Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اِدھر اور اُدھر

by جون 28, 2016 کالم
اِدھر اور اُدھر
Print Friendly, PDF & Email

usman ghaniقائداعظم ؒ سے پوچھا گیا ۔What is Character? He replied , It is Self respect. کردار کیا ہے ؟جواب دیا ’’عزت نفس کا ادراک‘‘کیا غضب کے شعر ہیں
اے میرے دوست ! ذرا دیکھ میں ہارا تو نہیں
میری سر بھی تو پڑا ہے مری دستار کےساتھ
وقت خود ہی بتائے گا کہ میں زندہ ہوں
کب وہ مرتا ہے جو زندہ رہے کردار کے ساتھ
برطانوی عوام نے تاریخی ریفرنڈم میں یورپی یونین (EU)سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کر لیا ،اس ریفرنڈم کو (Brexit- Referendum)کا نام دیا گیابرطانیہ 1973میں یورپین اکنامک کمیونٹی کا حصہ بنا تھا 23جون کو ہونے والے ریفرنڈم میں برطانوی شہریوں کو اختیار تھا کہ وہ Remainیا Leaveمیں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کر سکتے ہیں ووٹ ڈالنے کا مرحلہ آیا تو 52فیصد لوگوں نے Leaveکے حق میں فیصلہ دے دیا جبکہ 48فیصد برطانوی یورپی یونین کے ساتھ ہی رہنا چاہتے تھے یوں برطانیہ یورپی یونین کے28ممالک کے قائم اتحاد سے علیحدہ ہو گیا برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور دوسری بڑی طاقتوں بشمول جرمنی ،ترکی اور فرانس کی خواہش تھی کہ Remainوالا پلڑا بھاری رہے لیکن جب ریفرنڈم ہوا تو چڑیاں کھیت چگ چکی تھیں ،برطانوی عوام نے Leaveکے آپشن کا انتخاب کر کے ساری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے اب Lisbon – Treatyکے آرٹیکل 50کے مطابق جو کسی ملک کے یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کے متعلق ہے لندن کا یہ محبت نامہ پہنچے گا یورپین کونسل میں، جہاں With drawl Agreementکو پر کھا جائے گا اب دو صورتیں ہیں اکثریت اس کی اجازت دے دے لیکن اس کے لیے یورپین پارلیمنٹ کی منظوری لازمی ہے، دوسری اگر دو سال کے دور علیحدگی کا معاہدہ نہیں اس دو سالہ دور میں ایک طرف مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ بصورت دیگر خو د بخود گیٹ کھل جائے گا Exit کا، یورپی یونین سے یہ قانونی طلاق نامہ جو یورپ سے برطانیہ کو موصول ہونے والا ہے اس کی مقررہ مدت ہے دو سال برطانیہ جس کے معاشی استحکام کا زمانہ معترف رہا ہے وہاں نوبت یورپی یونین سے علیحدگی تک آن پہنچے گی کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا حالات کے یہاں تک پہنچنے کی سب سے بڑی وجہ یہاں غیر ملکیوں کی سکونت پزیری (Immigration)ہے لندن کے خوشحال خطے کے معاشی توازن کو بگاڑنے میں دو ملکوں پولینڈ اور رومانیہ کا بڑاہاتھ ہے یہ دونوں ملک اسی دہائی میں کچھ عرصہ قبل یورپی یونین کا حصے بنے تھے پولش اور رومانین کے معاشی حالات د گرگوں کا شکار ہیں لوگ بیروزگار ی کا شکار ہیں ،آمدنی کا کوئی معقول ذریعہ نہیں ،معاشی اور معاشرتی عدم توازن کے باعث ان دو ملکوں کی بڑی تعداد لندن میں آبسی ہے، قانون کے مطابق یورپی یونین میں شامل ممالک میں آپس میں ایک دوسرے ملک جانے کے لیے ویزا درکار نہیں ہوتا، ویزے کی اس آسانی کا رومانیہ اور پولینڈ کے لوگوں نے خوب فائدہ اٹھایا اور لندن کو مسکن بنا لیا ان لوگوں کے لندن ہجرت کرنے سے مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ،جو گھر دو ہزار پاؤنڈ میں فروخت ہوتا تھا اس کی قیمت تین ہزار پاؤنڈ ٹھہری ،پولش کے آنے سے کرائم ریٹ میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ،ان مسائل نے یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کے لیے جلتی پر تیل کا کام کیا ،دوسری بڑی وجہ برطانوی باشندوں کو بیروزگاری اور کم اجرت کا سامنا تھا برطانوی جو کام دس پاؤنڈ میں کرتے تھے پولش وہی کام پانچ پاؤنڈ میں سر انجام دینے میں فخر محسوس کرتے تھے، ان کے بزنس کی نوعیت زرا چلتی پھرتی تھی اس ہاتھ دے ،اس ہاتھ لے والا حساب تھا ،جوں ہی کام سر نجام دیا ،ساتھ ہی اجرت وصول کی اور چلتے بنے،اس طرح وہ گورنمنٹ ٹیکس ادا کرنے سے بھی بچ جاتے تھے بلکہ الٹا سرکاری فنڈ سے انہیں بیروزگاری کے نام پر ہفتہ وار پیسے (پاؤنڈ )بھی مل جاتے تھے پاکستانی کمیونٹی جسے برطانیہ سیٹل ہونے میں کئی دہائیاں لگ گئیں یہ لوگ چٹ آئے ،پٹ سیٹل ہو گئے ان کی بڑی تعداد نے مختصر عرصے میں کاروبار کو تیزی سے پروان چڑھایا ،جگہ جگہ ڈیپارٹمنٹل سٹور، مہ خانے اور فاسٹ فوڈز کی افتتاحی تقریبات ہوتی ہوئی نظر آنے لگیں برطانوی لوگ بشمول پاکستانی کمیونٹی تیزی سے وسائل کی کمی کا شکار ہونے لگے صحت ،تعلیم اور روزگار پستی کا شکار ہو گئے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں سے معمول کا چیک اپ کرانے میں ہفتے لگ جاتے البتہ معیار بہر حال موجود رہا پاکستانی کمیونٹی کو بڑی تعداد نے Leaveکے حق میں ووٹ ڈالے، ان کا دعویٰ یہ تھا کہ امیگریشن قوانین میں نرمی کی وجہ سے لندن معاشی عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے کرائم ریٹ میں اضافے کے بھی یہ لوگ ذمہ دار ہیں، لندن کو بزنس کا گڑھ سمجھاجاتا ہے تمام یورپین ممالک کو لندن تک براہ راست رسائی حاصل رہی ہے، سنٹرل لندن کی خواہش تھی کہ معاشی عدم استحکام سے بچنے کے لیے Remainکو سپورٹ کیاجائے مگر جن شہروں میں پولش اور رومینین رہائش رہائش پذیر تھے برطانوی ان کی’’ فطرت‘‘ سے تنگ تھے ،اس لیے Leaveکو سپورٹ کرنے میں کسی ،ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہ کیا ،صرف لندن ،ہی نہیں ساری دنیا میں یہ سب کچھ ہونے کا ذمہ دار معاشی و معاشرتی عدم توازن اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے اسی نے لندن کو یورپی یونین سے علیحدہ ہونے پر مجبور کر دیا اس ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے کی شرح 72فیصد تک رہی ہے جو عام انتخابات میں ڈالے جانے والے ووٹوں سے بھی زیادہ ہے، صدر یورپین کونسل ڈونلڈ ٹسک (Donald- Tusk)نے 27ممالک کے لیڈروں کی طر ف سے مشترکہ بیان میں کہا ہے ہمارا27ممالک کا اتحاد قائم رہے گا بلکہ انہوں نے جرمن فلاسفر F.Mietzcheکا مقولہ بی سنایا ۔What doesn,t kil you, makes you strongerجس کا اردو ترجمہ یہ ہو سکتا ہے’’ جی خوش ہو ا ہے راہ کو پرخار دیکھ کر ‘‘اس اتحاد میں دراڑیں تو واضح طور محسوس کی جا سکتی ہیں اور وقت آنے پر دیکھی بھی جائیں گی لیکن برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے قوم کے اجتماعی شعور کا احترام کرتے ہوئے اقتدار سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا ہے کیمرون نے جمہوریت کی بہترین مثال قائم کی ہے،کیمرون کی خواہش تھی کہ Remainکو سپورٹ کیا جائے مگر رائے عامہ کو مقدم جانتے ہوئے اقتدار سے علیحدگی سے ایک صحت مند روایت قائم کی ہے قومیں ،اصولوں پر سمجھوتہ نہ کر کے عزم صمیم کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں انہوں نے 10ڈاوئننگ سٹریٹ میں قوم سے یہ کہا ہے کہ میں بطور کپتان یہ نہیں سمجھتا کہ ملک کو نئی منزل سے ہمکنار کر سکوں ،ان دنوں وزیراعظم نواز شریف 10ڈوئننگ سٹریٹ میں ہی گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے موجود ہیں علاج کے بعد اب وہ روبصحت ہیں ،لندن ہمارے سیاستدانوں کا پکنک پوائنٹ یا شاپنگ پوائنٹ ہی نہیں ’’بیمار ‘‘سیاستدانوں کی علاج گاہ کا درجہ بھی اختیار کر چکا ہے محترمہ بینظیر بھٹو اور عمران خان ایک ہی دور میں یہاں تعلیم حاصل کرنے کے لیے مقیم رہے ہیں، الطاف بھائی بھی گزشتہ دو دہائیوں سے لندن میں مقیم ہیں بلاول بھٹو نے بھی پرورش اسی ماحول میں پائی ہے،کہتے ہیں آصف علی زرداری نے بھی علمی تشنگی بجھانے کے لیے لندن کا رخ کیا تھا لیکن کورے کے کورے واپس آ گئے تھے ۔10ڈوئننگ سٹریٹ سے کیمرون کا یہ خطاب سننے کیلئے ہو سکتا ہے میاں صاحب اپنے فلیٹ کی کھڑکی میں تشریف لائے ہوںیا شائدریفرنڈم کا انہیں ’’پتہ‘‘ ہی نہ چل سکا ہو۔ ہمارے سیاستدان لندن سے بہت قیمتی شاپنگ کرنے جاتے ہیں لیکن وہاں سے مفت میں ملنے والی جمہوریت اوراخلاقی قدروں کو اپنی جیب میں کیچ کر کے ڈالنے سے بالکل پرہیز کرنا ہی پسند کرتے ہیں ایسا پرہیز جو ڈاکٹر کے کہنے پر مریض بھی نہیں کرتا، کہیں وہ جمہوریت پاکستان میں لے آئے تو ہمارا بمعہ رائج الوقت نام نہاد سیاسی ،جمہوریت کا کیا بنے گا میری مراد کیمرون کے استعفیٰ کو میاں صاحب کے استعفیٰ سے تقابل کرانا ہر گز نہیں آپ سمجھنا چائیں تو سمجھ سکتے ہیں ایسے جراثیم ہمارے خون میں پائے ہی نہیں گئے البتہ کشمیریوں کو ریفرنڈم (براہ راست استصواب) کا حق دینے کے بارے میں عالمی طاقتوں کے منہ میں گھنگھرواور پاؤں میں بیڑیاں کیوں پڑ جاتی ہیں جہاں چراغ سرسوں کے تیل سے نہیں کشمیریوں کے چنار لہو سے جلتے ہیں۔ اللہ کرے ایسا ہو جائے ایک طرف کشمیری آزادی جیسی انمول نعمت سے ہمکنار ہو جائیں اور دوسری مودی سرکار مستعفی ہونے پر مجبور ہو جائے ۔

Views All Time
Views All Time
275
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   حسن سدپارہ سے علی سدپارہ تک - شاکر حسین شاکرؔ
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: