Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

شوق کا کوئی مول نہیں

by مئی 24, 2016 بلاگ
شوق کا کوئی مول نہیں
Print Friendly, PDF & Email

Aamna Ahsanکہتے ہیں شوق کا کوئی مول نہیں ،،، ٹھیک کہتے ہیں ۔
آپ روزمرہ کتنے ہی لوگوں سے ملتے ہیں ، interact کرتے ہیں ۔
فیملی سے لے کر دوستوں تک بہت سے لوگوں سے ملتے ہیں ۔
ان تمام لوگوں کو کسی نا کسی قسم کا کوئی شوق تو ضرور ہوگا ۔
کسی کو جدید موبائل رکھنے کا شوق ہوتا ہے ، تو کسی کو ہاتھ میں پہننے والی گھڑیاں اکھٹا کرنے کا شوق ہوتا ہے ۔ کوئی جوتے دیکھ کر خود کو نہیں روک پاتا تو کوئی میک اپ خریدنے میں مصروف ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق خواتین کا صرف ایک ہی شوق ہوتا ہے اور وہ ہے شاپنگ ۔
ویسے مجھے اس تحقیق سے کوئی مسئلہ بھی نہیں ۔
بات صرف یہ ہے کیا میرا شوق میرے اردگرد موجود لوگوں سے مختلف ہے ۔
وہ شوق ہے کتابیں خریدنا ، پڑھنا اور انہیں اپنے آس پاس موجود لوگوں سے ڈسکس کرنا ۔
جب میں 8،9 سال کی تھی تب سے میرے بہن،بھائی تو اپنے پسندیدہ کھلونے لینے پر زور دیتے تھے،اور میں صرف ” بچوں کی دنیا ” یا ” تعلیم و تربیت ” لینے پر اکتفا کرتی تھی۔ آج بھی جب کبھی کسی بک اسٹور میں گھس جاؤں ، مشکل سے ہی با ہر نکلتی ہوں ، اور وہ بھی اداس چہرے کے ساتھ ۔ جب کوئی کتاب لیتی ہوں دو،دو دن تک اسے اپنے سائیڈ ٹیبل سے نہیں ہٹاتی ، ہر 5 منٹ میں کتابوں کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتی ہوں ۔
پاکستان میں اگر آپکو کتاب پڑھنے شوق ہے تو آپ کو اپنے آپ کو مختلف قسم کے حالات کے لئے خود کو تیار رکھنا ہوتا ہے ۔
لوگ آپ سے مل کر ، آپکا شوق جان کر جو پہلی بات کرتے ہیں وہ کچھ ایسی ہوتی ہے ۔
کتابیں پڑھتے ہو؟ مطلب؟ یہ کیسا شوق ہوا؟ بندہ فارغ وقت میں بھی پڑھیں ؟
تم کتنی بور ہو وغیرہ وغیرہ ۔
دوستوں اور جاننے والوں کا شکوہ کیا کرنا اکثر تو آپ کے والدین بھی آپکو ہر نئی کتاب لینے پر نالاں نظر آئیں گے ۔
بہن بھائی آپ سے پناہ مانگیں گے ۔
اور آپس کی بات ہے وہ اندر سے آپ کو بہت ناپسند بھی کریں گے ، کیونکہ آپ کا شوق کتاب پڑھنا ہے اور انکا ویڈیو گیم کھیلنا
ظاہر ہے والدین 4 گھنٹے کتاب تو پڑھنے دے سکتے ہیں لیکن ویڈیو گیم تو 4،5 گھنٹے نہیں کھیلنی نا ۔
اب آجائیں دوستوں کی طرف ، میرے فیس بک اکاؤنٹ میں شامل %50 سے زیادہ دوست میری شیئر کی ہوئی کوئی تحریر پسند نہیں کرتے ،پڑھنا تو بہت دور کی بات ہے ۔
کچھ دوست ہیں جنھیں میری طرح کتابیں پڑھنے کا شوق ہے ۔ اور وہ لوگ میرے پسندیدہ لوگ ہیں۔
میرے کچھ ایسے دوست بھی ہیں جو مجھے ” فارغ عوام ” کہتے ہیں ۔
ایک دفعہ میری ایک سہیلی نے میری بک کلیکشن دیکھ کر کہا ، تم پاگل ہو ، کتابیں بھی کوئی جمع کرنے کی چیز ہیں ؟ ردی ہے یہ اسے بیچ دو کافی پیسے آجائیں گے ۔
پاکستان کا یہ المیہ ہے کہ ہمیں کتب بینی کا شوق نہیں اور ہمیں اس پر فخر ہے ۔
عرصہ دراز سے ہمارے ملک میں تحقیق کا کوئی کام نہیں ہو رہا ، اور ہم میں سے 1% نے بھی اس بارے میں سوچا بھی نہیں ہوگا ۔
آپ کسی بھی ملک میں چلیں جائے ، لوگ آپکو ہر جگہ ہاتھ میں کم از کم ایک کتاب پکڑے نظر آئیں گے ۔
مگر ہم آج تک اسکول کی کتابوں سے نفرت کرنے میں اتنے مصروف ہیں کہ کوئی اور کتاب پڑھنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔
کتاب آپکی بہترین دوست ہے ، یہ معلومات کا خزانہ ہے ۔کتب بینی آپ میں شعور پیدا کرتی ہے۔ آپ کے سوچنے کے انداز کو مختلف اور عمدہ بنانے میں مددگار بنتی ہے ۔
کتب بینی کی عادت ڈالیے خود کو بھی اور اپنے ارد گرد موجود لوگوں کو بھی ۔ اپنے بچوں کو کتاب پڑھنے پر آمادہ کریں ، ا نہیں تحفے میں کتاب دیجیے اور اسے پڑھنے پر کسی انعام کا وعدہ کر لیجیے ۔ اور پھر انکی تربیت اور سوچ میں آنے والی تبدیلی کو نوٹس کریں ۔ پاکستان کو باشعور کرنے کے لئے یہ ناگزیر ہے ۔

Views All Time
Views All Time
581
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

One commentcomments

  1. Kitab sa acha koi dost nahi

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: