے لگی تھی کہ کئی بار اس کی ناقص کارکردگی اور رویے کی تحریری شکایت موصول ہوئی۔ پھر ایک روز مجھے ایک اور خیال آیا جس نے مجھے ہارے ہوئے کسی سالار کی مانند ایک آخری چال چلنے پر اُکسایا۔
میں نے شیگی کو بلایااور اطمینان سے پاس بٹھا کر کہا ’’شیگی آؤ تمہیں اپنے بچپن کا ایک قصّہ سناتا ہوں۔‘‘ ’’سچایا جھوٹا؟‘‘ اس نے مجھے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ میں نے پیار سے اس کے کان کھینچتے ہوئے کہا:
’’ابے اُلو سچ مچ کا قصّہ۔‘‘
اصل میں بچپن میں تمہاری طرح ہم سب کزنوں کو بھی ٹی وی دیکھنے کا بہت شوق ہوتا تھا۔ ان دنوں ٹی وی پر گھوڑوں کی دوڑ نشر ہوتی تھی اور ہم سب بچے مل کر شو ق سے یہ دوڑ دیکھتے تھے۔ ہمیں قطعی طور پر علم نہ تھا کہ یہ دوڑ کہاں کس ملک میں ہورہی ہے اور نہ ہی ہمیں اس سے سروکار تھا کہ کون سا گھوڑا کس ملک کا ہے۔ اس میں کوئی پاکستانی سوار بھی نہ تھا کہ ہم اس کے لیے اپنی ہمدردیاں مخصوص کرتے۔ بس ہم یہ کرتے تھے کہ اپنی اپنی پسند کے گھوڑے کی نشاندہی کر لیتے اور پھر وہ گھوڑا دوڑ میں ہمارا گھوڑا بن جاتا۔ اب ہماری ساری ہمدردیاں، ساری دعائیں اُسی گھوڑے کے لیے ہوتیں اور یوں ہم پورے انہماک سے اس دوڑ کا حصہ بن جاتے۔ اپنے گھوڑے کے آگے بڑھنے پر خوشی سے کلکاریاں مارتے، تالیاں بجاتے اور اس کے پیچھے رہ جانے پر پریشان ہوجاتے۔ لیکن یہ مستقل پریشانی نہ تھی۔ ایک دو مرتبہ اگر ہمارا گھوڑا مطلوبہ کارکردگی پر پورا نہ اترتا تو ہم اعلان کرتے کہ
’’سنو دوستو میں فی الفور اپنا گھوڑا بدل رہا ہوں۔‘‘
یوں جیتنے والا گھوڑا ہمارا گھوڑا بن جاتا اور ہمیں شکست کی ہزیمت سے نجات مل جاتی۔ شیگی چمکتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ مجھے دیکھتا اور سارا قصّہ یوں سنتا رہا جیسے سمجھ نہ پارہا ہو کہ میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں۔ میں نے اس کی مشکل آسان کرتے ہوئے پیار سے اس کے گال تھپتھپائے اور کہا:
’’شیگی یار کیوں نہ ہم اپنی ٹیم بدل لیں؟‘‘
’’ٹیم بدل لیں۔۔۔؟‘‘
وہ یک لخت چونک اٹھا۔
’’وہ کیسے؟‘‘
’’ایسے ہی جیسے ہم اپنا گھوڑا بدل لیتے تھے۔۔۔!‘‘
اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا میں نے اعلان کیا کہ ’’بس آج سے ہماری ٹیم آسٹریلیا!‘‘
وہ کچھ دیر عجب حیرت سے مجھے دیکھتا رہا پھر دھیرے دھیرے اس کے چہرے پر اس نئے خیال سے اطمینان بخش مسکراہٹ پھیلی اور اس نے ہتھیلی میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔ ’’بابا طے ہوگیا آج سے ہماری ٹیم آسٹریلیا!‘‘
میں نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ مار تے ہوئے کہا ’’بس Done‘‘۔
وہ دن اور آج کا دن شیگی کی ساری جھلّاہٹ جاتی رہی ہے۔ وہ بیشتر جیت کی سرمستی سے سرشار رہتا ہے ا ور یوں اپنے باقی کام بھی مکمل دلجمعی سے کرنے لگا ہے۔
اب اس کی ٹیم میں اگر کچھ عرصہ اس کی مطلوبہ کارکردگی پر پورا نہ اترے تو وہ اسے بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لیتا۔ ہاں شروع شروع میں ٹیم کی تبدیلی کے اس فیصلے سے سمجھوتہ کرتے اسے تھوڑی مشکل ضرور پیش آئی اور وہ کچھ تذبذب کا شکار بھی ہوا۔ خصوصاً ٹیم کے حق میں اللہ سے دعا مانگتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا یہ تو مسلمان نہیں ہیں تو اللہ ان کا ساتھی کیسے ہوسکتا ہے؟
میں نے اسے کہا ’’ یار شیگی اللہ محنت کرنے والوں کا ساتھی ہے۔‘‘ یہ جواب سن کر وہ مطمئن ہوگیا۔ اب وہ اپنی ٹیم کے لیے بِلا جھجھک دعائیں بھی مانگتا ہے اور ذوق و شوق سے میچ دیکھتا اور جیت سے سرشار بھی رہتا ہے۔
آغاز میں، میں نے اپنی بات شیگی کی اس کال سے شروع کی تھی جو اس نے مجھے دفتر میں یہ یاددہانی کے لیے کی تھی کہ بابا آج کانٹے کا میچ ہے۔ وقت پر آئیے گا اور اس نے کھانے پینے کی کچھ چیزیں بھی منگوائی تھی۔۔۔۔ تو معاملہ کچھ یوں ہے کہ وہ کانٹے کا میچ پاکستان اورآسٹریلیا کے درمیان فائنل میچ ہے اور مجھے یقین ہے آج بھی فتح ہماری ٹیم کی ہی ہوگی۔

Views All Time
Views All Time
337
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   سمِ قاتل –دوسرا حصہ
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: