طبقاتی سماجوں کی تاریخ

Print Friendly, PDF & Email

کوئی طبقہ ایسے افراد پر مشتمل ہوتا ہے جن کا ذرائع پیداوار اور محنت سے رشتہ مشترک ہوتا ہے۔ ایک طبقاتی سماج دو بنیادی طبقات میں تقسیم ہوتا ہے: استحصالی طبقہ اور استحصال زدہ طبقہ۔ استحصالی طبقہ ذرائع پیداوار پر قابض ہوتا ہے جبکہ استحصال زدہ طبقہ، جو محنت کش طبقہ بھی ہوتا ہے، ذرائع پیداوار کی ملکیت نہیں رکھتا اور استحصالی طبقے کے لئے کام کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ لیکن انسانی سماج ہمیشہ سے طبقات میں تقسیم نہیں رہا ہے۔ لاکھوں سالوں کی انسانی تاریخ میں طبقات کا وجود پچھلے آٹھ سے دس ہزار سال کے دوران ہی نظر آتا ہے۔ بعض سماجوں میں تو اس سے بھی بہت بعد تک طبقات نمودار نہیں ہوئے۔ یوں انسانی تاریخ کا بیشتر حصہ طبقات سے پاک رہا ہے۔ اِس قدیم غیر طبقاتی سماج کو ‘قدیم اشتراکیت‘ بھی کہا جاتا ہے‘ جس میں ذرائع پیداوار (جو بالکل ابتدائی اور پسماندہ شکلوں میں تھے) کی نجی ملکیت کا تصور موجود نہ تھا۔ تاہم تقریباً 12 ہزار سال پہلے زراعت، یعنی جانوروں کو سدھانے اور کاشت کاری کا آغاز انسانی سماجوں میں گہری معاشی و سماجی تبدیلیوں کا موجب بنا۔ اِس عمل کو بحیثیت مجموعی ‘Neolithic Revolution‘ بھی کہا جاتا ہے جو انسانی تاریخ کا پہلا عظیم انقلاب تھا اور پیداواری قوتوں میں بڑی جست کی غمازی کرتا تھا، چنانچہ جلد یا بدیر نئے پیداواری رشتوں کاجنم بھی ناگزیر تھا۔ اناج کو چنا اور بویا جانے لگا، جانوروں کی مدد سے ہل چلایا جانے لگا۔ وقت کے ساتھ انسان زیادہ سے زیادہ جانوروں کا استعمال اور پودوں کی کاشت کاری سیکھتا چلا گیا۔ زراعت نے خانہ بدوشی کا خاتمہ کیا، مستقبل بستیاں آباد ہوئیں، انسانی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا اور پہلی بار آبادی کی فوری ضرورت سے زیادہ پیداوار ہوئی۔ اِس زائد پیداوار پر تصرف کا سوال ہی طبقاتی تقسیم کی بنیاد بنا۔ پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ کچھ لوگ کام کرنے کی اہلیت رکھنے کے باوجود کچھ کئے بنا بھی اِس زائد پیداوار پر زندگی گزار سکتے تھے۔ لیکن پیداواری قوتیں اِتنی ترقی یافتہ نہیں تھیں کہ ہر کوئی جسمانی مشقت سے آزادی کی اِس عیاشی سے فیض یاب ہو سکتا۔ یہی وہ بنیاد تھی جس پر طبقاتی معاشرہ قائم ہوا۔

تاریخ میں کئی طرح کے طبقاتی سماج نظر آتے ہیں۔ مثلاً غلام دارانہ سماج بڑے پیمانے پر غلاموں کے استحصال پر قائم تھا۔ یہ غلام عام طور پر جنگوں یا دور دراز پسماندہ قبائل پر کئے جانے والے حملوں میں ہاتھ آنے والے قیدی ہوتے تھے، آقائوں کی ملکیت تصور ہوتے تھے اور انسان نہیں سمجھے جاتے تھے۔ غلاموں کی خرید و فروخت عام تھی۔ اِس سماج کا بنیادی طبقاتی تضاد انسانوں کی آقائوں اور غلاموں کے درمیان تقسیم پر مبنی تھا۔ کلاسیکی غلام داری کی مثالیں قدیم یونان اور روم میں ملتی ہیں۔ اس کے بعد جاگیردارانہ سماج مزارعوں کے جاگیرداروں کے ہاتھوں استحصال پر مبنی تھا۔ تاہم غلاموں کے برعکس مزارعے اگرچہ کمتر ہی سہی لیکن انسان تصور کئے جاتے تھے۔ یہ مزارعے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے زمین کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں پر کام کرتے تھے اور باقی کا سارا وقت جاگیردار کی زمین پر بیگار میں محنت کرنے پر مجبور تھے۔ جاگیرداری اپنی کلاسیکی شکل میں قرونِ وسطیٰ (پانچویں سے پندرہویں صدی عیسوی) کے یورپ میں ملتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   محکمہ زراعت کے افسرانِ بالا سے مؤدبانہ التماس

آج ہم ایک سرمایہ دارانہ سماج میں زندہ ہیں اور یہی طرزِ پیداوار کم و بیش پوری دنیا میں رائج ہے۔ ماضی کے طبقاتی سماجوں کی طرح اِس سماج میں بھی ذرائع پیداوار ایک اقلیتی حکمران طبقے کی ملکیت میں ہیں‘ جسے سرمایہ دار طبقہ یا ‘بورژوازی‘ کہا جاتا ہے۔ آبادی کی اکثریت محنت کش مرد و خواتین (پرولتاریہ) پر مشتمل ہے جنہیں زندہ رہنے کے لئے اپنی قوت محنت سرمایہ داروں کو بیچنی پڑتی ہے۔
سماج کی مندرجہ بالا شکلیں کلاسیکی طور پر یورپی خطوں کے لئے مخصوص رہی ہیں۔ لیکن مشرقی خطوں (بالخصوص فارس، ہندوستان، چین وغیرہ) میں ہمیں سماجی ارتقا کی ایک مختلف روش نظر آتی ہے جسے مارکس نے ‘ایشیائی طرزِ پیداوار‘ یا ‘مشرقی استبداد‘ (Oriental Despotism) کا نام دیا تھا۔ مثلاً برصغیر میں غلام داری بطور طرزِ پیداوار کبھی بھی موجود نہیں رہی اور جاگیر داری اور سرمایہ داری کو بھی انگریز نوآبادکاروں نے اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں پیوند کیا۔ یوں یہاں کے سماجوں کا طرزِ ارتقا یورپ سے یکسر مختلف تھا۔ کارل مارکس نے 1853ء تا 1858ء نیویارک ٹربیون میں ہندوستان پر اپنے مشہور مضامین میں ‘ ایشیائی طرز پیداوار‘ پر کافی روشنی ڈالی۔ اِن تحریروں کی روشنی میں ایشیائی طرز پیداوار کا مختصر خاکہ یوں تیار کیا جا سکتا ہے: 1۔ زراعت اور دستکاری پر مبنی معیشت، جس میں محنت کی واضح تقسیم موجود تھی 2۔ زمین کی نجی ملکیت کی عدم موجودگی (تمام تر زمین ریاست (بادشاہ) کی ملکیت، جسے وہ کسی کے وقتی تصرف میں دے سکتا تھا) 3۔ ریاست کی جانب سے تعمیراتِ عامہ (پبلک ورکس) جو زیادہ تر زراعت سے متعلقہ ہوتی تھیں اور آب پاشی کے لئے نہروں کے وسیع نظام تعمیر کئے جاتے تھے 4۔ مطلق العنانیت پر مبنی ریاست جس کا انتظام وسیع بیوروکریسی چلاتی تھی 5۔ دیہاتوں سے ٹیکس یا لگان کی وصولی کے ذریعے استحصال۔

ایشیائی طرزِ پیداوار پر مبنی ریاست اپنی ساخت میں مغرب سے یکسر مختلف تھی۔ مغرب میں غلام داری یا جاگیرداری ادوار میں تشکیل پانے والی ریاست کی بنیاد نجی ملکیت پر تھی جبکہ ایشیائی طرز پیداوار میں نجی ملکیت وجود نہیں رکھتی تھی۔ جیسے مارکس نے لکھا کہ اکثر ایشیائی ممالک کی طرح ہندوستان میں زمین کی اصل مالک حکومت ہی ہوتی تھی۔ یہاں پر فرد کے پاس زمین کی نجی ملکیت موجود نہ تھی تاہم زمین کا تصرف موجود تھا۔ یعنی کوئی بھی فرد دیہاتی کمیون کی مرضی سے زمین کو کاشتکاری وغیرہ کے لئے استعمال میں تو لا سکتا تھا لیکن یہ اُس کی نجی ملکیت نہیں ہوتی تھی۔ مارکس نے ‘Grundrisse‘ میں لکھا، ”ملکیت صرف اشتراکی ملکیت کے طور پر موجود ہے… کوئی بھی فرد زمین کو محض کمیون کے ایک رکن کے طور پر بروئے کار لا سکتا ہے… ملکیت سماجی اور تصرف انفرادی ہے‘‘۔ اِسی طرح مارکس نے اپنے مضمون ‘لارڈ کیننگ کا اعلان اور ہندوستان میں زمین کی ملکیت‘ میں ہندوستانی دیہاتوں کے بارے میں لکھا، ” زمین دیہاتی اداروں کی ملکیت تھی جنہیں یہ اختیار حاصل تھا کہ کاشت کے لئے اسے افراد کو الاٹ کریں۔ زمیندار اور تعلق دار سرکاری افسروں کے علاوہ اور کچھ نہ تھے جو اس لئے مقرر کئے جاتے تھے کہ گاؤں کے ذمے جو لگان ہے اسے جمع کریں اور راجہ کو ادا کر دیں‘‘۔

یہ بھی پڑھئے:   علم و تدبر سے محروم سماج

مغربی سماجوں میں غلام یا مزارعے کی پیدا کردہ قدر زائد پر انفرادی آقا یا جاگیردار براہ راست قابض ہوتا تھا جبکہ ایشیائی سماجوں میں ریاست پوری آبادی کی اجتماعی پیداوار میں سے قدر زائد نچوڑتی تھی۔ اِسی قدر زائد میں سے ریاستی اہلکاروں کو اجرتیں دی جاتی تھیں۔ دیہات بڑی حد تک خود کفیل اور ایک دوسرے سے کٹے ہوئے تھے۔ مختلف حملہ آور آتے رہے اور بالائی سطح پر حکمران بدلتے رہے لیکن نیچے سے اِس طرزِ پیداوار میں کئی ہزار سال تک کوئی تبدیلی نہیں آئی اور دیہاتوں کی زندگی ایک یکسانیت کا شکار رہی۔ چند بڑے شہروں کو چھوڑ کر دیہاتوں نے اپنے اندر چھوٹی سی دنیا بسا رکھی تھی۔ پیسے اور منڈی کا کردار انتہائی محدود اور سطحی تھا۔ پیشہ ورانہ مہارتیں نسل در نسل خاندانوں میں چلتی تھیں اور انہی پیشوں کے ناموں سے ذات برادری کی باقیات یہاں آج تک نظر آتی ہیں۔ مغرب نے جس عرصے میں سرمایہ داری تک کا سفر طے کیا اس دوران یہ ایشیائی خطے ٹھہرائو کا شکار رہے۔ آخر کار ہزاروں سالوں پر مبنی اِس جمود کو انگریز نو آباد کاروں نے توڑا اور ایشیائی طرز پیداوار کی بنیادوں کو تہس نہس کر دیا۔ لیکن نوآبادیاتی لوٹ مار اور استحصال کے اِسی عمل میں یہاں جدید صنعت، ٹرانسپورٹ اور ذرائع ابلاغ کی بنیاد بھی رکھی جس سے پرولتاریہ (جدید محنت کش طبقے) کا جنم ہوا، بیرونی دنیا سے روابط استوار ہوئے اور ہزاروں سالوں تک الگ تھلگ رہنے والے علاقے قریب آ گئے۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Views All Time
Views All Time
138
Views Today
Views Today
4

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: