Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بچوں کا ہوجکن لمفوما (حصہ اول)

بچوں کا ہوجکن لمفوما (حصہ اول)
Print Friendly, PDF & Email

یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں لمف کے نظام میں سرطانی خلیے پیدا ہو جاتے ہیں. لمف کا نظام جسم کے دفاعی نظام کا جزو لازم ہے. یہ مندرجہ ذیل حصوں پر مشتمل ہوتا ہے. لمف: یہ بے رنگ پانی جیسا سیال مادہ ہوتا جو لمف کے نظام میں سفر کرتا رہتا ہے اور خون کے کچھ سفید خلیوں پر مشتمل ہوتا ہے جنہیں ہم لمفوسایٹ کہتے ہیں. لمف کی وریدیں: یہ پتلی نالیوں کا ایک جال ہوتا ہے جو جسم کے مختلف حصّوں سے لمف کو اکٹھا کرتا ہے اور بالآخر اسے خون میں دھکیل دیتا ہے.

لمف کے غدود: یہ چھوٹے چھوٹے پھلیوں کی شکل کے اجسام ہوتے ہیں جو لمف کو فلٹر کرتے ہیں اور خون کے ایسے سفید خلیوں کا ذخیرہ کرتے ہیں جو جراثیم اور بیماریوں کے خلاف مزاحمت میں مددگار ہوتے ہیں.لمف کے غدود لمف وریدوں کے جال کے ساتھ ساتھ واقع ہوتے ہیں اور جسم کے ہر حصّے میں پائے جاتے ہیں. لمف غدود کے گچھے بغلوں، گردن اور پیٹ وغیرہ میں پائے جاتے ہیں.

تلی: یہ ایک ایسا عضو ہے جو لمفوسائیٹ (خون کے سفید خلیے)بناتا ہے، خون کو فلٹر کرتا ہے، خون کے خلیوں کا ذخیرہ کرتا ہے اور خون کے پرانے بےکار خلیوں کو تلف کرتا ہے. تھائیمس: یہ ایک ایسا عضو ہے جس میں لمفوسائیٹ نمو پاتے ہیں اور اپنی تعداد میں اضافہ کرتے ہیں. یہ عضو سینے میں چھاتی کی ہڈی کے عقب میں موجود ہوتا ہے.

ٹانسلز: یہ لمف ٹشو کے دو چھوٹے چھوٹے اجسام ہوتے ہیں جو گلے میں پاۓ جاتے ہیں. ہڈی کا گودا: یہ نرم فوم کی طرح کا عضو جسم کی لمبی ہڈیوں کے اندر پایا جاتا ہے. خون کا گودا خون کے سفید خلیے، خون کے سرخ خلیے اور پلیٹلیٹ بناتا ہے. چونکہ لمف ٹشو پورے جسم میں پھیلا ہوتا ہے اس لیے ہوجکن لمفوما جسم کے کسی بھی حصّے سے شروع ہو کر جسم کے کسی بھی عضو تک پھیل سکتا ہے. ایپسٹین بار وائرس کا حملہ بچوں میں ہوجکن لیمفوما کے خطرے پر اثر انداز ہو سکتا ہے.

یہ بھی پڑھئے:   تمباکونوشی سے اموات میں دگنا اضافہ-انور عباس انور

کوئی بھی چیز جو کسی بیماری کا شکار ہونے کے خطرے کو بڑھا دے خطرے کا عنصر کہلاتی ہے. خطرے کے عنصر کی موجودگی کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کے آپ سرطان کا شکار ہو ہی جائیں گے. اسی طرح خطرے کے عنصر کی غیر موجودگی کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آپ کبھی سرطان کا شکار نہیں ہوں گے. اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا بچہ سرطان کے خطرے سے دوچار ہے تو فوراً بچوں کے طبیب سے رجوع کریں. بچوں میں ہوجکن لمفوما کے لیے خطرے کے عناصر یہ ہیں:

اپسٹین بار وائرس کا حملہ
ایچ آئ وی (ایڈز وائرس) کا حملہ جسم کے مدافعتی نظام کی کچھ مخصوص موروثی بیماریوں کا ہونا.
ماضی میں مریض کا مونونیکلوسس کا شکار ہونا. بچوں میں ہوجکن لیمفوما کی ممکنہ علامات میں لمف غدود کی سوجن، بخار، رات کو پسینے آنا اور وزن میں کمی ہونا شامل ہیں. یہ اور کچھ دوسری علامات ہوجکن لیمفوما اور کچھ دوسری بیماریوں میں بھی ظاہر ہو سکتی ہیں. اگر خدانخواستہ اپ کے بچے میں مندرجہ ذیل میں سے کوئی علامت ظاہر ہو تو فوراً اپنے طبیب سے رجوع کریں.

گردن، سینے، بغل یا چڈھوں میں بنا درد کے سوجے ہوئے غدود ظاہر ہونا.
کسی نامعلوم وجہ سے بخار ہونا. کسی نامعلوم وجہ سے وزن میں کمی واقع ہونا. رات کو پسینے آنا. مستقل تھکاوٹ کا احساس ہونا. بھوک نہ لگنا. جلد میں خارش رہنا. الکوحل کے استعمال سے لمف کے غدود میں درد ہونا. بخار، رات کو پسینے آنا اور وزن میں کمی کا واقع ہونا ”بی” علامات کہلاتی ہیں. ڈاکٹر علی شاذف
ماہر امراض سرطان بچگان
شوکت خانم کینسر ہسپتال و مرکز تحقیق لاہور

یہ بھی پڑھئے:   منشیات کا مقدس چہرہ
Views All Time
Views All Time
246
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: