Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بے گھری

by اگست 10, 2016 افسانہ
بے گھری
Print Friendly, PDF & Email

beghariعالمی افسانہ میلہ 2016، عالمی افسانہ فورم
افسانہ نمبر 9 ”بے گھری ”
افسانہ نگار: رومی ملک، بحرین
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہی میں، وہی کمرہ ، وہی گداز بستر پھر آج نیند آنکھوں سے کوسوں دور کیوں ہے ؟ ہر ماں کی طرح میں بھی اپنی بیٹی کی شادی کا خواب دیکھا کرتی تھی اور اب وہ دن آ گیا تھا جب برسوں کی تمناؤں ،آرزوں اور خواہشوں کی تکمیل ہونے والی تھی ۔پھر دل اداس کیوں ہے اس کے بچھڑنے کا غم ہے یا پرائی ہو جانے کا دکھ ۔یا کچھ اور۔میں اداس تھی ، دل بے چین تھا بستر پر کروٹیں بدلنے لگی ۔جس قدر دل کو قابو میں کرنے کی کوشش کرتی دل اور بے قابو ہوا جاتا تھا۔گھبرا کر بستر سے اٹھ گئی۔ لاشعوری طور پر میرے قدم بیٹی کے کمرے کی طرف بڑھنے لگے ۔۔کمرے کی لائیٹ جلتی دیکھ مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ بھی جاگ رہی ہے ۔۔مجھ سے جدائی کا احساس تڑپا رہا ہے یا آنے والے دنوں کے حسین سپنے جاگتی آنکھوں سے سنجو رہی ہے۔اچانک مجھے اس پر پیار آیا میں نے بڑھ کر اسے اپنی آغوش میں لے لیا ۔ وہ سٹپٹا گئی "مما ابھی تک جاگ رہی ہو ؟” "تم بھی تو نہیں سوئی ۔” میں نے دیکھا ۔اس کے سرخ گالوں پہ مزید سرخی دوڑ گئی تھی ۔۔اس کے سرخ گال دودھیا رنگت اور ستواں ناک دیکھ کر لوگ اکثر کہتے تھے بیٹی یقینا باپ پہ گئی ہوگی تم پہ تو بالکل نہیں گئی میں خاموش رہ جاتی باپ کو کسی نے دیکھا ہی نہیں تھا ۔ "جان کل تم مجھ سے جدا ہو جاؤگی۔یہی ریت ہے ،بیٹی پرایا دھن ہوتی ہے اسے ایک نہ ایک دن اپنا گھر چھوڑ کر نئے سفر پہ جانا پڑتا ہے جہاں نئی دنیا ،نیا گھر، نئے لوگ منتظر ہوتے ہیں بیٹی کی رخصتی سے قبل ہر ماں اسے کچھ سیکھ دیتی ہے ۔۔تم خود سمجھدار ہو میں تمہیں کیا سیکھ دوں ہاں تمہیں کچھ بتاتی ہوں۔۔ میرا ذہن کئی سال پیچھے کی طرف اڑان بھرنے لگا "پونم شہر کے حالات کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے ” "کیوں ؟” "دیکھو ۔فوجی چھاونی ۔” میں نے کالج کی طرف جانے والی اس سڑک کی طرف اشارہ کیا ،جہاں دس پندرہ خیمے نظر آرہے تھے ۔نزدیک جانے پر پتا چلا کہ خیمہ زن فوجی نہیں تھے ۔خانہ بدوشوں نے ڈیرا ڈالا تھا ۔یہ اچانک کہاں سے نمودار ہو گئے ؟ کل تک تو یہ علاقہ بالکل ویران پڑا تھا ۔ کالج شہر سے کافی دور تھا ۔کالج کی طرف جانے والی سڑک کے دونوں جانب میلوں تک کوئی آبادی نہیں تھی ۔ ان لوگوں کے آنے سے تھوڑی چہل پہل اور رونق سی لگ رہی تھی ۔ جانے کہاں سے آئے تھے یہ لوگ ۔ کالج آتے جاتے میں ان کی حرکات نوٹ کرتی ۔ مجھے ان بنجاروں کی زندگی اپنے علاقے کے عام بنجاروں سے مختلف لگ رہی تھی ۔ان کی کشادہ پیشانی، ستواں ناک ،دودھیا رنگ، کالے بال اور دلکش چہرے اس بات کی نشاندہی کررہے تھے کہ یہ لوگ پہاڑی علاقوں میں بسنے والی خوبصورت برادریوں میں سے ایک ہیں ۔عورتیں اور مرد دونوں ہی لمبے بال رکھنے کے شوقین معلوم پڑتے تھے ۔عورتیں ان بالوں کو چھوٹی چھوٹی چوٹیوں میں گونتھ کر باہر کی جانب بکھیرے رہتیں ۔عورتیں لداخی عورتوں کی طرح سر پر ٹوپی کا استعمال بھی کرتی تھیں ۔ وہ رنگ برنگے کپڑوں کے ٹکڑوں سے بنی قمیص اور چست پائجامہ پہنتی تھیں ۔ گلے میں پتھروں اور بڑے بڑے موتیوں کی مالائیں پہنتی تھیں ۔ مرد بھی پتھروں اور موتیوں کی مالائیں پہنتے تھے ان کے لباس عورتوں کے لباس سے زیادہ مختلف نہ تھے وہ بھی قمیص اور پائجامہ پہنتے تھے لیکن ان کے کپڑے زیادہ رنگ برنگے اور بھڑکیلے نہیں ہوتے تھے ۔وہ قمیص کے اوپر جیکٹ بھی پہنتے تھے ۔ لیکن سب مرد جیکٹ کا استعمال نہیں کرتے تھے ، شاید ان کے پاس ہوتی نہیں تھی ۔ کیوں کہ ان کے پھٹے کپڑے اور خستہ حال چہرے سے ان کی بیکاری اور بدحالی صاف طور پر نمایاں تھیں ۔ جب ہمارا رکشہ وہاں سے گزرتا ، بچے ٹھٹک جاتے ۔کھیل چھوڑ کر ہمیں گھورنے لگتے ۔ کچھ عورتیں بھی اپنا کام چھوڑ کر ہمیں دیکھنے لگتیں ۔ بعض عورتیں اپنے کام میں اتنی مگن ہوتیں کہ ان کا دھیان ہماری طرف جاتا ہی نہیں تھا۔ بچے دور تک ہمارے رکشہ کے پیچھے پیچھے چلے آتے لیکن ان کی مائیں انہیں ایسا کرنے سے روکتیں ۔وہ لپک کر انہیں پکڑ لیتیں ۔میں ان سے ملنا چاہ رہی تھی ۔ میں محسوس کر رہی تھی ان کی زندگی میں ایسا بہت کچھ ہے ، جو میری اگلی کہانی کے لئے مواد فراہم کر سکتا ہے ۔ ان خانہ بدوشوں میں میری دلچسپی پونم کو بری لگ رہی تھی ” میں دیکھ رہی ہوں پچھلے کئی دنوں سے تم خواہ مخواہ ان بنجاروں کا ذکر کرکے مجھے ذہنی طور پر مایوس کر رہی ہو ۔کیا رکھا ہے ان واہیات لوگوں کی زندگی میں ۔جنہیں خود نہیں پتا ان کے مسائل کیا ہیں وہ کیوں ایسی بدحال زندگی جی رہے ، مقصد کیا ہے ان کے جینے کا ۔۔ایسے گھٹیا اور واہیات لوگ ہماری گفتگو کا موضوع نہیں ہونے چاہئیں۔” اس دن کے بعد میں نے پونم سے ان خانہ بدوشوں کا ذکر کرنا چھوڑ دیا تھا۔ حالانکہ ان میں میری دلچسپی ہنوز برقرار تھی میں جاننا چاہ رہی تھی۔ وہ کیوں در بدری اور بے گھری کی زندگی گزارتے ہیں ۔کیوں اس شہر سے اس شہر اس علاقے سے اس علاقے تک جینے کے لئے مجبور ہیں ۔کیا ان کی اس بدحال زندگی کا کوئی انت نہیں ۔ میری متلاشی نظر ان میں کچھ ڈھونڈھ رہی تھی ان کے قریب جا کر ان کی زندگی میں اترنے کا تجسس بڑھ رہا تھا ۔اور ایک دن جب میں ان سے مل کر لوٹی تو مجھے لگا میرے قلم کو ایک نہیں کئی کہانیاں مل گئی ہیں۔ زبان کا مسئلہ درکارنہ ہوتا تو چند ایک لوگوں سے انفرادی طور پر مل کر اور بھی معلومات حاصل کر سکتی تھی ۔ اس برادری کا ایک جوان ہماری زبان سے واقف تھا اسی نے میرے تجسس کو جلا بخشی ورنہ مجھے مایوس ہی لوٹنا پڑتا ۔اس نے بتایا کہ ہمارے آباؤ اجداد کشمیر اور لداخ کے درمیان کے پہاڑی علاقوں کے چھوٹے سے قصبے میں رہتے تھے ۔اس قصبے میں دو برادریاں ہوا کرتی تھیں ۔بظاہر دونوں برادریوں کے رہن سہن ایک جیسے تھے ۔لیکن ان کے درمیان کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں تھا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ دونوں ہی خود کو ایک دوسرے سے برتر سمجھتے تھے ، ہزاروں سال تک دونوں برادریاں ساتھ رہتے ہوئے بھی الگ تھلگ تھیں ۔دونوں برادریوں کے تیج تیوہار اور شادی بیاہ کی رسم بھی ایک جیسی تھیں، لیکن شادیاں اپنی برادری میں ہی ہوا کرتی تھیں ۔یوں تو شادی خاندان کے بڑے بزرگ ہی طے کرتے تھے ، لیکن ان برادریوں کا ایک تیوہار تھا جس میں جوان بزرگ ، مرد عورت سبھی حصہ لیتے تھے ۔کوئی بھی کسی کے ساتھ ناچ گا سکتا تھا ۔اور کوئی بھی کسی کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کر سکتا تھا ، لیکن شرط یہ ہوتی تھی کہ وہ قبیلے یعنی برادری سے باہر کا نہ ہو اور اس تعلقات میں دونوں کی رضامندی ضروری ہوتی تھی ۔ اس طرح پیدا ہوئی اولاد کو سماج میں وہی مقام حاصل تھا جو شادی کے بعد پیدا ہونے والے بچے کو ملتا تھا ۔اس نے آگے بتایا کہ ایک بار اسی تیوہار کے موقع پر ایک برادری کے لڑکے نے دوسری برادری کی لڑکی کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کر لئے حالانکہ اس میں دونوں کی رضامندی شامل تھی ۔ لیکن سزا کے طور پر دونوں برادریوں نے اپنی اپنی برادری سے لڑکے اور لڑکی کے خاندان کو خارج کر دیا ۔ وہ دونوں برادریاں اسی قصبے میں آج بھی موجود ہیں، لیکن لڑکے اور لڑکی کا خارج شدہ خاندان ایک دوسرے میں ضم ہو کر بنجاروں کی زندگی گزار رہا ہے ۔۔کچھ پل کے لئے وہ خاموش ہوا پھر بولا ۔۔ہماری برادریاں بہت ساری مصیبتیں جھیل چکی ہیں ۔علاقے کے ساتھ اثاثہ بھی چھن گیا ۔در در کی ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں ۔ہمارے آشیانے موسموں کی زد میں ہوتے ہیں ۔۔ہماری نشانیاں مٹتی جا رہی ہیں ۔ کوئی وبا یا موسم کی بڑی تبدیلی ہماری تعداد تیزی سے گھٹاتی جا رہی ہے ۔۔میرے یہ پوچھنے پر کہ تمہارا تعلق کس خاندان سے ہے ، تم لڑکے کی برادری میں تھے یا لڑکی کے ۔ اس نے بتایا کہ میں دونوں خاندان کا مشترکہ ہوں ۔جب دونوں خاندان مل کر ایک برادری بن گئی تھی تب میرا جنم ہوا تھا ۔ ان کی داستان حیات سن کر مجھے ان سے ہمدردی سی ہو گئی ۔۔ میں گھر لوٹ آئی۔وہ میرے حواس پہ پوری طرح چھائے رہے ۔رات بھر نیند آنکھوں سے کوسوں دور رہی ۔ دل چاہ رہا تھا میں بھی ان کی زندگی جی کر دیکھوں ۔ان کا رہن سہن اختیار کروں اس برادری کی عورتوں کی طرح رنگ برنگی بھڑکیلی قمیص پہنوں۔ اپنے بالوں کو چھوٹی چھوٹی چوٹیوں میں گونتھوں ، سر پر ٹوپی کا استعمال کروں ۔گلے میں پتھروں اور بڑی بڑی موتیوں کی مالائیں پہنوں اور ان کے ساتھ مسافرت اختیار کر یہ محسوس کروں کہ کیسا ہوتا ہے بے گھری کا درد ۔ ؟ میں کروٹ بدلتی رہی ۔ان کی پریشانیاں ،ان کے مسائل ،ان کی مجبوریوں کا کوئی حل ہے ۔۔ ؟آخر وہ کب تک بے چینی ، خوف ، سفر کا کرب اور بے گھری کا درد جھیلیں گے ۔ ان کی زندگی میں اتنا مواد بھرا تھا کہ ۔ میں چاہوں تو ان کے رنگ برنگے کپڑوں کی طرح کئی رنگ برنگی کہانیاں گڑھ لوں ۔ لیکن ان کے دکھوں کا مداوا ہے میرے پاس ؟ اس دوران ہمارے امتحان شروع ہو گئے ۔امتحان ہوتے ہی گرمی کی تعطیلات شروع ہو گئیں ۔ چھٹیاں منانے میں باہر چلی گئی ۔نئی جگہ اور نئے ماحول میں بھی میں ان خانہ بدوشوں کو فراموش نہیں کر سکی ۔ذہن پر وہ کسی نہ کسی صورت مسلط رہے۔ بہت سا وقت چھٹیوں کی نذر ہو گیا ۔ ایک لمبی تعطیل کے بعد ہم کالج کے لئے روانہ ہوئے تھے ۔اس علاقے میں پہنچ کر میں حیرت زدہ رہ گئی ۔۔ خیمے غائب تھے ۔ میں نے رکشہ رکوایا ۔ سڑک کے دونوں طرف میری نگاہیں دوڑ گئیں ۔وہ ویران اور غیر آباد علاقہ ایک بار پھر سے ویران پڑا تھا ۔ کچھ دن قبل یہ علاقہ آباد رہا ہوگا ، ایسی ایک بھی نشانی نظر نہیں آئی ۔وہ اپنے ساتھ اپنی تمام نشانیاں سمیٹ کر لے گئے تھے ۔ ” پونم کیوں چلے گئے یہ لوگ ؟” ایک بے معنی سا سوال میرے منہ سے نکل گیا ۔ "اتنی پریشان کیوں ہو رہی ہو ، انہیں تو جانا ہی تھا ۔ چلو ہمیں دیر ہو رہی ہے ۔” تبھی کالج کی طرف جاتے ایک لڑکے کو روک کر میں نے پوچھا۔ ” تمہیں معلوم ہے یہ لوگ کہاں گئے ۔؟” ” ارے ۔تمہیں نہیں پتہ ۔؟” ” کیا۔۔؟” جانے کیوں ایک انجانا خوف میرے اندر بیٹھتا محسوس ہوا ۔ ” یہ سب تو ۔سیلاب کی نذر ہو گئے ” ” اف۔”۔مجھے زبردست جھٹکا سا لگا ۔ "لیکن اس علاقے میں باڑھ کا پانی پہلے تو کبھی نہیں آیا تھا۔؟” پونم اس سے پوچھ رہی تھی ۔ پچھلے سال باڑھ آنے سے جو بندھ ٹوٹ گیا تھا اس کی مرمت نہیں کی گئی تھی ۔شدید بارش کی وجہ سے اچانک سیلاب کا پانی اس علاقے میں بھی در آیا ۔یہ سب اتنی جلدی اور اچانک ہوا تھا کہ بچاؤ میں یہ لوگ کچھ نہ کر سکے ۔ہاں صرف ایک عورت بچ پائی تھی جو شاید اب بھی صدر اسپتال میں پڑی ہے ۔اتنا بتا کر لڑکا آگے بڑھ گیا ۔میں نے پلٹ کر پونم کی طرف دیکھا ، اسکی آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب امڈ آیا تھا ۔ ” رومی انہیں اس طرح مٹنے مت دو۔اپنے قلم کو جنبش دے کر انہیں محفوظ کر لو ۔ تھیم اچھا ہے مواد بھی موجود ہے اس موضوع پر تم ایک اچھی کہانی لکھ سکتی ہو۔ ” میری آنکھیں خشک تھیں۔ "اب ان پر لکھ کر بھی میں کیا کر لوں گی؟” میں کالج نہیں جا سکی تھی پونم کو کالج چھوڑ کر میں نے رکشے والے کو صدر اسپتال چلنے کے لئے کہا ۔ اسپتال پہنچ کر مجھے پتا چلا کہ وہ عورت پیٹ سے تھی اور ایک بچی کو جنم دے کر چل بسی ۔۔اس بچی کا پتا نہیں چل سکا کہ وہ کہاں ہے اسے کون لے گیا۔
موسمی اژدھے نے زندہ بے گھر بنجارے لوگوں کو نگل لیا تھا ۔۔اس جوان بنجارے کی باتیں ہوا میں تحلیل ہوتی ہوئی میرے کانوں تک پہنچ رہی تھیں ۔۔ "ہمارے آشیانے موسموں کی زد میں ہوتے ہیں ۔ہماری نشانیاں مٹتی جارہی ہیں ۔ کوئی وبا یا موسم کی بڑی تبدیلی ہماری تعداد تیزی سے گھٹاتی جا رہی ہے ۔! ” اور میں سوچ رہی تھی ایک بھی نشانی بچ گئی تو وہ زندہ رہیں گے اور میں انہیں زندہ رکھنے کے لئے اس آخری نشانی کی تلاش میں جت گئی۔۔اور ۔ "اور مما ۔۔؟” کشادہ پیشانی پر سلوٹوں کے ساتھ میری بیٹی آنکھوں میں گنگا جمنا کی دھار لئے مجھے جھنجھوڑ رہی تھی ۔۔جب وہ روتی ہےگالوں کی طرح اس کی ستواں ناک بھی سرخ ہو جاتی ہے۔۔۔

Views All Time
Views All Time
334
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   تیسری دنیا
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: