غیرت کے نام پر قتل کے خلاف مجوزہ قانون اور عوام کے خدشات

Print Friendly, PDF & Email

Rashid Jalilدو دن قبل مریم نواز صاحبہ نے ایک نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے غیرت کے نام پر قتل کرنے کے خلاف قانون کا مسودہ تیار کر لیا ہے اور جلد ہی دونوں ایوانوں میں اسے منظوری کے لیے پیش کر دیا جائے گا.
اس اعلان کے ساتھ ہی پاکستانی عوام کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا. کچھ لوگوں نے اسے سراہا تو وہیں کچھ لوگوں نے اس قانون کی منظوری سے پہلے ہی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا. اس قانون کی تمام شقیں تو اس وقت سامنے آئیں گی جب اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا. یہاں پر میں اس مجوزہ قانون پر اٹھنے والے چند سوالات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ عوام الناس کو اس کی آگاہی حاصل ہو سکے.
پہلا اعتراض یہ ہے کہ اس قانون کے پاس ہوتے ہی لوگ بے غیرت بن جائیں گے پھر باپ اپنی بیٹی اور بھائی اپنی بہن کو غلط کردار کے باوجود اسے کچھ نہیں کہ سکیں گے. یوں مرد غیرت کا مجسمہ ہونے کے باوجود ایک "بے غیرت” کا کردار ادا کرتے نظر آئیں گے.
اس ضمن میں عرض یہ ہے کہ مجوزہ قانون غیر اسلامی ہرگز نہیں ہوگا. اسلام کہتا ہے کہ لڑکی کے جوان ہوتے ہی اس کی شادی کرنے کی کوشش کریں. اگر اس بات پر عمل درآمد ہو جائے تو پھر باپ اور بھائی کو "غیرت” دکھانے اور قتل کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی. دوسری بات یہ ہے کہ اپنے دماغ میں تھوڑی وسعت پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے معاشرے کی لڑکیاں ہی اس حد تک نہیں جاتی کہ اسے غیرت کے نام پر قتل کر دیا جائے. اس کے ساتھ غیرت دکھانے والا مرد بھی شامل ہوتا ہے.
دوسری اہم بات یہ ہے اسلام عورت کو یا کسی کو بھی غیرت کے نام پر قتل کی اجازت نہیں دیتا. اسلام سختی کرنے کا ضرور کہتا ہے غلط کاموں پر، مگر قتل کی اجازت ہرگز نہیں ہے. اگر اللہ تعالٰی نے معاشرتی برائیوں کو قتل سے ختم کرنا ہوتا تو اللہ تعالٰی کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء مبعوث نہ کرتا بلکہ جلاد بھیج دیتا جو انبیاء کی طرح تبلیغ کرنے کی بجائے سب برے کاموں میں ملوث لوگوں کو سیدھا قتل کر دیتا.
غیرت کے نام پر قتل کرنے کے خلاف مجوزہ قانون کے سامنے آنے سے پہلے ہمیں اسلام کے احکامات کو سامنے رکھنا چاہیے اور اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ پاکستان میں اکثریت غیرت کے نام پر قتل کی وجہ پسند کی شادی ہے. اس ضمن میں والدین کو بہت ہی مثبت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ان کو اپنی اولاد کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کرنا چاہئے تاکہ وہ بلاخوف اپنے دل کی بات والدین سے کہ سکیں اور باہر کوئی کندھا نہ ڈھونڈیں.
اسلام ایک بالغ لڑکی کو اجازت دیتا ہے کہ شرعی عذر پیش کر کے لڑکی شادی سے انکار کر سکتی ہے کیونکہ اسلام عورت کی رضامندی لازمی قرار دیتا ہے نہ کہ ولی کی لازمی رضامندی.
لہذا اس مجوزہ قانون کو خلاف اسلام اور خلاف غیرت نہ سمجھیں اپنے رویے پر غور فرمانے کے ساتھ ساتھ اسلام کی تعلیمات کا مطالعہ کریں جس میں غیرت کے نام پر قتل کا کوئی حکم ہے نہ ہی جواز. اگر وہ بھائی جو بہن کو غیرت کے نام پر قتل کے درپے رہتے ہیں وہ صیح معنوں میں غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی بہن کی معاشی ضروریات اور دوسری چیزوں کا خیال رکھیں تو قتل کرنے کی نوبت نہ آئے. اصل غیرت اور سوکالڈ غیرت میں اگر فرق معلوم ہو جائے تو پھر قتل تک بات جائے گی ہی نہیں.
اگر اصلی غیرت کا مظاہرہ مرد حضرات کریں اور ہر لحاظ سے خیال رکھیں تو پھر اس سے فرق نہیں پڑے گا کہ غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون ہے یا نہیں، کیونکہ پھر قتل ہونا ہی نہیں.

Views All Time
Views All Time
599
Views Today
Views Today
3
یہ بھی پڑھئے:   سرزمین بے آئین گلگت بلتستان کی سیاسی محرومیاں اور نوجوان نسل - حصہ اول

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: